کون مجھے بتلائے

کون مجھے بتلائے کہ” میرا” جوگن بن کے خوش تھی
یا ناخوش ہی رہی
وہ دیوانی برہا کیسے جھیل گئی
دکھ کی لہر اٹھی تو کیسے من کوشانت کیا
آنسو کیسے روکے کب کب گیت لکھے
پریم کی روگی ناچتی تھی ، کہ تھک جائے
سپنے کی وادی میں جائے
چرن چھو آئے۔
اس کو درشن ہوتا تھاکیا
پریمی اس سے ملتا تھا
کچھ کہتا تھا
کون مجھے بتلائے۔
شکتی میرا کی ،مل جائے
تو میں بھی اپنے آپ کو جوگن روپ میں ڈھالوں۔
بن ،سمندر صحرا گھوموں،
اس کو ہر منظر میں دیکھوں،
عشق کی منزل پالوں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*