میری کہانی

میں نے لکھا تو ہے عنوان ” میری کہا نی” لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ میری ہی کہانی نہیں ہے بلکہ ہم سب کی کہانی ہے۔ ہم سب۔۔۔ہماری پوری نسل اور ہم سے بھی پہلے والی نسل جو اغوا کر لیے گئے۔ کبھی پیدا ہوتے ہی اور کبھی اپنی ما ﺅں کی گود سے چھین کے بانٹ دیے گئے، بیچ دئے گئے یا مار دئے گئے۔
میری عمر چھ سال تھی جب میری بلک بلک کے روتی، ہاتھ جوڑ کے گڑگڑاتی، پیر پکڑ کے فریاد کرتی ماں کی گود سے مجھے گھسیٹ کے دبوچ لیا ۔ان تین میں سے ایک نے جن کے بوٹ کی ایک ٹھوکر نے ہی ہمارا دروازہ پاٹم پاٹ کھول دیا تھا۔ میری ماں کو شاید معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے ،وہ سکتے کے سے عالم میں جہاں بیٹھی تھی بیٹھی رہ گئی۔ میں اس وقت اس کی گود میں بیٹھی تھی اور مجھ سے دوسال چھوٹی بہن جسے میں نے دھکادے کے ماں کی گود سے ہٹا دیا تھا پاس ہی بیٹھی منہ بسور رہی تھی۔ مجھے یاد ہے ان گورے وردی والوں کو دیکھتے ہی ماں کا بد ن بری طرح کا نپنے لگا تھا۔ یہ وردی والے پلک جھپکتے میری ماں کے قریب پہنچے اور ان میں سے ایک نے میری ماں سے وہ جملہ کہا جو آج تک میرے ذہن پر نقش ہے” تمہیں معلوم ہے ہم تمہارے بچوں کو جانور سے انسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ” ۔یہ جملہ اس قدر مضبوط اور اونچی آواز میں کہا گیا تھا کہ میرا بڑا بھائی جو مجھ سے دو یا شاید تین سال بڑا تھا وہ بھی دوڑ کے ماں سے لپٹ گیا۔ ہم تینوں اونچی آواز سے رو رہے تھے اور پوری طاقت سے ماں سے لپٹے ہوئے تھے، مگر ماں جیسے پتھر کی ہوگئی تھی۔ ایک نے اسی لمحہ تیزی سے مجھے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا۔ باقی دو میری چھوٹی بہن اور بڑے بھائی کو گھسیٹ قابو کرچکے تھے۔۔ مجھے جس نے دبوچا ہوا تھا میں نے اس کی کلائی میں دانت گاڑ دئے۔ اس نے مجھے دونوں ہا تھوں پر اٹھا یا اور زمین پر پٹخ دیا، پھر آگے بڑھ کے ایک جھٹکے سے زمین سے اٹھایا اور زور دار تھپڑ رسید کیے میرے گال پر۔ اب خوف اور درد نے مجھے نڈھال کردیا تھا۔ان میں سے ایک نے اپنی چھڑی اوپر کی اور چلایا ” خبر دار اگر اب کسی کے حلق سے کوئی آواز نکلی "۔ ماں کا پتھرا یا ہوا چہرہ میں نے آخری بار دیکھا اور پھر میری زندگی جانوروں سے بدتر افراد کی قیدی ہوگئی۔ ہم سب کو ایک بس میں سوار کردیا گیا جس میں پہلے سے ہی بہت سے انڈین بچے روتے، بلکتے، ڈرے سہمے موجود تھے۔ ہم تینوں کو الگ الگ سیٹ پر بٹھایا گیا۔ میری چار سال کی ننھی سی بہن ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی۔ ہم سب کی نگرانی کے طور پر بس میں کھڑے شخص نے اپنی چھڑی سے اس کے سر کو ایک جھٹکے سے سیدھا کیا اور پھر چھڑی سے ہی سر نیچے جھکایا۔ وہ ہم سب کو مخاطب کرکے چھڑی سے میری بہن کی طرف اشارہ کرکے زور سے دھاڑا ” سر اپنے اس طرح نیچے رکھو” ہم میں سے کوئی بھی انگریزی نہیں جانتا تھا لیکن خوف کی زبان ہم سب سمجھتے تھے۔ سب کے سر جھک گئے۔ یہ خوف کا اور بے بسی کا کونسا عالم تھا کونسا درجہ تھا بیان کرنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن آج بھی سوچوں تو خون ر گوں میں جمنے لگتا ہے، ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔
یہ سفر کئی گھنٹوں کا تھا۔ ہم سب بھوکے پیاسے خوف سے کپکپاتے معلوم نہیں کہاں لے جائے جارہے تھے۔۔ اندھیرا ہوگیا تب ہم سب ایک بڑی عمارت کے سامنے پہنچے۔ ہم سب لڑکیوں کو ایک ہا ل میں لے جایا گیا ۔لڑکے کسی دوسرے حال میں لے جائے گئے۔ اب ہم سب کو انگریزی میں کہاگیا کہ ہم اپنے کپڑے اتاردیں۔ ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے کیو نکہ ہمیں انکی زبان نہیں آتی تھی اس لئے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا حکم ہے ۔لیکن جب ا شا رے سے بتایا گیا تو ہم پھر ایک بار بلک بلک کے رونے لگے۔کوئی بھی لڑکی کپڑے ا تارنے کو تیار نہیں تھی ، ایک شخص نے آگے بڑھ کے میری ننھی سی بہن کے کپڑے اتارے اوراپنی چمڑے کی چھڑی لہرا کے زور سے چلا یا ” کپڑے اتارو” اور ساتھ ہی دوتین لڑکیوں پر اپنی چمڑے کی چھڑی بے تحاشہ برسائی تو ہم سب مجبور ہو گئیں اس کا حکم ماننے پر۔ ایک شخص نے میری بہن اور اسی کی عمر کی دو اور بچیوں کو ننگا کرکے ان کا ہاتھ مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا۔۔۔ کمرے میں موجود چاروں مردوں نے منہ پر ماسک پہن رکھے تھے ، ان کے ہاتھوں میں ایک ڈبے میں کوئی پاوڈر تھا جس کی بہت تیز بو تھی ( بعد میں پتہ چلا کہ وہ کیڑے مارنے والا ڈی ڈی ٹی پاوڈر تھا) ہم سب اب ننگ دھڑنگ کھڑے تھے۔ ان چاروں نے ہمارے جسموں اور سر پہ یہ پاوڈر چھڑکا جس سے سارے بدن میں لگتا تھا آگ لگ گئی اچانک۔ اب ایک پائپ کی تیز دھار کے ذریعہ ہمیں نہلایا گیا۔ ہماری ہر شناخت ہمارا ہر رشتہ اس پانی اور پاوڈر سے مرگیا اور پھر اس کی لاش تیز بوچھار میں نالیوں میں بہہ گئی۔ ہماری طرف تولیے اچھالے گئے۔ اب ہم سب ایک خاکی اسکرٹ اور سفید بلا ﺅز میں انکے خیال میں انسان بن چکے تھے۔۔ مگر نہیں ابھی ہماری شناخت پوری طرح نہیں مٹی تھی ۔
اب ہم سب باری باری ایک چھوٹے کمرے میں لیجائے گئے اور سب کے سر کے بال مونڈ دیے گئے۔ یوں اب ہم اپنی شنا خت کی بدبو سے بالکل پاک اور صاف ہوچکے تھے ۔لہذا حاکموں نے ماسک اتاردئے ۔ ہمیں ہانک کے ایک کمرے میں لیجایا گیا۔ وہاں ایک چٹائی بچھی تھی۔ ہم سب کو اس پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ یہاں ایک گوری عورت بھی موجود تھی جوکہ ہماری زبان جانتی تھی۔ اس نے یہاں رہنے کے سارے اصول سخت لہجے میں سمجھا ئے۔ ” تمہارے ماں باپ نے تمہیں جانور بنا دیا ہے وہ تمہاری پرورش ٹھیک نہیں کر سکتے اس لئے ہم تمہیں یہاں لائے ہیں۔ تم سب اب صرف انگریزی بولو گے ۔اگر اپنی زبان بولی تو سخت سزا ملے گی۔ خبر دار اگر کسی نے رونے دھونے کا ڈرامہ کیا، جو روئے گا اسے کھانا نہیں ملے گا۔ رات کو آٹھ بجے سونا ہے۔ سات بجے چرچ جانا ہے۔ غرض ہمیں کیسے سدھایا جائے گا کون سے مذہب پر چلایا جائے گا تمام تفصیلات بتا دی گئیں۔ "اب تم سب ڈنر کرو اور سوجاﺅ کسی سے کوئی بات نہیں کرے گا۔” ایک سینڈوچ اور ایک گلاس پانی ہم سب کو دیا گیا۔ وہ رات کس قیامت کی تھی۔ مجھے کیسے نوالہ نوالہ توڑ کے چبانے اور کھاتے تھے کاش میں لکھ پاتی۔ ہر ہفتہ بلکہ اکثر ہفتہ میں دوتین بار نئے انڈین بچے آجا تے اور کچھ پرانے غائب ہوجاتے۔ میری چھوٹی بہن تین دن بعد ہی غائب ہوگئی۔۔ بڑا بھائی مجھے صرف ایک بار دور سے دیکھنے کو ملا اس کا سر بھی مونڈ دیا گیا تھا۔ پھر وہ کہاں گیا مجھے کچھ نہیں معلوم تھا۔ میرے ساتھ بس میں آنے والی تمام لڑکیاں آنسوﺅں کی زبان میں ایک دوسرے سے بات کرتی تھیں ہم ایک دوسرے کے دکھ میں شریک تھے مگر یہ دکھ بانٹ نہیں سکتے تھے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی پھر کہ ہر تیسرے چوتھے دن ہم میں سے کوئی لڑکی غائب ہو جاتی اور پھر مہینہ بھر بعد میرا نمبر بھی آگیا۔ یہ سب کچھ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ ہماری تصاویر کا ایک کیٹلاگ ہوتا تھا مع ہماری اصل تفصیلات کے۔ اور ہم کو ایڈاپشن کے نام پر بیچ دیا جاتا تھا۔ ایڈاپٹ کرنے والے کو سختی سے تاکید ہوتی کہ ہمارے والدین کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتا یا جائے گا۔ خیر، تومجھے ایک دن آفس نما کمرے میں لے جایا گیا۔ شاید میری خرید و فروخت کے تمام معاملات پہلے ہی طے ہوچکے تھے لہذا مجھے بتایا گیا ” اب یہ تمہارے والدین ہیں، اپنے ذہن سے اپنی پرانی یاد یں جتنی جلدی کھرچ دوگی اتنی جلدی تم انسانوں کی طرح رہنا سیکھ جاﺅگی، اور خبردار رونے دھونے کا ڈرامہ مت کرنا ” مجھے ان کے سپرد کردیا گیا۔ سوائے اپنے اندر ایڑیاں رگڑ رگڑ کے رونے کے میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے خیالوں میں ہر وقت اپنی ماں سے بات کرتے رہنا سیکھ لیا تھا۔ میری نئی ماں نے ایک بار میرے سر پہ نر می سے ہاتھ رکھا اس کے بعد اس کا رویہ ایسا ہوگیا جیسے مجھے اپنی جاگیر بنا کے وہ نہ خوش ہے نہ پریشان ، اس نے میرا ہاتھ ایسے ہی تھا ما ہوا تھا جیسے کوئی گائے بکری خریدے تو اس کی رسی تھا متا ہے۔ ہم تینوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔ یہ نہ جانے کتنے گھنٹوں کا سفر تھا جو رات گئے تک جاری رہا۔ مجھے صرف وہ وقت اچھا لگتا تھا ان دنوں جب میں تنہا ہوتی کیونکہ اس تنہائی میں میں اپنی ماں کے ساتھ ہوتی تھی میں اس کو ایک ایک تفصیل بتاتی اور ماں میرے آنسو پوچھتی۔ مجھے کلیجے سے لگاتی، میرے ساتھ روتی۔ میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ کھیلتی۔ اپنے بڑے بھائی کے گلے لگ کے روتی۔ لہذا یہ طویل سفر مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ ایک بڑا سا گھر تھا جس میں صرف یہی دو رہتے تھے جو اب میرے ماں باپ تھے۔۔ یہ آپس میں بہت کم بات کرتے۔ میرا باپ بہت دبلا پتلا سا بدمزاج انسان تھا اور ماں بہت موٹی سی چھوٹے سے قد کی عورت تھی۔ میرا باپ اسے ہر وقت ڈانٹا اور اکثر ” بے وقوف موٹی عورت” اس ڈانٹ کا آخری جملہ ہوتا۔ اس نے تیسرے دن ہی بیوی کو تاکید کی ” اس لڑکی کے ناز نخرے اٹھا لیے اب اس کو گھر کا کام سکھا ﺅ بیوقوف عورت” لہذا اس رات ڈنر کے بعد برتن دھونا اور کچن صاف کرنا میں نے سیکھ لیا۔ میرا باپ صبح اپنے کام پر چلا جاتا اور شام کو گھر آکے کھانے کے ساتھ ساتھ شراب کا سلسلہ چلتا تو تب تک چلتا رہتا جب تک وہ دھت نہ ہوجاتا۔ اس کی بیوی سہارا دے کے اسے بیڈروم تک لیجاتی۔ صرف دو ہفتے میں گھر کے سب کام مجھے سکھا دیے گئے۔ میری ماں کا رویہ مجھ سے برا نہیں تھا مگر وہ صرف اتنی بات کرتی کہ کونسا کام کیسے کرنا ہے۔۔ میں اکثر ضد کرکے کھانا بھی ماں کے ہاتھ سے کھاتی تھی مگر اب ناشتہ بنانا، برتن دھونا، گھر صاف کرنا سب میری ذمہ داری تھی۔ میری انگریزی اب بہت بہتر ہو گئی تھی مگر میم ( ما ں ) کا کہنا تھا کہ انڈینزکا لہجہ ہے ابھی تمہارا۔ جب تم بالکل ٹھیک ہوجاﺅ گی دماغی طور پر تب سکول بھیجونگی۔۔ دماغی طور پر ٹھیک ہونے کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنے اصل کو بالکل بھول جاﺅنگی اور انسان بن جاﺅنگی۔ اسے کیا پتہ تھا کہ میں تو اپنے اصل سے جونک کی طرح چپکی تھی اور ایسے ہی رہنا چاہتی تھی۔۔ مجھے اب اس گھر میں تین مہینے ہو چکے تھے۔۔ ان تین مہینوں میں میرے موجودہ باپ نے مشکل سے شاید دوتین جملے بولے ہونگے مجھ سے۔۔ اس دن میری ماں کہیں گئی ہوئی تھی اور وہ گھر پر تھا۔ میں برتن دھورہی کہ پیچھے کوئی آہٹ محسوس ہوئی میں نے مڑ کے دیکھا اتنی دیر میں وہ قریب آچکا تھا، اس نے میری کمر میں ہاتھ ڈال کے مجھے دبوچ لیا اور اپنے بیڈ روم میں جاکے مجھے زور سے بستر پر پٹک دیا۔ میں چیخ چیخ کے رو رہی، بستر سے اٹھ کے بھا گنے کی کوشش کی تو اس نے زور کی لات رسید کی، پھر اس نے کیا کچھ کیا میرے ساتھ آپ جتنا بد سے بدترین سوچ سکتے ہیں وہ سب کچھ۔۔ سب کچھ کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑ کے گھسیٹتا ہوا میرے بیڈ روم میں لے گیا اور مجھے بستر پر پٹکتے ہوئے خونی لہجے میں بولا” اگر کسی سے کچھ کہا بیک یارڈ میں زندہ دفن کردوںگا ” ۔کوئی شاید ہی اس دنیا میں ہم انڈینز کی طرح سیکڑوں بار طرح طرح سے قتل کیا گیا ہوگا، سسکا سسکا کے مارا گیا ہوگا۔۔ سو اس دن ایک چھ سال کی بچی دوبارہ قتل ہوئی۔ اور پھر بار بار قتل ہوتی رہی۔ مجھ پہ مسلط کی گئی ماں گھر آئی اور مجھے بستر میں شدید بخار میں مبتلا بے حال پایا تو الٹے پیر وں واپس گئی۔ باہر سے کچھ دیر دونوں کے لڑنے کی اونچی اونچی آواز آئی اور پھر وہ شاید قائل ہوگئی کہ جو ہوا وہ ٹھیک ہوا کیونکہ بعد میں وہ جانور جب مجھے بھنبھوڑ تا وہ بالکل انجان بن جاتی تھی۔ ایسا مگر صرف تب ہوتا جب وہ گھر میں نہیں ہوتی تھی اور یہ بھی بہت عجیب بات تھی کہ وہ جس دن گھر ہوتا اس دن اس کی بیوی دوچار گھنٹے کو کہیں چلی جاتی۔۔ وہ ہفتہ میں ایک دن ہی گھر پر ہوتا تھا۔ مگر اس کے خوف سے میرا وجود ہر وقت لرزاں رہتا۔ پھر یہ ہوا کہ وہ اشارہ کرتا اپنے بیڈ روم کی طرف اور میں اپنا لرزتا بدن گھسیٹ کے اس کے بیڈ پر ڈال دیتی۔ تین مہینے گزر گئے مگر ان تین مہینوں میں اب میں چرا کے شراب پینے لگی تھی کیونکہ وہ مجھے ایک نئی موت مارنے سے پہلے اور بعد میں شراب پلاتا تھا اور پھر مجھے جب موقع ملتا غٹا غٹ شراب حلق سے اتار لیتی۔ یوں میری شکستہ روح غنودگی میں چلی جاتی اور میں ہر دکھ سے، تکلیف سے اور اپنوں کی تڑپ سے نجات پا لیتی۔ ایک دن اس منحوس عورت نے جو میری ماں تھی مجھے یہ چوری کرتے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے خوب مارا مگر اب مار پیٹ مجھے نہ جانے کیوں تکلیف نہیں دیتے تھے بلکہ عجب سا سکون ملتا تھا۔ اس عورت نے فون کرکے چرچ والوں کو نہ جانے کیا بتایا کہ وہ دوسرے ہی دن آ کے مجھے ساتھ لے گئے۔ ایک چھوٹے سے اندھیرے کمرے ایک لات رسید کرکے مجھے لانے والے نے اوندھے منہ گرایا اور دروازہ باہر سے بند کردیا گیا، دودن نہ دروازہ کھلا نہ کسی نے کھانا پانی دیا۔ باہر نکلی تو اب پھر میں اس ہال میں تھی جس میں میری جیسی بہت سی لڑکیاں تھیں۔ اتنے عرصہ بعد میرا دل مسکرا اٹھا۔ یہ میری اپنی تھیں، ہماری روح ایک دوسرے کو پہچانتی تھی۔ ہمارے رواج، ہماری رسوم ہماری زبان ایک تھی۔ہم کو آپس میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن ہماری آنکھوں نے بہت باتیں کیں۔ ایک ہفتہ بعد مجھے ایک اور فیملی کے سپرد کردیا گیا۔ انہوں نے مجھے گھر کے کام کاج کے لیے نوکری دی تھی۔ یہ ایک بزرگ مہربان خاتون تھیں انہوں ایک ہفتہ میں ہی اندازہ لگالیا کہ کہ میں ٹھیک سے چلنے کے قابل نہیں تھی جس کا سبب وہ بھیڑیا تھا جس نے مجھے باپ بن کے خریدا تھا۔ مجھے مستقل بخار رہتا تھا لیکن کون تھا جس کو میں بتاتی کہ کس حال میں زندہ ہوں۔ ایک دن میں کاﺅنڑ کے قریب کھڑی کچھ کر رہی تھی کہ کہ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور میں بری طرح خوف زدہ ہوکے ہسٹریائی انداز میں چیخنے لگی۔ مہربان مسز مارک نے بڑی مشکل سے مجھے سنبھالا۔ انہوں مجھے خود سے لپٹا کے اس خوف کی وجہ پوچھی مگر مجھ میں گلے گلے تک اٹا خوف اور عجب سی شرمند گی کچھ بتانے سے قاصر تھے بس میرا پورا بدن کانپ رہا تھا۔ مہربان خاتون نے مجھے بہت پیا ر کیا اور اس رات انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں سلا یا، دوتین دن تک وہ مجھے سمجھاتی رہیں کہ میں ان سے کوئی بھی بات بلا جھجھک اور خوف کے کہہ سکتی ہوں۔ پھر جب انہوں نے مجھ سے میری داستان سنی تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ خود پہلے نرس تھیں سو میرا باقاعدہ علاج کیا۔ بجائے گھر کا کام کرانے کے مجھے صرف آرام کرنے کی ہدایت دی اور پھر انہوں نے چرچ سے رابطہ کرکے مجھے ایڈاپٹ کرلیا۔ وہ مجھ میں بسے ہر خوف کو اعتماد میں بدل رہی تھیں، ہر زخم پر اپنے پیار کا مرہم رکھ رہی تھیں۔ میں سمجھتی تھی یہ سارے گوری چمڑی والے بھیڑیئے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ بھیڑیوں کی اس بھیڑمیں مجھے قدرت نے ایک فرشتے سے ملوا دیا تھا۔ کئی مہینے لگ گئے میرے خوفزدہ بیمار وجود کو بہتر بنانے میں لیکن ماما ( اب میں انہیں ماما کہتی تھی) نے ہمت نہیں ہاری۔ اب میں سکول بھی جا تی تھی اور ایک پیار بھرا ہاتھ بھی میرے سر پہ تھا۔ ما ما کی مجھے سخت تا کید تھی کہ میں اول یا دوم پوزیشن سے کم کا سوچوں بھی نہیں ۔صرف اس معاملے میں وہ انتہائی سخت تھیں۔ میرا بھی یہ عالم تھا کہ اگر دوسری پوزیشن آجاتی کبھی تو میرا رو رو کے برا حال ہوجاتا۔ اپنی کلاس میں میں واحد لڑکی تھی جس کا رنگ، روپ اور نقوش سب سے الگ تھے۔ تیسری کلاس تک کوئی لڑکی مجھ سے بات نہیں کرتی تھی ۔ہاں مذاق اکثر اڑا یا جاتا میرا میرے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی ایک کہتی ” بے وقوف انڈین ” اور پھر سب مل کے زور زور سے ہنستی یا کبھی مجھے پیچھے سے دھکا دے دیا جاتا۔ کوئی میرے بال پکڑ کے زور سے جھٹکا دیتی اور اس کی ساتھی ہنستی ہوئی بھاگ جاتیں ۔مجھ میں ٹیچر سے شکایت کرنے کی بھلا کہاں ہمت تھی ۔ہاں ماما کو ضرور بتاتی تو وہ کہتیں ” سب کچھ سہہ لو بس کلاس میں پوزیشن لیتی رہو۔ دیکھنا کیسے سب بدل جاتا ہے ” لہذا ایسا ہی ہوا دسویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے سب کا رویہ بدل گیا۔ دسویں کلاس میں میرے سکول میں سب سے زیادہ نمبر تھے۔ اسمبلی میں پورے سکول کے سامنے میری کامیابی کا اعلان کیا گیا اور وہ جو مجھے ” بدصورت انڈین ” کہہ کے میرا مذاق ا ڑا تی تھیں انہوں نے میرے لئے تالیا ں بجائیں۔ یہ کامیابی میرا پہلا انتقام تھا اپنے گورے رنگ پر مغرور ہونے والوں ۔ ماں لوری کے طور ہمیں ایک گیت سناتی تھی۔ "دشمنوں کے لئے صرف اک جواب ہے۔۔۔۔ اڑان لو” اس دن ما ما سے لپٹ کے میں بہت روئی۔ مگر ماما کو یہ نہیں بتایا کہ مجھے ماں بے تحا شہ یاد آرہی تھی۔اب مجھے سب کچھ میسر تھا لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے میرے اندر ماں کی ہوک بڑھتی جارہی تھی۔ ” وہ کہاں ہوگی، میری بہن میرا بھائی سب کہاں ہونگے؟ یہ ایک ایسی گہری اداسی تھی جو مجھے اندر سے چاٹ رہی تھی۔ ماما کی کوئی اولاد نہ ہونے کی وجہ تھی شاید یہ وجہ تھی کہ وہ مجھ سے بے تحاشہ پیار کرنے لگی تھیں اور مجھے بھی ان سے بے پناہ محبت ہوگئی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے اور میں سوچتی تھی کہ اگر انہیں بتایا کہ میرا دل ہر وقت اپنی ماں کی سوچ سے لپٹا رہتا ہے تو انہیں دکھ ہوگا کہ اتنی محبت دینے کے بعد بھی میں اپنی ماں کے لئے تڑپتی ہوں۔ اس کامیابی کی تقریب کے بعد نہ جانے کیوں میرے آنسو روکے نہیں رک رہے تھے۔ اس رات میرا دل اپنی ماں کے لیے بری طرح تڑپ رہا تھا۔ دوسرے دن اسکول بند تھا۔ میں گھر پہ تھی اور اپنے آنسو چھپانے کی غرض سے ماما سے سارا دن کے ادھر ادھر چھپتی رہی۔ وہ ایک زیرک خاتون تھیں سمجھ گئیں کہ یہ خوشی کے آنسو نہیں ہے۔ آخر ان کے پیارنے مجھ سے وہ اگلوا لیا جو میں کہنا نہیں چاہتی تھی۔ خیر زندگی اپنے معمول پر آگئی۔ تین مہینے گزر چکے تھے اب میں کالج میں تھی۔ وہ چھٹی کا دن تھا جب مجھے ماما نے اپنے کمرے میں بلایا اور فون میری طرف بڑھا یا ” اپنی ماں سے بات کرو” میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ انہوں مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا
” میں تین مہینے سے تمہاری ماں کی تلاش میں لگی تھی میری کوشش آج تمہارے لئے میرا تحفہ بھی ہے اور سب سے بڑی خوشخبری بھی” میں ماما کے پیروں میں بیٹھ گئی۔ ریسیور میرے ہاتھ میں تھا مگر حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ادھر رسور کان سے لگائے میں ہچکیوں سے رو رہی تھی اور دوسر طرف میری ماں۔ ہم دونوں میں کوئی بھی بات کرنے کے لائق نہیں تھا سو ہم بس روتے رہے۔
ماما نے بتا یا۔ ” ہم کل ملنے جائیں گے ” ماما اب بوڑھی ہو رہی تھیں اور گاڑی بہت کم چلاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی دوست سے درخواست کی اور ان کی دوست نے گاڑی مع ڈرائیور بھیج دی۔ میری ماما چرچ پا بندی سے جاتی تھیں اور میں نے فادر سے بہت سنا فرشتوں اور حوروں کے بارے میں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ فرشتے صرف آسمان پر ہوتے ہیں۔ میں سوچ رہی تھی آج کہ اگر واقعی فرشتوں کا کوئی وجود ہے تو وہ ہوبہو میری ماما جیسے ہوتے ہونگے۔ وہ رات کاٹے نہیں کٹ رہی تھی ” میں ماں کو دیکھونگی” یہ خوشی مجھ سے سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔ وہ راستہ جو دوسرے شہر کا یعنی میرے گھر کا تھا اتنا لمبا کیسے ہوگیا؟ میں کبھی ماما سے لپٹ کے روتی کبھی اس کے ہاتھ چوم چوم کے مسکراتی۔ دس گھنٹوں کے سفر کے بعد گاڑی اس شکستہ دروازے کے سامنے کھڑی تھی جس سے میرا بچپن لپٹا تھا۔ میں گاڑی کا دروازہ کھول کے دروازے کی طرف دوڑی ہی تھی کہ ایک بد حال سی بوڑھی عورت دروازہ کھول کے باہر آگئی۔ میں اس کو دیکھ کے ٹھٹھک گئی اور پلٹ کے ماما سے کہا ” یہ۔۔۔۔۔ یہ تو ما ں نہیں ہے ؟ ” ماما نے میرا ہاتھ تھاما اور دھیرے سے بولیں ” یہی ہیں تمہاری ماں ” ماں کے جو نقوش مجھے یاد تھے وہ شاید اس کے آنسﺅں میں بہہ گئے تھے۔ "اریوا۔۔۔ میری ا ریوا” ماں نے کانپتی ہوئی آواز میں بیتابی سے کہا اور بازو پھیلا دئے۔۔۔۔۔ ما ں مجھے پیار سے ا ریوا کہتی تھی جس کے معنی شیرنی ہیں۔۔۔ میں دوڑ کے ماں کے سینے سے لپٹ گئی۔ میری ماں کی خوشبو، میری ماں کی آغوش، میری ماں کی آواز۔۔۔۔اف!! کاش میں اس خوشی کی تصویر بنا سکتی۔۔ ہم دونوں بہت روئے اور بہت دیر تک روئے۔۔ ماما نے کہا وہ ایک ہفتہ بعد مجھے لے جا ئینگی۔ میری ماں نے ماما کے قدموں کو جھک کے چوما۔۔ ماں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ اس کا کوئی بچہ زندہ ہے یا نہیں۔ وہ کسی ” گورے صاحب” کے گھرجھا ڑو برتن کا کام کرتی تھی جس کے بدلے میں اسے کھانا ملتا تھا۔
ما ما دیر تک ماں سے میری بہن اور بھائی کے بارے میں سوالات کرتی رہیں ، تسلی دیتی رہیں ” پروردگار آپ کو ان سے ملائے گا بھروسہ رکھیں اور دعا کرتی رہیں۔ ما ں کے پاس بے شمار سوالات تھے میرے حوالے سے اور میرے پاس اس کے لئے۔ ہم نے تین دن جاگ کے گزارے ماں میری کہانی حرف حرف سننا چاہتی تھی اور میری ماں پہ کیا گزری اس کے بچے چھن جانے کے بعد، جاننا چاہتی تھی۔ ایک ہفتہ روتے اور بے پناہ خوشی مناتے بہت جلدی سے گزر گیا۔ میں ماں کو چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی تھی نہ ہی ماما کو تنہا چھوڑ سکتی تھی۔۔ بڑا مشکل فیصلہ تھا مگر ما ما کے ساتھ جانا ہی تھا مجھے۔
ماما نے وعدہ کیا کہ وہ میری بہن اور میرے بھائی کا پتہ چلائیں گی۔ ” تم دیکھنا میں انہیں ڈھونڈ نکالوں گی” ما ما ایک ہفتہ بعد مجھے لینے آئیں تو بہت تھکی تھکی سی لگیں۔ میری بہن اور بھائی کے حوالے سے انہوں نے ماں سے کہا کہ ابھی معلومات کر رہی ہیں۔ ماما چرچ کی بہت بڑی سپورٹر تھیں اور سب مع فادر کے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ ان کی ہی وجہ سے مجھے انگریزی میں ماسٹر کرنے کی اجازت ملی ورنہ انڈینز کو اس وقت کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کی بھلا اجازت کہاں تھی۔ ما ما نے دودن بعد مجھے اپنے پاس بیٹھا یا۔ پیا ر سے میرا ہاتھ تھاما اور کہا” وعدہ کرو تم ہمت سے سنوگی جو بتا ﺅں ” وہ تھوڑی دیر چپ رہیں پھر گلوگیر لہجے میں بولیں ” تمہاری بہن کا پندرہ دن بعد ہی انتقال ہوگیا تھا، تمہارے بھائی کو تین مرتبہ ایڈاپٹ کیا گیا اور تیسری بار اس نے گلے میں پھندا لگاکے خود کشی کرلی ۔” برسوں کی آس کو، میرے آنسوﺅں کو اور میری چیخوں کو سکتہ ہوگیا جیسے۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میں واقعی پتھر کی ہوگئی ہوں۔ ماما نے مجھے لپٹا نے کی کوشش کی تو دھڑام سے زمین پر گرگئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنی دیر بیہوش اسی حالت میں رہی۔ ” دودن ماما مجھے اپنی محبتوں کے حصار میں لیے رہیں۔ ایک ہفتہ بعد میں نے ماما سے کہا ” ماں کو بتانا پڑے گا” نہیں ، ماں کو مت بتانا ” ماما نے مجھے لپٹا تے ہوئے کہا۔ مگر میرا ذہن اٹکا ہوا تھا دراصل جب ہمارے ہاں کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کی رخصتی کی رسومات سات دن سے لے کرایک مہینے تک چلتی ہیں ۔ہمارے عقیدے کے مطابق اگر ایسا نہ ہو تو روح بے چین رہتی ہے۔ میں تذبذب میں تھی۔ بتا یا تو ماں کا کیا حال ہو گا اس آس سے اس کی سانس کی ڈور بندھی ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کے بچے مل جائیں گے۔ نہیں بتایا تو میرے بھائی اور بہن کی روح بے چین اور بھٹکتی رہے گی۔ تب میں نے اور ماما نے فیصلہ کیا کہ ہمیں بتا دینا چاہئے۔ ہم گھر گئے، ماں نے میرے لئے آج طرح طرح کے کھانے بنائے تھے۔ خوبصورت لباس پہنا تھا۔ چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا، یہ وہ روپ تھا ماں کا جو میرے ذہن میں تھا۔ وہ بات بات پر اور بے بات بھی مسکرا رہی تھی۔ ماں کو کیسے بتایا جائے ،ماما اور میں نگاہوں نگاہوں میں ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے۔ مگر بتانا تو تھا۔ میں نے اور ماما نے ماں کے گرد بیٹھ کے بہت سی تمہید باندھی۔ صبر کے حوالے سے، شکر کے حوالے سے۔۔ میرے مل جانے کے حوالے پھر ہمت کرکے ماں کو بتایا۔ ماں نے بغیر کسی بھی طرح کے رد عمل کے سب سنا۔ وہ سامنے کی دیوار کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور بس، پھر وہ دھیرے دھیرے اسی جگہ فرش پر ڈھیر ہوتی گئی اور آنکھیں بند کرلیں۔ میں نے ماں کو جھنجھوڑ نا چاہا مگر ماما نے سانس چیک کرتے ہوئے مجھے روک دیا۔ ” انہیں کمبل ا ڑھا دو اور فی الحال ان کے حال پر چھوڑ دو” میں رات کو ان کے قریب لیٹی بار بار ان کی سانس چیک کرتی عجب حال تھا ان کا نہ بیہوش تھیں نہ ہی ہوش میں۔ پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور ماں نے چپکے سے اس دنیا پر لعنت بھیج دی جو اس کی سانسیں کا نٹوں پہ ڈال کے ایک عمر سے ہر لمحہ گھسیٹ رہی تھی۔ ما ں ملی اور بچھڑ گئی۔۔۔ میں نے بہت بچپن میں صبر کرنا سیکھ لیا تھا۔ ایک بار سارے آنسو اندر اتار لیے ۔
ما ما اب بوڑھی ہوگئی ہیں اور میں اب ایک معروف کہانی کا ر۔ میری لکھنے کی میز کے ساتھ کوڑے دان ہے۔ اس میں وہ ایوارڈ پڑے ہیں جو میری روح کے قاتل میری کہانیوں کو دیتے ہیں۔ یہ ہدایت ماما کی ہے
” ایوارڈ وصولنے سر اونچا کرکے جاﺅ، ہاتھ ملائے بغیر، شکریہ کہے بغیر وصولو اپنا حق۔ مگرگھر لاکے اسے ڈسٹ بن میں ڈال دو”
ایسا کرتے ہوئے میں اور میری کہانی اکثر اونچے اونچے قہقہے لگا تے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے گلے لگ کر ہچکیوں سے دیر تک روتے ہیں۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*