سنگت ایڈیٹوریل

قاضی فائز عیسیٰ

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ جب سے سپریم کورٹ گیا تو وہاں اُس نے کئی اہم فیصلے کیے ۔انٹی فیوڈلزم، انٹی اسٹیبلشمنٹ فیصلے۔ اس طرح وہ فرمانبرداری کی عادی اسٹیبلشمنٹ کے غصے کا شکار ہوا۔ اس کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل ہوا اور چلا ۔بیوی کی جائیداد کی تحقیقات ہوتی رہی ، اس کی جاسوسی ہوتی رہی ، اس کا بدترین میڈیا ٹرائل ہوا ۔۔۔ حتیٰ کہ اس کا اپنا ادارہ یعنی سپریم کورٹ اُس سے کنارہ کش ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ اسے اپنے اصل کام یعنی مقدمات کی سماعت سے عملاً روک دیا گیا۔

دوسری طرف وہ مڈل کلاس کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔وہ انسانی حقوق کے اداروں، وکلا کی جمہوری تنظیموں، روشن فکر سیاسی پارٹیوں اور میڈیا کا دلدار بن گیا۔ بلاشبہ اس نے وہ فیصلے بے باک انداز میں دیے۔

اُس وقت سے وہ اس مڈل کلاس کی رائے اور خوہشات کے مکمل نرغے میں ہے ۔اسے ایک مافوق الفطرت کردار قرار دیا جارہا ہے۔ اس سے توقعات کا ایک جہاں وابستہ کیا جارہا ہے ۔ اسے فیوڈل دشمن ، بنیاد پرستی کا مخالف اور کپٹلسٹ نظام کی مطابقت میں فیصلے دینے والا چیف جسٹس قرار دیا جارہا ہے ۔

مگر، ہم سب جانتے ہیں کہ کسی طبقاتی ملک کا جسٹس سسٹم طبقاتی ہی ہوتا ہے ۔ ایک ”بورژوا “ریاست میں ایک بورژوا جوڈیشل سسٹم ہی چلایا جاتا ہے ۔پاکستان میں عدلیہ کا ادارہ جس آئین کی رکھوالی کے لیے بنا ہے وہ آئین بالائی طبقات کی حفاظت کرتا ہے ۔ اس لیے اس شخص سے کوئی انقلابی شنقلابی امیدیں باندھنا ویسے ہی بچگانہ بات ہوگی۔ اس لیے کہ اسے اُس آئین کے اندر رہ کر چلنا ہے جو طبقاتی ہے ، استحصالی ہے اور بگ نیشن شاونزم والا ہے ۔

جومائنڈ سیٹ ابھی تک بڑے صوبے کے حکمران طبقات کا یہاں چلتا رہا ہے ، اسی نے ملک کو اس حد تک گرادیا ہے ۔ اس مائنڈ سیٹ میں باہم متضاد دو باتیں ہیں ۔ایک ،معیشت کی بین الاقوامی وابستگی انٹرنیشنل کپٹلزم سے رکھنی ہے ۔ مگر دوسری طرف ،داخلی طور پر رجعتی اور بنیاد پرست فیوڈل ازم کا بول بالا رکھنا ہے ۔

چنانچہ جاگیردار زمین کے بڑے حصے پہ قابض ہیں، اُنہی کو انڈسٹری لگانے کی اجازت ہے ۔حتی کہ گندم ، چینی ، اور چاول کی امپورٹ ایکسپورٹ کا اختیار بھی انہی کو حاصل ہے ۔اسمبلیوں میں بھی وہی ہیں ۔ اسی طبقے کے مفادات کی حفاظت کے لیے بیوروکریسی ، فوج ، عدالت اور میڈیا کام کرتے ہیں۔ یہ سارے ادارے ایک دوسرے پہ نظر رکھتے ہیں اور فیوڈل مفادات کی حفاظت کے دائرے سے ایک دوسرے کو نکلنے نہیں دیتے ۔

اسی فیوڈل مائنڈ سیٹ کی مطابقت میں ”مذہبی ٹچ“ دیے جانے کو ہر گز فراموش نہیں کیا جاتا ۔چنانچہ ملک کو مکمل طور پر مذہبی بنیاد پرستی کو ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنایا گیا ۔ برانڈ برانڈ کے مدرسے بنوائے گئے ۔ اُن سے جمہور اور جمہوریت کے خلاف زبردست فتوے جاری کروائے گئے۔ بے شمار پرائیویٹ ٹی وی چینل بہ رضا، یا بہ حکم ،پارلیمانی وفاقی نظام کے خلاف بولتے رہنے پہ لگے ہوئے ہیں۔ ”مشائخ “ کی اصطلاح گھڑی گئی ، علما کی منڈی سجائی گئی ، نظریاتی کو نسل کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ ”امہ“ کی اصطلاح بنائی گئی ، اسلامی ممالک کا بلاک بنایا گیا۔بنیاد پرستی کو فروغ دیا گیا، اور سیاست و سماج میں مذہبی تنظیموں اور پارٹیوں کی کھل کر حمایت کی گئی ۔دیگر مذاہب کے لوگوں کو سرعام قتل کیا گیا ،بم مارے گئے ۔ اسامہ کو ایبٹ آباد بسایا گیا۔ پیشہ ور جہادی منظم کیے گئے جن کی مدد سے روس اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔

وہاں سے فارغ ہو کر وہی جہادی لوگ خود پاکستان پہ ٹوٹ پڑے ۔کل کے جہادی اب دہشت گرد کہلائے جاتے ہیں۔ اس درمیان 80ہزار افراد قتل ہوئے۔مگر نہ کوئی تحقیقات ہوئیں، نہ غلطیاں تشخیص ہوئی اور نہ مداوا کے لیے پالیسی بنائی گئی ۔

ان سب معاملات کا کپٹلزم سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کپٹلزم کی تو فطرت میں ہے کہ وہ ہر طرح کی فرقہ واریت کو دور کرتا جاتا ہے تاکہ اُس کی منڈی وسیع تر اور بلا رکاوٹ چلتی رہے۔

مگر یہ ریاست ایک عجوبہ بنادی گئی ۔ یہ اوپر سے توکپٹلسٹ ، مگر اندر سے بنیاد پرست ، مذہبی ،اور فیوڈل ریاست ہے ۔
کبھی کبھی کوئی سیاست دان یا ریاستی ادارے کا سربراہ کسی دوسرے صوبے یا کلچر سے آتا ہے ۔اور وفاق کے اعلیٰ عہدوں پہ متعین ہو جاتا ہے ۔ گوکہ وہ بھی رائٹسٹ ہی ہوتے ہیں۔ مگر وہ اپنے سیاسی سماجی کلچر کو مکمل طور پر ترک نہیں کر چکے ہوتے ۔کبھی کبھی ان کے اقدامات ”انسانی “ہوجاتے ہیں۔

یہی کچھ قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہورہا ہے ۔ وہ ایک پرانے اور مشہور مسلم لیگی راہنما کا بیٹا ہے ۔ وہ زندگی کا بڑا حصہ انگلینڈ میں گزار چکا ہے ۔ لہذا وہ پنجاب کے مائنڈ سیٹ کا سوفیصد آدمی نہیں ہے ۔اس کا جھکاﺅ فیوڈل ازم کے بجائے کپٹلزم کی طرف ہے ۔اُس پہ کبھی انگلینڈ کا اثر حاوی ہوجاتا ہے اور کبھی بلوچستان کا ۔ فیوڈل اداروں ،نعروں سے اس کی وابستگی ذرا کم ہے ۔
اسی وجہ سے ر ومانوی مڈل کلاس نے اسے سختی سے گھیر رکھا ہے ۔ اس کے ”معمولی “اور”ظاہری “اقدامات تک کو بھی عالمی پیمانے کے بڑے کارنامے بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے پاکستان جیسے فرقہ پرست معاشرے کے خلاف جج کی طرف سے معمولی اور ظاہری اقدامات بھی ایک بڑی نعمت ہوتے ہیں!

یہ ملک کپٹلزم کے معیار سے مذلت و گراوٹ کے دلدل میں گردن گردن ڈوبا ہوا ہے ۔ اسے معاشی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی طور پر مکمل دیوالیہ ملک بنا دیا گیا ہے ۔اُس کی مذہبی بنیاد پرستی اور فیوڈل ازم کو اب انٹرنیشنل کپٹلزم بھی بچانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ دوسرا متبادل تو سوشلزم تھا۔ مگر وہ اپنی تنظیمی غیر موجودگی کے سبب ابھی فوری متبادل نہیں بن پارہا۔ چنانچہ پاکستان کو کچھ مزید عرصہ اسی طبقاتی استحصالی نظام میں ہی رہنا ہے ۔

دوسری طرف ہمارے پورے خطے سے انٹرنیشنل کپٹلزم کی ضروریات ختم ہوگئیں۔ اُس کے بعد اُسے پاکستان اور اِس کے بڑے صوبے والے مائنڈ سیٹ کو لوریاں سناتے رہنے کی مزید ضرورت نہ رہی ۔چنانچہ امریکہ کی قیادت میں اس نے بڑی ناترسی سے خطے کو اپنے حال پہ چھوڑدیا۔

اب جب پاکستان کے سر سے سامراجی ڈالر و اسلحہ کی برستے بادل چھٹ گئے تو پتہ چلا کہ پاکستان تو داخلی طور پر ایک تھکا ہارا معاشرہ رہ گیا ہے ۔بھاری بھرکم حکمران اداروں کے بوجھ تلے یہ اب بس ایک دوہری کمر والی بیمار ریاست رہ گیا ہے ۔ قرضوں، قرض پہ واجب الادا سود، غیر پیداواری اخراجات اور اسلحہ کی دھڑا دھڑ خریداری نے ریاست کو اپنے پاﺅں پہ کھڑا رکھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔

معجزے بہر حال لامحدود نہیں ہوتے ۔ 70برس کے معجزوں کی تعبیر یوں الٹی نکلی کہ ساری دنیا نے جان لیا کہ اب یہ ریاست اس طرح چلنے کے قابل نہ رہی۔ہماری ریاست کے لیے ڈبل گیم ختم کرنا ضروری ٹھہرا ۔ چہرہ اور دل کا ایک جیسا ہونا ضروری ٹھہرا۔ اس ساری گھمبیر اور زندو مرگ والی صورتحال کا حکم ہے کہ ریاست خود کو مکمل طور پر کپٹلزم میں ڈھال دے ۔

اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی ڈھانچوں میں تبدیلیاں لائے ۔معمولی اور نمائشی نہیں بلکہ واقعتا بڑی بڑی تبدیلیاں ۔ ریاستی ڈھانچے میں بہت کمی لانا ، بنیاد پرستی کو ترک کرنا، نعرے بدل دینا، اپنی گھڑی ہوئی جھوٹی سیاسی تاریخ اور نصاب میں قدامت ورجعت کو بدل دینا اب لازم ہوچکے ہیں۔ غیر پیداواری اخراجات کم کرنے سے لے کر زرعی اصلاحات تک کے اقدامات اب ناگزیر ہوچکے ہیں۔

فیوڈلزم سے کپٹلزم کی طرف کے اس سفر میں کون کون سے ادارے اور کون کون سی شخصیات معاون ہوں گی ، یہ اہم نہیں۔ مگر یہ تبدیلی اب بہر صورت کرنی ہوگی ۔ اور بہت کم عرصے میں کرنی ہوگی۔

اور یہاں تو چھوٹی تبدیلی بھی معلوم نہیں کس کس کا سر کھائے گی!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*