جدوجہد، آزادی کی راہ ہے ؟

کتاب کا نام: دیہات کے غریب
قیمت: 500 روپے
صفحات: 106
مصنف: و۔ ا۔ لینن
مترجم: عبداللہ جان جمالدینی

if there is no strugle, no is there if progress.
جب تک جدوجہد نہیں ہوگی تب تک ترقی نا ممکن ہے۔
”دیہات کے غریب“ ولادی میر لینن کی لکھی ہوئی کتاب جس کا بابا عبداللہ جان نے بہت خوب صورت ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے کی اہمیت سے تو ہم سب بہ خوبی واقف ہیں۔ دوسروں کے علم سے، تجربات سے استفادہ کرنے میں ترجمہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
روس کے 1917ءکے انقلاب سے پہلے ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے وہاں کے اور پاکستان کے حالات میں خاصی مماثلت پایہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے مسائل ایک سے ہوں گے تو ان کا حل بھی کم و بیش ایک سا ہے۔
یہ کتاب ” دیہات کے غریب“ ان حالات میں ایسی ہی مددگار ہے کہ جس میں لینن نے کسانوں مزدوروں کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور پھر آپ کا طبقہ یا کلاس کس طرح جدوجہد کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے، یہ بھی بتایا اور سکھایا ہے۔
کتاب چھوٹے چھوٹے ابواب میں تقسیم ہے۔
شہری مزدوروں کی جدوجہد: اس باب میں شہری مزدوروں کی جدوجہد کی اک لمبی کہانی ہے۔ کہ جس میں کسان اچھی طرح واقف ہیں کہ جب انھوں نے سرمایہ داروں، کارخانہ داروں کے خلاف ہڑتالیں کیں، ایک ساتھ کام بند کیا، پمفلٹ شایع کیے اور بغاوت کی کہ ہماری اجرت بڑھائی جائے اور یہ کہ کام کے اوقات آٹھ گھنٹے مقرر کیے جائیں۔تب انھیں دیہات جانے پر مجبور کر دیا گیا لیکن وہ یونین کی صورت متحد ہوئے۔پولیس اور حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھ کر سوشلسٹ سوسائٹی کی بنیاد رکھنا چاہی۔ یہی دراصل سوشلزم ہے۔
کسانوں کے لیے سیاسی آزادی کی جدوجہد: اس چیپٹر میں بتایا گیا ہے کہ روس کے انقلابی ،آزادی چاہتے ہیں تاکہ تمام مزدوروں کو بڑے پیمانے پر آزادانہ متحد کر کے سوشلسٹ نظام قائم کر سکیں۔ یہ صرف وہاں کے انقلابی نہیں چاہتے بل کہ ہر جگہ جہاں یہ حالات ہوں ،جہاں زرعی غلام ہیں، جہاں مزدوروں کی زندگی مشکل میں ہے ،یہی ہوتا ہے۔
زرعی غلام جو زمیں دار سے بلا اجازت شادی تک نہیں کر سکتے تھے نہ گاو¿ں چھوڑ کر جا سکتے تھے تو کہاں جائیداد کی خرید و فروخت…زمیں دار ہی کے حکم پر انھیں کوڑے بھی مارے جاتے تھے۔ گو کہ اب اس طرح کے حالات نہیں پھر بھی پوری طرح کسان آزاد نہیں۔ یہی شہری آزادی کہلاتی ہے۔ شہری آزادی، کہ جس میں عوام کو ریاستی و عوامی معاملات کو سلجھانے کی آزادی ہو۔ نمائندوں کے انتخاب کی آزادی ہوتاکہ ٹیکس اور دوسرے مسائل وہی نمائندے حل کر سکیں۔ جلسے جلوس، کتابیں و اخبارات شایع کرنے کی آزادی ہو۔ دراصل چند امیر افراد پر مشتمل طبقہ پورے ملک پر قابض ہے۔
یہاں مصنف نے صاف طور سے سمجھایا کہ حکومت اور اس کے ٹٹو جاگیردار اور پولیس‘ انقلابیوں کو جدوجہد روکنے کی کوشش کریں گے۔کبھی تشدد،کبھی انھیں ملازمتیں نہیں دیں گے اور آخری حربہ ان کے پاس رشوت و فریب کا ہے لیکن وہ کام یاب ہرگز نہیں ہو پائیں گے۔ اگر انقلابی، کسانوں اور شہری مزدوروں کو متحد کر کے سیاسی پارٹی بنا کر جدوجہد جاری رکھیں۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ سیاسی آزادی ایک دم غربت سے آزاد نہیں کر سکتی لیکن اس کے لیے راہ ضرور ہم وار کرے گی۔ امیر ‘ امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔دوکانیں، ریل وے، مکانات، دولت کے انبار ،غریب و مفلس کو مزید محنت پر مجبور کر کے، سود کے جال میں پھنسا کر منافع کماتے ہیں۔ ان سب کا واحد حل سوشلسٹ نظام ہے۔
درمیانے درجے کے کسان: اس باب میں بتایا گیا ہے کہ جاگیردار اور چرچ استحصال میں برابر کے شریک ہیں۔ پادری اور مولوی لوگوں کو تو صبر اور نفس کشی کی پٹیاں پڑھاتے ہیں لیکن خود دولت اور جائیداد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ درمیانی درجے کے کسان کا بھی ایسا ہی حال ہے جو اپنی محنت ان آدم خوروں کے ہاتھ اونے پونے بیچ کر غربت کے جال میں جکڑے رہتے ہیں۔نہ آجر بن پاتے ہیں نہ مزدور۔حد یہ ہے کہ ریاست خود بھی ان ہی جاگیرداروں کے قبضے میں ہے ، صرف وہی زمینیں ریاست کے پاس ہیں جو ناقابلِ کاشت ہیں۔ جب کہ مزدور اپنی محنت بیچ کرساری زندگی فاقوں میں گزار دیتے ہیں۔ مصنف بار بار یہی کہتا ہے کہ غربت، بھوک، فاقوں سے نجات کا واحد راستہ محنت کش، کسان، مزدور رضاکاروں پر مشتمل تنظیم ہے جو اِن استحصالیوں کے خلاف لڑ کر اپنا حق وصول کر سکے۔
استحصالی قوتوں کا زوال محنت کشوں کے اتحاد میں مضمر ہے: اس باب میں لینن کہتا ہے کہ استحصالی ہر طرح سے استحصال کرتے ہیں۔ وہ امیر پیسہ دے کر افسروں اور پولیس کو خرید کر ان کے مظالم سے بچتے ہیں جب کہ غریب پیسہ دینے سے قاصر ہوکر مظالم برداشت کرتے ہیں۔ اس نے جس بات کی نشان دہی اس وقت کی تھی، وہ آج بھی مسنگ پرسنز کی صورت موجود ہے۔ اس نے کہا کہ پولیس کو یہ اختیار ہر گز نہ ہو کہ مقدمہ چلائے بنا کسی کو گرفتار کرے۔ وہ یہ بھی ایک بار پھر کہتا ہے کہ کسان جتنے زیادہ غریب ہوں گے، اتنے ہی سستے ہوں گے۔ یعنی غریب کسان ،سستے دام۔
ایک اور اہم بات جس کا اس باب میں ذکر ہے کہ فوج کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے آزادی ضروری ہے جس پہ سالانہ کروڑوں خرچ ہوتے ہیں جو عوام ہی کی جیب سے نکالے جاتے ہیں جب کہ وہ خریدی ہوئی اشیا پر ٹیکس دے کر پہلے ہی ادھ موئے ہوئے ہوتے ہیں۔مفت تعلیم خصوصاً دیہات میں مفت تعلیم دینے پر زور ہے۔
شہری مزدوروں اور دیہی کسانوں کا اتحاد: اس باب میں لینن نے ایک بار پھر شہری مزدوروں اور کسانوں کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد ہی سرمایہ داروں کی ہار بن سکتا ہے۔ یہ جنگ بہت ضروری ہے ورنہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زنجیریں ان کا مقدر بن جائیں گی۔ ان زنجیروں سے آزادی خود ان کسانوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے لیے سوشلزم ناگزیر ہے۔ اس میں سب سے پہلا قدم کسان کمیٹیوں کی تشکیل ہے۔
دیہات میں طبقاتی جنگ:یہ اس کتاب کا آخری باب ہے۔ جس میں بتایا کہ ایک طبقے کا دوسرے طبقے کے خلاف جدوجہد کو طبقاتی جنگ کہتے ہیں۔ جو سرمایہ دار کے خلاف پرولتاریہ کی جنگ ہے۔ جو زرعی غلامی سے آزادی کے بعد بھی آج تک جاری ہے۔ لینن کہتا ہے کہ ضروری نہیں کہ پہلی بار میں ہی کام یابی ہو، بس ناکامی کے بعد ناکامی کی وجوہات ڈھونڈ کر انھیں ٹھیک کر کے جدوجہد جاری رکھی جائے تو کام یابی ناممکن نہیں۔
اس کتاب میں غربت، اس کی وجوہات، مزدور و کسان، ان کا اتحاد،تنظیم اور جدوجہد کے بارے میں مکمل کہانی بیان ہوئی ہے جو سرمایہ داری نظام کو سمجھنے میں مددگار ہے۔
ہر سوشلسٹ ذہن کو خصوصاً سوشلزم کے نئے طالب علموں کو، اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*