غلط امید

سورج کی لالی مشرقی افق پربلند ہوکر بتدریج گھٹتی جارہی تھی اور اسکی زردی میں اضافے کے بعد تپش میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا تھا۔ مگر وہ، ان سب سے بے نیاز ، اپنی نظریں ہاتھوں میں تھامے اخبار پر جمائے انتہائی انہماک سے ایک خبر پڑھ رہا تھا۔جوں جوں وہ خبر پڑھتا گیا اسکے چہرے پر بشاشت کے آثار نمودار ہوکرمزید گہرے ہوتے چلے گئے۔ بالآخر اس نے فرحتِ بے خودی سے اخبار سائیڈ پر رکھتے ہوئے صحن کی طرف دوڑ لگادی۔
"بابا!”بابا!
"اماں!!”
"یہ دیکھو تو، میرے نام کے ساتھ اخبار میں میری فوٹو چھپی ہے۔”
یہ سعود کی آواز تھی، جس نے بارہویں جماعت کے امتحان میں بلوچستان بھر میں تیسری اور لسبیلہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ اس کے گھرا نے کی ہی نہیں، بلکہ پورے لسبیلہ کے لئے آج فخر کی بات تھی۔
"اچھا! یہاں لائو تو ذرا اخبار!۔”سعیدو نے چہکتے ہوئے کہا۔
سعیداحمد المعروف سعیدو، سعود کے والد ہیں۔ سارا دن مزدوری کرتے کیپسٹن سگریٹ کے کش لگاتے ہیں اور ساری رات کھانستے رہتے ہیں۔ اس نے خود تو نہیں پڑھا لیکن بیٹے کو سرکاری سکول میں داخل کرا کر، یہ سنہری الفاظ اسے ارشاد فرمائے،” تم جانو,، تمہاری پڑھائی اور اس کے اخراجات!”
سعود سکول کے بعد دن کا بقیہ حصہ ریڑھی پر، جنرل اسٹور پر یا درزی کے ہاں کام کیا کرتا، تاکہ اپنے والد پر کسی طرح اس کی تعلیم کا بوجھ نہ پڑے۔
"اماں! میں نے بہت ہی اچھے نمبروں سے امتحان پاس کیا ہے۔اب میں کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں بآسانی سکالرشپ لے کر پڑھ سکتا ہوں، اور میں بائیو ٹیکنالوجی یا مصنوعی ذہانت میں اعلی تعلیم حاصل کرکے اپنے ملک کو شعبہ ٹیکنالوجی میں دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا چاہتا ہوں۔”
"ارے میں قربان جائوں! میں نے تو پہلے ہی تمہیں کالی وردی میں، ترچھی ٹوپی کے ساتھ، چمکدار ڈنڈا ہاتھ میں لیے لوگوں پر رعب جماتے ہوئے کئی بار تصور میں دیکھاہے۔ تمہاری اس کامیابی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم پولیس یا لیویز میں شاید کوئی بڑا عہدہ پانے کے قابل ہو۔” نذیراں نے پر امید نگاہوں سے ا±سے دیکھتے ہوئے کہا۔
نذیراں، سعیدو کی بیگم ہے، جو ایک سادہ لوح گھریلو خاتون ہے۔ اس کا سارا دن گھر کے کام کاج کرنے اور محلے دار عورتوں کو دیسی ٹوٹکے اور آفات کو بھگانے کے لیے مختلف حربے سمجھانے میں گزر جاتاہے۔ اس کے ذہن میں لیویز سپاہی یا پولیس کانسٹیبل سے بڑھ کرکوئی عہدہ ہی نہیں ہے۔
"بابا! میں کسی اور صوبے یا وفاقی دارالحکومت کی ایک بہترین یونیورسٹی میں پڑھوں گا۔” سعود نے پر عزم لہجے میں کہا۔
"ارے برخوردار! اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہیں ڈگری کالج میں داخلہ لو اور پڑھو۔ اوپر سے سلائی کا کام بھی سیکھ رہے ہو، بعد میں کسی دکان میں درزی کا کام کرلینا، میں کہتا ہوں، ٹھیک ٹھاک دولت سمیٹوگے، ہاں!” سعیدو نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
"لیکن بابا! یہاں وہ شعبے نہیں پڑھائے جاتے۔ بلوچستان کے طلباءکیلئے دیگر صوبوں کی جامعات میں ہرسال اگست یا ستمبر کے مہینے میں، مختلف شعبہ جات میں حصول تعلیم کیلئے کم و بیش 600 سے زیادہ سکالرشپس آتی ہیں، جن پر لسبیلہ کے بہت ہی کم طلباءاپلائی کرتے ہیں۔ میں ان شعبوں میں سے کسی میں بھی بآسانی منتخب ہو کر بالکل مفت پڑھ سکتا ہوں،اور مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک بھی جاسکتا ہوں۔ آپ بس مجھے اپلائی کرنے سے نہ روکیں۔” سعود نے التجا کی۔
"چپ نالائق! ایک بار تمہیں کہا یہیں رہو، تو ختم ہوگئی بات۔ تمہارا باپ بھی امریکا گیا ہے کہ تم جائوگے؟”سعیدو نے گرجدار آواز میں فیصلہ سنادیا۔
"بابا! مجھے اپنے گھرانے اور قوم کے لیے کچھ کرنے دیں، کیوں کہ لکڑیوں کے ذریعے جلائی گئی آگ سے اماں کے ہاتھوں پر جو چھالے پھوٹتے ہیں، انکی جلن میں اپنے سینے میں محسوس کرتا ہوں۔ چھوٹو، جب دوسرے بچوں کے ہاتھ میں کھلونے دیکھ کر روتا ہے، تو میرے بھی آنسو نہیں رکتے۔” سعود اب تقریبا” روہانسو ہوکر بول رہا تھا،اس کی آنکھوں میں آنسو تھے”میں اپنی قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا عزم لیے بیٹھا ہوں۔ میرا دل خون کے آنسوں روتا ہے، جب دیکھتا ہوں کہ لاسی قوم(لسبیلہ کی تمام مقامی اقوام) اپنے حقوق کا تحفظ کرنے سے کتراتی ہے۔ چاہے غیرمقامی افراد کی بڑھتی ہوئی آبادکاری ہو یا پھرغیرقانونی و سفارشی بھرتیاں ہوں یا جعلی لوکل سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا معاملہ ان تمام معاملات میں مقامی لاسی قبائل کی اکثریت دم سادھے بیٹھی ہے۔ میں یہاں پر وہ ماحول نہیں پا سکتا جو مجھے اتناقابل بنا سکے کہ میں ان ناروا سلوک کے خلاف اپنی صلاحیتوں سے مکمل استفادہ کرسکوں۔ اس کے لیے مجھے جدید دنیا دیکھنا ہوگی۔ ایک بڑے شہر کے، کسی اچھے ادارے میں پڑھنا ہوگا۔
اباجان آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں!؟”
"سعود! تمہیں پتہ نہیں؛ ایسے شہروں کے لوگ بڑے چالاک اور ہوشیار ہوتے ہیں۔ خدانخواستہ تجھے لوٹیں، ماریں یا اغوا کریں، تو ہمارا کیا۔۔۔؟” نذیراں کی آواز حلق میں ہی اٹک گئی، سعود نے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ دوبارہ بولی،” ہمارا تیرے سوا کون ہے؟ میں روٹی کے تین ٹکڑے کر کے ان کی نوک کاٹ کر تجھے کھلاتی ہوں، بھلا کون اس طرح تیری، بلاو¿ں سے حفاظت کا اہتمام کرے گا؟ اگر تم چلے گئے تو سمجھو کہ یہ گھر اور اسکے افراد، تمہارے جانے کے ساتھ ہی دفن ہو گئے!”
"اماں! خدا کے لئے بس بھی کریں۔ آپ تو ایسے بول رہی ہیں، کہ ان سے ہماری پرانی دشمنی ہے اور وہ سب بندوق تانے کھڑے ہیں، کہ کب سعود آتا ہے کہ ہم اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔وہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔وہاں پر ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف رہتا ہے۔ مجھ پر کوئی غور ہی نہیں کرے گا۔”
اس کا یہ بولنا ہی تھا کہ نذیراں نے چیخیں مارکر رونا شروع کیا اور سعیدو غصے میں بڑبڑانے لگا۔
"اوہو! اچھا ٹھیک ہے۔”
چند ماہ بعد سعود پولیس کانسٹیبل کی آسامیوں پر اپلائی کرنے کے لیے اوتھل جا رہا تھا۔ اس نے مقامی ڈگری کالج کے مطالعہ پاکستان کے شعبے میں داخلہ لیا ہے۔ پچھلے ماہ اس نے لیویز سپاہی کے آسامیوں پر بھی اپلائی کیا تھا، جن کے دوڑ کا مقابلہ، تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو ایک ہی دن منعقد ہوئے تھے۔ ان کا نتیجہ اب تک نہیں آیا تھا۔ اسے توقع تھی کہ وہ ان میں ضرور پاس ہو جائے گا کیونکہ صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ قابل بھی ہے۔ کیا وہ درست امید لگائے بیٹھا ہے؟ آپ کو کیا لگتا ہے؟

آپ کا جواب :۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالکل صحیح سوچا آپ نے! میرا بھی یہی جواب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک قابل قاری سے میری سوچ حددرجہ مماثلت رکھتی ہے۔
کیا اس جواب پر ہمیں خوش ہونا چاہیے!؟

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*