ڈاکٹر رتھ فاﺅ

10 اگست 2017 کے دن ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر ہاتھ دعا کو اٹھا ہوا تھا۔فضا میں چلتن جیسا سوگ ، ہر چہرہ چاغی کے پہاڑوں کی مانند جھلسا ہوا، گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئیں، ہسپتال کے باہر عقیدت مندوں کا رش۔ اور پھر ہسپتال سے ڈاکٹر کی طرف سے آخری آواز آتی ہے: "شی از نو مور”۔ ہسپتال کے باہر موجود سیکڑوں لوگوں سمیت دنیا بھر میں ان کے لاکھوں چاہنے والے سوگ کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔
87سالہ بزرگ ڈاکٹر رتھ درد مندوں کے لیے ایک مہربان ماں ثابت ہوئی، ایسی مسیحا جس کی رخصتی نے ہر دردمند دل کو سوگوار کر دیا۔
کہتے ہیں ڈاکٹر رتھ فائو نے مرنے سے پہلے تین خواہشات کا اظہار کیا۔ اول یہ کہ اس کا علاج وینٹی لیٹر پر نہیں کیا جائے گا۔ دوم جب وہ مر جائے تو اس کی میت کو لیپریسی سینٹر لایا جائے اور آخری خواہش یہ کہ اسے عروسی لباس میں دفن کیا جائے۔ یوں عمر بھر کنواری رہنے والی ڈاکٹر رتھ فائو سرخ جوڑا پہن کر تاپوت میں لیٹی۔ رتھ فائو ساری عمر دلہن نہ بنی، اس نے اپنی زندگی کی بہاریں انسانیت کے نام کر دیں۔
یہ جرمن خاتون 29 برس کی بھرپور دوشیزگی والی عمر میں 1960ءمیں پاکستان آئی۔ یہ خوب صورت عورت انسانیت اور اپنے پیشے کے عشق میں اتنا غرق ہوئی کہ اس نے اپنی زندگی کے بقیہ ایام یہیں گزارے۔ اس زمانے میں جزام (کوڑھ) کا مرض لاعلاج تھا۔ اس مرض میں مبتلا شخص کو اس کے گھر والے شہر سے دور ایک بستی میں چھوڑ آتے تھے، جہاں صرف اس مرض کے شکار لوگ ہی رہتے تھے اور کوئی ان کے قریب نہیں پھٹکتا تھا۔ ایسے میں اس خاتون نے جزام کے مریضوں کو گلے لگایا اور ان کا
علاج شروع کیا۔
ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہنے والی یہ عورت اس حد تک کمیٹڈ تھی کہ اپنی پوری زندگی اپنے کاز سے جڑی رہی۔ کبھی اس کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ اس نے کبھی اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہی۔ نہ وہ خبروں اور شوبز میں رہنے کا شوق رکھتی تھی۔ وہ تو بس اپنے کام میں مگن انسان کو اشرف المخلوقات بنانے
کے مشن میں سرگرم رہی۔ وہ انسان کی زندگی کو سہل بنانے کی لگن میں لگی رہی۔
فائو اکیلے ہی یہ جنگ لڑتی رہی۔ اس نے لیپروسی جیسے مرض کو ہر طرح سے ختم کرنے کی ٹھان لی۔ جب بھی پیسوں کی کمی ہوئی، واپس جرمنی جا کر مدد کے لیے ہاتھ پھیلا ئے اور امداد جمع کر کے اس نے پاکستان کے اندر لیپرویسی ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیے۔ ملک بھر میں قریباً 157 سینٹرز قائم کیے جو نہ صرف جزام کا علاج کرتے بل کہ اندھے پن کے کنٹرول، زچہ و بچہ اور تپ دق کے مریضوں کا بھی علاج کیا جاتا تھا۔
اس عظیم انسان کے بلوچستان پر بھی بے حد احسانات ہیں۔ یہ ضلع موسیٰ خیل جھنڈی کے پہاڑی سلسلے بیہو تک گئی۔ جی ہاں وہی بہیو جو ہمارے رہبر مست تئوکلی کا پسندیدہ مقام تھا اور ان کا سمو دیس بھی یہیں واقع ہے۔
یہ پہاڑی سلسلہ اتنا دشوار گزار اور کٹھن ہے کہ پیدل چلتے ہوئے سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ سردیوں میں جسم کو خشک کر دینے والی سردی پڑتی ہے۔ یہاں بنیادی سہولیات روڈ، بجلی، صحت، تعلیم تو دور کی بات، پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں۔
ڈاکٹر رتھ فائو نے یہاں بھی ری ہبلی ٹیشن سینٹر قائم کیے اور پراغ کے مقام پر قائم لیپروسی سینٹر میں لیپروسی ٹیکنیشن، فیلڈ اسسٹنٹ، نائب قاصد اور چوکیدار تعینات کیے۔ اس نے یہاں کی پسماندگی اور کم شرح خواندگی کو دیکھتے ہوئے اسکول کی بنیاد رکھی۔ خنک ٹھنڈی سرد ہوائیں ہوں یا گرم لو، سنگلاخ پہاڑ ہوں یا ندیوں کی شدید طغیانی، ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں لگی ہوئی اس عظیم انسان کا مشن اس وقت تک جاری رہا کہ جب تک جزام کا آخری مریض باقی رہا۔
بالآخر کوہِ سلیمان سمیت پورے پاکستان سے اس مرض کا خاتمہ ہوا۔ ہم ان کے اس احسان کا بدلہ کبھی نہیں چکا پائیں گے۔ ہم اس عظیم لیڈی کی اس عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
دراصل ہم سب بھی ایک ایسی ہی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو کی طرح ہم بھی نسلوں کی نسلیں اس پاک کام کے لیے قربان کر رہے ہیں لیکن حق و سچ کی یہ لڑائی جاری ہے۔ ہم بھی رتھ فائو کی طرح کئی خواہشات دل میں دبائے چلے جاتے ہیں لیکن یہ کارواں چلتا ہی رہتا ہے۔ حق کی منزل کی طرف، سب ہیومن سے ہیومن کی طرف، وقار سے پروقار کی طرف، بہتر سے مزید بہتری کی طرف۔
ہم ماہِ اگست کے ان ایام کو ڈاکٹر رتھ فاو¿ اور ان کے جیسے انسانیت دوست انسانوں کے نام کر تے ہیں۔ ہم فخر کریں گے کہ عشاق کے قافلے کا جھنڈا اٹھائے سرخ لباس میں ملبوس رتھ فاو¿ اس کارواں کو وقار بخشتے ہوئے ہمارے ساتھ چل رہی ہے۔ اس کارواں کی خیر ہو، اس کارواں کے ساتھ چلنے والوں کی خیر ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*