فہمیدہ ریاض کی وصیت

یارو! بس اتناکرم کرنا
پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا
مجھے کوئی سندنہ عطا کرنا دینداری کی
مت کہنا جو شِ خطابت میں
دراصل یہ عورت مومن تھی
مت اُٹھنا ثابت کرنے کو ملک وملت سے وفاداری
مت کوشش کرنااپنالیں حکام کم ازکم نعش مری

یاراں ، یاراں
کم ظرفوں کے دشنام تو ہیں اعزازمرے
منبر تک خواہ وہ آنہ سکیں
کچھ کم تو نہیں دلبر میرے
دمساز مرے
ہر سر حقیقت جاں میں نہاں
اورخاک و صبا ہمراز مرے
توہین نہ ان کی کر جانا
خوشنودئی محتسباں کے لیے
میت سے نہ معافی منگوانا

تد فین مری گر ہو نہ سکے
مت گھبرانا
جنگل میں لاش کو چھوڑ آنا

یہ خیال ہے کتنا سکوں افزا
جنگل کے درندے آلیں گے
بن جانچے مرے خیالوں کو
وہ ہاڑ مرے اور ماس مرا
اور میرا لعلِ بدخشاں دِل
سب کچھ خوش ہوکر کھالیں گے

وہ سیر شکم
ہونٹوں پہ زبانیں پھیریں گے

اور ان کی بے عصیاں آنکھوں میں چمکے گی
تم شاید جس کو کہہ نہ سکو ‘وہ سچائی
یہ لاش ہے ایسی عورت کی
جو اپنی کہنی کہہ گزری
تا عمر نہ ہر گز پچھتائی

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*