*

میں راجداری کتاب کے ہر ورق پہ اپنے لہو سے لکّھونگا
بعد میرے
مرے یہ نغمے ہر ایک دیوار و دَر پہ لکّھیں
ہر ایک پتّھر پہ یہ نوشتے ضرور سینچیں
کہ آگہی ہو وطن پرستوں کو ‘ ہے وطن کیا ؟
وطن جو صدیوں سے اپنی آزادی کا نشاں ہے
وطن جو ایمان ‘ مہر ‘ مذہب
وطن جو ہر آدمی کی شاں ہے
وطن جو انجیل ‘ وَید ‘ گیتا ‘ زبور ‘ تورات یا قراں ہے
وطن مرادوں کی گلزمیں ہے
وطن سمیں ہے
وطن بہاروں کا انگبیں ہے
وطن نہیں تو نہیں ہے کچھ بھی
وطن ہے ‘ ہم تم ہیں ‘ زندگی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*