کمبر، قاضی اور انگلش بوتل

درد کا سفر ہمیشہ طویل اور تھکا دیتا ہے، بات صدیوں کی ہو تو وہ سفر عشروں میں ختم نہیں ہوتی ہے۔ ایک ایسے سفرمیں جب مسافت طویل اور زادِ راہ خونِ جگر کے سوا وقت کے تھپیڑے اور زمانے کے گھاﺅ ہوں تو راہی پھر بھی تھک نہ جائے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اپنے مقصد سے راسخ العقیدہ ہے۔۔۔وہ کٹ جائے گا۔۔۔مر جائے گا مگر عہد کا پا س رکھے گا اور ایک دن تو پار ہی ا±ترے گا لیکن بشری کمزوریوں سے مفر نہیں۔ایک طویل سفر کے راہی سادھوبھی انسانی کمزوریوں سے ایک دن حوصلہ ہاربیٹھا، سنگلاخ پہاڑوں پر چلتے چلتے سادھو کے پاﺅں پر چھالے پڑگئے ،اس کے اعصاب شل ہوگئے، ذہن ماﺅف ہوگیا، دنیاوی ہاﺅ ہو اور دار وگیر میں سب رستے دھندلا سا گئے اور طرح طرح کے خیالات سے الجھن حد سے بڑھ گئی تواس کے پاس مالے کی تقدس کو یقینی رکھنے کے لیے واحد راستہ یہی تھاکہ الجھن کو حل کیا جائے تاکہ سفر میں خلل نہ ہو مگر دوسری طرف مدد کرنے والا بھی کوئی نہ تھا تواس نے من میں بسنے والے گروسے پوچھا
”گروجی !درد کے سفر میں غموں سے لبریز خیالات راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو اس کاعلاج کس منتر میں ہے ؟“
گروجی نے شفقت کا ہاتھ سادھو کے سر پرپھیر تے ہوئے کہا ”سادھو ہو تو گیانی بن جا ،سب دکھوں کا علاج من میں ڈھونڈ“۔
لیکن سادھو کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ دکھ باہر سے آتے ہیں تو من میں ا±ن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے ؟
گرو بھانپ گیا کہ سادھو گیانی نہیں ،ظاہری ہے۔
”بیٹے اگر درد کے سفر میں غموں سے لبریز خیالات راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو اس کا علاج کسی منتر میں کیونکر ملے گا ؟ یہ انہونی بات ہے۔۔۔کسی منتر میں علاج ڈھونڈو گے تو ساری محنتیں ،ساری ریاضتیں اَکارت جائیں گی۔۔۔لہٰذا ایسے حالات میں حوصلے کے جام میں درد کے تلخ آب گھونٹ پینا ہی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔۔۔ایک علاج۔۔۔اکلوتاعلاج“
یہ حقیقت ہے کہ سادھو گیان کے اعلیٰ منزل تک نہ پہنچا ہو تو اس کے پلے کچھ بھی نہیں پڑتا ،لہٰذا اس سادھو کے ساتھ یہی ہو رہا تھا مگر گرو اپنے فن میں یکتائے روزگار تھا، وہ جانتا تھا کہ سادھو بیچارہ س±ن تو رہا ہے مگر سمجھ نہیں پا رہا ہے۔
کہنے لگے ”سادھو بیٹے درد خسارے کاروبار ہے۔۔۔ اور درد کا مسافر بننا بڑے ہی دل اور گردے کا متقاضی ہے۔۔۔اس کی لذت سے صرف خانماں برباد ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔۔۔اس لئے عام لوگ اس سے پہلو بچا لیتے ہیں، صرف آشنا لوگ اس سے ناتا جوڑ لیتے ہیں۔۔۔ انوکھے انداز میں درد کے جام پی لیتے ہیں۔۔۔بدنام ہوتے ہیں۔۔۔رسوا ہوتے ہیں اور جگ ہنسائی کاسامان بھی۔۔۔مگر اندر سے شانت۔۔۔زمین کی طرح مطمئن !!!
سادھو کا سوال تودردکی فلسفے کے موشگافیوں میں الجھ سا گیا وہ تھوڑی دیر کے لئے خیالوں کی دنیا میں معلق ہوگیا۔ گروجی نے سر جھٹک کر کہا ”میں جانتا ہوں کہ موضوع اب بھی تیرے پرے ہے ،دیکھودرد کی سنگینی میں اَمرتا کا گوہر پنہاں ہے۔۔۔ اس گوہر نایاب کی چمک دمک سے دنیا و عقبیٰ کے دولت درخشندہ درخشندہ دکھائی دیتے ہیں بس ان آنکھوں کی ضرورت ہے جو مست کی نظر میں سمو کو دیکھ لیں “اور”چونکہ آپ جس غلامانہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں ،اس کے اپنے حقائق ہیں، غلامانہ سماج میں درد جست ہے۔۔۔درد سفر ہے۔۔۔ اور درد منزل بھی ہے اور دلچسپ بات ہے کہ منزل کا پتہ بھی نہ تو درد ہی منزل کا بتا دیتا ہے اور آپ کے مسائل چونکہ درد سے جڑے ہیں اور ان کا علاج بھی درد میں پنہاں ہیں “
”میرا من موہناسادھودھیان سے سنو ! دردکے فیوض و برکات پرایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔درد باہر ہوتوباطن میں طوفان برپا کر دیتا ہے اور مگر اندر ہو تو باہری موسم کے تیور اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اندر کے درد باہر کے موسم کا قبل ازوقت خبر بھی دیتا ہے اور استقبال کے لئے حوصلہ بھی۔۔۔۔لیکن المیہ یہ ہے کہ عام لوگ اس کا اندازہ کبھی بھی نہیں کر پاتے ہیں ،اس لئے غم کے جاموں میں کیف چڑھائے سادھو اکیلے رہ جاتے ہیں اور عموماََ اپنی تنہائی کا احساس اوروں کو ہنسانے میں گم کردیتے ہیں ۔۔۔گم۔۔۔۔گمنامی۔۔۔خضر کا ساتھی۔۔۔وہ برف پوش پہاڑوں میں پنہاں آتش فشاں کی مانند ہوتے ہیں۔۔۔درد کا انتخاب کچھ کچھ لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ہرکوئی تو اس سے واقفیت نہیں رکھتا۔۔۔پھرایسی باتوں کا کون یقین کرے۔۔۔ کیونکر یقین کرے۔
لیکن درد کاخاتمہ تودنیا کا خاتمہ ہوتا ہے۔۔۔جب تک درد باقی ہے دنیا باقی رہے گی اور دنیا باقی ہے تو درد بھی نہ صرف زندہ رہیں بلکہ اسے سمجھنے والے اور جھیلنے والے بھی۔۔۔۔
بیٹے! یوں تو بلوچستان میں درد کا راج ہے۔۔۔بسیرا ہے۔۔۔جہاں تک نظر جاتا ہے۔۔۔فگار سینوں میں غم کے پودے اگتے ہیں۔۔۔ اِن پر دردکے پھول کھلتے ہیں اور سادھو و سودائی اِن کی نظاروں سے اپنے آپ میں مست حال رہتے ہیں۔۔۔مگن رہتے ہیں۔۔۔اور دنیاداروں کی ایسی کی تیسی “
یہاں گرو نے ایک لمبا سا وقفہ لیا پھر سادھو کی طرف کن اکھیوں سے دیکھ کر کہا ”بلوچستان میں درد کے ہزاروں قصے ،ہزاروں کہانیاں بکھری پڑی ہیں، آج ایک صرف ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں شاید تجھے سمجھا پاﺅں۔۔۔پسنی میں دردکے تین علامات ہیں جڈّی،زرین اور قاضی۔۔۔۔فرق صرف یہ ہے کہ ج±ڈّی و زرّین صدیوں سے خاموش ہیں مگر قاضی ان کی طرح خاموش نہیں رہتا اور ہماری طرح بولتا بھی نہیں۔۔۔۔دیکھو! قاضی کی شاعری سنجیدگی سے بولتی ہے۔۔۔منجمند ذہنوں کی پرتیں کھولتی ہے۔۔۔باطن کو جھنجوڑتی ہے۔۔۔ظاہر پر طمانچہ مارتی ہے۔۔۔ہجوم میں آگ بھرتی ہے۔
یہ شاعر قاضی ہے مگر دوسرا قاضی بھی ہے اور اسرار کے پردوں میں اس طرح لپٹا ہوا ہے کہ اصل قاضی کبھی بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔۔۔جوباطن میں ہے شاعری میں قوس قزح کی رنگوں کی طرح بکھیردیتا ہے مگر جو ظاہرمیں ہے ظاہرداروں پر ظاہر کردیتا ہے ۔وہ بھی اس انداز میں چاک چاک گریبان چاک قاضی۔۔۔ہاتھ میں بڑی انگلش بوتل اور زبان میں "وہ کچھ” کہ شرفا دور سے بھاگتے ہیں۔۔۔نجس نجس کہتے وضو کو دوڑتے ہیں اور اس کی پرچھائیوں سے خدا سے پناہ مانگتے ہیں۔۔۔لیکن حیرت تو پھر بھی رہتی ہے لوگ پیارکرتے ہیں اوراس کا مان رکھتے ہیں۔۔۔دوسرا قاضی سراپا درد ہے اور درد کی خمار میں مست۔۔۔۔قاضی کی انگلش بوتل بہت طاقتور ہے، اسی کے سہارے سماج کے قائدے قوانین کا مذاق اڑاتا ہے۔۔۔اسی کے سہارے سماج سے لڑتا ہے۔۔۔اسی کے سہارے خود ساختہ شرفاءکو بے نقاب کرتا ہے۔۔۔اسی کے سہارے تفاخر کو لتاڑتا ہے۔۔۔سب کچھ یہی بوتل ہے۔۔۔یہی خلوت۔۔۔یہی جلوت۔۔۔۔کمال اسی میں۔۔۔ جمال اسی میں اورجلال بھی اسی میں ہے۔۔۔ایک کائنات سمایا ہوا ہے قاضی کی بوتل میں۔۔۔۔قاضی کے پاس زمان ومکان اور زبان و بیان کے اپنے پیمانے اپنے قوائد ہیں۔۔۔۔لوگ کہتے ہیں کہ قاضی کسی سے سنجیدہ نہیں ہے۔یہ آدھا سچ ہے پورا سچ یہی ہے کہ قاضی اس دنیا میں اپنی شاعری میں اورصرف ایک سمندر سے سنجیدہ ہے۔۔۔۔وہ سرِشام نکل جاتا ہے ساحل پر سمندر سے رازونیاز کی باتیں شروع کردیتا ہے۔۔۔کبھی عہد کے قصے۔۔۔عہدکے غموں کے قصے۔۔۔اور غم کے بطن سے پیدا درد کی کہانی اوران کہانیوں کے حیرت کدوں پر حیرت انگیز مباحثہ۔۔۔۔اور کبھی سمندر اپنے لہروں کے زیروبم سے سرورآمیز موسیقیت کا ماحول پیدا کرتا تو قاضی خاموش سامع ہوتا۔۔۔جب روح کو توانا غذا ملے تو سماج کے لیے کردار پیدا ہوتے ہیں۔۔۔امرکردار۔۔۔غلامی کے احساس کی حدت سے طور جل ا±ٹھاتو موسیٰ کا ظہور ہوا۔۔۔اب بھی یہی ہورہا ہے طور جلوہ دکھائے تو موسیٰ پروانے کی مانند اسے بانہوں میں لے لیتا ہے اور قاضی سمندر سے ناتا جوڑتا ہے۔۔۔یہ یارانہ جنم جنم کا ہے۔۔۔ایسے یارانے کبھی دیو جانس کی کلبی کی صورت میں ظہورپذیر ہوتے ہیں تو کبھی قاضی کی صورت میں۔۔۔ قاضی سمندر کا دل دکھاتا نہیں اور سمندر قاضی کو بے پناہ چاہتا ہے ،ان میں گاڑھی چھنتی ہے مگر قاضی سمندر سے کچھ زیادہ سخی ثابت ہوا ہے۔۔۔وہ ہمیشہ پہلے جام کا پہلا گھونٹ سمندرکے حوالے کرتا ہے۔۔۔
ایک رات حسب معمول راز ونیاز کی باتیں ہورہی تھیں ،اچانک سمندر نے تیور بدل کر قاضی پر گہری طنز کی اور کہا
”یار قاضی جن لوگوں کے گیت کہتے ہو۔۔۔ہرجام کا پہلاگھونٹ جس سرزمین کے آزادی کے لئے دان کرتے ہو۔۔۔کیا آپ کواپنا بیٹا اس سے کچھ زیادہ پیارا ہے یاوہ اتنا ڈاکٹر ی پڑھنے کے باوجود مرض کا تشخیص نہیں کرپایا ہے۔۔۔اوروں کی بیٹے شہید ہوتے ہیں تو شعر کہتے ہو مگر۔۔۔“
سمندر خاموش ہوا مگر یہ چوٹ گہرا تھا۔۔۔کاری ضرب تھی۔۔۔آج پہلی بار ایسا ہوا کہ قاضی نے پوری بوتل نہیں بلکہ آدھی پی اور آدھی سمندر میں ا±نڈیل دی۔۔۔۔اور لڑکھراتے ہوئے گھر پہنچ کر سیدھا کمبر کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔اس وقت کمبر قاضی کی تازہ تصنیف پڑھ رہا تھا ،قاضی نے کمبر سے کہا ” میرادوست مجھ سے خفا ہے یار کمبر۔۔۔اسے راضی کرنا ہے“
کمبر بڑا حیران ہوا قاضی تو کسی خاطر میں نہیں لاتا ہے یہ کس دنیا کا دوست ہے جس کے لئے قاضی اتنی ہلکان ہوئے جارہی ہے۔
کمبر نے استفسار کیا کہ ”ہاں ابّا دوست کون اور کیوں ناراض ہے ؟
قاضی نے کمبر کو دیکھے بغیر جواب دیا ”دوست کا مت پوچھ بلکہ اسے راضی کرناچاہتے ہوتو ابھی ا±ٹھو اور ا±ن لوگوں کی ہمراہی کروجو غلامی کے اندھیرتاﺅں میں آزادی کا نور گ±ل رہے ہیں“

اس سے آگے قاضی نے کچھ بولا نہیں اور کمبر نے پوچھا نہیں۔۔۔کمبر سمجھ دار نوجوان تھا، اسی وقت ا±ٹھا رات کا پچھلا حصہ کہیں اور بسر کی اور دوسرے دن پوپھٹنے سے پہلے پسنی چھوڑچلا۔۔۔اب قاضی اور ا±س کا دوست دونوں مطمئن تھے، ا±ن کا ہر قصہ نیا تھا جس طر ح ہر نشہ نیا نشہ ہوتاہے۔۔۔اسی طرح قاضی اور سمندر کا ہر قصہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔۔۔مدتوں بعد ایساہوا کہ ایک رات کو قاضی سمندر کے پاس نہیں گیا سمندر مغموم سا ہوگیامگر چارہ نہیں تھا سو برداشت کی۔۔۔
دوسری رات قاضی آیا خلافِ معمول ایک کے بجائے دو بوتل ہاتھ میں۔۔۔پہلاجام پورے کا پورا سمندر میں ا±نڈیل دیا۔۔۔خاموشی سے پہلا بوتل خالی کیا۔۔۔ان کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہورہی تھی ایسالگ رہا تھاکہ آج گفتگو وہ نہیں بلکہ سمندرکی لہریں کررہی تھی۔۔۔۔سمندر نے پہل کرکے خاموشی کاسلسلہ توڑا۔۔۔اور قاضی سے مختصرساسوال پوچھا ”قاضی رات کو کہاں تھے “؟
قاضی نے زور کا قہقہہ مارکر جواب دیا ”یار رات کوکمبر آیا تھا “مدتوں بعد قاضی کے زبان سے کمبر کا نام س±ن کر سمندر بڑا خوش ہواتو جلدی سے پوچھا”ہاں ،ہاں جلدی بتاﺅکمبر کیا خبر لاچکاہے “۔۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ قاضی کے ہونٹوں پر کھیل گئی اور کہا ”کمبر خبر نہیں لاچکا ہے بلکہ خود خبر بن کے آیا ہے “۔۔۔۔ اسی دوران ایک لہر دوسرے لہرسے ٹکرایااورایک ایسی آواز آئی جیسے کہ عہد ِرفتہ کی نامعلوم زبان ہے جس کا مطلب آج کوئی نہیں جانتا۔۔۔مگرسمندرسب کچھ سمجھ چکاتھااوریہ سمندر کے دل میں تیر کی مانند پیوست ہوگیا۔۔۔اس نے قاضی کو مزید کریدنا اچھا نہیں سمجھا اور خاموشی کا چادر اوڑھ لیا “
گرو نے سادھوکی آنکھوں میں جھانکا تو ان میں ابھی تک سوال تیررہاتھااس کا مطلب یہ تھا کہ اسے جواب نہیں ملا ہے، اس نے سادھو سے پوچھا ”مجھے یہ توبتا ،ایک ماں حمل سے دردزِہ تک اتنی تکلیف کیوں برداشت کرتی ہے ؟
سادھونے انتہائی احترام میں ملفوف لہجے میں عرض کیا”گروجی !ایک نئے انسان کے لیے “
گروجی نے سادھو کوآج پہلی بار بانہوں میں لے کرکہا”غور سے سنو !جنم ایک نئے انسان کا ہو یا ایک نئے وطن کا۔۔۔اس کے لئے حمل کی تکالیف اور دردزِہ کی ہولناکیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔لہٰذاجب بھی دردکے سفرمیں غم سے لبریز خیالات راہ بن جائیں تودرد کے تلخاب گھونٹ پینا ہی اکسیر ہے ،اس کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ کار نہیں۔۔۔اورآپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں قاضی کا قصہ کیوں گھس گیا تو س±ن لو،قاضی بھی درد کی ایک علامت ہے۔۔۔ قاضی بن اور درد پیتے جا توغموں سے لبریز خیالات تیری راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ کہکشاﺅں کی طرح رہنمائی کریں گے“

یہ سن کر سادھونے مسکراتے ہوئے درد کو گلے لگایا۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*