تھوڑا سا فرشتہ

گھپ اندھیرے اور گہری نیند میں موبائل فون کی گھنٹی اس طرح سنائی دی جیسے پورا کمرہ ہل رہا ہو۔ میں گھبرا کے اٹھ بیٹھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا، صبح کے چار بج رہے تھے۔ اس وقت کون ہو سکتا ہے!؟ میں نے سوچا اور فون اٹھا لیا۔ ہلکی نیلی روشنی میں شبانہ اعظمی کا نام چمک رہا تھا۔
”ہیلو….!“ میں نے کہا ۔
دوسری طرف سے شبانہ کی بھرّائی ہوئی آواز سنائی دی۔
”جاوید میاں! ایک بُری خبر ہے۔“
میرا ذہن فوراً شوکت آپا کی طرف دوڑ گیا۔ وہ بیمار بھی تھیں اور عمر بھی ہو گئی تھی۔ میں کچھ بولنے ہی والا تھا کہ شبانہ کی آواز پھر سنائی دی:
”فاروق شیخ چلے گئے!“
جب ایسی کوئی خبر ملتی ہے تو عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یقین،بے یقینی، یادیں اور درد گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ ذہن سوچنے کی کوشش کرتا ہے مگر سوچ نہیں پاتا اور دل کی حالت آندھی میں سوکھے پتّے جیسی ہو جاتی ہے۔میرے گلے سے ایک سرگوشی نکلی:
”کیسے ….؟“
”فیملی کو لے کر دوبئی گئے تھے۔ وہیںاچانک….“
شبانہ کی آواز ٹوٹ گئی اور فون بھی بند ہو گیا۔
میں نے فریدہ کی طرف دیکھا، وہ سب کچھ سن چکی تھیں اور آنسو پونچھ رہی تھیں۔ میںفون ہاتھ میں لیے اندھیرے میں بیٹھا رہا۔ ذہن خود بخود وقت کی پرانی پگڈنڈی پر دوڑنے لگا، جس پر دھندلے دھندلے اُجالے دکھائی دے رہے تھے۔ چہرے، جو کبھی زندہ تھے، آوازیں …. جو آج بھی زندہ ہیں۔ یادیں…. جو کبھی نہیں مرتیں۔ میرا دماغ یکا یک سادے کاغذ کی طرح ہو گیا، جس پر لفظ نہیں تھے۔ بس ایک چہرہ باربار بن رہا تھا۔ کھلا ماتھا، بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھیں…. جن میں ذہانت، شرارت اور مستی کوندتی رہتی تھی۔ بھرے بھرے ترشے ہوئے ہونٹ، جن کی مسکراہٹ سارے چہرے کو روشن کر دیتی تھی۔ وہ چہرہ میںنے سب سے پہلے کہاں دیکھا تھا؟
بمبئی سینٹرل سٹیشن کے پاس بِلاسِس روڈ پر ایک سنیما ہوا کرتا تھا، جس کا نام تھا الکزنڈرا۔ بہت بے چارہ سا سنیما تھا۔ کوئی نئی فلم کبھی ریلیز نہیں ہوتی تھی اور پرانی فلمیں بھی وہ دکھائی جاتی تھیں جن کا رنگ روغن اُتر چکاہوتا تھا۔ ریل جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہوتی تھی اور ساو¿نڈایسی ہوتی تھی جیسے گلے میں خراش آگئی ہو۔
آس پاس کا علاقہ ”ریڈ لائٹ ایریا“ کہلاتا تھاکیونکہ وہاں ناچنے گانے اور جسم فروشی کے بہت سے اڈّے تھے۔ اس لیے شریف لوگ تو اس سنیما کے پاس سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ مگر وہ شوقین، جو ہالی وُڈ کے پرانے کلاسک دیکھنا چاہتے تھے، اتوار کے دن دس بجے والے شو میں خاصی بڑی تعداد میں دکھائی دیتے تھے۔ ان لوگوں میں میں بھی شامل تھا اور اتوار کے اتوار الکزنڈرا پہنچ جایا کرتا تھا،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے ٹکٹ نہیں لینا پڑتا تھا۔ مجھ پر سنیما والوں کی یہ عنایت کیوں تھی؟ اس کے پیچھے ایک بڑی دلچسپ کہانی ہے۔
ایک موٹے سے، چھوٹے سے، ہانپتے کانپتے بزرگ ہوا کرتے تھے، ان کا نام تھا ایم اے خطیب۔ وہ کئی سنیما گھر وں کے پبلسٹی ایجنٹ تھے جن میں الفریڈ اور الکزنڈرا بھی شامل تھے، خطیب صاحب ہر ہفتے کسی فلم کا پبلسٹی میٹریل یعنی بُک لِٹ پوسٹر لے کر میرے پاس آتے تھے اور میں بک لٹ پڑھ کر اور پوسٹر دیکھ کر اس انگلش فلم کا ایک اردو نام تجویز کرتا تھا، جو ریلیز ہونے والی ہوتی تھی۔ میں پانچ چھ ٹائیٹل لکھ کر خطیب صاحب کے سامنے رکھ دیتا اور وہ کسی ایک کو پسند کر لیا کرتے تھے، بعد میں فلم کی پبلسٹی اسی نام سے کی جاتی تھی۔ ٹائٹل جتنا بے ڈھنگا ہوتا، خطیب صاحب کو اتنا ہی پسند آتا تھا۔ مجھے اس خدمت کے عوض مبلغ دو روپے ملا کرتے تھے اور فلم کا ٹکٹ (بالکنی)، جو زیادہ سے زیادہ ڈھائی روپے ہوتا، معاف کر دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی خوش ہو جاتے تو انعام بھی دے دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ الفریڈ ہچکاک کی فلم 39 STEPS ریلیز ہونے والی تھی۔ میںنے بہت سے نام سجھائے مگر خطیب صاحب کو ایک بھی پسند نہیں آیا۔ آخر جھنجلا کر میںنے لکھا، ”ایک کم چالیس لفڑے “ اور خطیب صاحب اتنے خوش ہوئے کہ مجھے اپنی توند سے چپکا لیا اور پورے پانچ روپے عنایت کیے۔ ہاں…. تو ایسے ہی کسی اتوار کو میں الکزنڈرا کی بالکنی میں بیٹھا پکچر دیکھ رہا تھا۔ پرانے پروجیکٹر کی آرک لائٹ کبھی بڑھتی کبھی گھٹتی، آواز بھی بار بار کم زیادہ ہوتی مگر شوقینوں کوان باتوں کی پروا کہاں ہوتی ہے۔ اس دن بالکنی میں سات آٹھ آدمی سے زیادہ نہیں تھے۔ بہت سی سیٹیں خالی پڑی تھیں، کونے والی سیٹ پر بیٹھا ہوا ایک لڑکا اچانک کھڑا ہو گیا اور ایک دوسری سیٹ پر جا بیٹھا۔ میں نے لڑکے کو غور سے دیکھا، سترہ اٹھارہ برس کا بے حد خوب صورت لڑکا تھا۔ گورا رنگ، چمکتی ہوئی آنکھیں، بڑے بڑے سیاہ بال، جو کانوں پر سے ہوتے ہوئے گردن تک آگئے تھے، نہایت سفید اسٹارچ کیا ہوا کرتا اور پاجامہ۔ میں اس کی خوب صورتی سے کافی مرعوب ہوا اور دل میں سوچا، یہ اس سڑے ہوئے سنیما میں فلم کیوں دیکھ رہا ہے؟ اسے تو خود فلموں میں ہونا چاہیے۔ وہ لڑکا ہر تھوڑی دیر بعد اپنی سیٹ بدل لیتا تھا اور میں حیران تھا کہ یہ کر کیا رہا ہے؟ آخر جب وہ میری رو میں کچھ قریب آکر بیٹھا تو میںنے پوچھا:
”سیٹیں بدلنے سے پکچر اچھی دکھائی دیتی ہے کیا؟“
اس نے بہت غصّے سے مجھے دیکھا اور کھڑے ہو کر کپڑے جھاڑتے ہوئے بولا :
”کھٹمل آپ کو نہیں کاٹ رہے کیا؟“ اور باہر نکل گیا۔
مجھے وہ خوب صورت لڑکا کافی عرصے تک یاد رہا اور جب بھی اس کا جملہ یاد آتا، مسکراہٹ خود بخود آجاتی۔ پھر وہ چہرہ اور جملہ دھیرے دھیرے ذہن سے نکل گئے ۔
مگرایک دن اچانک وہ پھر سامنے آگیا۔
میں ”خلافت ہاو¿س“ میں رہتا تھا جہاں سے ”خلافت کمیٹی“ کے زیر اہتمام عید میلاد النبی کے موقع پر ایک شان دار جلوس نکلا کرتا تھا۔ اس دن شہر کے ہزاروں مسلمان اور بہت سے ہندو بھی، خلافت ہاو¿س میں جمع ہوتے تھے۔ ان میںطرح طرح کے لوگ ہوتے۔ نام والے، لیڈر اور بزنس مین، مزدور، وہ بھی ہوتے تھے جو اپنی قیمتی کاروں میں آتے تھے اور وہ بھی جو سجی ہوئی لاریوںاور ٹرکوں میں دور دور سے آیا کرتے تھے۔ میلے جیسا ماحول ہوتا تھا اور خلافت ہاو¿س کے وسیع کمپاو¿نڈ میں پاو¿ں رکھنے کی جگہ نہ ملتی تھی۔ ایسا ہی ایک موقع تھا، جلوس کی تیاری ہو رہی تھی۔ لوگ آتے اور خلافت کمیٹی کے جنرل سکریٹری زاہد شوکت علی صاحب سے ملاقات کے بعد چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹ جاتے۔ اچانک میری نظر الکزنڈرا والے لڑکے پر پڑی، جو مہمانوں کے واسطے بنائی گئی سبیل کے پاس اکیلا کھڑا تھا اور خالی خالی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ ایسالگ رہا تھا جیسے وہ اجنبی ہجوم میں کسی شناسا چہرے کو ڈھونڈرہا ہے، اچانک اس نے انجمن رام پور کے سکریٹری، عاشق حسین ڈکارو کو، جواس کے پاس سے گزررہے تھے، روک کر کچھ پوچھااورپھر چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ عاشق حسین خاں ڈکارو بڑی پہنچی ہوئی ہستی تھے۔ شہر کے ہر نیک اور بد کو جانتے اور پہچانتے تھے۔ میں نے انھیں پکڑ لیا اور پوچھا:
”عاشق بھائی! وہ لڑکا کون ہے جس سے آپ بات کر رہے تھے؟ “
عاشق بھائی نے پلٹ کر دیکھا اور اپنی گاندھی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے بولے:
”وہ …. ارے وہ تو اپنے مصطفی شیخ ایڈووکیٹ کا بیٹا ہے، فاروق!“
مصطفی شیخ صاحب زاہد علی صاحب کے عزیز دوستوں میں سے ایک تھے اور قریباً ہر شام ہی خلافت ہاو¿س میں گزارتے تھے۔ موٹا پے کی حد کو چھوتا ہوا بدن، چہرے پر ایک بے حد شفیق مسکراہٹ اور نرم لہجہ، ہمیشہ سوٹ پہنتے تھے یا پھر جیکٹ اور پینٹ۔ جب بھی آتے، مجھ سے دو منٹ بات کرنے کا وقت ضرور نکال لیتے۔ بہت ہی پیار ے اور محبت کرنے والے آدمی تھے۔
”ارے …. تو یہ اپنے مصطفی انکل کا بیٹا ہے ، اس سے ملنا چاہےے!“
میںنے سوچا اور اس کی طرف بڑھا مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔ شاید اُکتا کر باہر نکل گیا تھا۔
”چلو…. پھر کبھی ملیں گے۔“ میںنے خود سے کہا مگر وہ پھر دکھائی ہی نہ دیا۔
فاروق تیسری بار مجھے ”انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن“ (اپٹا) کے سٹیج پر دکھائی دیے۔ یہ 1971 کا زمانہ تھا، جب اپٹا ہر جمعے کو ”تیج پال ہال“ میں اپنا کوئی شو کرتا تھا۔ اور یہ کارنامہ تھا اپٹا کے جنرل سیکریٹری عابد رضوی کا، جن کی کوشش نے بمبئی کے مردہ سٹیج میںایک نئی روح پھونک دی تھی۔ ڈراما تھا، ”تنہائی“ جو ساگر سرحدی کا شاہکار ہے۔ اس کا مرکزی کردار ایک ایسی ہیروئن ہے جس کی جوانی اور مقبولیت کا دور گزر چکا ہے اور جو اپنی یادوں کے اندھیرے سے اُجالے میں آنا نہیں چاہتی۔ وہ کردار شوکت کیفی نے ادا کیا تھا، اِ س کے دوسرے ادا کاروں میں اے کے ہنگل، ایشان آریہ اور رمن کمار تھے۔ اسی میں ایک چھوٹا مگر اہم رول فاروق شیخ کا بھی تھا، جو انھوں نے بہت ہی اچھی طرح نبھایا تھا۔ ”تنہائی“ دیکھنے کے بعد میں فاروق شیخ سے ملا اور انھیں الکزنڈرا والا قصّہ یاد دلایا، وہ بہت ہنسے اور بولے:
”ارے حضور! اُن کھٹملوں نے تو میرا الکزنڈرا جاناہی بند کرا دیا۔“
میں فاروق سے اور بھی باتیں کرنا چاہتا تھا تا کہ اپنے اخبار میں شائع کر سکوں مگر موقع ہی نہیں ملا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے چاروں طرف اتنے لوگ جمع ہوگئے کہ وہ بھیڑ میں چھپ گئے۔
ڈرامے کا سٹیج ان کے لیے نیا نہیں تھا، جب سینٹ زیویر کالج میں پڑھا کرتے تھے تو وہاں صرف انگلش کے ڈراموں کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ فاروق نے لڑ جھگڑ کے ایک سوسائٹی بنائی، جو ہندی اور اردو کے ڈرامے کرنے لگی۔ فاروق اس سوسائٹی کے صدر تھے اور ان سے دو سال جونیئر شبانہ اعظمی سکریٹری۔ یہیں ان کی ملاقات روپا سے ہوئی، جو بعد میں ان کی شریک حیات بنیں۔ سینٹ زیویر کا لج میں ہندی، اردو کے جتنے بھی ڈرامے ہوئے ان میں سے زیادہ تر فاروق کے لکھے ہوئے اور ڈائرکٹ کیے ہوئے تھے۔ کالج کے سٹیج پر کیے جانے والے تجربے ان کے بہت کام آئے اور وہ اپٹا کے سٹیج پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں تیج پال ہال کی رونق دیکھنے کے قابل ہوتی تھی۔ ایسے ایسے نامور چہرے دکھائی دیتے تھے، جو سڑک پر نکل جائیں تو بھیڑ جمع ہو جائے۔ بلراج ساہنی، کیفی اعظمی، من موہن کرشن، شوکت کیفی، اے کے ہنگل، ایم ایس ستھیو، شمع زیدی، وشوا متر عادل اور ساگر سرحدی سے کسی کو ملنا ہوتا تھا تو سیدھا تیج پال ہال کا رخ کرتا تھا۔ میں بھی ہر جمعے کو ”اگست کرانتی“ میدان کی طرف، جہاں تیج پال ہال تھا، اس طرح بھاگتا ہوا جاتا تھا جیسے نیک مسلمان مسجد کو جاتے ہیں۔ اس تھوڑے سے عرصے میں جب تک تیج پال میں اپٹا کی ہفتہ وار سرگرمیاں جاری رہیں، مجھے بہت کچھ جاننے، سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ انسان دوستی، سماجی برابری اور سچ کی جیت پر یقین کے جو سبق میں نے پڑھے، وہ ساری زندگی کام آئے بلکہ اب بھی چراغ راہ ہیں۔ یہ ساری باتیں کسی نے سکھائی یا بتائی نہیں۔ ان دوستوں، ساتھیوں اور بزرگوں نے اپنی کہنی سے نہیں، کرنی سے یہ بتایا کہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار کیا ہوتی ہیں۔ گزرے دنوں کا اپٹا میرا کم زور پہلو ہے اور جب بھی بات نکلتی ہے دور تک چلی جاتی ہے، جس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔
ہاں…. تو بات ہو رہی تھی فاروق شیخ کی۔ انھوں نے اپٹا کے بہت سے ناٹکوں میںکام کیا، جن میں ”تنہائی، دوسرا آدمی اور خالد کی خالہ“ بہت پسند کیے گئے۔ اپٹا سے فاروق کا رشتہ آخر تک قائم رہا۔ وہ ہمیشہ اپٹا کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا کرتے تھے۔ اپٹا کی طرف سے ہونے والے انٹر کالجیٹ ڈراما کامپی ٹیشن میں خاص دلچسپی لیتے تھے۔ اسی اپٹا سے فاروق کا فلمی سفر شروع ہوا۔
اپٹا کے سر گرم رکن، اسٹیج ڈائرکٹر اور پروڈکشن ڈیزائنر، ایم ایس ستھیو اپنی فلم بنا رہے تھے، جس کی کہانی عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ گیت اور مکالمے کیفی اعظمی کے تھے اور فلم کا مرکزی کردار بلراج سا ہنی ادا کر رہے تھے۔ فلم کا نام تھا، ”گرم ہوا “ یہ ایک مسلمان خاندان کی کہانی تھی، جو ہندوستان کی کوکھ سے پاکستان پیدا ہونے کے بعد جذبات اور حالات کے دوراہے پر آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ سلیم احمد (بلراج جی) کا قریباً سارا خاندان پاکستان جا چکا تھا یہاں تک کہ بڑا بیٹا بھی چلا گیا تھا۔ ایک دن وہ بھی ٹوٹ گئے اور جانے لگے تو انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے فاروق کو دیکھا، جو دوسری سمت جا رہا تھا۔ ”گرم ہوا“ میں فاروق کا کردار سب سے اہم ہے کیوں کہ وہ افرا تفری، بے یقینی اور خوف کے ماحول کو ایک نیا مفہوم دیتا ہے۔ وہ زبان سے کچھ نہیں کہتا مگر اپنی آنکھوں سے بولتا ہے۔
”گرم ہوا ہمیشہ گرم نہیں رہتی، اس کا مزاج بدلتا رہتا ہے، جو آج لُو ہے کل ٹھنڈا جھونکا بھی بن سکتی ہے۔ ملک بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، وقت کو بدلنے کی کوشش کرو!“
یہ فلم آج ہندوستانی فلمی تاریخ کا ایک موڑ سمجھی جاتی ہے کیوں کہ یہاں سے ave New W سنیما کا آغاز ہوتا ہے۔
گرم ہو امیں فاروق کو بہت سراہا گیا۔ کچھ بزرگ تو اب بھی کہتے ہیں:
”ارے…. ہمیں تو فلم دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک سٹار پیدا ہو رہا ہے۔ پوت کے پاو¿ں پالنے میں دکھائی دے رہے تھے!“
فاروق نے قریباً 57 فلموں میں کام کیا، جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں جیسے گرم ہوا، گمن، شطرنج کے کھلاڑی، امراو¿ جان، نوری، بازار، رنگ برنگی، بیوی ہو تو ایسی، کتھا، ساتھ ساتھ اور چشم بد دور۔ فاروق نے کچھ ٹی وی سیریل بھی کیے تھے جو بہت پسند کیے گئے تھے۔ ان میں سے”شری کانت، چمتکاراور جی منتری جی“ بہت مقبول ہوئے۔ ایک اور پروگرام تھا، ”جینا اسی کا نام ہے‘ ‘ ، جس میں وہ مشہور ہستیوں کے انٹرویو لیا کرتے تھے، وہ بھی اپنے زمانے کا پاپولر پروگرام تھا اور پسندیدگی کی سب سے بڑی وجہ مہمان سے زیادہ خود فاروق اور ان کا اندازِ گفتگو تھا۔
پانچ چھ سال تک فاروق سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور باتیں بھی ہوئیں مگر وہ بات نہ ہو سکی جسے دوستی کہا جاتا ہے، کیوں کہ دوستی کے لیے قربت ضروری ہے اور ہمارے تعلقات سلام دعا اور کچھ احوال پُرسی سے آگے نہ بڑھ سکے۔ فاروق کو سمجھنے اور ان کے قریب جانے کا موقع اُس وقت ملا جب وہ ”شطرنج کے کھلاڑی“ کی شوٹنگ کے لیے کلکتہ آئے۔ شوٹنگ کے دوران میں جب بھی وقت مل جاتا، ہم مل بیٹھتے اور باتیں کرتے۔ چوں کہ بہت سی باتیں مشترک تھیں اس لیے ان کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا تھا۔ دھیرے دھیرے مجھے اندازہ ہوا کہ فاروق اُن ایکٹروں میں سے نہیں ہیں جن کی زندگی سٹیج سے شروع ہوتی ہے اور سکرین تک پہنچنے پر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ کافی پڑھے لکھے آدمی تھے۔ اخبار بڑی پابندی سے پڑھتے تھے اور کوئی نہ کوئی کتاب ہمیشہ پاس رہتی تھی، جو سفر کے دوران میں اُن کی رفیق ہوتی تھی۔ ہندوستانی سیاست ہو، سماج میں پھیلی ہوئی برائیاں ہوں یا ملکوں اور قوموں کے مابین طاقت کی رسّہ کشی، فاروق اپنی ایک رائے رکھتے تھے اور وہ رائے عام طور پر بڑی سوچی سمجھی اور سلجھی ہوئی ہوتی تھی۔ مسلمانوں میں تعلیم کی کمی اور ان کی بدحالی کا ذکر جب بھی آجاتا تھا تو فاروق کا لہجہ بدل جاتا تھا، اس میں ایسی تلخی سنائی دیتی تھی جو ایک بے حد درد مند دل کی نشان دہی کرتی تھی۔
میرا بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما ”تمہاری امرتا“ 1992 میں سٹیج پر آیا تھا۔ اس میں صرف دو کردار ہیں، جو شبانہ اعظمی اور فاروق شیخ اکیس برس تک ادا کرتے رہے۔ یہ ناٹک خطوط کی شکل میں ہے اور اس کی کہانی صرف اور صرف میرے قلم کی تخلیق ہے لیکن اس میں جو فارم استعمال کیا گیا ہے وہ ایک امریکی ڈرامے کا ہے، اس لیے ”بے چاری امرتا“ پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ Adaptation ہے۔ اب کیا کہا جائے، ہمارے دیس میں ہنر مندوں کو داد اسی طرح دی جاتی ہے کہ ان کے کمال کو چوری کا مال کہہ دیا جا تا ہے۔ فاروق اور شبانہ، دونوں اس الزام سے خفا رہے اور ہر انٹرویو میں تردید کرتے رہے۔ ایک دن فاروق نے مجھ سے کہا:
”سر! آپ امرتا کا دوسرا حصّہ (Sequel) لکھیں تا کہ لوگوں کے منہ بند ہوجائیں۔“
ان کے بار بار اُکسانے اور لمبی لمبی بحثیں کر نے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے ”آپ کی سونیا“ لکھا، جس میں فاروق کے ساتھ سونالی بیندرے تھیں۔ یہ ڈراما بھی بے حد مقبول ہوا۔ ان دونوں ڈراموں کا سلسلہ دو دہائیوں تک چلتا رہا اور یہی وہ دور تھا جب میں نے فاروق کے وہ روپ دیکھے جو ان کو سٹیج یا سکرین پر دیکھنے والے کبھی نہ دیکھ سکے۔
”تمہاری امرتا“ کا پہلا شو 27 فروری 1992 کو ممبئی کے پرتھوی تھیٹر میں ہوا تھا اور چند مہینوں میں اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ ٹکٹوں کی فروخت شروع ہونے کے پندرہ منٹ کے اندر اندر ہاو¿س فل ہو جاتا تھا۔ کسی بھی آرٹسٹ کے لیے ایسی باتیں انعام سے کم نہیں ہوتیں اور یہی حال فاروق کا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بادلوں میں سفر کر رہے ہوں۔ چند مہینے ہی گزرے تھے کہ وہ حادثہ پیش آیا جس نے ملک کی سیاست کا رنگ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ایودھیا میں بابری مسجد شہید کر دی گئی اور چاروں طرف فسادات کی آگ ایسی پھیلی جیسے ہندوستان گھاس پھوس کا بنا ہوا ہو اور کسی نے چنگاری ڈال دی ہو۔ اس زمانے میں فاروق انتہائی بے چین اور پریشان دکھائی دیتے تھے۔ ان کے پاس جگہ جگہ سے فسادات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے فون آتے رہتے تھے اور وہ کبھی پولیس کو فون کرتے کبھی ان وزیروں اور بڑے افسروں سے مدد مانگتے، جو فاروق کو جانتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کئی جگہ تو وہ خود پہنچ گئے اور یہ بھی نہ سوچا کہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ فساد زدگان کی مدد کا سلسلہ بھی جاری تھا اور یہ کام نہایت خاموشی سے ہو رہا تھا۔
2002 میں جب گجرات میں خون کی ہو لی کھیلی گئی، سیکڑوں بے گناہ قتل کر دیے گئے، بستیاں اُجاڑ دی گئیں، لاکھوں لوگ اچانک بے گھر اور محتاج ہو گئے تو اپنے وطن سے محبت کرنے والوں کا ایک گروپ گجرات کے دشوار گزار علاقوں میں جا کر لٹے پٹے لوگوں کو دوبارہ بسانے اور ان کا اعتماد بحال کرنے کا کام کر نے لگا، اُن میںبھی فاروق پیش پیش تھے۔ چوں کہ گجراتی ان کے باپ اور ماں، دونوں کی زبان تھی، (فاروق کی ماں فریدہ شیخ ایک پارسی خاتون تھیں) اور وہ گجراتی کسی اہل زبان کی طرح بولا کرتے تھے، اس لیے گجرات میں کام کرنا اور لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا ان کے لیے بہت آسان تھا۔ اُ س دوران میں وہ فلم اور تھیٹر تو کیا خود کو بھی بھول گئے تھے۔ ایک بار جب وہ احمد آباد کا دورہ کر کے واپس آئے تو میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور جو کچھ انھوں نے کہا، وہ بھولنا چاہوں بھی تو نہیں بھول سکتا۔ انھوںنے کہا تھا:
”یہ کیسے لوگ ہیں جاوید صاحب! اِنھیں روتے ہوئے بچے اور جلتے ہوئے گھر دیکھ کر دکھ نہیں ہوتا؟“
گجرات کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے فاروق نے جو کچھ کیا، بھلے ہی اُس کی تعریف میں اخبا روں کے کالم کالے نہ کیے گئے ہوں مگر اُ ن کی بے لوث خدمت لوگوں کے دلوں پر آج تک لکھی ہوئی ہے۔ 2012 میں جب میں احمد آباد جا کر عظیم ادیب، وارث علوی سے ملا تھا تو فاروق کا ذکر بھی آگیا تھا اور وارث صاحب نے کہا تھا:
”وہ آدمی نہیں فرشتہ تھا، گجرات پر احسان ہے اُس کا۔“
وہ ایک ایسے مسلمان تھے جو مذہب کو سمجھتے بھی تھے، مانتے بھی تھے اور احترام بھی کرتے تھے۔ وہ اُن لوگوں میں سے نہیں تھے جو اس لیے مسلمان ہوتے ہیں کہ اسلام وراثت میں ملتا ہے۔ وہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتے تھے، رمضان کے سارے روزے رکھتے تھے، زکوٰة پابندی سے ادا کرتے تھے اور شاید عمرہ بھی کر چکے تھے۔ میں نے اُ ن کی مذہبیت کے بارے میں بہت سے دلچسپ قصّے سنے ہیں۔ مظفر علی کی فلم ”گمن“ کی شوٹنگ کوٹوارہ میں ہو رہی تھی، جو مظفر کی جاگیر ہے۔ وہاں ایک بہت بڑی حویلی ہے۔ شوٹنگ کے دوران میں فاروق، اسمتا پاٹیل اور دوسرے اداکار حویلی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مظفر بتاتے ہیں کہ فاروق صبح صبح نہا کر گاو¿ں کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جاتے تھے اور واپس آکر پھر سو جاتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ مسجد میں پہلے پہنچ جاتے تھے تو اذان بھی دے دیا کرتے تھے اور ایک دو بار جب امام صاحب کو آنے میں دیر ہوئی تو فاروق نے نماز بھی پڑھائی۔ قرآن بڑی پابندی سے پڑھتے تھے، ان کے پاس انگریزی زبان میں ایک تفسیر بھی تھی جسے وہ اکثر پڑھتے رہتے تھے اور نشان لگاتے رہتے تھے۔ نماز میں عام طور پر صرف فرض پڑھا کرتے تھے اور اس کے لیے انھیں بہت زیادہ تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ میں نے خو د دیکھا ہے کہ شوٹنگ کے دوران میں یا تھیٹر میں ناٹک کرتے ہوئے اگر نماز کا وقت ہو جاتا تھا تو چمڑے کے پرانے جَھولے میں سے، جو ہر وقت اُن کے ساتھ رہتا تھا، کوئی اخبار نکالتے، اُسے بچھاتے اور نماز کی نیت با ندھ لیتے۔ آسامی زبان کے مشہور ڈائرکٹر جانو بروا نے ایک انٹریو میں بتایا تھا کہ جب فاروق آسام میں بروا کی فلم اپیکشا کی شوٹنگ کر رہے تھے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ شوٹنگ ایک ہندو کے گھر میں ہو رہی تھی۔ فاروق نے بڑے ادب سے گھر کی مالکن سے کہا:
”اگر آپ بُرا نہ مانیںتو میں یہاں نماز پڑھ لوں ؟“
مالکن انھیں اپنے بیڈ روم میں لے گئی اور کہا:
”آپ شوق سے نماز پڑھیے، دھرم کوئی بھی ہو نام تو ایشور ہی کا لیا جا رہا ہے!“
رمضان کا پورا مہینہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے، نہ کوئی شو کرتے تھے اور نہ شوٹنگ۔ فون کال اور میسج بھی نہیں لیتے تھے۔ فون کال کا تو عجیب حساب تھا، عام دنوں میں بھی کسی کو فون نہیں کرتے تھے لیکن صبح سے شام تک موبائیل فون پکڑ کے انگوٹھے سے ٹائپ کرتے رہتے تھے۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی تھی کہ وہ ایک ہی وقت میں کس طرح باتیں بھی کرتے جاتے ہیں اور میسج بھی۔
ایک موضوع اور ہے، جس کے بغیر یہ خاکہ مکمل نہیں ہوگا اور جس پر اُ ن سے گھنٹوں گفتگو کی جا سکتی تھی، اور وہ تھا کھانا۔ کھانے کے بے حد شوقین تھے۔ کس شہر کے کس ہوٹل میں کون سی ڈش اچھی ہوتی ہے، فاروق اس طرح بتاتے تھے جیسے ابھی کل ہی کھا کر آئے ہوں۔ میں ان کے ساتھ ہندوستان ہی میں نہیں ہندوستان کے باہر بھی بہت سی جگہ گیا ہوں اور ہر جگہ اُ ن کی معلومات سے فائدہ اٹھا یا ہے۔ پُرانی دلّی کے کس ہوٹل میں نہاری اچھی ملتی ہے، حیدرآباد کی بریانی کہاں ملے گی، دبئی میں لکھن¿و کے گلاﺅٹی کباب کون بناتا ہے، سنگاپور میں مغلائی قورمہ اور نان کس کونے میں ملتے ہیں؟ یہ سب راز وہ اس طرح جانتے تھے جیسے ساری زندگی کھانے اور کھلانے کے سوا اور کچھ کیا ہی نہیں۔ میں نے انھیں ”انٹر نیشنل دسترخوان“ کا نام دے رکھا تھا۔ انھیں کھانے ہی کا نہیں کھلانے کا بھی شوق تھا۔ اگر انھیں معلوم ہوجاتا کہ کسی ہوٹل میں کوئی اچھی چیز بنتی ہے تو اکیلے کبھی نہیں جاتے تھے۔ میری بیوی فریدہ بتاتی ہیں کہ جب وہ فلم ”بازار“ کے کاسٹویم کر رہی تھیں، جس کی شوٹنگ حیدرآباد میں ہو رہی تھی، تو ایک رات فاروق سارے یونٹ کو ساتھ لے کر حسین ساگر کے کنارے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں پہنچ گئے، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کچے گوشت کی بریانی اور خوبانی کا میٹھا بہت اچھا بناتا ہے۔ بل کتنا بھی بڑا ہو مگر اُسے ادا کرتے وقت پیشانی پر بل نہیں آتا تھا۔ ہاں …. شراب کے لیے ایک پیسہ بھی اپنے جیب سے نہیں دیتے تھے۔ وہ خود شراب نہیں پیتے تھے لیکن دوسروں کے پینے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہم لوگ کسی ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے، ہمارے ساتھ مرحوم یونس پرویز بھی تھے، جو کھانے کے ساتھ ساتھ وہسکی سے بھی شغل کر رہے تھے، جب بل آیا تو فاروق نے چیک کیا اور کیپٹن کو بُلا کر کہا:
”بل بدل کر لائیے، وہسکی کا بل یہ صاحب خود ادا کریں گے!“
یونس پرویز بھی کچھ کم نہیں تھے،کہنے لگے:
”کیا بات کر رہے ہو یار! میرے پاس تو پیسہ ہی نہیں ہے۔ میں تو اپنا پرس بھی نہیں لایا۔“
فاروق نے کہا:
”تو کسی سے قرض لے لیجےے۔“
یونس بولے:
”تو پھر آپ ہی دے دیجےے۔“
فاروق کا جواب تھا:
”ہرگز نہیں …. شراب کے لیے ایک پیسہ نہیں دوں گا، کھانا اور کھانا ہے تو منگا لیجےے۔“
ایسا نہیں تھا کہ فاروق ہی ہوٹلوں کے بارے میں جانتے تھے، بہت سے ہوٹل والے بھی انھیں اچھی طرح جانتے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ نامور ایکٹر تھے، ہر آدمی پہچانتا تھا۔ دوسری ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس ہو ٹل، ریستوراں یا ڈھابے پر جاتے، وہاں کے مالک سے لے کر ویٹروں تک، سب سے ایسے ملتے جیسے پرانی یاری دوستی ہو۔ اب آپ خود ہی بتائیے، اگر ایک فلم اسٹار اتنی اپنائیت دکھائے تو ہوٹل کا مالک بے چارہ ان کے پیروں تلے بچھ ہی جائے گا نا؟ میں نے اُن کی ایسی کرامات کے بہت سے منظر دیکھے ہیں۔
قلابہ، بمبئی شہر کا بے حد مصروف کاروباری علاقہ ہے۔ یہاں دن بھر دُکانیں جگمگاتی رہتی ہیں، لوگوں کی بھیڑ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ فٹ پاتھ پر چلنا بھاری ہو جاتا ہے مگر رات کو منظر بدل جاتا ہے اور ایک دوسری قسم کی رونق دکھائی دینے لگتی ہے۔ بڑی بڑی عمارتوں کے پیچھے، گلیوں کی دھند لی روشنی میں طرح طرح کی دُکانیں اور ہوٹل کھُل جاتے ہیں، جن میں ”کباب والے بڑے میاں“ بہت مشہور ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ہوٹل تاج کے پیچھے والی گلی میں دور تک چارپائیوں، میزوں، کرسیوں اور لمبی لمبی بینچوں کا ایک گاو¿ں جیسا بس جاتا ہے، اس کے باوجود ہجوم اتنا ہوتا ہے کہ اکثر بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ یہ ہجوم ان شوقینوں کا ہوتا ہے جنھیں بڑے میاں کے کباب کھینچ لاتے ہیں۔ لوگ بیس تیس کلو میٹر دور سے آنے میں بھی تکلف نہیں کرتے۔ بمبئی میں بڑے میاں کے کبابوں کا نام اور شہرہ وہی ہے جو لکھن¿و میں ٹُنڈے کے اور کراچی میں بُندو خاں کے کبابوں کا ہے۔
بڑے میاں کے کباب کھانا بذات خود ایک تجربہ ہے۔ ایک بار جب فاروق شیخ کو کبابوں کی یاد آئی اور ہم سب کو لے کر وہاں پہنچے تو ہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔
ایک لڑکے نے، جو شاید بڑے میاں کا بیٹا تھا، ہم لوگوں کے لیے ایک بند دُکان کے باہر میز لگوائی اور خود ہی کرسیاں بچھانے لگا۔ فاروق کرسیوں کو ترتیب سے رکھنے میں اس کی مدد کرنے لگے اور اس کا حال چال پوچھتے رہے۔ تھوڑی دیر میں جب ہم سب لوگ بیٹھ گئے تو میںنے فاروق سے پوچھا:
”یہاں کبابوں کے علاوہ اور کیا ملتا ہے؟“
فاروق نے اندھیرے میں اپنی شریر آنکھیں چمکائیں اور بولے:
”دیکھتے جائیے!“
اور واقعی تھوڑی دیر میں ساری میز طرح طرح کی ڈشز سے بھرگئی۔ اگرچہ روشنی کا انتظام تھا مگر اتنا کم تھا کہ اُن کھانوں کو پہچاننا مشکل تھا جو سامنے رکھے ہوئے تھے۔ اس لیے نہیں بتا سکتا کہ کیا کیا کھایا تھا مگر جو بھی تھا لذیذ تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ فاروق نے کوئی آرڈر نہیں دیا تھا۔ شاید بڑے میاں کو پہلے سے معلوم تھا کہ فاروق کی پسند اور ناپسند کیا ہے!
فاروق کی ایک پارٹی تو ایسی تھی کہ جب بھی اس کا ذکر آتا ہے، فریدہ اپنی کلائی کو دیکھنے لگتی ہیں، جس کی ایک ہڈی تھوڑی سی ٹیڑھی ہے۔ ہوا یوں کہ مجھے ”غالب ایوارڈ“ ملا تو اردو مرکز میں بڑا جلسہ ہوا، جس میں فاروق بھی شریک ہوئے۔ جلسے کے بعد انھوں نے کہا:
”مینارہ مسجد قریب ہے، وہاں ایک ہوٹل میں کھانا بہت اچھا ملتا ہے!“
فاروق کے ساتھ ہم چار آدمی یعنی میں اور فریدہ، لبنیٰ اور سلیم عارف ہو ٹل میں پہنچے جو چھوٹا سا تھا مگر صاف ستھرا تھا۔ جب ہم لوگ ہوٹل کی طرف جا رہے تھے تو فاروق نے فریدہ کی ساڑی کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
”فریدہ جی ! آپ کی ساڑی بہت خوب صورت ہے اور اس میں آپ کچھ زیادہ ہی خوب صورت لگ رہی ہیں۔ نظر لگ سکتی ہے۔“
ہم سب ہنس پڑے۔ فاروق کے جملے تو رستے بھر چلتے ہی رہتے تھے۔ اس ہوٹل میں بھی فاروق کی وجہ سے ہماری بہت خاطر تواضع ہوئی لیکن واپسی پر ایک ایسا حادثہ ہوا جو اپنے نشان چھوڑ گیا۔ جب ہم لوگ کھانا کھا کر اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے، جو کچھ دوری پر کھڑی تھی، تو فریدہ کا سینڈل فٹ پاتھ کے کسی پتھر میں پھنسا اور وہ گر پڑیں۔ میںنے دوڑ کر ان کو اٹھایا، ان کا ہاتھ مڑ گیا تھا جس میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا، لیکن دوسری کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔ فاروق نے کہا:
”میں نے توپہلے ہی کہا تھا، نظر لگ سکتی ہے۔ “
اس وقت وہ بات آئی گئی ہوگئی مگر فریدہ کے ہاتھ کا درد کم نہ ہوا تو ایکسرے کرایا گیا، جس میں پتا چلا کہ کلائی کی ہڈی ٹو ٹ گئی ہے۔ مہینوں پلاسٹر بندھا رہا، اس کے باوجود ہڈی سیدھی نہ ہو سکی۔ آج بھی جب کبھی ہمارے گھر میں فاروق کی باتیں ہوتی ہیں تو فریدہ اپنی کلائی کے درد کو نہیں، اس درد کو یاد کرتی ہیں جو فاروق کے جانے سے ہم سب کو ہوا ہے۔
ویسے تووہ انسان تھے، بالکل میری اور آپ کی طرح، مگرشاید وارث علوی نے ٹھیک ہی کہا تھا، تھوڑے سے فرشتے بھی تھے اور یہ فرشتہ پن ہر ایک کو نظر نہیں آتا تھا۔ وہ بھی نہیں جانتے تھے، جو اُن کے بہت قریب تھے۔ فرشتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ہم درد، رحم دل اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ کب، کہاں، کیسے، کس کی امداد کریںگے اور چلے جائیںگے، کوئی نہیں جانتا۔ کچھ یہی حال فاروق شیخ کا بھی تھا۔ ان کے خاموش سوشل ورک کی درجنوں کہانیاںہیں، جو اب دھیرے دھیرے باہر آرہی ہیں۔ سائی پرانجپے نے بتایا تھا کہ دہلی میں ”چشم بد دور“ کی شوٹنگ کے دوران میں ایک مزدور کافی بلندی سے گرا اور زخمی ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے لیے شوٹنگ رک گئی۔ سب نے اپنے اپنے طریقے سے افسوس کا اظہار کیا اور مزدور کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ کافی دنوں بعد جب وہ مزدور ٹھیک ہو گیا اور کام پر آیا تو اس نے بتایا کہ ہسپتال میں داخلے کے بعد کسی نے بھی اس کی خبرگیری نہیں کی کیوںکہ سب شوٹنگ میں مصروف تھے مگر ایک آدمی اس کی مزاج پرسی کے لیے باربار آیا اور مزدور سے اس کے گھر کا پتا معلوم کر کے کچھ رقم بھی بھیجی تاکہ گاﺅں میں رہنے والے بیوی بچے بھوکے نہ رہ جائیں، اور وہ آدمی فاروق شیخ تھا۔
ایک بار ہم دونوں پریس کلب پر ایک جلسے میں شریک ہو کر واپس جا رہے تھے۔ چوں کہ ہم دونوں کے گھر قریب تھے اس لیے اکثر ساتھ سفر کرتے تھے کہ راستے میں گپ بھی لڑا ئی جا سکے۔ محمد علی روڈ آیا تو اچانک بولے:
”ذرا گاڑی روکےے۔ یہاں کی نان خطائی اور بسکٹ بہت اچھے ہوتے ہیں، خرید لیتے ہیں۔“
ہم دونوں ایک مٹھائی والے کی دکان میں گھس گئے۔ فاروق ہر چیز کو چکھتے، تعریف کرتے اور آرڈر دیتے جاتے۔ انھوں نے تین بڑے بڑے تھیلے بھروائے۔ پتا نہیں کتنے ہزار کا بل دیا اور نان خطائی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے گاڑی میں آبیٹھے۔ فاروق کا گھر میرے گھر سے پہلے آتا تھا، اس لیے گاڑی پہلے ان کی بلڈنگ پر رُکی۔ انھوں نے ایک تھیلا اٹھایا اور چلنے لگے تو میںنے پوچھا:
”بھائی جان! یہ دو تھیلے کس کے لیے ہیں؟“
فرمایا :
”ایک آپ کا ہے اور ایک آپ کے ڈرائیور صاحب کا۔“
میںنے کہا:
”ارے…. ایسا کیوں کر رہے ہیں بھائی! اتنی بہت سی مٹھائی ہے، روی کو میں دے دوں گا۔“
مگر انھوں نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے ڈرائیور سے پوچھا:
”بچّے ہیں؟“
ڈرائیور نے سر ہلایا:
”جی سر !“
”مٹھائی کھاتے ہیں؟“
ڈرائیور ہنس دیا:
”جی صاحب!“
”تو پھر سوچ کیا رہے ہو؟ نکالو تھیلا ۔“
پھر مجھ سے بولے:
”سرکار! وہ کوکونٹ کوکیز فریدہ جی کے لیے ہیں۔ مجھے معلوم ہے انھیں بہت پسند ہیں۔“
اور جھومتے ہوئے گیٹ کے اندر گھس گئے۔
فاروق اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور ماں باپ کے لاڈلے بھی۔ وہ بھی اپنی فیملی کو بے حد چاہتے تھے خاص طور سے اپنے والد کو، اسی لیے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایل ایل بی کیا اور کچھ دن وکالت کی پریکٹس بھی کی اور شاید اسی زمانے میں کسی عدالت میں کھڑے ہوئے فاروق کو خیال آیا ہوگا کہ نیچے کھڑے ہوکر اوپر بیٹھے ہوئے جج کو دیکھنا تیرا کام نہیں ہے، ایسی جگہ جا جہاں تو اوپر ہو اور لوگ تجھے دیکھیں۔
فاروق کی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جو کبھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ فاروق اُن فلمی ستاروں میں سے نہیں تھے جو چھینک بھی ماریں تو اخبار کی سرخی بن جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود بھی اپنے معاملات کو اپنی ذات سے آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے۔ اُن کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور تھیں مگر کبھی کوئی بات یقین تک نہیں پہنچی۔ شاید انھیں بھی اچھا لگتا تھا کہ اُ ن کے اوپر اسرار کا باریک سا پردہ پڑا رہے جس میں سے کچھ دکھائی دیتا ہے اور بہت کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ فاروق کے گھر والوں کا رویہ بھی کچھ اُنھیں کے جیسا ہے۔ میںنے درخواست کی تھی مگر یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ ان کی بیوی اور بیٹیاں فاروق کے بارے میں کوئی بات کرنا نہیں چاہتیں، اس لیے اس خاکے میں ان کی نجی زندگی کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں ہے اور میں سنی سنائی لکھنے کا قائل نہیں ہوں۔ اس لیے وہی لکھا ہے جو جانتا ہوں۔
فاروق کو گھوڑے بہت پسند تھے۔ ان کا کہنا تھا، انسانوں کے بعد اگرکسی سے عشق کیا جا سکتا ہے تو وہ گھوڑے ہیں۔ وہ گھوڑوں کی خوب صورتی، وفاداری اور ہمت کی تعریف کرتے کبھی نہیں تھکتے تھے۔
ایک بار جب میں ”تمہاری امرتا“ کے شو کے لیے دبئی گیا ہوا تھا تو میرا قیام ایک ایسے ہوٹل میں تھا جس کی کھڑکیوں سے دبئی کے شاہی اصطبل کا ایک حصّہ دکھائی دیتا تھا۔ سویرے سویرے سیکڑوں عرب گھوڑے میدان میں دوڑتے نظر آتے، بعد میں سب کو حوض میں نہلایا جاتا اور اتنی مالش کی جاتی کہ وہ چمکنے لگتے۔ فاروق کسی دوسرے ہوٹل میں تھے، میں نے شاہی گھوڑوں کا ذکر کیا تو بے تاب ہوگئے۔ اگلے روز سویرے ہی میرے کمرے پر پہنچ گئے اور جب تک گھوڑے ایکسر سائزکرتے رہے، فاروق کھڑکی ہی میں کھڑے رہے اور عربی گھوڑوں کی خوبیاں گنواتے رہے۔ اس دن پہلی بار معلوم ہوا کہ فاروق کے پاس بھی گھوڑے ہیں، جو انھوں نے اپنے آبائی گاو¿ں میں رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کچھی گھوڑوں کی بریڈنگ کرتے ہیں کیوں کہ گھوڑوں کی یہ نسل عربی گھوڑوں سے کم نہیں ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھی گھوڑوں کی ٹانگیں عربی گھوڑوں کی طرح لمبی اور سڈول نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی رفتارکچھ کم ہوتی ہے۔ گھوڑوں سے دلچسپی فاروق کو وراثت میں ملی تھی۔ ان کے دادا کے پاس کئی گھوڑے تھے، بچپن میں فاروق ان پر سواری کیا کرتے تھے۔ سنا ہے کہ وہ اچھے شہ سوار تھے اور گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سواری کر سکتے تھے۔
ایک اور راز اُس وقت کھلا جب انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا:
”میں آپ کو آم بھیج رہا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ آپ ان کی گٹھلیاں واپس کر دےںگے۔“
میں بہت ہنسا اور سمجھا کہ یہ بھی فاروق کا کوئی مذاق ہے مگر وہ سنجیدہ تھے۔ آخر جب میںنے گٹھلیاں واپس کر دینے کا وعدہ کر لیا تو اُ ن کا آدمی دو درجن آم لے کر آیا جو نہایت خوشبودار اور لذیذ تھے۔ وعدے کے مطابق گٹھلیاں تو میںنے واپس کر دیں مگر اُن سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا کہ ان گٹھلیوں کا چکّر کیا ہے؟
کچھ شرما کر انھوں نے بتا یا کہ بروڈا کے پاس امرولی میں، جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور جہاں اُن کی آبائی جائیداد ہے، ایک امرائی (آموں کا باغ) بھی ہے، جسے وہ ایک مثالی امرائی بنانا چاہتے ہیں، اس لیے انھیں جہاں سے بھی اچھے آم یا آموں کی قلمیں مل جاتی ہیں، فوراً امرولی پہنچا دیتے ہیں۔ آموں کا شوق انھیں ملیح آباد تک لے گیا تھا جہاں آموں کا وہ تاریخی پیڑ ہے، جس میں ایک ہی وقت میں اٹھاون قسم کے مختلف آم پیداہوتے ہیں۔ فاروق بھی اپنے باغ میں ایسا ہی ایک پیڑ لگا نا چاہتے تھے۔ خدا جانے وہ اُس میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ انھوں نے ایک ٹرک بھر کے یوپی کے بہترین آموں کی قلمیں منگوا کر اپنے باغ میں لگوائی تھیں۔
خدا نے فاروق کو دولت اور شہرت تو دی ہی تھی، سب سے زیادہ جو چیز اُن کے پاس تھی، وہ تھی اُ ن کی مقبولیت۔ میں نے اپنی طویل رفاقت کے دوران میں شاید ہی کسی کے منہ سے فاروق کی برائی سنی ہو۔ یہ مقبولیت اُن کی سادگی، ملنساری اور کسی حد تک خاکساری کی وجہ سے تھی۔ انھوں نے کبھی کسی کو یہ احساس نہیں ہو نے دیا کہ وہ بہت مشہور فلم سٹار ہیں اور اُن کا مقام دوسروں سے الگ اور اونچا ہونا چاہیے۔ اُن کی سادگی اور سادہ مزاجی ہی اُن کو دوسروں سے ممتاز کر دیا کرتی تھی۔ عام طور پر لکھنوی چکن کا سفید کُرتا اور پاجامہ پہنا کرتے تھے۔ اور سینٹ (Scent) کے مقابلے میں ہندوستان کے پرانے روایتی عطر زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ اپنا چمڑے کا تھیلا کندھے پر لٹکا کے بازاروں میں گھومتے پھرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ کنفیوز ہو جاتے تھے۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ ایک سٹار عام آدمیوں کی طرح سڑکوں پرگھوم پھر سکتا ہے۔ گاڑی تھی مگر زیادہ تر آٹو رکشا میں سفر کیا کرتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میرے آفس میں میٹنگ یا ریہرسل کے بعد جانے لگے تو میں نے کہا:
”میرا ڈرائیور آپ کو چھوڑ آئے گا۔“
مگر وہ بولے:
”ارے نہیں نہیں…. اِ س کی کیا ضرورت ہے۔ چار قدم کافاصلہ ہے، میں چلا جاو¿ں گا۔“ کہہ کر سامنے سے آتے ہوئے پہلے آٹو رکشا میں چھلانگ لگا دیتے اور یہ جا وہ جا۔
اب اگر کوئی لڑکا جوان ہو، خوب صورت ہو اور مشہور بھی ہو، تو اس سے عشق کر نے والی لڑکیوں کی کوئی کمی تو ہو ہی نہیں سکتی۔ فاروق کو چاہنے والیاں بھی درجنوں تھیں مگر فاروق نے روپا کے علاوہ بھی کسی کو چاہا، یہ کبھی معلوم نہ ہو سکا۔ بہت سی لڑکیاں دوست تھیں مگر بات دوستی سے آگے کبھی نہیں بڑھی۔ اس سلسلے میں شبانہ نے ایک بڑا مزے دار واقعہ سنایا تھا کہ ایک بار وہ دونوں کالج کے باہر فٹ پاتھ پر کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ ایک عورت بھیک مانگتی ہوئی آئی اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا۔ فاروق نے ایک اَ ٹھنّی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ بھکارن نے سلام کیا اور دعا دی:
”سکھی رہو …. صدا جوڑی بنی رہے۔“
شبانہ بتا تی ہیں کہ فاروق نے بھڑک کر بھکارن کا راستہ روک لیا اور کہا:
”چل واپس کر میری اَ ٹھنّی، بڑی آئی اس کے ساتھ میری جوڑی بنانے والی۔“
شبانہ کا کہنا ہے کہ فاروق ہمیشہ اُن کا مذاق اُڑایا کرتے تھے اور کبھی ایک لفظ بھی ہمدردی کا ان کے منہ سے نہیں نکلتا تھا مگر جب کبھی کوئی پریشانی ہوتی تو فاروق پہلے آدمی ہوتے جو مدد کرنے کے لیے پہنچتے۔ کئی ہیروئینوں کے بارے میں بھی فاروق کی دوستی کی کہانیاں پھیلی تھیں مگر پتا نہیں، ان میں سے سچ کتنی ہیں اور جھوٹ کتنی!
ایک بار ایسا ہوا کہ فاروق میرے میٹنگ روم میں آئے تو ان کے ساتھ ایک ہیروئن بھی تھیں، جن کی کئی فلمیں کامیاب ہو چکی تھیں اور جنھیں اچھی اداکاراﺅں میں گنا جاتا تھا۔ فاروق نے تعارف کرایا اور کہنے لگے:
”حضور! اِ ن کے لیے بھی ایک ناٹک لکھ دیجےے۔“
میں نے وعدہ کیا کہ میں کچھ سوچتا ہوں۔ وہ ہیروئن فاروق کے ساتھ تین چار بار مجھ سے ملنے آئیں اور دھیرے دھیرے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ جتنی دیر بیٹھی رہتی ہیں، آنکھوں ہی آنکھوں میں فاروق پر نثار ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے میں نے فاروق سے کہا:
”سرکار! اِن محترمہ کو آپ سے شدید قسم کا عشق ہوگیا ہے اور یہ ناٹک اپنی اداکاری دکھانے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی قربت حاصل کرنے کے لیے کرنا چاہتی ہیں۔“
فاروق بہت زور سے ہنسے اور بولے:
”مجھے معلوم ہے، مگر یہ ان کی پرابلم ہے، مجھے تو ان سے عشق نہیں ہے۔“
میرا خیال ہے شاید ان کا یہی رویّہ اُن دوسری عورتوں کے ساتھ بھی رہا ہوگا جو انھیں چاہتی تھیں۔
پیسے کے لین دین کا معاملہ عجیب تھا۔ کچھ پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ اپنی فیس کے بارے میں کوئی بھاو¿ تاو¿ نہیں کیا کرتے تھے، کوئی ایک رقم بتا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اتنا ہی لوںگا۔ منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اللہ حافظ۔ لیکن ایسا بھی سنا ہے کہ انھوں نے کچھ فلمیں مفت میں کی تھیں اور کچھ ایک ٹوکن اماو¿نٹ ہی لے کر مکمل کی تھی۔ ایک دفعہ ایک نیا ڈائرکٹر ان کے پاس گیا اور کہنے لگا، میری فلم میں جو کردار ہے وہ آپ کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا مگر میرے پاس آپ کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ فاروق نے سکرپٹ سنا اور نئے ڈائرکٹر سے کہا، میں دو شرطوں پر کام کروں گا۔ پہلی شرط، مجھے یہ مت بتانا کہ کتنا پیسہ دینا چاہتے ہو۔ دوسری شرط، جو بھی دینا ہے وہ خاموشی سے اس پتے پر بھیج دینا۔ اور ایک یتیم خانے کا پتا دے دیا۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی تھا کہ جب تک پیسے نہ مل جاتے وہ نہ سٹ (Set) پر جاتے اور نہ اسٹیج پر۔
ایسے کمیونی کیشن کے ڈرامے ”آپ کی سونیا“ کا چشم دید گواہ ہوں۔ یہ ناٹک ”تمہاری امرتا“ کادوسرا حصّہ ہے۔ اِسے سلیم عارف نے ڈائرکٹ کیا تھا اور لبنیٰ سلیم پروڈیوسر تھیں۔ اس ڈرامے کے بہت سے شوز صرف اس لیے نہ ہو سکے کہ جو لوگ شو کرا رہے تھے انھوںنے وقت پر پیسے نہیں بھیجے اور فاروق نے ڈیٹ کنفرم نہیں کی۔
یہاں ایک اور چھوٹی سی بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ”تمہاری امرتا“ کے پروڈیوسر سے یہ طے ہوا تھا کہ وہ مجھے لکھنے کا کوئی معاوضہ نہیں دےںگے لیکن ہر ایک شو سے خرچ نکالنے کے بعد جو منافع ہوگا، اُسے چار حصّوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ پچیس فی صد شبانہ اعظمی کا، پچیس فاروق شیخ کا، چالیس فی صد پروڈیوسر کا اور دس فی صد اس حقیر ڈراما نگار کا، مگر مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا رہا کہ جو رقم مجھے دی جاتی ہے وہ دس فی صد نہیں ہے۔ اپنا شک دور کرنے کے لیے میںنے فاروق سے کئی بار پوچھا کہ اگر وہ یہ بتا دیں کہ انھیں کس شو سے کیا ملا تو مجھے اندازہ ہو جائے گا کہ میرا حصّہ اُتنا ہی ہے جتنا ملنا چاہیے، مگر فاروق شیخ نے کبھی نہیں بتایا۔ کبھی ہنس کر کبھی کوئی لطیفہ سنا کر یا کبھی خاموشی سے بات کو ٹال دیا۔ پتا نہیں وہ اپنی آمدنی کو راز رکھنا چاہتے تھے یا پروڈیوسر کی محبت میں خاموش رہتے تھے۔ اب بھی سوچتا ہوں تو فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اُس معاملے میں انھوں نے جو کچھ میرے ساتھ کیا، وہ اُن کی خوبی تھی یا خامی!
”تمہاری امرتا“ کا آخری شو 14 دسمبر 2013 کو تاج محل کے سامنے ہوا تھا جسے ہزاروں شائقین نے دیکھا۔ وہ ایک بے حد کامیاب شو تھا جس کے بعد شبانہ نے فاروق سے کہا تھا:
”امرتا کو اس سے زیادہ شان دار finale نہیں مل سکتا۔ ہمیں یہ ڈراما کرتے کرتے 21 برس ہو چکے ہیں، اب اس پر پردہ گر جانا چاہےے۔“
اور فاروق نے شبانہ کو ڈانٹ کر کہا تھا:
”واٹ نان سنس…. ابھی تو ہمیں یہ پلے 21 برس اور کرنا ہے۔“
انھیں کیا معلوم تھا، شبانہ کی زبان سے وقت بول رہا تھا۔ وقت، جو اس بات کے ٹھیک چودہ دن بعد، 28 دسمبر 2013 کو ہمیشہ کے لیے تھم گیا۔
فاروق وہاں چلے گئے جہاں سنا ہے کہ صرف فرشتے ہی جا سکتے ہیں۔

اُس ایک شخص میں تھیں دل ربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*