نظم

یہ جو خوشبوﺅں کے بھنور سے ہیں
وہی لمس بھیگی ہوا کا ہے
تری گفتگو کا جو لمس ہے
وہی چاندنی میں ہے سب ادا
جو ادا ہے تیرے خیال میں
مرے روز و شب کے بہاو¿ میں
یہ جو خوشبوﺅں کے بھنور سے ہیں
مرے سا حلوں کے کٹاو¿ میں
یہ جو خواب خواب نگر سے ہیں
مرے حبس جاں کے چناﺅ میں
یہ دریچے سے
یہ جو در سے ہیں
یہ رقم ہے جاں میں
جو واقعہ
یہ جو مجھ میں تیرا ہے معجزہ
یہی اک سبب ہے سبب مرا
یہی بات اک
مری بات ہے
مری سوچ ہے
تری سلطنت
مرے حرف ہیں
ترا راج ہے
مری نظم
تیری زمین ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*