دسمبر کا شونگال

بلوچستان کا فیوڈلزم

ہمارے بہت ہی نظریاتی حکمران 70سال سے یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ کس طرح کے ملک کو چلا رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ آیا وہ ایک نیشن سٹیٹ (قومی ریاست) کے حکمران ہیں ، یا امت مسلمہ کی توسیعی سلطنت کے محض ایک حصہ کے ۔قومی ریاست میں تو پاسپورٹ ہوتا ہے ، ویزا ہوتا ہے ، اور اپنے شہریوں کے حقوق سب سے مقدم ہوتے ہیں۔ جبکہ امت مسلمہ کے حصے کے بطور کوئی پاسپورٹ ، ویزا کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ جو آئے وہ اسلامی بھائی ہوتا ہے ۔ سینکڑوں کی تعداد میں آئے یا لاکھوں کی تعداد میں ، ایک دن کے لیے آئے یا 45سال کے لیے ۔ کیمپ میں رہے یا ”ہمارا “ الیکشن لڑ کر ”ہماری “اسمبلی کا ممبر اور وزیر بنے ۔
اس غرق درق ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک مزاحیہ شخص حکمران بنتا رہا۔ اس سلسلے میں ضیاءالحق کے بعد اب تک کا سب سے بڑا ڈرامہ عمران خان اینڈ کمپنی تھا ۔ اُس کے پاس اقبال تھا، عالم اسلام تھا اور ریاست مدینہ تھی ۔ ناچ اور رقص اور جنسی سکینڈل تھے ، انہی میں ملکی دولت لٹتی رہی۔
وہ تو جب بھوک محمد شاہ رنگیلاﺅں کے اسلام آباد اور پنڈی کے عوام کے پیروں تلے زمین کو گر ما گئی تب جاکر کاشغر سے نیل کی ساحل تک کی پاسبانی میں ڈوبے حکمران ہڑ بڑا کر جاگ گئے ۔ عمران ”نامنظور “ ہوا، اُسے نکال باہر کیا اور نواز شریف کے لیے راستہ صاف ہونے لگا ۔
نومبر2023میں گناہوں سے پاک کردہ ،فرشی بھگوانوں کا پسندیدہ ،اور سیاست کے رِنگ ماسٹر کا لاڈلا بنا یا ہوا یہ شیر نواز شریف ،کوئٹہ میں پرفارمنس دینے آیا۔ پرفارمنس بھی کیا ہوگی ، اس کے لیے تو سارا سٹیج ، پنڈال ، مائیک ، دریاں، قیمت سب کچھ کی ادائیگی پہلے ہی کردی گئی تھی ۔
چنانچہ نواز شریف نے کوئٹہ میں پہلے ہی سے خریدے گئے سرداروں کی رسم ”رسی “پوشی منعقد کی ۔اُس روزبلوچستان کے سردار بڑی تعداد میں اُس کی جماعت میں شامل ہوگئے ۔یاد رہے کہ انہی سرداروں نے 2017میں اسی نواز شریف کی جماعت کو بلوچستان سے فارغ کرنے کے بعد اسے ایوان بالا یعنی سینٹ میں بھی بے اثر بنادیا تھا۔مسلم لیگ (نون) اور ”باپ“ اب ایک بار پھر جوڑی کی طرح باہم مل چکے ہیں۔پہلے جب ”غیر جمہوری قوتیں‘ ‘ کہا جاتا تھا تو مارشل لا لگانے والے ادارے کا نام ذہن میں آجاتا ۔ مگر اب تو یہ وائرس خوب پھیلا ۔ سیاسی پارٹیاں، ٹریڈ یونینیں ، دانشور، وکیل سب کو ”غیر جمہوریت“ لگ گئی ۔الیکشنوں کے وقت غیر جمہوری سُپر قوت کی سیٹی کے ٹون پہ غیر جمہوری ”سیاسی “پارٹیاں سمت سمجھ لیتی ہیں۔ فوراً پوزیشنیں سنبھال لیتی ہیں اور عوام کو الیکشن سے چھ آٹھ ماہ پہلے ہی اگلے صاحبانِ اقتدار کا پتہ چل جاتا ہے ۔
مرغِ بادنما کے لیے کیا اصول ،کیا نظریہ؟ ۔ابن الوقت کے لیے کیا اصول ،کیا روایت ؟ ۔ بس سبز گھاس دور سے دکھا دو ، باں باں کرتے پوری میر تھن دوڑ اسی سمت شروع ہوجاتی ہے ۔ سوچ ، وژن سب گئے بھاڑ میں ۔ لیڈر نہیں ڈیلر ہیں یہ لوگ۔ ڈیل ہی ان کا مذہب ، ڈیل ہی ان کا وطن ،اور ڈیل ہی ان کی حیاتی ۔۔۔سیاست دان ڈیلر ، سرمایہ دار ڈیلر، میڈیا ڈیلر، فیوڈل اور سردار ڈیلر۔
یہ ایمان بکنے کا دن تھا۔ جُھک جھک سلامی پیش کرنے کا کالا دن تھا۔ سرداروں کو انسانوں کے بجائے بیل میں ڈھالنے کا دن ۔ شرم و جھجک و عزت کوٹھو کر مارنے کا دن۔ پگڑی سر کے بجائے پسینہ پسینہ ہوئی گردن کے گرد لپیٹنے کا دن۔شرمناکی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا دن ،نام و ناموس و شان جھٹک دینے کا دن۔ نہ کسی کا پیر رنجور ہوا، نہ معذوری کا کوئی اظہار ہوا۔ سب نے چادر کمر پہ کس کر باندھ لی ،اور انسانیت سے گرجانے کی راہ لی ۔عقل دور پھینک دینے کا دن، پلاﺅ اور کباب کی آس میں اپنے وطن کا نام حرام کرنے کا دن ۔ ایک دوسرے سے پرانی مقابلہ بازی پورا کرنے کے لیے اس میدانِ بے حجابی میں مقابلے کا دن، مل کر بے عزتی کو جھپٹنے کا دن ، پورے وطن سے استقلال و حیا کے کوچ کرجانے کا دن ،شرمساری کا دن۔ پوری قوم کے لیے سیاہ روئی کے مناظر تخلیق کرنے کا دن ، وہ دن جس کی پاداش میں حشر کی عدالت میں اِن لوگوں کو خدا دور رکھے گا ۔
باقی دو چار دانے جو نواز سے رہ گئے تھے انہیں بلاول نے اپنے بغل جھولے میں ڈال دیا۔
کوئٹہ میں یہی ہارس ٹریڈنگ یا گھوڑا فروشی جاری تھی اور اُدھر مکران ڈویژن کے صدر مقام تربت میں ہزاروں عورتوں کی قیادت میں ایک بہت بڑا دھرنا جاری تھا۔ یہ دھرنا ایک شخص کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ہورہا تھا ۔ وہاں خواتین کی اس قدر بڑی تعداد اور رہنمایانہ رول کے علاوہ بلوچستان نے ایک اور حسین چیز دیکھی۔ مقتول ذگری ، فرقے سے تھا اور ذکری فرقہ کے خلاف ضیاءالحق اور اُس کے مائنڈسیٹ نے عرصے سے پیسہ خرچ کر کر کے اسے ایک الگ مذہب قرار دینے کی کوششیں کیں۔ مگر آج ایک بلوچ لاش نے سرکار کی پچاس سالہ سازشوں اور کوششوںپہ پانی پھیر دیا۔
ہوا یوں کہ اس مقتول کی نماز جنازہ میں ہزاروں ایسے مرد وخواتین نے شرکت کی جو کہ ذگری نہ تھے ۔مگر ، آج سارا بلوچ ذگری بن گیا تھا ۔ انہی کی دعاتیں منا جائیں (چوگان )گاتے ہوئے ، اور ضیاءالحقی مائنڈ سیٹ کو پیروں تلے کچلتے ہوئے عوامی قومی اجتماعیت کو مضبوط کرتے ہوئے ،اس کا جنازہ پڑھا گیا اور اس کی تدفین کی گئی ۔ یہ ہے بلوچ عوام کا معیار۔
” باپ پارٹی“ طرز کے تھالی کے بینگنوں کو بلوچستان کی شناخت بنانے کی کوشش سے بلوچستان کا سیاسی وقار مجروح ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان کی سینکڑوں سالوں کی اشرف تاریخ کے تسلسل نے بلوچستان کی سیاست کو ایک معتبر مقام دلارکھا ہے ۔ ہماری صدیوں کی صحت مند مگر مصائب بھری سیاست نے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں محض وزیر بننے کے لیے سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کو ایک عیب بنا رکھا ہے ۔یہی بلوچیت تھی ، ہے ، اور رہے گی۔ بلوچستان کی سیاسی روایات کو داغدار کرنے والے خواہ سرکاری باڈی گارڈوں کی جھرمٹ میں رہیں ،یا دنیاوی کروفر کی دیگر بے آبروسا زو سامان میں ، یہ بلوچ عوام الناس کی تاباں سیاسی روایتوں کی تھالی سے باہر ہیں۔ محض وزیر و مشیر بننے کے لیے روز گھونسلے بدلنے والے اِن پرندوں کے برعکس بلوچ عوام ایک مستقل و مسلسل نظریہ رکھتے ہیں، اُس نظریہ پہ وفاداری سے قائم رہتے ہیں اور ایک بشری حرمت وو قار سے حرکت کرتے ہیں۔ بلوچ عوام محض ایک چرب نوالے کے لیے اپنی سامراج دشمن اور فیوڈل مخالف مقدس سیاسی روایات کونہیں روندتے۔
مگر اس ملک میں سیاست تو جمہوریت اور اصول کو بار بار قتل کرنے کے لیے کی جاتی ہے ۔ سرمایہ داروں نے ووٹ جیسے پاک ترین انسانی سرگرمی کو بھی کاروبار بنا کر رکھ دیا۔طالبان کے بم مارنے اور حکومت کی مسخ شدگی والی حرکات کے ذریعے ڈر بیچا جاتا رہاہے ۔مگر، وہ ڈرعام بلوچ نے نہیں خریدا!۔ صرف فیوڈل طبقہ خوف زدہ ہوگیا۔ اور اس قدر پالتو بن گیا کہ انسان اور سُدھائے ہوئے جانور میں فرق نہیں رہ گیا۔
برائے فروخت یہ گھوڑے محض پڑی کے بکاﺅ مال نہ رہے بلکہ انہوں نے آگے سے عادت بنا لی کہ ووٹ خرید و ،اسمبلی ممبری جیتو، پھر اپنی اسمبلی ممبری آگے بیچو اور وزیر بن کر نوکریاں بیچو، ٹرانسفر پہ پیسے لو، سکیموں سے کمیشن لو،۔یہ سب کچھ depoliticizationہے ، یہ dehumanizationہے ۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ چند افراد اپنی اس dehumanizationاور depoliticizationکے وائرس کو عوام کے اندر پھیلا کر اس مہلک بیماری کو مین سٹریم بنا لیتے ہیں۔ جس کو پھر قابو کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔
ستر سال سے مسلط کردہ غیر سیاسی لوگ بلوچستان کی حکمرانی پہ قابض ہیں ۔ ان کا بلوچستان کے عوام کی سیاسی روایت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ بلوچ سیاست قلی کیمپ کی اذیتوں سے گزر کر آئی ہے ۔ آج اُس بھاری سیاست کو بہت ہلکا بنا دینے کی سخت مزاحمت کی ضرورت ہے ۔یہی جاگنے کا مقام ہے۔ اس نازک گھڑی میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلوچ کی عوامی اور قومی روایتوں کو زندہ رکھا جائے ، اپنے اصولوں پہ کھڑا رہا جائے، اپنی آبائی نظریاتی اور شستہ و شائستہ سیاست کو اِن غیر سیاسی لوگوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*