شعوری و فکری جمود

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان کی زندگی بنیادی طور پر ہے کیا؟ ہم کتنا جیتے ہیں؟ خوشی اور غم کیا ہے؟ اچھا اور برا کیا ہے؟ کیا ہم یہاں کچھ لینے آئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو جب جاتے ہیں تو خالی ہاتھ کیوں جاتے ہیں؟ کیا ہم یہاں کچھ چھوڑنے کر جانے کے لیے آئے؟ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چھوڑنے کے لیے؟ وہ ترکہ جس پر لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، وہ مال اسباب جو پس ماندگان کے درمیان اختلاف و فساد کی جڑ بنتی ہے؟ یا وہ نفع والا علم جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے؟ ہاں یہ بات ٹھیک ہے، یقیناً نفع بخش علم ہی وہ چیز ہے جو قابلِ ذکر چیز چھوڑ کر جاتا ہے کوئی شخص۔ تو پھر ایسا ہر کوئی کیوں نہیں کرتا؟ مثلاً ہمارے اردگرد ہر روز لوگ مرتے ہیں، وہ ترکے میں زمینیں جائدادیں چھوڑ کر جاتے ہیں،مگر ان سب کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے، ظاہر ہے بنا علم کے آپ کچھ نیا ایجاد نہیں کر سکتے، بنا تجسس کے کچھ دریافت نہیں کر سکتے، اور بنا تجربات کے کچھ بھی نیا بنا نہیں سکتے! پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا بننے کے لیے کسی تعلیمی ادارے کی ضرورت ہو گی، کسی تجربہ گاہ کی ضرورت ہو گی۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے اور تجربہ گاہیں تو تقریباً میسر ہیں پھر کیوں کوئی سائنسدان یا دانشور یا فلاسفر نہیں بن رہا ہے؟ ہر سال ہزاروں پی ایچ ڈی ڈاکٹررز اس ملک میں ڈگریاں لے کر فارغ ہوتے ہیں، مگر معاشرے میں کوئی خاص تبدیلی کیوں نہیں آ رہی ؟ تو دو باتیں ہیں، یا تو ہم متجسس نہیں ہیں، ہمارے ذہنوں میں جمود ہے، ہم سوال اٹھانے والے نہیں ہیں، جو ہے جیسا ہے چلنے دو، ہمیں کیا ہے، ان سب باتوں پر چلنے والے ہیں، ظاہر ہے سوال ہوں گے متجسس ہوں گے تب ہی کچھ نیا دریافت ہو گا یا ایجاد ہو گا، یا کم سے کم صحیح غلط کی پہچان رکھتے ہوں، معاشرے میں پسنے والے طبقات مزدور کسان کا درد سمجھنے والے ہوں، تب ہی ہم اس پر بات کر سکیں گے یا لکھ سکیں گے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اور ہمارا تعلیمی نظام ہمیں صرف مشینوں کی طرح تیار کر رہا ہے، کیا آپ نے کبھی کسی مشین کو تعمیری کام کرتے دیکھا ہے؟ اسے آپ جو حکم دیں گے جو پروگرام اس پر انسٹال کریں گے وہ ویسے ہی کام کرے گی، اس سے کم یا زیادہ نہیں کرے گی، ایسے ہی یہ تعلیمی نظام اس طرح کام کرتا ہے ، مشین کی طرح رٹا رٹایا پروگرام بچوں میں انسٹال کر دیا جاتا ہے، یہ تیس چالیس ہزار بچے آئے ان میں ایک ہی طرح کا سافٹ وئیر کیا اور نکال دیا، پاس کر دیا۔ کچھ خاطر خواہ یا نیا سکھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
اب آتے ہیں ان دونوں باتوں کی طرف تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلو تعلیمی اداروں کا الگ قصور لیکن پہلا راستہ تو بہرکیف ہمارے اختیار میں ہے، ہم متجسس ہو سکتے ہیں، ہم خود سے علم کے پیچھے دوڑ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں، پھر ہم کیوں نہیں کرتے؟ تو اس کا جواب ہے جمود، ذہنی فکری جمود، شعوری جمود جو بلکل ہمارے شعور کو فکر کو بلاک کر کے بیٹھا ہے۔ جو لوگ ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی سافٹ وئیر کو انسٹال کرنے کے لیے ڈیوائس کا اس سافٹ وئیر سے ہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے، ہم متجسس ہو سکتے ہیں ہمارے اندر تجسس کے سافٹ وئیر کے لیے ہم آہنگی بھی ہے، لیکن ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، ہم اعتقاد پرست ہو گئے ہیں، ہم نے مریدی شروع کر دی ہے ، اس کی وجوہات بہت ساری ہیں، بہرکیف مسئلہ اس کی وجوہات نہیں اس کا حل ہے! عموماً بچے فطری طور پر بہت متجسس ہوتے ہیں، خود انسان فطری طور پر متجسس ہے، پتھر کے زمانے سے اب تک جو بھی ترقی ہوئی ہے انسان کے متجسس ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تجسس ختم ہو رہا ہے، تو کیا ایسا کیا جائے کہ تجسس برقرار رہے؟ اس کا جواب شاید ایک فکری انقلاب ہی ہے، جمود کا ایک ہی حل ہے وہ ہے مکالمہ ، ڈائلاگ ، اور یہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے، نہ ہی اس کے لیے فنڈدرکار ہے، بس ذہن بنانا پڑتا ہے، ایک استاد یا چند ایک اساتذہ مل کر اس فکری انقلاب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، چند ایک نوجوان مل کر اس کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، سنگت کا یہی منشور ہے، آخر کار اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ معاشرے کے اندر سے جمود کو ختم کریں، تجسس کو پروان چڑھائیں، تاکہ آنے والی نسلیں ترکے میں علم کی میراث چھوڑ کر جائیں، جس پر دو لوگ بحث کریں اور یہ علم مزید پھلے پھولے، ہمارے معاشرے کے اندر بھی فلاسفرز اور سائنسدان پیدا ہوں، سوال اٹھانے والے لوگ پیدا ہو سکیں، ایسے غلاموں کی اس جنت سماں زمین کو بلکل ضرورت نہیں جن کے سر جھکے ہوئے ہیں، ذہنوں پر جمود سوار ہے، اور فکری شعوری طور پر صحیح غلط کے ادراک سے عاری ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*