غزل

رہ گیا مقدر میں خواب کا سفر کتنا
جی سکے گا ایسے میں کوئی نوحہ گر کتنا

یوں تو سچ نبھانے پر متفق تھے ہم دونوں
تم بھی تھے مگر کتنے، میں بھی تھا مگر کتنا

کوئی مت تمھیں دیکھے کوئی مت تمھیں چاہے
کر دیا محبت نے مجھ کو کم نظر کتنا

ان شکستہ کتبوں پر وقت نے لکھا کیا ہے
کھو گئی کہاں دنیا مر گیا ہنر کتنا

یہ بجا نہ مل کر بھی ہم کبھی نہیں بچھڑے
پھر بھی ایسی وحشت میں ٹوٹتا ہے گھر کتنا

اب تو میرے پہلو میں کائنات لگتی ہے
حوصلہ تو ملتا ہے دل کو ٹوٹ کر کتنا

شعر، شمعیں، موسیقی، شام، جام، بے تابی
دن ڈھلے سے ہوتا ہے کوئی منتظر کتنا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*