لیاری اور مکران میں ذہنی ہم آہنگی

کئی سالوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگی کے شکار افراد کی بازیابی اور نوجوان بالاچ بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام حوصلہ مند اور بہادر بیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ کی قیادت میں تربت سے اسلام آباد تک خواتین کے طویل احتجاجی لانگ مارچ اور پھر ثابت قدمی سے قائم دھرنا بیٹھک نے بلوچوں کی اجتماعی سوچ اور یکجہتی کی ضرورت کے احساس کو بلاشبہ دور دور تک بلوچ آبادیوں تک پھیلا دیا ہے۔
ان ہی میں کراچی کی قدیم بستی لیاری بھی شامل ہے جہاں 12 جنوری کو آٹھ چوک سے میراں ناکہ پل تک خواتین اور ہر شعبہ زندگی کے افراد پر مشتمل ایک ایسی عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس کی مثال یہاں پچھلے وقتوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اپنائیت۔ مشترکہ درد اور یکجہتی کا یہ والہانہ جذبہ کیوں اس پیمانے پر ابھرا اور ایسی مثال کیسے قائم ہوئی اس کا کھوج لگانے کے لئے ہمیں مکران اور لیاری کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور باہمی رشتوں کو ٹٹولنا ہوگا۔
ہم اپنی بات معروف محقق۔ مصنف اور معلم ڈاکٹر حمید بلوچ کی اس تحقیق سے شروع کرتے ہیں کہ مکران کے سفر کا آغاز پانچ ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہوکر 1948 میں ریاست قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق تقریباً سات ہزار سالوں پر محیط اس عرصے میں مکران مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ اس دوران یہ سرزمین بھانت بھانت کے حملہ آوروں اور صحرا نشینوں کا آماجگاہ بنا رہا۔ یہ لوگ تجارت۔ پناہ۔ لوٹ مار اور نئی چراگاہوں کی تلاش میں مکران آتے رہے اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ کچھ لوگوں نے اس سرزمین کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنالیا جبکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو یہاں عارضی قیام کے بعد اپنی دکان بڑھا گئے!
ڈاکٹر حمید جن حملہ آوروں کی بات کررہے ہیں وہ غالباً جنگجو اور مہم جو سپہ سالار تھے جو بلوچوں کی اس سرزمین کو چھوڑ کر اپنی فوج سمیت تاریخ اور جغرافیہ کے کسی اور حصے میں جا کر محفوظ ہوگئے ہونگے لیکن ان "دکان بڑھانے” والوں میں کچھ غریب ماہی گیر اور مزدور خاندان بھی شامل تھے جو "نئی چراگاہوں” کی تلاش میں تقریباً تین صدی پہلے سندھ کی جانب آئے اور ایک ایسے ساحل کے قریب ڈیرہ ڈالا جو بعد میں ایک ترقی یافتہ بندرگاہ کی حیثیت سے بین الاقوامی تجارت کا مرکز بنا اور بعض بگڑتے ناموں کے مراحل سے گزر کر آخرکار کراچی کہلایا۔
زمینی حقائق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ روزگار کے وافر مواقع کے پیش نظر مکران سے بلوچ خاندانوں کی بڑی تعداد میں یہاں کراچی میں نقل مکانی انگریزوں کے دور میں ہوئی جب 1843ءمیں یہ شہر ان کے قبضہ میں آیا۔ اس زمانے میں بندرگاہ کی جدید تعمیر نو کا آغاز ہوچکا تھا۔ سڑکیں بن رہی تھیں۔ تاریخی عمارتوں کی تعمیر عمل میں لائی جارہی تھی اور ریلوے کی پٹریاں بچھائی جا رہی تھیں۔ ان تمام کاموں کی تکمیل میں مین پاور کی ضرورت کافی حد تک مکران سے آئے بلوچوں نے پوری کی۔ اس طرح لیاری ندی کے کنارے آباد ایک لیبر کالونی وجود میں آئی جو لیاری کہلایا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کًچھ و جونا گڑھ اور دیگر ریاستوں سے بھی لوگ یہاں آکر بستے گئے۔ ان سب نے کراچی شہر کو جدید خطوط پر لانے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔
ویسے تو شہر کے دیگر علاقوں یعنی ملیر۔ لانڈھی۔ گولیمار۔ گڈاپ۔ گسری۔ کیاماسری جہانگیر روڈ۔ریکسر۔ جہان آباد۔ شیرشاہ اور بعد میں بلدیہ و اورنگی میں بھی بلوچ بستیوں نے جنم لیا مگر ساحل سمندر کے قریب واقع ہونے اور اکثریتی و بنیادی بلوچ آبادی ہونے کی وجہ سے لیاری کو ہمیشہ ممتاز اور مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔
جب ہم مکران کی بات کرتے ہیں تو مطلب ایرانی علاقہ کرمان اور مغربی بلوچستان سے قلات اور پھر ساحلی آبادیاں شامل ہیں جہاں سے وقتاً فوقتاً بلوچ خاندانوں نے اس زمانے میں کراچی کا رخ کیا اور یہاں مستقل آباد ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس طرح اس شہر میں جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہ سب ایک ہی ثقافتی کڑی اور لیاری کی مرکزیت سے بندھے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں کافی مد و جزر کے باوجود ایک طرف تو مکران اور لیاری کے درمیان باہمی رشتے کمزور یا ٹوٹنے کے بجائے مضبوط تر ہوتے گئے جبکہ دوسری جانب سیاسی۔ ادبی اور ثقافتی میدانوں میں ہم آہنگی اور ہم گرنچی کی بنیاد مستحکم ہوتی گئی۔
کراچی کے نامور محقق اور تاریخ داں گل حسن کلمتی اپنی کتاب "کراچی۔سندھ جی ماروی” میں رقمطراز ہیں کہ اس شہر میں بلوچ قوم کی پہلی سیاسی پارٹی "بلوچ لیگ” لیاری کی ایک ممتاز شخصیت واجہ غلام محمد نورالدین نے 1923 میں تشکیل دی تھی۔ بزرگ سیاسی رہنما میر غوث بخش بزنجو جب کراچی سندھ مدرسہ میں زیرتعلیم تھے تو وہ لیاری میں فٹبال میچ کھیلنے کے ساتھ ساتھ "بلوچ لیگ” کی رکنیت بھی حاصل کرچکے تھے۔
مکران و لیاری کے درمیان پہلا معروف سیاسی رابطہ 58-1957 کو ہوا جب ایران میں داد شاہ مبارکی ریاستی قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر جاں بحق ہوا اور بھائی احمد شاہ نے اپنے خاندان سمیت سرحد عبور کرکے مشرقی بلوچستان میں پناہ حاصل کی۔ ادھر پاکستانی حکومت اس مظلوم خاندان کو ایرانی حکام کے سپرد کرنے کے لئے راہ ہموار کررہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب کراچی میں زیرتعلیم کچھ بلوچ طلبا اور لیاری کے چند پرعزم بلوچ نوجوان بشمول اکبر بارکزئی۔ جمعہ خان اور عبدالصمد امیری نے ملکر ایک زبردست مہم چلائی تاکہ احمد شاہ خاندان کی بے دخلی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ میں بھی اپنا کیس پیش کیا۔ بہرحال ان کی یہ قانونی درخواست مسترد کردی گئی اور آخرکار پاکستانی حکومت نے دادشاہ اور احمد شاہ خاندان کے افراد کو جن میں عورتیں۔ بوڑھے اور بچے بھی شامل تھے ایرانی حکام کے حوالے کردیا۔ اگرچہ لیاری کے نوجوانوں کی یہ مہم کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی لیکن پہلی مرتبہ یہ احساس ابھرا کہ زمینی فاصلوں کے باوجود بلوچ قوم کہیں بھی آباد ہوں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہی رہتے ہیں۔
مکران اور لیاری کے بلوچوں کے درمیان یکجہتی اور باہمی سوچ و فکر کی ایک اور زبردست مثال 1964 کے آخر میں بھی سامنے آئی جب کیچ مکران کے عبدالباقی بلوچ نے جو وہاں سے مغربی پاکستان اسمبلی کے سابقہ ممبر تھے بعد میں کراچی میں لیاری سے اسمبلی ممبر کی نشست کے لئے انتخاب لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہاں کے لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں نے گرمجوشی اور دلجوئی کے ساتھ باقی بلوچ کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ ان کی حمایت میں اتنے پرجوش طریقے سے انتخابی مہم چلائی کہ یہ لیاری کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔
دراصل یہ جنرل ایوب خان کی آمریت اور گورنر ملک امیر محمد خان کے ظلم و جبر کا دور تھا اور اسمبلی میں باقی بلوچ جو ایک زبردست مقرر بھی تھے عموماً سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کو للکارتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر لاہور میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس حملہ میں ان کے ایک صحافی دوست ضمیر قریشی ہلاک ہوا مگر کیچ مکران کا یہ نڈر فرزند چھ گولیاں لگنے کے باوجود نہ صرف زندہ رہا بلکہ اس کے بعد نئے انتخابات میں پھر میدان میں لیاری سے نمودار ہوا۔
اس وقت باقی بلوچ کو لیاری میں ہیرو جیسی حیثیت حاصل ہوگئی تھی جہاں سے وہ اسمبلی کی نشست کے امیدوار بن چکے تھے۔ بی ڈی ممبرز کے محدود ووٹوں کی بنیاد پر ہونے والے اس الیکشن میں ان کا مقابلہ سرکاری سیاسی جماعت کے طاقتور سرمایہ دار خاندان سے تھا جبکہ ان کی حمایت میں عوامی جوش و خروش اس انتہا کو پہنچا کہ لیاری کی سڑکوں۔ گلیوں اور گھروں میں باقی بلوچ کی نمایاں تصویریں آویزاں ہوگئیں۔ شادی بیاہ میں ان کی حمایت میں خواتین نغمہ سرا ہوئیں اور پھر خواتین نے ‘باقی دوچ’ کے نام سے لباس سلوائے۔ دوسری جانب انتخابی مہم کے دوران پولیس نے ایک جلسہ میں رکاوٹ ڈالدی اور پھر دو درجن کے قریب نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ حتماً یہ الیکشن وو ٹرز کی محدود تعداد اور ریاستی جبر کی وجہ سے جیتا نہیں جاسکا لیکن اس پرجوش مہم سے جبریت کے خلاف کیچ مکران اور لیاری کے عوام کی مشترکہ سوچ اور یکساں جذبہ نمایاں ہی رہا۔
ان انتخابات سے پہلے سیاست کے میدان میں مکران اور لیاری کے درمیان ہم آہنگی کی ایک اور مثال 1962 میں بھرپور طریقے سے ظہور پذیر ہوئی تھی۔ ہوا یہ کہ بندرگاہ سے قریب اہم لوکیشن پر قائم لیاری کی قدیم ترین بستی کو وہاں سے ہٹا کر دور دراز نیو کراچی کے علاقے میں منتقل کرنے کی سرکاری سازش کی گئی۔ کے ڈی اے کے اس اسکیم نمبر 17 کے خلاف لیاری کے طلبا۔ سیاسی اور سماجی رہنمائوں نے ککری گرائونڈ پر ایک زبردست احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں بلوچستان سے آئے ہوئے بلوچ رہنمائوں نے بھی عوام سے خطاب کیا۔ اس جلسہ میں لیاری کے عام لوگوں اور نوجوانوں نے پہلی مرتبہ نواب خیربخش مری۔ سردار عطااللہ مینگل۔ میر غوث بخش بزنجو اور گل خان نصیر کا نام سنا۔ بلوچستان میں اس وقت جبر و استبداد پر ان بلوچ رہنمائوں کی تقاریر نوجوانوں نے سنیں۔ متاثر ہوئے اور پھر ان کے گرویدہ ہوگئے۔ اس جلسہ کے بعد لیاری میں بلوچ قومی شناخت کو کافی تقویت ملی اور مکران سے سیاسی رشتہ مضبوط ہوا جس کی بعد میں ایک مثال لیاری میں باقی بلوچ کی انتخابی مہم کے دوران واضح طور پر نظر آئی۔
یہ ساٹھ کے عشرے کی بات ہے جب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) وجود میں آیا۔ طلبا کی اس تنظیم کے اغراض و مقاصد تو مکران ہی میں طے ہوئے تھے مگر صحیح معنوں میں بی ایس او کی نشوونما کراچی میں ہوئی۔ اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی۔ ڈومیڈیکل کالج اور این ای ڈی انجئینرنگ کالج میں زیرتعلیم بلوچ طلبا اور لیاری کے نوجوان طالب علموں نے مل کر بی۔ ایس۔ او کو تنظیمی طور پر ایک مضبوط اور نظریاتی لحاظ سے ایک ترقی پسند تحریک کی شکل دی۔ بلوچ کاز کے لئے بی۔ ایس۔ او کا قیام خوش آئند اور مکران و لیاری کے درمیان ایک طاقتور پل ثابت ہوا جس سے اتحاد و تنظیم کی غیرمعمولی مثال قائم ہوئی۔
اس دور میں بی ایس او کی سرگرمیوں میں پیش پیش مکران کے عطا شاد۔ حکیم بلوچ۔ ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی۔ صورت خان مری۔ ڈاکٹر عبدالحئی۔ ڈاکٹر موسیٰ۔ ڈاکٹر اسلم۔ محبوب جمالدینی۔ عبداللہ بلوچ۔ مشتاق بلوچ۔ عبدالرحیم ظفر۔ بزن بزنجو۔ منظور گچکی۔۔۔۔۔اور لیاری کے صدیق بلوچ۔ لطیف بلوچ۔ ایس کے شمشاد۔ فیض بلوچ۔ اختر بہادر۔ مراد بخش مشہدی۔ مولا بخش مگسی۔ انجینئیر محمد احمد۔ ڈاکٹر تاج۔ اکبر جلال۔ جان بلوچ۔ منصور اکبر۔ غلام رسول گلاب اور بالکل آخری صفوں میں ہم اور ہم جیسے کئی اور نوجوان بھی شامل تھے جنہوں نے زمینی فاصلوں کے فرق کے باوجود اس زمانے میں طلبا تحریک اور بلوچ کاز کے حصول کے لئے باہمی جدوجہد کو مثالی بنادیا۔ بدقسمتی سے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ حالات کی تبدیلی نے بی ایس او میں اختلافی صورتحال ضرور پیدا کی لیکن بلوچ کاذ کے لئے مجموعی لحاظ سے یکجہتی کا جذبہ مدہم نہ ہوسکا اور یہی جذبہ دونوں اطراف کے نوجوانوں میں آج بھی قائم ہے۔
یوں تو مکران اور لیاری کے درمیان ادبی رشتوں کی تاریخ بہت پرانی ہے بہرحال پچھلے ستر، اسی سالوں سے جب جدید بلوچ ادب کی نشوونما شروع ہوئی تو دونوں اطراف کی ادبی شخصیتوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی سوچ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ نامور مفکر۔ ادیب۔ مترجم اور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری جب بلوچ ادب میں نئے موضوعات کی بات کرتے ہیں تو اس بارے میں مکران اور لیاری میں پنپنے والے یکساں نئے رجحانات کی جانب وہ اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اپنی کتاب "بلوچ قوم۔قدیم عہد سے عصر حاضر تک” میں ڈاکٹر صاحب تحریر کرتے ہیں: "یوسف علی مگسی۔ محمد حسین عنقا۔ آزاد جمالدینی۔ گل خان نصیر۔ جواں سال بگٹی۔ سردار خان گشکوری۔ میر مٹھا خان مری۔ سید ظہور شاہ ہاشمی۔ صدیق آزات۔ مراد آوارانی۔ احمد زہیر۔ قاسم ہوت۔ اسحاق شمیم۔ عبدالصمد سربازی۔ امان اللہ گچکی۔ غلام محمد شاہوانی۔ عبداللہ جان جمالدینی۔ عبدالحکیم حقگو۔ احمد جگر۔ دوست محمد بیکس۔ مراد ساحر۔ عطا شاد۔ ملک طوقی۔ ملک رمضان۔ ملک سعید۔ اکبر بارکزئی۔ کریم دشتی۔ آدم حقانی۔ اللہ بخش بزدار اور دیگر کئی معتبر نام اس آزادی کے دور میں ہمیں نصیب ہوئے اور ادب آہستہ آہستہ مکمل طور پر ترقی پسندی کی طرف رخ کرنے لگا۔”
لیاری کی ایک اہم اور بزرگ شخصیت مولانا خیرمحمد ندوی نے کراچی میں بلوچی زبان کا پہلا ماہوار رسالہ "اومان” شائع کیا۔ یہ 1951 کی بات ہے جب انہوں نے دی بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی تشکیل دی تھی۔ اس سوسائٹی کی جانب سے نہ صرف ادبی سرگرمیاں جاری رہیں بلکہ اس کے تحت بلوچ سکینڈری اسکول اور بلوچ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعد میں ایک اور رسالہ "سوغات” بھی اسی ادارے سے جاری ہوا۔ اس سے پہلے مولانا خیرمحمد ندوی اور سید ظہورشاہ ہاشمی کی کاوشوں سے 1949 میں ریڈیو پاکستان کراچی سے بلوچی زبان۔میں نشریات کا آغاز ہوا۔ بعد میں مراد آوارانی۔ محمد بیگ بیگل۔ فتح محمد نسکندی اور جمعہ خان نے بھی ریڈیو سے بلوچی زبان کے پروگرامز میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی عرصے میں عبدالرحیم صابر کا پندرہ روزہ اخبار "صدائے بلوچ”۔ مولوی محمد عثمان اور غلام محمد نورالدین نے "المکران” اور نسیم تلوی (پیربخش بلوچ) نے "البلوچ” اخبار و رسالے شائع کئے۔ ایک اور اخبار "نیادور” بھی جاری ہوا جس کے مالک قاسم ہوت تھے۔ 1956 میں آزاد جمالدینی نے لیاری کے ادب دوستوں کے اشتراک سے ایک ماہنامہ رسالہ "بلوچی” کے نام سے جاری کیا۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری کے بقول اس طرح کی ادبی اور صحافتی کاوشوں سے نئے خیالات نے جنم لیا۔ اسی طرح بلوچی زبان میں جدید ادب نے فروغ پایا اور ادب کے علارہ بلوچی زبان میں صحافت کی بھی بنیاد پڑگئی۔
ثقافت کے بندھن تو کافی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔ صدیوں سے مکران بلوچی زبان کی ترقی و ترویج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ بہرکیف پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی میں بسنے والی بلوچ آبادیوں خصوصاً لیاری میں بھی بلوچی زبان و ادب کے فروغ کےلئے کاوشیں ہوتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں علاقوں میں بولی جانیوالی مشترک زبان بلوچی ہی ہے اور ثقافت کے اس اہم جز کو مزید بنیادوں پر قائم کرنے لئے لیاری کے ہونہار فرزند۔ دانشور۔ عالم۔ مفکر۔ ادیب و شاعر بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر صبا دشتیاری شہید کی خدمات قابل تحسین ہیں۔
ادبی اور علمی خدمات کے علاوہ انہوں نے ملیر اور لیاری میں نوجوانوں اور طلبہ کو بلوچی ادب کی جانب راغب کیا۔ ان کی رہنمائی اور ہمت افزائی سے بلوچ ادیب اور شاعروں کی ایک پوری کھیپ بعد میں ابھر کر سامنے آئی۔ وہ خود اور عابد آسکانی کئی عرصے تک ذاتی طور پر بلوچی کی کلاسیں بھی لیتے رہے ہیں۔ کامریڈ واحد بلوچ بتاتے ہیں کہ ان سے پہلے مشہور شاعر اصغر درآمد نے بھی بلوچی زبان کی کلاسیں لیاری میں واقع چودھری واڑہ (بلوچ ہال) میں شروع کی تھیں۔ مزید اس سلسلے میں اکبر بارکزئی (زاگ بلد) اور لالا لعل بخش رند (رومن بلوچی قائدہ) کی خدمات بھی قابل ذکر ہیں۔
ملیر میں واقع بین الاقومی سید ہاشمی ریفرینس لائبریری پروفیسر صبا دشتیاری کی پرخلوص کاوش اور انتھک محنت کی ایک شاندار مثال ہے۔ ہزاروں کتابوں پر مشتمل اس لائبریری سے نہ صرف مقامی طلبا اور ادب دوست حلقوں کے ذوق مطالعہ کی تسکین ہوتی ہے بلکہ قومی تاریخ اور بلوچ تہذیب و تمدن پر تحقیق کرنے والے یورپی محققین بھی استفادہ کرتے ہیں۔
ثقافت ان اقدار کا نام ہے جو ایک مخصوص طبقے کے درمیان مشترک زبان۔ عادت و اطوار اور رہن سہن پر مبنی ہو۔ کئی صدیوں سے سرزمین مکران چھوڑنے کے باوجود کراچی لیاری میں پلنے والی بلوچ قوم کا ثقافتی رشتہ وہاں سے نہیں ٹوٹا بلکہ دن بدن جوڑنے کی رسی مضبوط تر ہوتی گئی۔ غم و خوشی۔ شادی بیاہ اور مہمان نوازی کے مواقع ہوں۔ زبان۔ لباس۔ موسیقی اور انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے تقاضے ہوں دونوں جانب سے جذبات کے اظہار میں یکسانیت اور باہمی سوچ پائی جاتی ہے۔ آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ دوستی و یاریاں ہیں۔ اور پھر مصائب میں ہمدردی اور حمایتی جذبے بھی مشترک ہیں۔
بلوچی زبان کے موسیقاروں۔ گلوکاروں اور بلوچی ویڈیو و ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کے علاوہ کراچی میں قائم ہونیوالے احمد اور اویس اقبال برادران کے بلوچی زبان کے پہلے نیوز چینل "وش ٹی وی” نے بھی بلوچ ثقافت اور باہمی محبت اور قربت کے پیغام کو بہت تقویت پہنچائی ہے۔ نیز اقبال خاندان کے انور اقبال نے 1974 میں بلوچی زبان کی پہلی فلم "حمل و ما گنج” لیاری کے تخلیق کاروں اور آرٹسٹوں کے ساتھ مل کر بنائی تھی جو اس لحاظ سے لیا جانے والا ایک بہت بڑا قدم تھا۔
مکران اور لیاری کے درمیان یہ رشتے ناتے صدیوں سے قائم و دائم ہیں۔ زمانے کی گردشوں نے ان میں دوری اور زمینی فاصلے ضرور پیدا کئے ہیں لیکن اعلیٰ قدروں پر مبنی بلوچ ثقافت نے انہیں باہمی رشتوں اور ذہنی ہم آہنگی کی مضبوط کڑی میں پرو کر جاوداں کردیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مستقبل میں بھی فکر و نظر کے حوالے سے یہ مشترکہ ورثہ دائم و قائم رہے گا۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*