سنگت اگست ایڈیٹوریل

عوام کا مستقبل

جب سے غریبوں کی دنیا پر امیروں کا قبضہ ہوگیا تب سے اس قبضہ کو چھڑانے کی جنگ جاری ہے۔ کبھی قبضہ گر جیت جاتا ہے اور کبھی کبھی غریب اپنی آزادی چھیننے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اس جاری و ساری خونیں اور تباہی بھری جنگ میں کسی ایک فریق کی مکمل اور حتمی تباہی سے پہلے کوئی مستقل جنگ بندی، کوئی مصالحت ممکن نہیں۔ اس لیے کہ غریب کی بدحالی پہ تو امیر کی حسرتیں پلتی ہیں۔ وہ اپنی ان مسرتوں کی سپلائی کے دوام کے لیے ایٹم بم تک استعمال کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرتا۔
دنیا بھر میں بالعموم ، مگر پاکستان میں بالخصوص غریب کا مستقبل بہت تاریک اور مایوس کن لگتا ہے ۔ یہاں ورکنگ کلاس، محکوم قومیں اور عورتیں ہر طرح سے لاچار اور بے بس ہیں۔ اُن کے سارے معاشی اور سیاسی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اگلی بے انصاف دَہائی میں بھی ان کے لیے خیر موجود ہی نہیں ہوگی ۔
مقامی جاگیردار سے لے کر یورپی آئی ایم ایف تک دنیا جہاں کے سارے جن ،بھوت اور بلاﺅںنے مل کر غریب کے خلاف ایک وسیع معاشی ، فوجی ، سیاسی ، تنظیمی اور نظریاتی محاذ قائم کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تیسرا حقیر اور بے کار طبقہ (یا سٹرٹیم )یعنی مڈل کلاس امیر طبقے کی زبردست مدد کرتا ہے ۔ یہ مڈل کلاس امیر و غریب کے متحارب و متصادم و مخاصم طبقات کے معاشی سیاسی اور نظریاتی موقفوں کا ایک ملغوبہ بناتا رہتا ہے ۔ مڈل کلاس امیر طبقے سے قبضہ چھڑائے بغیر امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ بنیادی بات طے کیے بنا کبھی انسانی حقوق، آزادانہ الیکشنز ، آزاد خارجہ پالیسی ، ٹریڈ یونین حقوق حتی کہ عورتوں اور قوموں کے حقوق کے لیے کھوکھلی نعرے بازیاں کرتا رہتا ہے ۔
پاکستان، بالخصوص اس کے بڑے صوبے کی مڈل کلاس اچھا خاصا بڑا طبقہ ہے ۔یہ طبقہ یونیورسٹیوں کالجوں سکولوںکے ٹیچرز، سٹوڈنٹس، سابقہ اور موجودہ سول ملٹری اور جوڈیشل آفیسرز، شہری صنعتکار اور رئیل سٹیٹ اور میڈیا ٹائکون بنے ہوئے فیوڈلز ، بڑے بزنس من اور چھوٹے دکاندار وں، شاعر و ں،ادیبوں اور دانشور ، فلم اور موسیقی سے متعلق لوگوں، اور سابق و موجود پارلیمان والوں پہ مشتمل ہے ۔
یہ درمیانہ طبقہ مین سٹریم سیاست کے بارے میں نفرت کی حد تک ایک ناپسندیدگی کا رویہ رکھتا ہے ۔
یہ لوگ آکسفرڈ سے پڑھے ہوئے بھی ہوں گے، یا پھر ٹکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال میں اچھے خاصے ماہر بھی ہوں گے ، یہ دنیا بھر میں گھومے ہوں گے۔ مگر ان میں کامن بات یہ ہے کہ یہ انٹی ویسٹ جذبات رکھتے ہیں۔ اور اُن کا یہ انٹی ویسٹ رویہ ہمیشہ مذہبی حوالے سے ہوتا ہے ۔
اس مڈل کلاس کے لوگوںکوخمینی اچھا لگتا ہے ، طالبان اچھے لگتے ہیں۔ مگر یہ بیک وقت ملک کو سکنڈ نیویائی ویلفیر ریاست بھی بنانا چاہتے ہیں، اور برطانوی نظامِ عدل و پارلیمنٹ بھی قائم کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ۔مگر چوک میںہزاروں لوگوں کو سر عام پھانسیاں بھی دینا چاہتے ہیں۔
اس مڈل کلاس کے ہاں دنیا کی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع اور ”قیام پاکستان“ پہ ختم ہوتی ہے ۔ ان کی شناخت ”مسلم امہ“ ہے ۔وہ اس شناخت کے علاوہ کچھ تصور ہی نہیں کرسکتے۔
اور اگر کوئی اُن کی اِس شناخت پہ سوال اٹھائے تو یہ اپنی شناخت کو مزید کنفیوژنی میدان میں لا کھڑا کریں گے اورکہیں گے : میری شناخت ” انسان ہے“۔ اُن کی نظر میں دیگر سارے شناخت کے معیارات بالخصوص سندھی ، بلوچ اور پشتون جیسے الفاظ پیدائشی تعصبات والے لفظ ہوتے ہیں۔ وہ اِس شناخت کو علاقائی تعصبات کہیں گے، قومی تعصبات کہیں گے، صوبہ پرستی کہیں گے۔۔۔۔حتی کہ نسلی تعصبات کہیں گے۔ اور اس تعصب کے خلاف تن من دھن سے لڑیں گے۔
یہ اپنی زبان نہیں بولتے، انہیں اپنے کلچر سے نفرت ہے۔ اسی لیے وہ لفاظیاں کرنے کے باوجود دوسری ساری قومی زبانوں اور قومی کلچرز کی اہمیت کے منکر رہتے ہیں۔ انہیں سر سید اور اردو بہت اچھا لگتے ہیں ۔ انگلش تو غصے کے وقت اگلتے ہیں۔ چنانچہ انہیں شناخت کا شدید معاملہ در پیش ہے ۔ اگر خود کو امت مسلمہ یا انسان کے بجائے کچھ اور کہیں گے تو پھر سو سال کی اُن کی ساری مسلط کردہ تاریخ ، ساری خونریزیاں باطل ثابت ہوں گی حتی کہ اُن کا حالیہ وجود بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے محفوظ بات مذہبی شناخت کی رہ جاتی ہے ۔ اور وہ بھی محدود پیمانے کی نہیں بلکہ بین الاقوامی لیول کی مذہبی شناخت ۔ اُن کے مسلم امہ کے اندر بادشاہ ، خلیفہ، شیخ، اورمارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے بیچ کوئی امتیاز موجود نہیں ہوتا۔ حکمران خواہ شیطان کیوں نہ ہووہ ”اسلامی دنیا“ اور ”مسلم امہ “ کا حصہ ہوتا ہے ۔
اُن کی زندگی جدید ترین سہولیات سے مزین ہوتی ہے مگر ذہن بچھڑ کر کہیں پیچھے رہ گیا ہوتا ہے ۔ تجلی، آفاق، جہاد، جذبہ ،کا شغر، خلافت ، شمشیر، چھا جاﺅ، اور جھنڈے گاڑ دینا جیسے الفاظ وہ محض لفاظی میں نہیں کہتے بلکہ وہ ایمانداری سے اِن پہ یقین بھی رکھتے ہیں۔ اقبال، نسیم حجازی، غامدی، نائک اِن کے علمی قائدین ہیں۔ اور عمران خان و نواز شریف سیاسی لیڈرز ۔ اُن کی سوچ سے باہر کا ہر شخص کسی نہ کسی مخالف ملک کا ایجنٹ ہے ۔ وہ اپنے مخالفین کے چہروں سے نور کے پرواز کر جانے پہ خصوصی نگاہ رکھتے ہیں۔
مگر موقع ملے تو یونیورسٹیوں کے یہ اخلاق تافتہ پروفیسر اپنا ایمان ، بڑھاپا اور علمیت اپنی گرلز سٹوڈنٹس کی بلیک میلنگ اور اخلاق بافتگی میں سرشاری سے جھونک دیتے ہیں۔ لولاک بھر میں اخلاق اخلاق جپتے رہنے کے لیے جماعتیں بھیجتے رہیں گے مگر جو نہی موقع ملا تو وہ یہ اخلاق شہر، محلے ، گاﺅں میں ننھے بچوں کے ساتھ زنا کی صورت ظاہر کرتے ہیں۔
ان کے ایمان کو عورت سے سخت خطرہ ہے ۔جینڈر معاملے کو وہ اکیسویں صدی میں بھی فیوڈل عینک سے دیکھتے ہیں ۔ اُن کا جلندھری ضیاءالحق ٹی وی پر خبریں پڑھنے والی خواتین کے لیے لباس طے کرتا تھا ۔
اس کلاس کے لوگ سماجی معاشی معاملات میں کسی بھی بددیانتی کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔یہ لوگ کمیشن ، اور کک بیک کو بالکل برا نہیں سمجھتے۔ بڑے بڑے وکیلوں کے ذریعے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔بجلی کا میٹر بند رکھتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ کرتے رہنے کے باوجود انہیں شکوہ ہوتا ہے کہ یہ ملک اسلاف کے فرمانوں پہ نہیں چل رہا۔ اور ایک خمینی آئے سب چوروں ڈاکوﺅں کو پھانسی چڑھائے تو ملک ٹھیک ہوجائے گا‘ ‘ کا فقرہ جپتے رہیں گے۔
اُن کی سیاسی وابستگی کہیں سے بھی ہو، مگر وہ بنیادی طور پر جہادی کلاس ہے ، یہ ناقابلِ یقین تشدد کے بعد زندہ جلا دینے پہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
یہ اپنے نظریات پہ نہایت جذباتی انداز کی وابستگی رکھتے ہیں۔ خود عمل کریں گے یا نہیں مگر چیچنیا سے نیل دریا تک اپنے خیالات لاگو کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس طبقہ سے وابستہ لوگ خود کو اصلی سمجھتے ہوئے ، اور سارے اہم مکاتیب ِ فکر کے ہیڈ کوارٹر اپنے پاس رکھتے ہوئے ،دوسری جگہوں کو محض اپنی ذیلی شاخیں کھولنے جتنی اہمیت دیں گے۔ یہ کچھ بھی کہیں دو قومی نظریہ سے ذہنی چھٹکارہ پانے سے قاصر ہیں۔
ان کا دیانتداری سے ایمان ہے کہ وہ ایک عظیم پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے دنیا میں لائے گئے ہیں۔ اس لیے ان کا ہر چھوٹا بڑا اقدام اُسی پراجیکٹ کا حصہ ہوتا ہے ۔ ان کے خیال میں ان کا یہ عظیم پراجیکٹ مقامی نہیں، اور نہ ہی علاقائی ہے ۔یہ تو انٹرنیشنل پراجیکٹ ہے جو آسمانوں کی رضا ہے۔ اُس رضا کے لیے سب کچھ قربان ۔ یہ لوگ محض ایک بڑے پیر کی کرامت کے زور پہ سوویت یونین کو صفحہِ ہستی سے مٹائے جانے پہ پختہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ ”داڑھی رکھیے ، کینسر سے بچیے “ جیسے نعروں کے موجد ہیں۔ ان کا ایک سب سے بڑا آئیڈیل اور مقبول وزیراعظم پرائم منسٹر ہاﺅس میں جادو ٹونہ کا اڈہ قائم کرتا ہے اور ان کا صدر ِ مملکت ایوان ِ صدر میں کالے بکرے ذبح کر کے داخل ہوتا ہے ۔جب انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا (21جولائی 1969) تو انہی کے طبقے کے بادشاہی مسجد کے خطیب نے فتوی دیا تھا کہ جو اس پر یقین کرے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ نکاح ٹوٹ جانے کے یہ فتوے لگاتار جاری رہے۔ افغان انقلاب ہوا تو اُس انقلاب کے حامیوں کے نکاح ٹوٹنے کے باقاعدہ احکامات صادر ہوئے ۔ عمران خان کے زمانے میں تو سربراہِ مملکت کی طرف سے ایسے فتوے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اگلے جاتے رہے۔
ان کی نظر میں پاکستان یہاں نہیں بنا، آسمانوں پہ بنا ہے لہذا اس کی حفاظت آسمانی خوشنودی ہوگی ۔یہ پاکستان کو ایک رکھنے میں ہر قربانی دیں گے ،بجز اپنے استحصال کی قربانی کے ۔سی پیک گوادر کے نام پہ بناتے ہیں مگر اُس کے سارے پیسے گوادر والے صوبے سے باہر لگا لیتے ہیں۔ وہ گوادر کو بلوچوں کا نہیں کسی ”نون“ کا سمجھتے ہیں۔وہ انصار بننے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ شرط یہ کہ مہاجرین اِن کے گھر سے سینکڑوں ہزاروں میل دور جا کر آباد ہوں۔ تب یہ اپنا لیب ٹاپ کندھے پر رکھ کر انصار والا کام کرتے ہیں۔ ظاہر ہے لیب ٹاپ انٹرنیشنل ڈونروں سے اچھا خاصا کھینچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
جس ملک کی مڈل کلاس اپنی شناخت اپنی قوم کے بجائے”مسلم امہ “ اور ”انسان “کے بطور کرتے ہوں تو حتمی بات ہے کہ اُن کی قیادت بہت دیر تک باجوہ ، مشرف ، عمران ، ملا سراج الحق، فضل الرحمن ،یاطاہر القادری والا نواز شریف ہی کرے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*