سرمد کیا سوچ رہا ہے

ملاں اپنے عمامے میں
یہ سوچ کر
داڑھی نوچ رہا ہے
سرمد کیا سوچ رہا ہے؟
دلی کی دیواریں سوچ رہی ہیں
دھرتی پہ دستاریں سوچ رہی ہیں
ہر حجرے کی گھنگھروں کی
چھم چھم کی جھنکار یں سوچ رہی ہیں
قلعہ بھی آنکھ نہیں جھپکتا
آخر شب کی للکاریں سوچ رہی ہیں
ہر ماتم کا خونی خنجر سوچ رہا ہے
مگر ، دارا کی تقدیر نہیں سوچ رہی ہے
سب درباری بھی تو سوچ رہے ہیں
سرمد کیا سوچ رہا ہے؟
ایسی عریانی کے پہناوے میں
جسم کا انگ انگ تڑپ رہا ہے؟
ملاں اپنے عمامے میں
یہ سوچ کر
داڑھی نوچ رہا ہے
سرمد کیا سوچ رہا ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*