کتاب”علامہ اقبال کے لیے پیش لفظ

اقبال کا کلام ابتدا سے انتہا تک خالص نظریاتی ہے
سبط ِحسن

شاید سکول جانے سے بھی قبل ، شاید اردو جاننے سے بھی قبل اقبال سے ہم کو واقف کر ایا گیا۔بلو چی کے علاوہ جوپہلاشعر ہم نے ”سنا “وہ اقبال کا تھا ۔
ہمارے ہاں اقبال ہر شخص کی زندگی کے کسی نہ کسی عرصے کاپسند یدہ شاعر ضرور رہا ہے ۔ وہ ہما را شا عر تو ہے ہی ، مگر وہ بہ یک وقت وسطی ایشیا، ترکی، جرمنی، اورجنوبی ایشیا کا شاعر بھی ہے۔ اقبال انتہا پسند ی ، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا یوریا کھاد بھی قرارپایا اورہٹلر ی فاشزم کا دلدادہ شاعر بھی۔ وہ بہ یک وقت سیاسی مزدوروں میں بھی مقبول رہا ہے اور طالبان مائنڈ سیٹ کا رہنما بھی ۔چنانچہ اقبال ساری زندگی ہم سب کے ساتھ رہا،کبھی بے پنا ہ خواہش میں اور کبھی قے آور بیز اری میں۔
اقبال برہمنوں کے خاندان سے تھا جو بعد میں مسلمان ہوگیا۔ گاﺅں سپرین سے تعلق تھا لہٰذا اُس خاندان کو سپرو کہا جاتا تھا۔بعد میں یہ خاندان سری نگر منتقل ہوگیا۔
بیربل کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔تیسرے نمبر والے کنہیا لال اور اس کی بیگم اندرانی کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ کنہیا لال کا بیٹا رتن لال مسلمان ہوگیا۔نور محمد کے نام سے۔ اس نے امام بی بی سے شادی کی، اور سیالکوٹ منتقل ہوگیا۔ اقبال اُن دونوں کے یہاں9نومبر1877 میں پیدا ہوا۔
گو کہ اس کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اس نے پنجابی میں ما سو ائے ایک آدھ چیز کے کوئی شاعری نہ کی۔
اقبال نے دو تین بار شادیاں کیں۔ بیٹوں میں وہ جاوید سے سب سے زیادہ پیار کرتا تھا۔
ٍٍ اقبال دوایک بار بلوچستان بھی آیا۔ کچھ کہتے ہیں کہ اس کا بھائی ژوب میں کسی محکمے میں اوور سیئر وغیر ہ تھا ۔غبن کے معاملے میں پھنس گیا تھا ، اقبال اُسے چھڑا نے آیا۔ جبکہ عنا یت بلوچ ایک اور سٹوری کے ساتھ ہے:
”علامہ اقبال عالم شبا ب میں سردار خان لغاری کے ہاں ڈیرہ اسمعیل خان میں ملاقات کرنے گیا ۔ علامہ کا بڑابھائی اغواہوا تھا جو کہ ژوب میں اوور سیئر تھا ۔ اُسے کسی ڈاکو نے رقم کے حصول کی خاطر اغواکیا تھا اور سردار خان ژوب لیوی میں رسالد ار تھا “ (1)۔
ٍ ہمارا منطقہ ہمہ وقت حادثات کی لپیٹ میں رہا ہے ۔ ایک عجب حادثہ ہے کہ بلوچستان کو صدیوں برس پیچھے دھکیلا جا چکا ہے ۔ اگر یہ دو سو سال پیچھے نہ بھی گیا تو یہ کیا کم ماتمی بات ہے کہ بلوچستان گزشتہ سو ڈیڑھ سو برس سے وہیں کھڑا ہے ، جہاں پر کہ تھا ۔ٹائم مشین، پوری تیسری دنیا میں بالعموم ، اور بلوچستان میں بالخصوص ایک عرصے سے بغیر ڈیزل اور گِریس کے جام پڑی ہے۔ سماج کی اپنی فطری حرکت تک چیونٹی رفتارہے۔ چنانچہ ایک لحاظ سے دیکھیں تو لگے گا کہ نو ہزار سال قبل والا مہر گڑھ کا زمانہ ہی ہمارا عصرِحاضر ہے۔ وہی بیل گاڑی ، وہی لکڑی کی کنگھی ، وہی پیداواری رشتے ،وہی خانہ جنگی، اور وہی بد ترین فوجی کارروائی ۔۔۔۔ زیادہ سے زیادہ سندھ، جنوبی پنجاب اور جنوبی بلوچستان کے بلوچ ارتقائی عمل میں قبائلی نظام سے آگے بڑھ کر ایک فیوڈل دور میں جی رہے ہیں۔ یا کراچی ، لاہور اور جنوب مغربی بلوچستان کے بلوچ خود کے لیے سرمایہ داری عہد کو عہدِ حاضر پکار سکتے ہیں ۔۔۔۔ لہٰذا ہماری دنیا میں اگر ایک طرف بیل گاڑیوں والا پٹ فیڈر عہدِ حاضرہے‘ تو دوسری طرف ٹونِ ٹاور اور پاتھ فائنڈر والا امریکہ بھی عہدِ حاضر ہے۔ ٹی وی سیٹ کو پھانسی چڑھانے والے افغانستان سے لے کر بایو ٹیک اور انفوٹیک کے سائنسی عجوبوں کے مالک یورپ تک سارا عہد، عہدِ حاضر ہے ۔عورت کی ڈرائیونگ پہ پابندی والا عربستان بھی عہد حاضر ہے اور خلا و سما پہ کمندیں ڈالنے والے چین و جاپان بھی۔ دیہی جاگیری ایشیا بھی عہدِ حاضر ہے جہاں نائب اللہ فی الاض دھقاں کی پگ، ڈھوریں اور بیٹی‘ زور والوں کے حرص تلے دھجیاں ہو جاتی ہیں ،اور سلیکون وادیاں بھی عہدِ حاضر ہیں جہاں تقدیریں تعبیریںبدلنے والے اوزار ڈھلتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں دنیا میں آج کا عہد کپٹلزم کی قیادت میں چار مختلف نظامہائے زندگی میں بٹا ہوا ہے۔ بلوچستان کا جاگیر داری اور سرمایہ داری نظام، پاکستان کا جاگیرداری میں لپٹا سرمایہ داری نظام، یورپ اور امریکہ کا سرمایہ داری و سامراجی نظام اور چند ممالک میں موجود سوشلسٹ نظام۔دنیا بھر کے دانشوروں کی طرح اقبال کو بھی اسی گنجلک عہدِ حاضر کا سامنا رہا ہے۔
”تو شب آفریدی چراغ آفریدم “ جیسے بڑے اقبال کے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی یہ ہوئی کہ اس پر کسی نے ادبی تنقید نہ کی۔حرکت، ہنگامہ، عشق، کمٹ منٹ اور ” جاگتے رہو“کا پیغام دینے والے شاعر کے دائیں کندھے والے لاغر اور ناتواں فرشتے کو آنکھ ناک، ہاتھ اور زبان سے یکسر محروم کردیا گیا۔ ایک بنیاد پرست متشدد ریاست کا سرکاری شاعر ہونے کے حوالے سے جان کی امان کی واحد شرط، اقبال کی تعریف میں لکھنا رہا ہے ۔ لہٰذا اس کے فن پر بات ہی نہ ہوسکی، اوراس کے فکر کی تنوع پر بات کرنا تو سیدھا سیدھا جہنم واصل ہونا تھا۔ حالانکہ دونوں میدانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاعری پہ بات کرنی ہو تو ہم فن پر بھی بات کررہے ہوتے ہیں( اور اس اقبال کا فن تو بحرِبے کراں ہے)۔ اور فکر پہ جب بھی بات ہو تو بنیاد پرست فلسفہ اور نظریہ کی مطابقت و حمایت پہ بات کرنا ہوتا ہے۔بس،سب (سرکاری اور غیر سرکاری سرکاری ) لوگ اسے شاعرِ مشرق بنانے پر تلے رہے ۔( اسے تو مجدد اور ولی تک بنا دیا گیا)۔
اچھا بھلا شریف آدمی تھا، تھالی چاٹ دانشوروں نے اُس کو شاعر ِ مشرق، حکیم الامت، شاعرِ امت،مفکرِ اسلام، تصورِ پاکستان کا خالق،مفکرِ پاکستان، رہبرِ ملت،ترجمانِ حقیقت ، اور حضرت علامہ بنا ڈالا۔ القابات کے اس ڈھیر میں اصل نام ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے!!۔
یونیورسٹیوں اور مدرسوں کے بدبخت دانشوروں نے کتنے بڑے انسانوں کو اشرف المخلوقاتی مقام سے گر ا کر ،انہیں سب ہیومن سطح تک پٹخ دیا۔اقبال تو بہت وسیع شاعر تھا ۔ آسمانوں زمینوں غرضیکہ ساری کائنات کو انسان کی میراث قرار دینے والا شاعر۔ مگر ظلم دیکھےے کہ اس ،بقول منٹو ” اقبال کے قلندر انہ کلام پر چند خودغرض مجاروں کا قبضہ“ ہے ۔ اِس منطقے کے سارے بڑے انسانوں کی طرح بلند اقبال بھی اِن کے ہاتھوں پستی میں گرادیا گیا ۔اقبال کو اقبال اکیڈمی ، یونیورسٹیوں کے اردو اور فارسی ڈیپارٹمنٹوں اور اقبال چیئروں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ وہاں اسے ایک ”اچھے “شاعر سے ایک ”مسلمان شاعر “بنا دیا گیا، پھر مسلمان تر، اور مسلمان ترین کی نہ ختم ہونے والی ریس میں ڈال دیا گیا ۔
اقبال بلاشبہ ایک وسیع و عمیق سمندر ہے۔ وہ وہی کچھ نہیں جو اردو، فارسی شاعری میں آگیا ہے ۔اس نے اردو اور انگریزی نثر میںبھی بہت کچھ کہا ہے۔ اس کے خطوط بھی اس کی تفہیم میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں ۔
اقبال اچھا بھلا گوشت پوست کا انسان تھا۔وہ تلخاب اور عطیہ بیگموںامیر بیگموں کے قریب بھی رہا۔ اور ایک فانی انسان کی سی ضرورتیں خواہشیں پالتا بھی رہا اور پوری بھی کرتا رہا۔ بلاشبہ اقبال پیروں، درباروں، اور درگاہوں سے اپنی منتیں پوری کروانے وہاں کے بھی چکر لگاتا رہتا تھا ۔ وہ خود بھی دم چھُو کرنے میں لطف لیتا تھا ۔ اُسے خواب بھی بڑے آتے تھے اور بشارتیں بھی بہت ملتی تھیں۔ اُس کی شاعری کے بے شمار مشہور و مقبول حصے کسی نہ کسی سفید ریش کی غیبی آمد اور اُس کی ترغیب و حکم سے نازل ہوئے۔ ۔۔۔ لیکن سماج کو ارتقا کی سواری میسر نہ ہونے دینے والوں نے اقبال کے ساتھ اس سب سے زیادہ برا کیا۔
اچھا بھلا نوجوانوں، دھقانوں ، مزدوروں اور عمومی طور پر انسانوں سے باتیں کرنے و الا شاعر دوسرے ہی لمحے قرطبہ کی مسجد کا خطیب بن بیٹھا۔ بہ یک وقت وہ کسی بھی بنیاد پرست ملا سے بڑھ کر بنیاد پرست تھا۔ اس کا شاہین ایک پیچیدہ یوٹوپیائی رجعتی پیکیج ہے۔ اگلی کمی یونیورسٹیوں نے پوری کردی ۔ انہوں نے بے جان موضوعات پہ ایک دوسرے کو پی ایچ ڈی کی ڈگریوں سے لیپ دیا ۔انہوں نے پاکستان کے قومی شاعر اقبال کو بہر صورت قابلِ قبول بنانا تھا۔ لہٰذا مردِ مومن بھی وہی بنا اور روشن خیالی کا سربراہ بھی وہی ہوا۔
یہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے کمیونسٹوں کو اجر کیں عطا کرنے والے کراچی کے کمیونسٹ بھی لہلہا لہلہا کر مشرف بہ اقبال ہوتے رہتے ہیں۔ (جبکہ اقبال ایسے لوگوں کے سب سے بڑے راہنما یعنی کارل مارکس کو اشتراکی کوچہ گرد، پریشاں روزگار، اورآشفہ مغز کہتا رہا )۔ابھی 2013ءمیں مسلم شمیم نے کمیونسٹوں کے رسالے ” عوامی جمہوریت لاہور“ میں اقبال پر جو مضمون لکھا اس کا ہو شر با عنوان ہے :” ڈاکٹراقبال اور مسلم نشاطِ ثانیہ“۔ عنوان ہی فکری دیوالیہ پن ہے ۔بھلا” مسلم نشاطِ ثانیہ“ بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟ ۔ پہلا پیراگراف ہی دیکھےے، لگے گا جیسے میاں طفیل کا مضمون ہو:
” مسلم نشاطِ ثانیہ جو یورپ میں ظہور پذیر ہونے والی نشاطِ ثانیہ (شُکر ہے اس نے عیسائی نشاطِ ثانیہ نہیں لکھا ) کے پانچ سو سال بعد برصغیر پاک و ہند میں انیسویں صدی کے وسط میں شروع ہوئی اور جس کی قیادت و سیادت سرسید احمد خان کے حصے میں آئی، علامہ اقبال اس کے اہم ترین رکن ِ رکین ہیں……..“۔
میں ہزاروںمرحوم شدہ بڑے مارکسسٹ دانشوروں کو کچھ نہ کہوں گا ، اس لیے کہ وہ جواب دینے کو موجود نہیں ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک دانشور ،بے چارے اقبال پر ” عظمت“ کا بوجھ لا دتا چلا گیا۔ پتہ چلا کہ عظمت ہی عظمت رہ گئی اقبال تو عظمت کے انبار میں دفن ہو گیا۔
اقبال کی ایک بڑی کرامت یہ ہے کہ جس نے بھی اس پہ عظمت انڈیل دینے کے ارادے سے قلم اٹھایا وہ کچھ ہی دیر تک سالم و سلامت رہ سکا۔اقبال نے اُسی وقت اُسے طالبان بنا ڈالا،اپنی طرح کا۔
آئیے، اقبال کے جسم سے پوپ والا ہژدہ پوشی لباس ہٹا دیں اور اُسے ایک اشرف المخلوقاتی وجود کے بطور دیکھیں۔
بلوچ قارئین تو اُسے یوں سمجھنے کی ابتدا کریں کہ اقبال کے زمانے کے بلوچ راہنما¶ں کا مطالعہ کریں۔ انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارے وہ راہنما بہت زبردست سامراج دشمن لوگ تھے۔ اِن اصحاب کے کلام میںحب الوطنی کوٹ کوٹ کرموجود تھی۔ ہمارے اُس دور کے سارے بلوچ زعما اپنی فکر سے متفق اور ہم آہنگ لوگوں سے بہت قریبی تعلق رکھتے تھے‘ دانشورانہ میدان میں بھی اور ذاتی سطح پر بھی ۔مگر وہ مخالف سوچ رکھنے والوں سے بھی قطعِ تعلق نہیں کرتے تھے۔ اُن لوگوں میں ڈاکٹر محمد اقبال بھی شامل تھا ۔ ہمارے بزرگ اقبال کی بہت قدر کرتے تھے ۔اقبال نے اُن سے کوئی اثر لیا یا نہیں ، مگر حتمی بات ہے کہ ہمارے بلوچ اکابرین اُس ماحول کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے جس میں اقبال رنگا ہوا تھا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ جب وہ واپس بلوچستان آتے تو بلوچستان انہیں بلوچستان بنا ڈالتا۔ بلوچستان سے باہر کے زمان کے معروض کے مطا بق اقبال نہ صرف قابل ِقبول تھا بلکہ قابل ِتقلید بھی ۔ اُس دور میں اقبال ،ظفر علی اور ہمارے بلوچ اکابر ین کی شاعری کاطرز، ڈھنگ اور آہنگ ایک جیسا تھا ۔ اقبال کی حیثیت ایک سینئر کی تھی۔ ہاشم غلزئی کے بقول :” ایک دن ہم شام کو اقبال کے گھر گئے تو میر یوسف عزیز مگسی بھی علامہ اقبال کے ہاں تشریف فرما تھے “(2)۔
ایک غیرمحسوس طور پر اقبال کے ہاتھوں دلچسپ انداز کا ایک قافلہ تشکیل و منظم ہوا ، یا، وہ پہلے سے موجود قافلے کا ترجمان بن گیا ۔ ذرا دیکھےے تو سہی کہ اُس فکری قافلے میں کون کون شامل تھا۔ محمد امین کھوسہ اقبال اور یوسف عزیز مگسی کے بارے میں کہتا ہے :
”بلوچستان کے اولین اولوالعزم نوجوان صاحبِ دل راہنما یوسفِ اعظم بلوچوں کے ایک سردار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نوجوان دنیا کی سب رعنائیوں سے واقف ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کی مختلف بڑی بڑی سو سائٹیوں کی اصلی زندگی سے واقفیت حاصل کرنے میں یکایک ان کے دل کی گہرائیوں میں سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ ان کی مادرِ وطن بلوچستان عوام کا نرم پھول بظاہر ذلیل و خوار ہے، اُن کی جہالت کیوں ان کی باہمی جنگ وجدل کا باعث بنی ہوئی ہے۔۔۔۔ انہی سوالات کے جوابات پروہ جب غور و فکر کر رہے تھے تو انہیں علامہ اقبال کا کلام ملا ۔ اقبال کے کلام میں ایک صحیح آدمی کے صحیح جذبات کے ابھارنے کی پوری طاقت موجود ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آدمی بھی صحیح ہو اور جذبات بھی صحیح ہوں۔ شکوہ اور جواب شکوہ اور اقبال کی دیگر نظمیں اس نوجوان سردار کی سیاسی راہنما بنیں اور آناً فاناً یہ نازو نعم میں پلاہوا نوابزادہ اپنی قوم میں سے جہالت اور مفلسی دور کرنے کے خیال سے بلوچستان کے استبدادی حلقہ پر یلغار کرتا ہے “(3)۔
یہ بات حیران کن ہے کہ اقبال بہ یک وقت انگریز کا ” سر“ اور ” نائٹ“ بھی رہا ہے اور اسی انگریز سے لڑنے والے یوسف عزیز مگسی کا مرشدبھی۔میر قادر بخش نظامانڑیں نوجوان یوسف پر اقبال کے اثرات یوں بیان کرتا ہے:”یوسف مگسی اقبال کے بھی مداح تھے جو برطانوی شہنشاہ جارج پنجم اور سائمن کمیشن کی ثنا میں قصیدے لکھ کر ”سر“ کا خطاب حاصل کرنے اور ہندوستانی قوم پرستی کے جذبہ میں ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا“ گانے کے بعد اب انقلاب ِروس اور سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہوکر لینن کو خدا کے حضور میں پیش کرنے کے بعد فرشتوں کو خدا کا فرمان سنایا :
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخ امرا کے درودیوار ہلا دو
پھر عموماً مخالفت میں ہی، کارل مارکس کو کہیں” پیغمبرِ بے جبرئیل“ کہا ، تو کہیں ”نیست پیغمبر و لیکن دربغل دارد کتاب“ لکھا ۔فیض نے کہا تھا کہ”علامہ بہت بڑے شاعرہیں۔ اگر وہ اشتراکیت کے معاملے میں ذراسنجیدہ ہوجاتے تو ہمارا کہیں ٹھکانہ نہ ہوتا“۔
اقبال کے ساتھ اِن اصحاب کی یاری ایک اور خط سے بھی ظاہر ہوتی ہے جو محمد امین کھوسو نے مگسی صاحب کو لکھا تھا ۔ یہ خط ”مسلم یونیورسٹی علیگڑھ“ کے پیڈ پر ہے اور اس پر یکم نومبر1939 کی تاریخ درج ہے :
” بات تو درحقیقت اتنی سی ہے کہ آپ سے کہوں کہ اقبال کی کتابیں جو آپ کوئٹہ میں عارضی طور پر پڑھنے کے لئے لے گئے تھے واپس کیجئے کیونکہ جھل میں تو ویسے بھی آپ کے پاس یہی کتابیں ہیں۔ مجھے ورنہ دوسری خریدنی پڑیں گی۔۔۔۔“
اوریہ بات صرف یوسف عزیز مگسی ،امین کھوسو اور عبدالعزیز کرد تک محدود نہیں ہے بلکہ بعد میں آنے والے بلوچ قافلے کے زعما ملک فیض محمد یوسف زئی ،محمد حسین عنقا ، گل خان نصیر ، عبدالرحمن غور ۔۔۔۔ سب زندگی کے کسی حصے میں اقبال سے متاثر ہوتے رہے ہیں ۔ ہمارا میر مٹھا خان مری تو اقبال کا نہ صرف پرستار تھا بلکہ وہ تو اُس کے کلام کا حافظ بھی تھا ۔ میر مٹھا خان مری مدرس بھی تھا اس لئے اس نے اپنے شاگرد عبداللہ جان جمالدینی کو اقبال کا گرویدہ بنایاجس کے بقول :” سب سے پہلے جن کتابوں نے مجھے متاثر کیا اُن میں علامہ اقبال کی کتابیں سر فہرست ہیں ۔ میں نے میٹرک تک اقبال کے تمام مجموعے اردو اور فارسی میں اپنے پیسوں سے ہی کوئٹہ سے خرید لیے ، یا لاہور سے منگوا لیے “۔(4)۔
اسی عبداللہ جان نے اپنے سکول کے ساتھیوں ڈاکٹر خدائیداد ،اور سائیں کمال خان کے ساتھ اقبال پہ باقاعدہ نشستیں کروائیں ۔ اور انہی تینوں نے بلوچستان میں ہزاروں انسانوں پہ اثر ڈالا ۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس نے بھی چاہا، فکرو دانش کے اِس سمندر کو اپنی مرضی کا لقب دے دیا۔ اقبال کی شاعری بلوچستان کی طرح رقبے میں بہت بڑی ہے۔اس لےے جس کسی نے اُس کی شاعری سے جو نکالنا چاہا،وہ اُسے مل گیا۔ چاہے وہ ایرانی حکمران ملا ہو،یا خواہ پاکستانی جماعت اسلامی والے ہوں۔ یعنی اسرار احمد سے لے کر جاوید غامدی تک، اور حافظ سعید سے لے اسامہ بن لادن تک اقبال ہر ایک کا ترجمان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔…….. اقبال اور سرسید دو بڑے بُت بن کر ہمارے نصاب کے عین چوک پر ایستادہ رکھے گئے۔ نسلیں جوان ہوئیں اُن سے مدبھیڑ کرتے ہوئے ۔
زمان ومکان میں تبدیلی پورے منظر نامے کوبدل کررکھ دیتی ہے ۔ زمان بدلا تو اقبال کا” شکوہ جواب شکوہ “آج ہماری تنقید کاسب سے بڑا نشانہ ہے جو ہمارے بزرگ یوسف عزیز مگسی کا منشور ہوا کرتا تھا ۔ اور یہی اقبال آج کے صحیح سے صحیح آدمی کی بھی تشفی نہیں کرپا تا۔ جابرتاریخ پہ تو کسی کا زور نہیں چلتا جس نے ایک عمدہ شاعر کے اٹھائے بیشتر نکات کو غلط ثابت کیا۔
ایک طرف وہ ” دانے کے نشوونما کے جنوں“ کا علم بردار شاعر ہے تو دوسری طرف وہ بنیاد پرستی کی حد تک آیڈیلسٹ ہے۔ اُسے شاندار ماضی کی طرف لوٹ جانے کی شدید خواہش تھی، ماضی پرستی کی حد تک۔ مگر دوسری طرف دنیا کو سنوارنے یا انسانیت کی بہتری کیلئے پر جوش خواہش بھی تھی ۔ البتہ اُس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھانا، بس جہاد اور جنگ و جدل میں مارے جانے (شہادت) کی تمنا رکھنی ہے۔ اقبال بادشاہ ، اور جاگیردار کے خلاف بھی ہے مگر بہ یک وقت جمہوریت دشمنی میں پیش پیش بھی۔ہمارا یہ شاعر ترقی پسند ہے ، فیوڈلزم مخالف ہے ۔ اور بڑی فنکاری سے اپنے ان موضوعات پہ شاعری کرتے کرتے اچانک قاری کے سرپر ایک زناٹے دار فکار سید کرتا ہے :
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
پڑھنے والا ” تھاں مرجاتا ہے“۔
مگر، بلوچ سماج میںآج ( بہت عرصے سے )اقبال مخالف جولہرچل پڑی ہے ( اور کبھی کبھی تو میری اپنی سربراہی میں)اُسے یکسر اور کلیتاًقبول کرنا بھی جذباتیت ہوگی ۔ بالکل اُسی طرح جس طرح کہ ہم اپنے بلوچ اکابرین کو یکسراور کلیتاً قبول کرنے میںہچکچا نے میں حق بجانب ہیں ۔
بلاشبہ ہم اپنے مذکورہ بزرگوں سے کسی طور پر بھی بڑے ، یا،علاّ مے نہیں ہیں۔ نہ ہی ہماری آج کی پودکو جذبات کے ہاتھوں اقبال کو مستر د کرنے کی حدتک جانا چاہےے۔ یہ صرف بدلے حالات کے دم سے ہے کہ اقبال کی جیب کٹ گئی ۔ اُس کا پان اسلام ازم القا عدہ لے اڑا ۔اُس کا اسلام کا قلعہ ”پاکستان “ ثابت ہوا۔اُس کا مردِ مومن ملّا خادم رضوی اور ممتاز قادری بنے۔ اُس کی ”سامراج“ دشمنی وقت نے کھوکھلی ثابت کردی۔ اُس کی فکری ژولید گی پو سٹ مارٹم نے عیاں کردی ۔ اُسے خامخامسلّمات کے بطور ہم پہ مسلط رکھا گیا۔ اسے ایسا مقدس پتھر بنا دیا گیا جسے نعرے باز ذہنیت بوقت ِضرورت بوسہ دیتی ہے اور پھر وہیں چھوڑ دیتی ہے۔ اقبال کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے بعد کی اگلی پو ن صد ی تک پنجاب یونیورسٹی سے ہزاروں لاکھوں فارغ التحصیل اُس کے Degenerated معتقدین اپنی حماقتوں اور مہاغلطیوں سے دنیا کا سکون غارت کیے ہوئے ہیں۔ اقبال خود ہی مردِ ناداں پیدا کرتا رہا ہے ۔اور اب پنڈی اسلام آباد اور لاہور کے مراکزِ اقتدار پر اُسی کے نمائندے براجماں ہیں۔ اور اقبال ہی کی تعلیمات پہ عمل پیرا اُس کے یہ شاگرد پورے سماج کو فیٹیف کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
……..مگر اس سب کے باوجود اقبال بہت بڑا شاعر ہے ۔ اتنا بڑا اور بلند شاعر کہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے گردن ٹیڑھی ہوجائے ، دستار گر جائے اور روح جھوم جھوم جائے ۔اس میں مقصدیت و افادیت بھی ہے ،اور تاریخیت بھی ۔ اور خطابت تو بے کراں ہے۔…….. بڑی تعدا د میں انسانوں کو متاثر کرنے والا بڑا شاعر۔ ایسا پُر اثر کہ کوئی صحیح بات کردی تو اس تاثیر کے ساتھ کردی کہ اس کا ایک مصرع کسی انقلابی شاعر کے پورے کلیات پہ بھاری نکلا۔ اس لےے اسے مکمل طور پر مستر د نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ شعر اس کی ضمانت کے لےے کافی ہے :
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیر ے بحر کی موجوں میں اضطر اب نہیں
عام آدمی کے دل و دماغ میں چلنے والے خیالات کو بہت خوبصورتی سے پیش کرنے والے اقبال کا سب سے مثبت کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اُس نے گلو ں بلبلو ں کے اکھاڑے میں منہ کا لا کر نے والے شا عر وں کی قا ئم کر دہ سما جی اور سیا سی خا مو شی توڑ دی ۔اُس نے ”سیاسی “شاعری کی، اس نے ”نظریاتی “شاعری کی ۔ یوں اس نے غیر سیاسی اور غیر نظریاتی ادب و شاعری کو موچڑے مارے ۔ حالانکہ یہ بات سچ ہے کہ غیر سیاسی شاعری کرنے والے شاعر بھی دراصل سٹیٹس کو کو نہ چھیڑ کر حکمران طبقات کے حق میں سیاست کر رہے تھے ۔ اور اقبال ،سیاسی شاعری کر کے حکمران طبقات کے حق میں بیج بو رہا تھا ۔
چنانچہ اس کنفیوزڈ بڑے شاعر نے ہمیں ساری زندگی خود کو اگلنے اور نگلنے میں لگا ئے رکھا اور ہنوز ہم یہی کر رہے ہیں۔ اسے پھینکتا ہوں،اور اُسی لمحے اُس کی روح سے معافی مانگتا ہوں۔ اُس کے اچھے بول اور اُن بولوں کی حسین ترین پیشکش کے حق میں بولتا ہوں ، لکھتا ہوں ۔اُس کی مخالفت میں تقریر کرتا ہوں تحریر لکھتا ہوں مگر آخر میں اس کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے ، اور اپنے موقف پہ قائم رہتے ہوئے بھی ،اُس کے احترام میں ڈوب جاتا ہوں۔اور اپنی تحریر میں اُس کی شان میں گستاخی کا عندیہ تک دینے والے الفاظ کو قتل کرتا ہوں۔
اقبال کی شاعری کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی مجھ سمیت کسی میں قوت اور دلیل موجود نہیں۔

ریفرنسز

-1 بلوچ ، عنایت اللہ۔ اخبار اردو ۔ اسلام آباد ۔ نومبر2003 ۔صفحہ5۔
2۔ کرد، سلیم۔ ہاشم خان غلزئی کی آپ بیتی۔ ماہنامہ نوکیں دور کوئٹہ۔ شمارہ بارہ۔ 1993۔ صفحہ17۔
3۔ کھوسہ۔ محمد امین ۔ نصرت کراچی (عزیزمگسی نمبر ۔5جون 1957)
4 ۔ جمالدینی، عبدا للہ جان۔ سنگت کوئٹہ۔ نومبر2008

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*