نوالا

ماں ہے ریشم کے کارخانے میں
باپ مصروف سوتی مل میں ہے
کوکھ سے ماں کی جب سے نکلا ہے
بچہ کھولی کے کالے دل میں ہے
جب یہاں سے نکل کے جائے گا
کارخانوں کے کام آئے گا
اپنے مجبور پیٹ کی خاطر
بھوک سرمائے کی بڑھائے گا
ہاتھ سونے کے پھول اگلیں گے
جسم چاندی کا دھن لٹائے گا
کھڑکیاں ہوں گی بینک کی روشن
خون اس کا دئیے جلائے گا
یہ جو ننھا ہے بھولا بھالا ہے
صرف سرمائے کا نوالا ہے
پوچھتی ہے یہ اس کی خاموشی
کوئی مجھ کو بچانے والا ہے

ماہتاک سنگت کوئٹہ جولائی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*