وحشت اور امید کی جنگ

جمعہ 6۔ اکتوبر 2023کا کینڈا میں بڑی شدومد سے انتظار کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ کینڈا میں Thanks
giving کے لانگ ویک اینڈ کی شروعات تھی اور کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ اگلے تین دن کینڈا خود اس جنگ کے نظریاتی حامیوں کے لیے زمین فراہم کرے گا جو اس سے ہزاروں میل دور لڑی جارہی ہے۔یہ جنگ اس پچاس سالہ تنازعے کا crux ہے جسکو ماڈرن دنیا نے صرف اپنی ذاتی انا ، جھوٹے انتہا پسندی پر مبنی مذہبی رجحانات اور پیسے کی ہوس میں نہیں سلجھایا کہ تیل اور ہتھیاروں کی تجارت انسانی خون پر مقدم ہے ، امیروں کی تجوری پوری دنیا آپکے اور میرے بچوں کی زندگی سے زیادہ فوقیت رکھتی ہے کہ ان کی تجوری کا ایک سکہ ہماری زندگی سے اہم ہے اور یہ نیو ورلڈ آرڈر کا بھیانک چہرہ۔اکثر کینڈا/امریکہ میں ایمرجنسی میں ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی لائنیں اور یورنیورسٹی کے لون کے نیچے دبے نوجوان دیکھ کر آپ سوچتے ہیں کہ کیا یہ واقعی ایک فرسٹ ورلڈ ملک ہے۔یہ وہ ممالک ہیں جو دنیا میں بے شمار ممالک پہ یہ کہہ کر حملہ کر چکے ہیں کہ یہاں کی حکومتیں دہشت گردوں کی حمایت کر رہی تھیں اور ساری دنیا کو اس موضوع پر لیکچر دیے گئے اور پھر سب نے دیکھا کہ ان کے اپنے شہریوں نے ان جنگوں کو تیل کی ڈالر کے جنگیں قرار دیا اور ان کے اپنے امیروں کے بچے اس پیسے سے عیاشی کر رہے ہیں اور ان کے مڈل کلاس اور غریبوں کے بچے جنگ میں جھونک دیے گئے ۔حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی گنجان آباد پٹی پر بے رحمانہ حملے کا آغاز کیا ،جب 7 اکتوبر کو پہلی بار ٹی وی پر یہ پٹی چلی کہ حماس کے اسرائیل پر حملے سے بےشمار انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور ساتھ ہی کافی تعداد میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے تو یہ ایک سن کر دینے والی خبر تھی اور پورے جسم میں سنسنی دوڑا دینے کے ساتھ ایک بے پناہ خوف تھا کہ اسرائیل کا ردعمل انتہائی بھیانک ہوگا اور غزہ کے لوگ بے قصور مارے جائیں گے اور اس خوف میں بیچارگی کا احساس بھی تھا کہ سچ اور عقل کی کوئی آواز بلند نہیں ہوگی کہ پچھلے کچھ عرصے میں مجھے اندازہ ہوا کہ ایک فقرے کو کس طرح سے out of context quote کر کے آپکو یہودی مخالف قرار دے دیا جاتا ہے اور آپ کے اوپر نہ صرف معاشی دروازے بند کیے جاتے ہیں بلکہ آپکو سوشل آو¿ٹ کاسٹ بنا دیا جاتا ہے
اس حملے کو 9/11 سے تشبیہ دی گئی اور غزہ پر اسرائیل کی بمباری کا اندوہناک سلسلہ شروع ہوا جس کو بشمول کینڈا کے امریکہ انگلینڈ اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہوئی۔ میرے لیے اس جنگ کا خوفناک پہلو آزادی رائے کے اظہار کا چھن جانا تھا کہ ان ممالک کے لیڈر اسرائیل کی ایسی اندھا دھند حمایت کر رہے تھے کہ ان کے لیے ایک عقل کی امن کی آواز بھی ناقابل برداشت ہے۔ہم نے اس پچھلے ایک ہفتے میں دیکھا کہ یورپ کے ظلم وستم کے نتیجے میں مرنے والے یہودیوں کے خون کے دھبے مغرب نے فلسطینیوں کے خون سے دھوئے بجائے یہ کہ یہ انسانی حقوق کے علمبردار اس جنگ اور خونریزی کو رکوانے کی کوشش کرتے انہوں نے اس کو بڑھاوا دیا۔ اسرائیل کی کمر پر بڑھ چڑھ کے تھپکی دی کہ شاباش انتقام لو اور سب کچھ تہس نہس کر دو۔ جس علاقے پر بمباری کی جارہی ہے وہیں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کو رکھا ہوا ہے لیکن اتنے دنوں میں ایک دفعہ ان رہنماو¿ں نے اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے کوئی کوشش نہیں کی کہ اتنی انسانی جانوں چاہے وہ اسرائیلی ہوں یا فلسطینی کو نتن یاہو کی انا کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے ۔لیکن ان سب سو کالڈ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اپنے کاروبار کے نیکسس ، بزنس ڈیلز اور پیسوں کو ضرب دینے کے چکر میں اس کی پیٹھ تھپک تھپک کے اسے بڑھاوا دیا ۔غزہ کے لوگوں کو ان اسرائیلی یرغمالیوں سمیت اس آگ اور خون کے کھیل میں دھکیل دیا گیا۔ اگر اسرائیلی زندگیاں اسرائیل کی حکومت کے لیے اتنی اہم ہوتیں تو پہلے ان کو بچانے کے لیے کوشش کی جاتی نہ کہ دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ دیکھیں ہمارے پاس کتنا ماڈرن اسلحہ ہے آئیں آپکو اس کی تباہی کی لائیو ڈیمونسٹریشن ہم غزہ میں دکھاتے ہیں۔اس سب میں انسانیت پر ایمان ختم ہو جاتا اگر سر پھرے لیفٹ کے حمایتی بغیر اس ڈر کے کہ ان پر ان کے روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں گے ڈٹ کر نہ کھڑے ہوتے۔کینڈا میں جن لوگوں نے اس جنگ کی سختی سے مخالفت کی ان میں NDP کی نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی سارہ جمامہ اور CUPE کے سربراہ فریڈ ہین تھے۔CUPE تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے علاوہ کام کرنے والے ملازمیں کی انتہائی طاقتور یونین ہے اس نے بیان دیا کہ “ CUPE ہمیشہ انصاف جو بے انصافی پر ، کمزور کو طاقتور پر اور ان لوگوں کو جن پر قبضہ کیا گیا قبضہ کرنے والی طاقتوں پر ترجیح دے گی “ ، اور تمام تر پریشر کے باوجود کہ یہاں تک کہ ان کے صدر کو ہٹانے کی کوشش کی گئی انہوں نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا بلکہ ان سب ذیلی تنظیموں کی ذاتی طور پر حمایت کی جنہوں نے اس جنگ کے خلاف بیان دیا تھا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ سارہ جامہ NDP سے تعلق رکھتی ہیں جو اپنے آپ کو بہت انصاف پسند جماعت کہتی ہے اس کی اپنے لیڈر جگمیت سنگھ اور صوبائی لیڈر نے رائٹ ونگ پرتشدد رونسٹ پریشر کے آگے ہار مان کر ان کو اپنے بیان پر معافی مانگنے پر مجبور کیا یہاں تک کہ اونٹیریو کے پریمئیر نے ان کی اسمبلی سے سیٹ خالی کرنے کا بے ڈھنگا مطالبہ کر دیا اس سارے ماحول میں کینڈا کی یورک یورنیورسٹی کی تین طلبا یونین نے اس جنگ اور اسرائیل کے تشدد کے خلاف اپنا بیان جاری کیا جس کی وجہ سے نہ صرف ان طلباءتنظیموں کو رائیٹ ونگ جماعتوں ، زونسٹ تنظیموں بلکہ یورنیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا ان طلباءتنظیموں کے عہدیداران کی تصویریں سوشل میڈیا پر لگا کر ان کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچایا گیا ، پراﺅیسی کو مجروح کیا گیا اور حکومتی وزیر برائے کالج یورنیورسٹی نے ان کے خلاف بیان جاری کر کے ان کو اپنا موقف واپس لینے کی ہدایت کی جس سے انہوں نے انکار کیا اور سخت قسم کے ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔کینڈا کی تینوں بڑی جماعتوں نے اسرائیل کے حملوں کی حمایت کی لیکن کمیونسٹ پارٹی آف کینڈا نے اس کی مخالفت اور فلسطین کے حق میں بیان جاری کیا “کمیونسٹ پارٹی آف کینڈا فلسطین کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جو زونسٹ بربریت کا سامنا کر رہے ہیں جس کو امریکہ ، کینڈا اور یورپ کے سامراج کی حمایت حاصل ہے وہ اسرائیل کے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے جن کو اپنی حکومت کے وحشیانہ مقاصد کیگ وجہ سے خطرات لاحق ہیں اور مطالبہ کرتی ہے کہ امن کی طرف پہلے قدم کے طور پر ان وحشیانہ حملوں کو بند کیا جائے اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کوگ تسلیم کیا جائے۔کینڈا کی حکومت اور پارلیمنٹ کے لیے یہ شرم کا لمحہ ہے کہ وہ ظالمانہ سامراجی زونسٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور جو بھی کینڈین شہری اس عمل کی مخالفت کرتا ہے یا امن کی بات کرتا ہے ان کو یہودی مخالف کہہ کر ہراساں کیا جاتا “ اور یہی لمحہ فکریہ ہے کہ آزادی اظہار رائے کا یہ عالم ہے کہ مفکر دانشور حضرات جو کینڈین ٹی وی پر اس مسئلے کی اصل جڑ پر بات نہیں کرنے دی جارہی اور نہ ہی امن کی بات سننے کے لیے تیار ہیں۔اس سارے خوف وہراسانی کے ماحول میں لیفٹ اور پولیٹکل ایکٹوسٹ نے فلسطینیوں کے حق میں ہفتے اور اتوار کو کینڈا کے دارلحکومت اوٹوا اور اونٹیریو میں مسی ساگا ، ہیملٹن اور پک رنگ میں احتجاجی ریلیاں نکال کر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ایک ایسے وقت میں جب فرانس اور انگلینڈ ان ریلیوں فلسطین کے جھنڈے پر پابندی لگا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کے لیفٹ اور پولیٹکل ایکٹوسٹ اور سوشلسٹ دانشور انتہائی تعصبانہ اور نفرت کی غلاظت سے بھرے ماحول میں مظلوم کے ساتھ بغیر کسی خوف کے ڈٹ کے کھڑے ہیں اور یہی صورتحال کینڈا میں ہے کہ اپنے نظریات کی قیمت ان دانشوروں پولیٹیکل ایکٹوسٹ اور لیفٹ کی تنظیموں اور یونینز کو اپنی سیکیورٹی تک کے اور جان کے رسک پر ادا کرنی پڑ رہی ہے یہ ہے ان ممالک کی انسانی دوستی کا اصل چہرہ۔
ان سب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ مل کر دنیا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا ہے جس نے اخلاقیات تک کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ایک ایسی جنگ جس میں مرنے والے بچے کی قومیت یہ تعین کرتی ہے کہ اس کی لاش پہ بائیڈن ٹروڈو اور رشی سونک افسوس کریں گے یا آنکھیں بند کر لیں گے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو آج تک روس اور چین کو انسانی حقوق کا سبق پڑھاتے آئے ہیں۔جن کے پاس اپنے سکولوں کالجوں اور ہسپتالوں کے لیے پیسے نہیں ، جن کی یورنیورسٹیوں سے نکل کر آنے والے بچے لاکھوں ڈالر کے مقروض ہوتے ہیں لیکن ایک ایسی جنگ میں جھونکنے کے لیے ملین ڈالرز ہیں جس میں دونوں طرف انسانی جانوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر ہے جس میں صرف امیر کے بچے کو زندہ رہنے کا حق ہے اور باقی سب کے بچوں کو بلاتفریق کو آگ میں جھونک کر وحشیانہ بربریت کا رقص یہ رائٹ ونگ جماعتیں اور سامراج کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے سوشلسٹ اور لیفٹ کے پولیٹکل ایکٹوسٹ اس دنیا کو اس کے بچوں کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دو قوموں کی جنگ نہیں یہ امید کی وحشت سے ،زندگی کی موت سے ، انسانیت کی بربریت سے جنگ ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*