اہم بلوچ سرداروں کا شجرہِ نسب

1۔ مری قبیلہ

مری سرداروں کا خاندان قد آور تاریخی سیاسی شخصیات سے بھرا ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی شخصیات تھیں ۔انگریز اور بعد کے حاکموں کے در آنے کے بعد قبیلے کے معاملات میں دو فریق یعنی سردار اور عوام کے علاوہ یہ تیسرا فریق بھی گھس گیا۔ اور چونکہ یہ فریق بہت طاقتور تھا اس لیے اب حالات ہی بدل گئے ۔ جو حالات خالص بلوچ تھے اب وہ تقریباً تقریباً غیر بلوچ بن گئے ۔ لہذا حالات کی نوعیت ، رفتار اور تقاضے بدل گئے ۔ اب صرف قبیلہ کے داخلی معاملات یا پڑوسی قبائل سے جنگ و امن کے مسائل نہ تھے ۔بلکہ اب تو ایک سُپر پاور آچکا تھا ۔ وہ ایک لحاظ سے بین الاقوامی سپر پاور تھا جس کا الگ ورلڈ ویو تھا، الگ عزائم تھے ، الگ زبان و ثقافت تھی ، اور اس کی ایک زبردست ارتقا اور ٹریننگ تھی ۔ یہ سُپر پاور ایک سٹینڈنگ آرمی رکھتی تھی جس کے پاس جدید اسلحہ حتیٰ کہ ہوائی فوج بھی تھی ۔ یہ ریاستی تنظیم کا باضابطہ اور منظم سٹرکچر رکھتی تھی ۔اور وہ بہت سائنسی اور منصوبہ بندی سے قدم اٹھاتی تھی ۔ وہ رسم ،رواج ، قانون ، مذہب ، اخلاقیات ، اور بنیادی انسانی حقوق کچھ بھی نہیں مانتا تھا ۔ سامراجی مقاصد جس طرح سے حاصل ہوسکتے تھے ، وہ حاصل کرتا تھا۔ چنانچہ انگریز کے بعد حالات مکمل طور پر غیر معمولی بن گئے۔۔۔۔ اور غیر معمولی حالات میں غیر معمولی لیڈرز کا پیدا ہونا لازمی ہوتا ہے۔

گزین اول

سارے سردار خاندانوں کی طرح اِس خاندان کا بھی عجیب دلچسپ شجرہ ہے ۔ گزین اس خاندان کا جدا مجد ہے۔ وہ کون تھا ، کہاں سے آیا تھا اور بجارانڑیں، گزینی اور لوہارانڑیں کے بڑے بڑے طائفوں پر مشتمل پورے مری قبیلے کا سردار کس طرح بنا تھا؟۔ اس پر قبیلے کے اندر بہت بڑا فوک ادب موجود ہے۔ روایتیں ہیں، افسانے ہیں۔ مائتھالوجی اور مائتھالوجی والے معجزے تو ہر قبیلے کے سردار خاندان کے ساتھ موجود ہیں۔ غیر معمولی اور غیر مادی قوتیں ان سرداروں کے اقتدار کو برقرار رکھتی ہیں۔ ہم یہ سارا فوک ادب اور یہ غیر مرغی قوتوں کو اپنی کتاب پیپلز ہسٹری آف بلوچستان کے تیسرے جلد میں بیان کر چکے ہیں۔ او ر مجھے یاد ہے کہ گزین کے گرد اس مائتھالوجی کے ہالے کے خلاف ابھی ماضی قریب میں ہمارا بوڑھا سردار،خیر بخش کس طرح ہنسی ہنسی میں احتجاج کرتا تھا !۔
یہاں بس اتنی بات کافی ہے کہ مری قبیلہ میں ”موروثی “سرداری اِسی گزین سے شروع ہوئی تھی۔ اُس سے پہلے مری قبیلے میں سردار کا عہدہ موروثی نہیں تھا ۔ وہاں قبیلے میں سب سے بہادر، ذہین، خیر خواہ اور انسانی اچھی خصلتوں سے لیس شخص کو سردار بنایا جاتا تھا۔ اور اُس کی موت کے بعد یہ بالکل ضروری نہیںتھا کہ اُسی کا بیٹا سردار بنے۔ بلکہ پورے مری قبیلے میں موجود ” بہترین“ شخص کو سردار بنایا جاتا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مری کی سرداری کبھی سالارانڑیں ذیلی طائفے کی ہوتی ہے پھر چھلانگ مار کرھلیلانڑیںقبیلے کو گئی اور یوں ہوتے ہوتے مستقل طور پر بالآخر گزین ، اور پھر اُس کی آل اولاد کے پاس گئی …….. ۔
سڑدار گزین تک آکر قبیلے کا ارتقا ایک ایسے نکتے پر پہنچا جہاںاب یہ ممکن نہ رہا تھاکہ اس بہت بڑے قبیلے میں سے بہترین اور مثالی فرد کو تلاش کرکے سردار بنایا جاسکے۔نجی ملکیت واضح طور پر قائم ہو چکی تھی ۔ قبیلے کا علاقہ دور دراز تک پھیل چکا تھا۔آبادی بہت بڑھ چکی تھی۔ دیگر قبائل کی بڑی بڑی شاخیں اپنا اپنا قبیلہ چھوڑ کرمری قبیلے میں شامل ہوتی جارہی تھیں۔
چنانچہ معروض نے بزورِ بازو یہ سہولت اپنے ہاتھ میں لے لی کہ اب سردار کی موت پہ پُرامن اور ہموار انتقالِ اقتدار کو یقینی بنایا جائے ۔ یوں حالات نے ہی فیصلہ کیا کہ فوت شدہ سردار کا بڑا بیٹا آٹو میٹک طور پر سردار بنے گا۔بس یہ شرط کہ وہ پاگل نہ ہو، اور مفلوج ہونے کی حد تک بیمار نہ ہو۔
چنانچہ اُس موروثی سردار کی تاجپوشی (دستار بندی) یعنی انتقالِ اقتدار کے پورے پراسیس کو ” کوڈیفائی“ کردیا گیا۔اس پراسیس کا ایک ایک اقدام ،ایک ایک تفصیل رسم و رواج میں شامل ہوتاگیا ۔
بھاولاں
بھاولاں اس خاندان کا ایک اور مشہور شخص گزرا ہے۔ مگر اس کی شہرت کسی جنگی یا سردار والی دستار کے سبب سے نہیں، تھی ۔ نہ ہی اس کی سختی اور آمریت کی وجہ سے تھی۔بلکہ وہ اپنی درویشی ، خیر خواہی کی وجہ سے باکرامت اور محترم سمجھا جاتا تھا۔مری کے مستقبل کے سرداروں نے عاجزی ، خاکساری،اور بے تکبری اپنے اسی بزرگ سے راہنما اصول کے بطور لی ۔ اس قدر کہ بعد میں مری قبیلے کے سارے سرداروں نے (ماسوائے مہر اللہ خان کے)کبھی بھی ڈنڈا، دھمکی اور رعب و سختی سے کام نہیں لیا ۔ حلیمی کو طرزِ حکمرانی اپنا لیا۔
دودا
1840 میں اس خاندان میں ہمیں دودا نظر آتا ہے ۔جس نے انگریز کے خلاف تین جنگیں لڑیں اور تینوں جیت لیں۔ ساڑتاف (مئی1840)نفسک (اگست1840)‘ اور اسی سال کاہان۔ انگریز اپنی ساری تحریروں میں اُسے” ©© بوڑھا دودا “ لکھتا رہا ہے۔
دودا کی سرداری اور انگریز کے خلاف جنگوںکے بارے میں چونکہ کافی لکھ چکا ہوں اس لےے یہاں تفصیل میں نہیں جاتا ۔مگر سب سے کمال بات اس کی سرداری کی یہ تھی کہ وہ خود جنگ کے خلاف ہوتے ہوئے بھی قبیلے کی اکثریت کا ساتھ دیتا رہا۔ دلیل و لال خان کی قیادت میں یہ جنگیں نہ صرف انگریز کی شکست کا باعث بنیں بلکہ یہ مری قبیلہ کی بہادری ، مہارت اور اعلیٰ انسانی اوصاف سے مزین ہونے کا ثبوت بھی بنیں۔ مہذب انسانوں کا قبیلہ ۔
دودا کے دور میں قبیلے کے ذیلی شاخوں کے سربراہوں اور سردار کے درمیان زبردست ہم آہنگی تھی ۔
سردار دین محمدکا دور 1850 کے آس پاس کا تھا۔ وہ غالباً لاولد مرا تھا۔اس لےے اُس کا بھائی نور محمد سردار بنا ۔ وہ1859کے زمانے تک بھی زندہ سردا رتھا۔

نور محمد کے بیٹے ،گزین (دوئم؟) اورمہر اللہ اول
یہ مہر اللہ ، گزین دوئم کا بھائی تھا جس کے لا ولد ہونے کی بنا پر اس کی موت کے بعد سرداری مہر اللہ کو ملی تھی ۔ بعد میں مہر اللہ نام کے اور سردار بھی چونکہ اس خاندان میں آئے اس لیے ہم اِس مہر اللہ کو مہر اللہ اول کہیں گے ۔ اس مہر اللہ کا بڑا بھائی گزین (ولد نور محمد) 1876 کو انتقال کرگیا۔
مہراللہ اول 26 سال تک مری کا سردار رہا۔ اگر آپ کو ایگزیکٹ دورانیے میں دلچسپی ہے تو وہ یوںہے کہ انگریزمشہور حکمران سنڈیمن ،گزین دوئم اور مہر اللہ اول کے دور میں سامنے آیا۔ اور یہی زمانہ خانِ کلات ،ھذا داث خان کا تھا۔
مہراللہ اول کا بیٹا
مہر اللہ اول 15مارچ1902کو فوت ہوگیا۔تب اُس کا بڑا بیٹا خیر بخش (اول) قبیلے کا سردار بنا ۔چونکہ پہلی عالمی جنگ اُسی خیر بخش کی سرداری کے زمانے میں شروع ہوئی تھی اس لیے یہ قبیلے کے لیے انتہائی حساس اور اہم سیاسی اور جنگی زمانہ تھا۔
ہم آنکھیں بند کر کے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سردار پوری بلوچ قوم میں ایک دائمی احترام رکھتاہے۔ اپنے تمام آباﺅ اجداد سے بھی بڑھ کر۔ وجہ ، اس کی سامراج دشمنی تھی۔ اُس کا احترام اس لیے ہے کہ وہ ظلم کے سامنے، حملہ آور غنیم کے سامنے ، سپر پاور برطانوی سامراج کے سامنے ڈٹ گیا تھا۔ یکم جنوری 1903 ءکو ہز مجسٹی کنگ ایمپر رکی تاج پوشی کے موقع پر خان بہادر میر خیر بخش خان کو نواب کا خطا ب دیاگیا ۔(1)۔اور جون 1915 میں اسے سی آئی ای (کمپینین آف اِنڈین ایمپائر) بھی بنا دیا گیا ۔ مگر ہم آگے دیکھیں گے کہ پُرشکوہ سامراجی خطابات اور بیش بہا نوازشات کا چٹانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اسی سردار کے دور میں خود اُس نے ، مری قبیلے نے ،اورپوری بلوچ قوم نے دنیا بھرمیں بڑی نامو ری حاصل کرلی ۔خیر بخش اول بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں برطانوی سامراج سے خوب لڑا تھا۔ سب سے پہلے اس نے جنوری 1912 ءکو بلوچستان کے اے جی جی کی بگھی کھینچنے سے انکا رکیاتھا ۔ میں صرف ملاّ مزار بنگلزئی کی طویل شاعری میں سے صرف اُن اشعارکو درج کرتاہوں جو اس نے خیر بخش اول کے بارے میں کہے تھے:
ہزار آفریں باثے خیر بخش مری
تئی چماناں استیں حیائے ذری
اِجنٹا جواو داثئے پیداوری
مخن ہنچشیںظلم و زورآوری
نہ من ڈھگوے ، ڈڈوے آں کھری
تئی بگھی آ مں نہ چکا ں کذی

ترجمہ :
ہزار آفرین تجھ پہ خیر بخش مری
آنکھوں میں تیری حیا ہے بھری
تو نے ایجنٹ (گورنر جنرل )کو صاف جواب دیا
کہ اتنا ظلم اور زور آوری نہ کر
میں نہ بیل ہوں اور نہ گدھا
کہ تیری بگھی کو کھینچوں گا
لیکن اس سے بھی بڑی، دیرپا ، اور وسیع بات اُس وقت ہوئی جب پہلی عالمی جنگ میں انگریز کی فوج تعداد میں کمی کا شکار ہوئی ۔ تب اُس نے اپنے مقبوضہ علاقوں سے زبردستی فوج بھرتی کرنی شروع کی ۔ اُس مری سردار نے ساری بلوچ قوم کی قیادت کرتے ہوئے انگریز کو اپنے آدمی بھرتی کے لیے دینے سے انکار کیاتھا۔اور اِس پاداش میں انگریزوں سے دو جنگیں بھگتیں ۔سچی بات یہ ہے پہلی عالمی جنگ(1918-1914)اور اس پر بلوچ ردِ عمل نے سرمایہ داری نظام کے عمومی بحران اور خصوصاً سرمایہ داری کے استعماری نظام کے بحران کو بہت تیز کردیا ۔ اس نے بلوچ عوام کے شعور کو بیدا ر کرنے اور قومی آزادی کی تحریک کی بڑھوتری پہ بہت اثر ڈالا۔
اُس (بیسویں) صدی میںتو ساری طاقت و دولت کا محور برطانیہ ہی بن گیاتھا۔ اس کی اس حاکمیت کو 1914 میں جرمنی نے کسی حد تک چیلنج کیا۔ لیکن وہ بھی اس کی طاقت کو توڑ نہ سکا تھا۔ غلام ہندوستان کی تو یہ حالت تھی کہ یہاں پر انگریز جس فوج کے ذریعے حکمرانی کر رہا تھا وہ فوج خود ہندوستان کے اپنے مخصوص علاقوں سے تھی ۔ یہ فوج نہ صرف اپنے ملک ہندوستان کو انگریزوں کے لیے فتح کیے ہوئے تھی ۔ بلکہ یہ کرائے کی فوج بن کر دنیا بھر میں تاجِ برطانیہ کی طرف سے لڑتی تھی ۔ حتیٰ کہ ان ہی افواج نے ترکوں کے خلاف مقدس مقامات پہ چڑھائی کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔( سلسلہ پھر رکا نہیں!)۔
پہلی عالمی جنگ (1918-1914) نے سرمایہ داری نظام کے عمومی بحران اور خصوصاً سرمایہ داری کے استعماری نظام کے بحران کو تیز کردیا ۔ اس نے مشرقی اقوام کے عوام اور اسی طرح بلوچ عوام کے شعور کو بیدا ر کرنے اور قومی آزادی کی تحریک کی بڑھوتری پہ بہت اثر ڈالا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب لینن نے کسانوں اور مزدوروں کی قیات مےں1917میں روس کے اندر سوشلسٹ انقلاب برپا کردیا۔ اس انقلاب کے چھناکے سے دنیا میں آفاقی محبت کا توسیعی دور شروع ہو گیا ۔ دنیا کے ایک بڑے ملک میں پہلی بار قوموں کو اپنے حقوق بشمول حق علیحدگی کی ضمانت مل گئی ۔ انمول انسان نے مفت علاج ‘ اور مفت تعلیم کے ذائقے چکھے ۔ جینڈرکی بنیاد پر امتیاز کے جولان ریزہ ریزہ ہوگئے ۔۔۔۔ محبت آزاد ہو گئی قبائلی فیوڈل بنیاد پرستی سے ‘ ملا مندر اور منتر سے ، خوف کی بے انت بے آکسیجن سکرات سے ، رسم و رواج کی دہکتی جہنمی بندشوں سے ‘اور بھوک کی معدہ سوز آزارسے ۔ وہاں معاشرے کا ایک ایک رکن آزاد ہو گیا، با عزت با اختیار با حرمت ہو گیا ۔
اب انگریز نے خود بھی عالمی جنگ میں جرمنوں کے خلاف لڑنے کے لیے نفری طلب کر کے بلوچوں کو برانگیختہ کردیا تھا۔ بلوچوں نے پھر نفری مہیا کرنے سے انکار کر کے انگریز کو برانگیختہ کردیا۔ میدانِ جنگ سج گیا۔ سپر پاور باقاعدہ ہوائی فوج لے کر آیا۔ بلوچ عوام نہتے سینے اور سروں کے ساتھ پہنچے۔
ہم گمبذ اور ماوند (ہڑب)میں لڑائی ہارے، اپنا شہر نظرِ آتش کروایامگر ہم نے بھرتی نہیں دی۔خیر بخش سپرپاور برطانیہ کے سامنے ڈٹ گیا۔ اور اِس معاملے میں پوری بلوچ قوم کو متحد و یکجا کردیا ۔بلوچ سامراج دشمنی بلوچ نسل کے جینز میں شامل ہوگئی ۔ اس طرح خیر بخش مری بلوچستان کا ایک ناقابل فراموش کردار بن گیا۔
یہاں اُس کا تحتہ الٹنے کی ایک بڑی کوشش ہوئی ۔مری کو اکٹھا کیاگیا کہ خیربخش نااہل ہے (کمال ہے !) ،آﺅ اُس کو سرداری سے نکالتے ہیں اور اُس کی جگہ پر میر ہزار کو سردار بنا تے ہیں ۔ اس کی دستا ربندی کے لےے کاہان جمع ہوناہے ۔
اس پوری منظم کوشش کو ناکام بنانے میں وزیر سوامرانڑیں نے کمال چال چلی ۔اُس نے بہت حکمت سے یہ سازش پوری ہونے نہ دی۔
خیر بخش اول نے رند قبیلے کے ذیلی فرقے پُژ رند میں پیر محمد کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ پیر محمد بکھرو غلام بولک سبی کا رہنے والا تھا ۔
اُسی خاتون کے بطن سے مہر اللہ (دوئم ) پیدا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ حالیہ خیر بخش (دوئم) کا والد مہر اللہ (دوئم) پژ رندوں کا بھانجا تھا۔
خیر بخش کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا مہر اللہ خان سردار بنتا ہے ۔
مہر اللہ دوئم
خیر بخش اول کے بیٹے مہر اللہ دوئم کی بھی انگریز سے نہ بنی۔کہتے ہیں کہ انگریز لاٹ سبی کے وسیع لان میں کرسیاں لگا کر بیٹھتا تھا۔ وہ ہر سردار کو بلاتا اور دو حرکتیں کرتا۔ ایک تو وہ کچھ لکھتے لکھتے جان بوجھ کر اپنا قلم میز سے نیچے گرا دیتا اور ساتھ بیٹھے سردار کا ردعمل دیکھتا۔ سردار مہر اللہ وہ واحد شخص تھا جو اِس قلم کو اٹھانے نیچے نہ جھکا۔
دوسری حرکت وہ لاٹ یہ کرتا تھا کہ وسیع لان میں بیٹھے مدعو سردار کے لئے نوکروں کو حکم دیتا کہ وہ والا مرغا پکڑو اور سردار صاحب کی مہمانی کے لےے کاٹو۔ اُس کے سمجھائے ہوئے نوکر کچھ دیر مرغا کے پیچھے بھاگتے اور پھر اپنی ناکامی کا اعلان کرتے۔ اس پر لاٹ صاحب انہیں برا بھلا کہتا اور اسی سردار سے مدد کرنے کا کہتا۔ بس پھر کیا تھا۔ سردار ‘وسیع لان میں پیچھے پیچھے ا ور مرغا آگے آگے۔ لاٹ بیٹھا اُس کی گرتی چادر اورپگڑی، اور ہانپتے احمق بنے سردار کی بے عزتی کا نظارہ کرتا۔
جب اُس نے یہی حرکت مہر اللہ سے دوہرائی تو اُس نے پوچھا کونسا مرغ ذبح کروگے ؟۔ لاٹ نے جب ایک مرغے کی طرف اشارہ کیا تو مہر اللہ بیٹھا رہا، اپنا پستول نکالا،مرغا مار دیا اور اپنی راہ چل دیا۔
مہر اللہ خان کی سرداری ،اُس کی موت کے وقت یعنی1933 تک چلتی ہے ۔
یہ سردار اپنے سارے پیش روﺅں کے برعکس قبیلے کے ساتھ ذرا سخت طبیعتی سے پیش آتا تھا۔
اُس زمانے میں ایک طرف بلوچ آزاد ریاست کلات کے شہری تھے ۔ کچھ بلوچ انگریز کے ساتھ لیز شدہ علاقوں کے باشندے تھے ۔ ہمارا ایک حصہ انگریز کے زیر اہتمام چلنے والے برٹش بلوچستان میں انگریز کی حکمرانی میں رہتے تھے ۔ اور مشرقی بلوچستان کا سارا قبائلی حصہ آزاد قبائل کے بطور رہتا تھا جو نہ ریاست کلات کا حصہ تھے اور نہ انگریز کے زیرِحکمرانی ۔ اُن قبائل کے انگریز کے ساتھ الگ الگ معاہدے تھے ۔
اس سلسلے میں مہر اللہ دوئم کا شاید سب سے بڑا کنڑی بیوشن یہ ہے کہ اُس نے دوسرے قبائل سے مل کر پورے مشرقی بلوچستان کو ریاستِ کلات سے ملانے کے حق میں دستخط کیے ۔ اپنے وطن کی ناموس کے سلسلے میں خیربخش اول کی عظمت کے سلسلے کو اس کے وارثوں نے جاری رکھا۔ اُسی بڑے سامراج دشمن، کے نام پر اُس کے بیٹے مہر اللہ نے اپنے بیٹے کا نام خیر بخش رکھا۔

ریفرنسز

1-.لہڑی،صالح محمد ۔ بلوچستان ۔صفحہ 65
2-نصیر، گل خان ۔تاریخ بلوچستان …….. صفحہ435
3- بگٹی، عزیز ۔ماہنامہ سنگت کوئٹہ ۔مارچ 2013۔ صفحہ52
4-میر گل خان نصیر ۔ تاریخ بلوچستان۔ صفحہ437
5- بگٹی، عزیز ۔ماہنامہ سنگت کوئٹہ ۔مارچ 2013۔ صفحہ52

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*