سوﺅ موٹو

ایک زمانہ کی بات ہے کہ دنیا کے کسی دوردراز پسماندہ ملک میں محراب نامی ایک پرائمری استاد رہتا تھا،جو ترقی کی منازل طے کرکے ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بن گیا۔ پرائمری ٹیچر سے ہائی سکول کی ہیڈ ماسٹرکی مسند تک پہنچتے پہنچتے اس نے جو پیسے کمائے ان میں سے صرف ایک گوری بھینس ہی لے سکا ،جسے روزانہ شام کو اس کے سکول کامانک نامی چپڑاسی عدالت کی عمارت کے آس پاس کی چراگاہ میں چرانے لے جاتا تھا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ کالج اور ہائی سکول کے پارکوں کے لیے میٹھے پانی کی نہر بھی وہاں سے گذرتی تھی،جس پراکثر سول ہسپتال کی چار دیواری کے ساتھ جھونپڑے بساکر بیٹھی عیسائی خاکروب عورتیں اپنے بچوں کے پوتڑے، رلیاں اور کپڑے دھونے آتی تھیں۔ ماسٹر محراب کا چپڑاسی مانک اپنی بھینس عیسائی عورتوں کے قریب ہی چرانے لاتاتھا۔ وہ لاٹھی ہاتھ میں لیے ،ٹانگیں آپس میں پھنسا کر بگلے کی مانند سیدھا کھڑا ہوکر نہر کنارے بیٹھی عورتوں کے بڑے گریبانوں سے دکھائی پڑتے ،تھل تھل کرتے گورے گوشت کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتا رہتا ۔ اسی جنگل کے ایک سرے پر ،جہاں شہر سے عدالت کو جاتی سڑک گذرتی تھی، شہر کی ایک کالونی کے لیے پانی کی ٹنکی بنی ہوئی تھی تو دوسری طرف تالاب تھا۔ تالاب کے مغرب میں عدالت تھی، جس کے جنوب میں ججوں کے سرکاری کوارٹر تھے۔ ایک مختصر ضمنی راستہ عدالت سے نکل کر جنگل سے ہوتا ہوا کوارٹروں کو چلاجاتا ۔پانی کی ٹنکی کے احاطہ میں واٹر ٹینک کے مستری کا کاٹیج تھااور اس کے آس پاس سرکنڈوں کے جھنڈتھے ،جن میں ببول اور کھجوروں کے بڑے بڑے پیڑ نمایاں نظر آتے ۔ان درختوں پر کووں کے گھونسلے تھے۔ ماسٹر محراب کا چپڑاسی ہیڈماسٹر کی بھینس کی راکھی کرنے کے لیے اکثر شہر سے کورٹ جانے والے راستہ پر موجود رہتا یا پھر نہر کی اس طرف کھڑا ہو جاتا جدھر ہسپتال کی دیوار تھی۔ وہ سڑک والے حصہ میں ہوتا تو اکثر و بیشتر وکیلوں، ججوں، گواہوں، سرکاری ملازموں ،پولیس والوں اور کورٹ میں مقدموں میں پِستی ہوئی عام بے بس مخلوق کو آتے جاتے دیکھتا رہتا۔ اس آتی جاتی بھیڑ میں حال ہی میں کراچی سے تبدیل ہوکر آنے والا جج سردار خاں بھی تھا، جسے وہ اس کے سرکاری کوارٹر کو آتے جاتے دیکھتا۔ جج بھی کبھی کبھار اسے دیکھ لیاکرتا ۔ وہ جب کبھی چپڑاسی کو دیکھ لیتا تھا تواس کی نگاہ سے مانک یہ سمجھتا کہ جج کو شاید اس کی سخت مشقت بھری زندگی پر ترس آرہا ہے۔لیکن ایسا نہیں تھا۔اسے بعد میں پتا چلا کہ جج کی دلچسپی ہیڈ ما سٹر کی گوری بھینس میں تھی۔کیوں کہ جج نے جب سے بھینس کو دیکھا تھا تب سے اس کی سفید چمڑی سے اسے الرجی ہونے لگی تھی۔
مانک اب جب بھی جج کو عدالت سے نکل کر گھر جاتے دیکھتا تو وہ اپنی بھینس کے قریب جاکر کھڑا ہوجاتا ۔ جج کچھ دیر کے لیے سڑک پر ٹھہر کر بھینس کی طرف دیکھتا اور پھر تیز قدم اٹھاتا کورٹ میں غائب ہوجاتا ۔
ایک دن شام کے وقت ہسپتال کی عیسائی عورتیں نہر پر قطاردرقطار بیٹھی کپڑے دھورہی تھیں ، ان کے ننگے بچے پانی میں نہلارہے تھے۔ مانک بھی ان کے نزدیک لاٹھی ٹیکے جامنی جل ککڑی بناکھڑاتھا۔ عورتیں بالآخرکپڑے دھوکر آہستہ آہستہ اپنے جھونپڑوں میں گم ہو گئیں۔ جوں ہی نہر لوگوں سے خالی ہوئی تو مانک بھینس کو پانی میں اُتارکراسے نہانے لگا۔ وہ بھوری (گوری) کو نہلانے میں مگن تھا کہ اوپر سے کسی نے آواز لگائی ۔ مانک نے سر اٹھاکر دیکھا تو سیشن جج کا چپڑاسی مہرعلی اس کے سامنے کھڑاتھا۔ پہلے پہل تو وہ کچھ پریشان ہوا پھر ہمت کر کے پوچھ لیا،” ہاں، بتا کیسے آنا ہوا؟“

”تمھیں صاحب نے بلایا ہے۔“ مہر علی نے مطلع کیا۔
”مجھے ؟“
” ہاں، تجھے۔“ مہر علی نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا،” جلدی آو¿۔“
”لیکن کیوں؟“
”خود ہی آکر پوچھنا۔ مجھے پتا نہیں ہے۔“
مہر علی آگے بڑھنے لگا تو مانک نے پوچھ لیا،” لیکن کہاں آو¿ں؟ عدالت میں یا بنگلہ پر ؟“
مانک نے بھینس نہلا کر ہیڈ ماسٹرکے بنگلے پر باندھی اور وہاں سے ہوکر سیدھا جج کے بنگلے پرپیش ہونے کے لیے چلاگیا ۔اس نے جیسے ہی جج کے بنگلہ کی گھنٹی پر انگلی رکھی تو ڈاکٹر رمیش سے اس کاسا منہ ہوگیا۔ ڈاکٹر جج کے نوکر کو سمجھاتا جارہا تھا،” صاحب کو کسی چیز سے الرجی ہوگئی ہے۔ کوشش کرو کہ وہ چیز اس سے دور رہے۔“
”لیکن ،ڈاکٹر صاحب! ہمیں کیسے پتا چلے کہ وہ کون سی چیز ہے؟“ نوکر نے انکساری سے پوچھا۔
”وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے۔ خوشبو، بدبو یا کوئی درخت ، جانور بھی ہوسکتا ہے۔ پرندہ ، تتلی، کیڑا مکوڑا بھی ہوسکتا ہے۔سبزی، دودھ، مکھن، مچھرمار دوائی سے لے کر برتن دھونے والے پاو¿ڈر تک تمام چیزوں کو چیک کریں اورمیں نے کچھ ٹیسٹ لکھے ہیں ،وہ سب کرائیں۔ کل شام تک میں پھر چیک کرنے آو¿ں گا۔“
ڈاکٹر جج کے ذاتی ملازم سے رخصت ہو کر اپنی کارمیں بیٹھ کر چلا گیا۔ نوکرنے مانک کو لے جاکر جج کے سامنے کھڑا کردیا۔ جج گھر کے لان میں کرسی رکھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے مانک کو دیکھا تو پوچھا، ”تیرا نام کیا ہے؟“
”مانک۔“
”کیا کرتے ہو؟“
”ہائی سکول میں چپڑاسی ہوں۔“
”بھینس تیری ہے؟“
”نہیں، سائیں! صاحب کی ہے۔“
”کس صاحب کی؟“
”ہیڈماسٹر صاحب کی۔“
”کتنا دودھ دیتی ہے؟“
”سائیں! چھ کلو۔“
”کچھ بیچتے بھی ہوگے؟“
”جی ،سائیں! تین کلو کے قریب۔“
”کسے دیتے ہو؟“
”پڑوسیوں کو، سائیں!“
”ہُم م م “ جج نے ابرو کھینچتے ہوئے انکوائری پوری کرتے ہوئے کہا،” کل اپنے ہیڈماسٹر کو کورٹ لے آنا۔اسے کہنا کہ جج صاحب نے بلایا ہے۔“
”جی ،سائیں!“
”بس ٹھیک ہے، تو اب جا۔“
مانک کو پریشانی نے گھیر لیا کہ ضرور مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے، جس کے سبب صاحب کی پیشی ہورہی ہے۔ اسے اپنی نوکری دھواں ہوتی دکھائی دی۔ وہ تیز تیز چلتا ہیڈماسٹر کے گھر گیا اور اسے پورا قصہ کہہ سنایا۔ پروفیسر محراب خاں سوچ میں گم ہوگیا۔ اس نے مانک سے پوچھا، ”تم نے بھینس کو جج کے گھر کے آس پاس تو نہیں چھوڑا؟“
”نہیں، سائیں! میں تو اُدھر سے کبھی گذرا بھی نہیں۔“
”بھینس نے کبھی کسی کی فصل میں تو منہ نہیں مارا؟“
”کبھی نہیں۔“
”جج کے عملہ یا عدالت کے سٹاف سے کبھی لڑے تو نہیں؟ یاانہیں تجھ سے کوئی شکایت ؟“
”نہیں، سائیں! کوئی شکایت نہیں۔“
”بھینس نے کسی کو مارا یا دوڑایا تو نہیں؟“
”پتا نہیں،سائیں! ویسے بھوری تو بے چاری بہت غریب ہے، بچے چڑھ کر سواری کرتے رہتے ہیں۔“
” تو پھر جج بھینس پر کیوں ناراض ہوا ہے؟“
”پتا نہیں ،سائیں!“ محراب نے اپنی لاتعلقی دکھاتے ہوئے کہا،” لیکن ایک بات ہے کہ جج جب شام کو گھر سے دوبارہ عدالت جاتا ہے تو وہ راہ میں ٹھہر کر بھوری کو دیکھتا ضرور ہے۔“
”سبب؟“
”پتا نہیں ۔سائیں!“
”اچھا ،ٹھیک ہے۔ کل اس کے پاس چل کر دیکھیں گے۔“
”جو آپ کو مناسب لگے۔“
اُس رات مانک کو نیند نہیں آئی۔ وہ ہر چیز بھول چکا تھا۔اس کے خوابوں اور خیالوں میں رانی کے بجائے جج اور گاو¿ن میں ملبوس اس کی ڈراو¿نی شکل گھومتی رہی۔ بالآخر صبح مانک اوراس کا ہیڈ ماسٹر کورٹ میں حاضر ہوئے۔ جج کو ہیڈ ماسٹر نے اندر بلالیا۔ تعارف ہوجانے کے باوجود جج نے اسے بیٹھنے کا نہیں کہا۔
جج نے پہلا سوال کیا،” چپڑاسی سے بھینس چرانے کا کام کس قانون کے تحت لیتے ہو؟“
”وہ ڈیوٹی کے بعد بھینس کو تھوڑاگھمالاتا ہے ،میں اسے اس کی اجرت دیتا ہوں۔“
”بھینس تمھاری ہے؟“
”جی ،سائیں! میری ہے۔“
”بھینس کا دودھ پڑوسیوں کو بیچتے ہو؟“
”جی ،سائیں!میرے چپڑاسی نے آپ کو سب کچھ بتایا ہوگا۔“
”تمھارے نہیں، بلکہ ہائی سکول کے چپڑاسی نے۔ چپڑاسی تمھارا نہیں۔“
”جی، سائیں!“
”جی سائیں نہیں بلکہ مائی لارڈ کہا جاتا ہے۔ اتنا پڑھالکھا ہونے کے باوجود تمھیں عدالت کے آداب کا پتا نہیں !؟“
”سوری ،سر! میرا مطلب ہے مائی لارڈ!“
”اعتراف کرنے پر غلطی معاف کی جاسکتی ہے “ جج نے کچھ نرمی اختیار کرتے ہوئے کہا۔
”مائی لارڈ کی مہربانی۔“
”تو تم بھینس کا دودھ بیچتے ہو؟“
”جی ، مائی لارڈ!جو میری ضرورت سے زیادہ بچ جاتا ہے ،وہ بیچ دیتا ہوں۔ آج کل خالص دودھ نہیں ملتا، اس لیے لوگ بڑی خوشی سے لیتے ہیں۔“
”تمہیں پتا نہیں ہے کہ تمھاری بھینس بیمار ہے؟“
حیرت کے مارے ہیڈماسٹر کے چہرے کا رنگ اڑگیا۔
”بیمار ہے؟ نہیں سائیں! میری بھینس تو اچھی بھلی ہے۔ آج تک میرے پاس تو کسی کی شکایت نہیں آئی!“
”میاں! تمھاری بھینس کو کوڑھ کی بیماری ہے۔ اِٹ از اَین افیکٹیڈ بفیلو۔“
”نو،نو۔ اِٹ اِز ناٹ ٹرو، مائی لارڈ!“ ہیڈماسٹر نے دونوں ہتھیلیوں کو ہوا میں لہراتے ہوئے جج کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا،” یہ نہیں ہوسکتا، قطعی نہیں، کیا کسی نے مائی لارڈ کے آگے شکایت لگائی ہے؟“
”تمھاری بھینس کو صاف صاف کوڑھ کی بیماری ہے۔ تم اندھے ہو۔ دیکھتے نہیں ہو کہ بھینس کا پورا جسم کوڑھ زدہ ہے! پوری بھینس سفید پڑگئی ہے!دیکھنے سے آدمی کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔میں نے بھینس کوچہرے سے لے کر تھنوں تک دیکھا ہے۔ تم اس شہر کے لوگوں میںبیمار بھینس کا دودھ بیچتے ہو! کوڑھ کی وبا پھیلاتے ہو! کیوں نہ تمھارے خلاف ازخود نوٹس لے کر ایکشن لیاجائے اور تمھاری بھینس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے!“
”مائی لارڈ! اِٹ اِز ناٹ ٹرو! ایسا نہیں ہے۔ مجھ پر رحم کریں۔اس بھینس کی قسم ہی ایسی ہے۔“
”مجھے بے وقوف بناتے ہو!؟“ جج اپنی کینوپی سے فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
”نو،نو ناٹ سو۔ مائی لارڈ! یہ بھوری بھی بھینس کا ایک قسم ہے۔یہ بھینسیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ انہیں کوئی بیماری نہیں بلکہ ہوتی ہی بھوری چمڑی والی ہیں۔“
”تم کوئی ڈاکٹر ہو کہ کہتے ہو کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے؟“
”نہیں، مائی لارڈ! میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے بھینسوں کا پتا ہے، میں بنیادی طور پر دیہات کا باشندہ ہوں۔ ہمارے گاو¿ں میں ایسی بہت ساری بھینسیں موجود ہیں۔“
”اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سب لوگوں کے پاس کوڑھی بھینسیں موجود ہیں؟“
”آپ کو کسی نے غلط اطلاع دی ہے،میرے آقا!“ ہیڈ ماسٹر محراب خاں نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔ مارچ کا مہینہ ہوتے ہوئے بھی اس کی پیشانی پسینہ پسینہ ہوگئی۔”آپ چاہیں تو بھینسوں کے کسی شوقین کو بلاکرپوچھ لیں۔ بھینسوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں، میرے آقا! مثلاً کاری (سیاہ)،کنڈھی (جس کے سینگ گھماو¿دار ہوتے ہیں)، بھوری، مانکی،گوجری وغیرہ وغیرہ!“
”چار نام لے کر مجھے جھوٹا کرتے ہو؟“
”نہیں، میرے آقا! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔اگرآپ ایسا سمجھتے ہیں تو مجھے کورٹ کی طرف سے لیٹر دیں ،میں حیوانات کے ڈاکٹر سے اس کی تصدیق کرالیتا ہوں۔“
”تمھیں کیوں لیٹر دوں! تم ڈاکٹر پر اثررسوخ استعمال کرکے من پسند سرٹیفکفٹ لے آو¿ تو ؟ کورٹ بھینس کو تحویل میں لے کر خود تصدیق کروائے گی۔ میں خود ڈاکٹر کو طلب کروں گا۔“
”جو مائی لارڈ کی مرضی! جیسا آپ مناسب سمجھیں!“
دوسرے دن صاحب کی بھینس کو عدالت میں حاضر کیاگیا۔ پولیس کی بڑی نفری کے ساتھ جج صاحب شہر کے وٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ نمودار ہوا۔ عدالت کے جس طرف بھینس کو طبی معائنہ کے لیے رکھا گیاتھا، جج صاحب اس طرف نہیں آیا،کیوں کہ بھینس کو دیکھتے ہی جج صاحب کے جسم پر چیونٹیاں رینگنے لگتی تھیں۔ ہیڈ ماسٹر محراب خاں بھینسوں کی نسل اور رنگ کے کئی ماہرلے آیا، جو ڈاکٹر کو سمجھا رہے تھے کہ محراب خاں کی بھینس کو کوئی بیماری نہیں ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے پورا نصف گھنٹہ بھینس کا معائنہ کیاپھر پیشاب اور خون کے نمونے لیے۔ شام تک بھینس کی پوری رپورٹ جج صاحب کے پاس پہنچ گئی،جس کی بنیادپر جج صاحب نے ایک مختصر حکم نامہ جاری کیا،جس میں شہر کے مشہور قصائی کو بلاکر بھینس ذبح کرکے دفنادینے کا حکم دیاگیاتھا۔ ہیڈ ماسٹر بچارابہت ہی رویا پیٹا، چیخا چلایا لیکن بھینس جج صاحب کے سوﺅ موٹو ایکشن کے نتیجہ میں زمیں دوز ہوگئی۔
اُسی دن، اسی وقت پر اسی جج نے جیل میں سینکڑوں قیدیوں کے سامنے ایک قیدی کا سرِعام سرکاٹنے والے قاتل کی پانچ لاکھ روپے کی ضمانت منظور کرلی،جسے لوگ کندھوں پر اٹھائے نعرے لگاتے ،عدالت کے احاطہ سے باہرلے جارہے تھے۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*