کیتھارسس

جب ہم اپنے ہی ملک میں ہونے والی
“ایکسٹرا جوڈیشل کلنگز”
اور پے در پے ہونے والے
بم دھماکوں پر
کانوں میں روئی ٹھونس لیتے ہیں
ہم تو ایسی خبریں نہ نقل کرسکتے ہیں
نہ ہی ان پر رو سکتے ہیں
“اف!” تک کرنا جرم ہو جیسے!!
تب ہمارا
فلسطین اور اسرائیل کی لڑائی سے
کیا ربیع
کیا خریف!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*