پتھر، شاعر اور قرطاس

وہ شکار پر جاتے وقت
کاغذ اور قلم پاس رکھتا
شاعر تھا، لکھنا گھٹی میں تھا شامل
ایک بار لیکن بھول گیا وہ
واپسی پر ایک بھاری تھیلے کو دیکھ کر
اس کے گھر والوں نے سمجھا
آج زیادہ شکار لایا ہے وہ
جو دیکھا تو تھیلے میں خاصے
بھاری بھاری سے پتھر تھے
بیٹی نے حیرت سے پوچھا
آج شکار کی نسبت پتھر کیونکر
آج قلم کاغذ وہ اپنی
جیب میں رکھنا بھول گیا تھا
اس نے بتایا
لیکن یہ پتھر ہیں کیونکر
اس تھیلے میں
آج طبیعت خوب رواں تھی
آج بہت سی نظمیں اتریں
کاغذ پاس نہیں تھے بیٹی
کوئلے سے پھر ساری نظمیں
میں نے پتھر پر لکھ ڈالیں
اب یہ پتھر ہی کاغذ ہیں
پتھریلے کاغذ پر نظمیں
دیکھو کیسے چمک رہی ہیں
پتھر یہ روشن ہیں کتنے !

(گل خان نصیر کے لیے)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*