ریت کی بوریاں

بورژوا سیاست یعنی پاور پالٹکس میں وفا و جفا، لین دین ،اور مہرو قہر ہمیشہ غرض پر مبنی ہوتے ہیں۔ ”تم میری پیٹھ کھجلو میں تیری “۔ اس ناترس سیاست میں کوئی بھی ”موو “بلا سبب اور بلا غرض نہیں ہوتا ۔
بلوچستان کے شہروں کے تھڑوں ،چینکی ہوٹلوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارموں، دیہات کے مہمان خانوں اور ورک پلیسز میں بڑے پیمانے پر بحثیں چلی ہوئی ہیں۔ کسی کو بھی اس مہربانی کی سمجھ نہیں آرہی کہ جس بلوچستان میں گورنرز، سینیٹرز، اور رکن صوبائی اسمبلی تک باہر سے لگائے جاتے ہیں، اور جس بلوچستان کی صوبائی نگراں حکومت میں آدھے لوگ بلوچستان کے باہر سے ہیں ، اُس بلوچستان سے موجودہ نگران سیٹ اپ میں وفاق کے تین بڑے عہدے اور دو مزید وزارتیں کیوں دی گئیں؟ ۔ نگراں وزیراعظم، سینٹ چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ ، وزیرکلچر، وزیر انسانی حقوق۔..تھیوریاں چل رہی ہیں ، قیاس کے مَہری دوڑائے جارہے ہیں۔
حیرت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اِن سارے نگراں اعلیٰ عہدوں کے لیے سلیکٹڈ افراد کا بلوچستان کی سیاست اور قبائلی امور میں کوئی اثر اور رسوخ نہیں ہے ۔ یہ نہ پارلیمانی وجود رکھتے ہیں، نہ ان کی کوئی عسکری قوت ہے اور نہ قبائلی طور پر یہ مضبوط لوگ ہیں۔ان کے کہنے پہ ایک بچہ تک اپنا غلیل جیب میں نہیں ڈالتا ۔ اس لیے یہ بلوچستان میں جاری جنگ کو روکنے میں کوئی رول ادا نہیں کرسکتے۔ تو پھر انہیں کیوں لایا گیا؟
ایک عام سی بات ہر جگہ دوھرائی جاتی ہے :” بھئی یہ اُن کے اپنے لوگ ہیں“۔ یہ مقبول عام فقرہ ہے ، مگر یہ بات عقل میں نہیں آتی۔ اس لیے کہ اُن کے ”اپنے“ لوگوں میں ایسی کیا قال پڑ گئی کہ انہیں ”نو باڈیز “ کو لانا پڑا ۔ بورژوا سیاست میں نوابوں سے لے کر چودھریوں تک ، اور خانوں سے لے کر وڈیروں تک ایک طویل لائن موجود ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں پیروں، مولویوں ، دانشوروں، ریٹائرڈ ججوں ، ملٹری اور سول بیوروکریٹوں کے ہوتے ہوئے یہ ہما کا پرندہ بلا سوچے اِن لوگوں کے کندھوں پر کیسے بیٹھ گیا؟۔
اہل بلوچستان ، یہاں قومی جبر کے ساتھ طبقاتی جبر کے خلاف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سردار بھی عام بلوچ کے سیاسی و معاشی استحصال میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ ملک کی اسٹیبلشمنٹ ،اور سرداروں کا اتحاد ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان میں سرداری نظام کو ایک منصوبے اور پالیسی کے تحت منظم کیا۔ یہ سردار بطور کلاس ان کے ساتھ ایک اتحادی کے طورپر کام کرتی ہے۔ بلوچستان کو ایک پالیسی کے تحت فرسودہ رکھاگیا۔سرکار، سرکاری سرداروں کو منتخب کراتی ہے۔ یوں وہ سرداریت کے نیم مردہ ڈھانچے کوآکسیجن فراہم کرتی ہے۔ اور جواب میں یہی ”سلیکٹڈ“سرکاری سردار بڑھ چڑھ کر سرکار کی خدمت کرتے ہیں۔ یوں عوام کے خلاف سرکار بھی مضبوط ہوجاتی ہے ،اور سر دار بھی ۔
اسٹیبلشمنٹ اور سرداروں کے مفادات مشترکہ ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے : اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنا ، نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کا استحصال کرنا،اور سماجی نابرابری کو برقرار رکھنا ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بلوچستان سے نان سردار وزیراعظم اور وزیر داخلہ بھرتی کرنے سے بلوچستان کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے کوشش کی گئی ۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی حکمران راہداری میں بلوچستان کی رائے عامہ اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
لطیفہ دیکھیے کہ وزیر داخلہ کا اپنا صوبہ امن و امان کے حوالے سے دوزخ بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے وزیر کے صوبے میں انسانی حقوق کی قبر پہ بے ثمر خاردار پودے اب تناور درخت بن چکے ہیں۔ کلچر کے وزیر کے صوبے میں آرٹ کا ایک بھی معتبر ادارہ موجود نہیں ہے۔
ایک رائے یہ ہے کہ ابھی حال تک عمران کی قیادت میں پنجاب اور پشتونخواہ کی ایلیٹ کلاس کی ہوائی ”تحریک “ کو 9 مئی کے واقعات کے بعد مختلف دھڑوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا اور اس کے اہم ترین لیڈروں کو سیاست سے آﺅٹ کردیاگیا۔ اِس غیر منظم ہجوم کو کنٹرول کرنا اس لیے مشکل نہیں تھا کیونکہ اس تحریک میں سیاسی کلچر موجود ہی نہ تھا۔ ویسے بھی اسٹیبلشمنٹ ہی نے اِدھر اُدھر سے اکھیڑ اکھیڑ کر لوگوں کو اس پارٹی میں شامل کروایا تھا۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جتوایا گیا۔جب اپنی بنائی مخلوق اپنے گرد کھینچے گئے دائرے سے باہر سرکنے لگے تو ان اس کی سرکوبی ضروری ہوجاتی ہے۔ اور یہ کام کوئی مشکل بھی نہ تھا۔اور یوں چٹکی بجاتے ہی اس ایلیٹ کلاس کی بغاوت کوکچل دیا گیا۔مگر ارادے ہیں کہ اس کے لیڈروں پہ مزید سختیاں کی جاتی رہیں ۔ اس طرح اُس پارٹی کی باقیات سے نمٹتے رہنا ہوگا۔ نیز ایک بیمار معیشت ، ایک آدھ موا بورژوا جمہوریت ،اور کمزور ترین انٹرنیشنل تعلقات عوام کی زندگیوں کو اجیرن بناتے رہیں گے۔ پنجاب ، پشاور ، اور کراچی سے غریب لوگ اٹھیں گے، انہیں مار پڑے گی۔ اور اُن کے سامنے بلوچستان کو رکھا جائے گا۔
ایک اور بڑے گروپ کا خیال ہے کہ یہ لوگ پنجاب اور بیرون ِ ملک رایہ عامہ کو ایک اور طرح سے متاثر کرنے کے لیے لائے گئے ہیں۔ وہ ایسا اگلے دس بیس برس تک کہتے رہیں گے کہ ہم نے پاکستان کو ایسا فیڈریشن بنادیا کہ ساری حکومت بلوچوں کے حوالے کردی ۔اس طرح ان کا یہ خیال بھی ہے کہ وہ بلوچوں کے نام نہاد احساس محرومی سے نمٹ سکیں گے ۔۔۔۔۔چنانچہ یہ تقرریاں دراصل پنجاب اور بیرونِ ملک کے لوگوں کی رائے کو متاثر کیے رکھنے کے لیے کی گئیں۔
بحثوں میں ایک اور طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے ۔مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم کردی گئی۔ جس سے 28صوبائی اسمبلی اور 8قومی اسمبلی کی اس کی سیٹیں کم کردی گئیں۔ اس لیے صوبے کے لوگوں کے غصے اور بے چینی پہ پردہ ڈالنے کے لیے یہ مہربانی کی گئی ۔
ایک اور رائے یہ ہے کہ پاکستان کی رائٹسٹ حکومت افغانستان کی رائٹسٹ حکومت سے تعلقات خراب کرنے والی ہے ۔ یوں سرحدی صوبے کو Scarecrow کے بطور بلند عہدوں پہ رکھا گیاہے۔ یہ بھی ناممکن العمل بات لگتی ہے ۔پاکستان کی رجعتی سرکار جس بھی کسی دوسری رجعتی سرکار سے تصادم کرے گی تو اسے خود اپنی بہت سی باتیں اور پالیسیاں ترک کرنی ہوں گی۔ مسلم امہ، برادر اسلامی ملک ، مذہبی جوش و جذبہ ، نظریاتی سرحدیں، دو قومی نظریہ، شہ رگ صرف الفاظ نہیں ، یہ نظریات ہیں۔ یہ نظریات پاکستان کے وجود کی تاریخ کا جواز ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے جواز کو کہاں ترک کرے گی۔
لیکن مباحث میں ایک اور چیز جو دل کو لگتی ہے وہ یہ پیشن گوئی ہے کہ حال ہی میں حکومت کی طرف سے تین چیزوں پہ عالمی سرمایہ کاری کروانے کے ارادے ظاہر کیے گئے ۔ (یعنی ایگریکلچر ، مائننگ اور آئی ٹی) ۔اِن شعبوں میں چین ، سعودی عرب ، ایران اور یو اے ای سرمایہ کاری کرنے پر تیار بھی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے دوچیزیں ، یعنی معدنیات اور زرخیز زمین تو صرف اور صرف بلوچستان میں ہیں۔ اب ان دو چیزوں کو بے دردی سے بھنبھوڑا جائے گا۔ بلوچوں کی زمین اُن بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری سے کاشت کی جائے گی ۔ یہ پیسہ زمین کے مالک کو نہیں بلکہ ریاستی خزانے میں جائے گا۔ اور پیداواری فصل اُن سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی ہوگی۔ زمین کا ہمارا مالک نہ اپنے لیے گندم گھر لے جاسکے گا اور نہ سبزی ۔ مشینی کاشتکاری کسانوں کو بڑے پیمانے پر بے روزگار کرے گی۔ اب ہماری زمین ہمارے مزاج اور روایت والی فصل پیدا نہیں کرے گی بلکہ سرمایہ کاری کرنے والوں کی من پسند اجناس پیدا کرنے لگے گی۔ اسی طرح معدنیات اُن بیرونی سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کے پیسوں سے کھودی جائیں گی ۔ یہ پیسہ بھی ریاستی خزانے میں جائے گا۔ اور نکالا گیا معدنی خزانہ سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کا ہوگا ۔۔۔۔اس سرمایہ کاری سے خود یہاں ملک کے اندر سعودی ، یو اے ای اور چین کے مفادات کی مطابقت میں سیاسی سماجی نظام قائم کی جاتی رہے گی جو ہر لحاظ سے ہماری نسبت پسماندہ ، فاشسٹ اور رجعتی ہے ۔ظاہر ہے عوام یک طرفہ طور پر ایسا کرنے نہیں دیں گے ۔ اس پہ انہیں ،بالخصوص بلوچ عوام کو مار پڑے گی ۔بہت مار پڑے گی۔ اس مار کے سامنے انہی پانچ ریت کی بوریوں کے بے محابا چہرے لائے جائیں گے ۔ اور پھر بغیر کوئی پشیمانی کے ، بغیر کسی حیرت اور خلش کے اس مار کا ابلاغی دفاع بھی یہی پنج نفری لشکر کرے گی۔۔۔۔
بہر حال ایک بڑے آپریشن کے ارادے لگتے ہیں۔ اور بلوچستان کے یہ پانچ افراد اس آپریشن کے مالک کے لیے ریت کی بوریاں ہوں گے ۔ ریت کی بوریاں خواہ بغداد کی ہوں یا بوٹسوانا کی ، یا وہ خواہ ایک ملک کے اندر کسی بھی صوبے سے ہوں پشیمانی، خلش اور تعجب کے احساسات سے عاری ہوتی ہیں۔ ریت کی بوری کے اندر اپنے عوام کی روایات، احساسات اخلاقیات کی پاسداری کی سہولیت میسر نہیں ہوتی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*