سرداری یا نوابی؟

خیر بخش مری پہ مزید بات کرنے سے پہلے آئیے اس لفظ” نواب“ پر کچھ باتیں کرلیں۔
نواب کسی فرد کو انگریز کی طرف سے دیا جانے والا اعزاز ہوا کرتا تھا ۔ مطلب یہ کہ یہ عہدہ صرف اُس وصول کنندہ شخص کی زندگی تک چلتا تھا۔
چونکہ نوابی خالص انگریز حکومت کے ساتھ آئی تھی ، اس لیے انگریز کے چلے جانے کے بعد ” نواب سازی ” خود بخود ختم ہو گئی ۔
اس لفظ ”نواب“ کابلوچ کے اپنے قبیلوی نظام کے رسم و رواج سے کوئی تعلق نہیں ۔انگریز کا یہ” نواب “کوئی موروثی عہدہ نہیں تھا۔ یہ کسی خاص سردار کو دیا گیا وہ سرکاری خطاب تھاجو انگریز خوش ہو کر ، یا اُسے رام کرنے کی خاطر اُسے دیا کرتا تھا۔قبیلے کی طرف سے عطا کردہ لفظ تو ” سڑدار“ تھا ۔(بلوچی میں سردار نہیں کہتے سڑدار کہتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں دانتوں کی فصیل میں بند زبان کی خود مختاری کی کوشش !)۔
سردار ایک معتبر اور سنگین وسنجیدہ عہدہ ہوا کرتا تھا۔ اس کی باقائدہ ”پاغ بندائی “ (دستار بندی ) کی تقریب ہوتی تھی، اس کی سماجی ،سیاسی ، جنگی اور سفارتی ذمہ داریاں قبیلے کی طرف سے متعین تھیں ، اختیارات مقرر تھے۔ انگریز نے آکر اس قدیم اور بہت ہی جمہوری سیٹ اپ کو خراب کیا۔ اسی طرح سماج کے اپنے معاشی سماجی ارتقا سرداریت میں ضروری اصلاحات نہ کرسکا۔ ورنہ تو سردار کی موت پر رسومات کی تفصیل کوڈڈ اور مختص ہوتی تھی۔ اُس کی موت کے بعد اس کی جائیداد اور تاج و دستار کی منتقلی باقاعدہ طور پر متشکل اور مفصل انداز میں سب کو معلوم ہوا کرتی تھی۔
لفظ سڑدار بعد کی سڑاند سے پہلے بہت محترم ٹائٹل ہوا کرتا تھا۔ یہ عہدہ معاشی و طبقاتی بالادستی کی علامت نہیں تھا بلکہ رسم و رواج کے حدود میں مقید، ایک انتظامی سربراہ کا عہدہ تھا۔
دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی قبائلی نظام میں سڑدار کا لفظ خود ہی اس قدر بھاری ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ ” صاحب“ وغیرہ لگانے کی ضرورت کبھی نہیں رہی ۔
خیر بخش مری نواب نہیں تھا۔بلکہ وہ تو مری کا قبیلے سڑدار تھا۔ خیر بخش مری خود بھی ”نواب “نامی اس لفظ سے دور بھاگتا تھا۔
اس نے ایک انٹرویو کے دوران بار بار نواب کہہ کر مخاطب کرنے پر کہا”مجھے نواب کا لفظ اچھا نہیں لگتا کیونکہ یہ انگریزوں کا دیا ہوا خطاب ہے “(1)۔اور یہ خطاب اُس کے آباو اجداد میں دو افراد کو ملا تھا: مہر اللہ اول اور خیر بخش اول۔
خیر بخش مری قبائلی رسم و رواج کے مطابق موروثی طور پر اپنے قبیلے کا گیارھواں؟ سڑدار تھا۔یہ نوجوان 22 برس کی عمر (1950) میں سردار بنا۔ سردار جو قبیلے کا سماجی، معاشی، آئینی اور سیاسی سربراہ ہوتا تھا ۔
اس کی سیاست کا تجزیہ تو ہم کریں گے ہی مگر یہاں اس کی شخصیت پہ ایک دو باتیں ہوجائیں۔ میرا اپنا خیال ہے کہ مستقبل کی اس کی سیاست پر اس کی شخصی خصلتوں اور عادتوں نے فیصلہ کن اثر ڈالے رکھا۔
خیربخش مری ایک بہت ہی جاذب شخص تھا۔ وہ کردار کے بارے میں خصوصی نعمت سے مزین رہا۔ شراب نوشی عادت نہ بنی، سگریٹ و سگار کا شو نہیں مارا، اور نہ عورت و زلف کی سٹوریاں بنوائیں۔ اس کے اپنے بقول ”مرغے لڑانے کی واحد بیماری یعنی شوق “رکھنے والے اس شخص کے دوستوں کا کوئی وسیع حلقہ نہ تھا۔
اس نے مری عوام سے عجیب تعلق رکھا ۔ وہ کبھی بھی اُن کے درمیان زیادہ عرصے تک نہ رہا۔ ہمیشہ اُس کے اور قبیلے کے درمیان ایک فزیکل دوری ، ایک فاصلہ رہا ۔ مگر پھر بھی وہ ایک دیوتا، ایک ولی کے بطور اُن کے دلوں میں متمکن ہی رہا۔ سبی میلہ میں البتہ سات آٹھ دن وہ قبیلے کے افراد و ذیلی شاخوں کے باہمی جھگڑوں چپقلشوں میں جج بنا رہتا۔ جج بھی ایسا کہ عرصے سے قائم سرداری ٹیکس، اور ” کاٹ“ جیسی اذیتی سزاﺅں، اور کمر توڑ جرمانوں کے فیصلے سنانے سے خود کو باز رکھنے کی کامیاب ریاضت کرتا رہا۔
خیر بخش کا سرداریت کے مستقبل کے حوالے سے کہنا تھا کہ ”بلوچ جس راہ پر چل رہے ہیں، وہ راستہ سرداریت کو ختم کردے گا“(2)

ریفرنسز

1۔ روزنامہ توار ۔ 7نومبر2008۔
2۔ روزنامہ توار ۔ 7نومبر2008۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*