اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سکینڈل: ایک تنقیدی زاویہ

گزشتہ ہفتے ایک واقعہ کی ایف آئی آر سے ایسی سانحہ پھوٹ پڑی ہے جس پر ایک ہفتہ بعد بھی بحث اور مباحثہ جاری ہے اور اب تک سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا سمیت الیکٹرانک میڈیا پر اس کی خبریں گردش کرتی رہی ہے۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس قدر بھیانک ہے کہ اکثر لوگ اس کو سانحہ کہتا ہے لیکن واقعی یہ واقعہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے کیونکہ اس سکینڈل میں تعداد غیر معمولی ہے۔ تاہم کچھ ایسی خبریں بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تعداد درست اور authentic نہیں ہے۔ اس سانحہ کے کئی پہلو ہونگے لیکن دو پہلو بلکل واضح ہے ایک تو یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد بہت ساری لڑکیوں کے لیے جامعات میں داخلہ لینا مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس خبر کے منظر عام پر آنے سے یہ کہتے ہیں کہ جامعات میں ایسے لوگوں کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو تعلیم دشمن ہے اور ایسی پالیسیاں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو طلباء کو مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔

مذکورہ دونوں دلائل کسی حد تک درست ہے لیکن یہ دونوں دلائل اپنی تئیں کمزور ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات جامعات میں رونما کیوں ہوتے ہیں؟ اس کے پیچھے اسباب کیا ہیں۔ یہ تبصرے بھی اکثر لوگ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کے اسباب میں جنسی تشنگی پیوست ہے یا پھر یہ ایک مخصوص ذہنیت اور سوچ ہے جو ان جیسے واقعات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر میں متاثرہ طلباء کی تعداد تقریباً پانچ ہزار پانچ سو بتایا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی تعداد ہے۔ غفلت اور خوف کا یہ عالم ہے کہ یہ تعداد چھ ہزار کے قریب پہنچ کر تب اپنے آثار آشکار کردیے ہیں۔ شاید تعداد کو دیکھ کر ہی یہ خبر اس قدر پھیل گئی ہے کہ ہر عام و خاص اس پر افسوس بھی کررہا ہے اور تبصرہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے۔

اس خطے میں ہر طبقہ فکر اور سوچ کے حامل افراد موجود ہے تاہم یہ سانحہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس قدر بڑا ہے کہ ہر فکر کے لوگ اس پر رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دینگے تب یہی حال تو ہوگا لیکن کچھ کا خیال ہے کہ اس میں طلباء بلکل قصوروار نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کافی طاقتور ہے اور اپنی طاقت کے بلبوتے پر سب کچھ کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس واقعے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہئیے کیونکہ اس سوسائٹی میں ایسے سہمے ہوئے لوگ بھی موجود ہے جن کیلئے یہ واقعہ واقعی بہت بڑا اور دلخراش ہوسکتا ہے۔ یہ واقعہ ان لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے جو ان حالات سے ڈر کر اپنی اولاد کو تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹی بھیجنے کی اجازت نہیں دینگے۔

جمہوری اصولوں پر کار بند ہوتے ہوئے سب کو یہ بات یاد رہنا چاہیے کہ ہر کوئی اپنی رائے دینے میں آزاد ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے مذکورہ تمام تر رائے اور دلائل اوپری سطح کے ہے پہلا نکتہ تو بلکل رجعت پسندی کا شاخسانہ ہے جو کہ کسی بھی نئی قدم کی صرف اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ قدم اس جو قبول نہیں ہوتا ہے۔ باقی دونوں رائے کافی حد تک درست ہے لیکن جہاں تک یہ بات ہے کہ یہ واقعہ مستقبل میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ بن جائیگی تو انہیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ تشویش کی بات نہیں ہے کیونکہ اب بھی ہزاروں لڑکیاں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو استطاعت رکھتے ہیں وہ بھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے گریز کریں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس نظام میں ہی وہ تمام کوتاہیاں موجود ہیں جن سے ایسے واقعات جنم لے رہی ہیں۔

پاکستان میں جتنے بھی تعلیمی درسگاہیں ہیں اکثر جامعات میں اس قسم کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہ جامعات ادارے کی حیثیت سے مکمل طور پر بااختیار ہیں۔ تاہم یہی وجہ ہے کہ ان اداروں میں انتظامہ اس قدر طاقتور ہے کہ ایک طالب علم اس انتظامیہ کی غلط اقدام پر سوال اٹھانا اور بات کرنا تو درکنار تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیمی درسگاہوں میں طالب علموں کو کنٹرول کیوں کیا جارہا ہے؟ انہیں ایک آزادانہ ماحول میں سیکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی ہے۔ ان درسگاہوں میں طالب علم مختلف نوعیت کے پروگرام اور ہنر سیکھتے ہیں اور یہاں سے اپنی پڑھائی مکمل کوکے گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کرتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس دورانیے میں طالب علموں کو بہت سارے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شاید ہی کسی اور جگہ پر اتنی مشکلات سے دو چار ہونگے جتنا کہ اس دورانیے میں ہوتے ہیں۔

جامعات کے انتظامیہ میں اکثر سرمایہ دار طبقہ کے لوگ مختلف عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ سرمایہ دار طبقے کی ترجیحات نچلے اور درمیانے طبقے کی لوگوں سے بلکل مختلف ہوتی ہے ان کیلئے کسی طالب علم یا طالبہ کی زندگی کیساتھ کھلواڑ کوئی مشغلہ بھی ہوسکتا ہے تاہم اسی وجہ سے انتظامیہ کے اکثر افراد طالب علموں کو بلیک میل کرتے ہیں اور انہیں ڈرا دھمکا کر چپ بھی کروا دیتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس طبقے میں کچھ ایسے طلباء ضرور ہونگے جو یونیورسٹی محض تفریح کیلئے آتے ہیں لیکن ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں۔

پاکستان میں جامعات کو اگر اس گندگی اور دلدل سے پاک کرنا ہے تو اس اقدام کی انسداد کیلئے چند چیزوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو عوام دوست پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسی تمام اقدام اور پالیسی کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے جو تعلیم دشمن ہو، طلباء کیلئے مشکلات کا باعث ہو اور جس سے صرف انتظامیہ کو فائدہ ہوتا ہے ایسی پالیسی ختم کرنی چاہئیے۔ ان کی جگہ متبادل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے جو طلباء کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی اختیارات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس اختیار کا طلباء نے صرف غلط اور ناجائز استعمال دیکھا ہے، طلباء براہ راست ان اختیارات کی وجہ سے اکثر انتظامیہ کے شکار ہوتے ہیں۔ ان اختیارات کا اب تک استعمال ایسا نہیں ہوا ہے جس سے طالب علموں اور یونیورسٹی کو کوئی فائدہ پہنچی ہو۔ اس بے تحاشا اختیارات سے محض اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے اس کے علاؤہ کوئی اور فائدہ نہیں ہے۔

تیسری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جامعات میں طلباء یونین کی بحالی اس وقت بھی ناگزیر ہوچکی تھی جس وقت ان پر براہ راست پابندیاں لگائی گئی لیکن طلباء یونین تاحال بحال نہ ہونے سے یقیناً طلباء نے بہت نقصان اٹھایا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ مگر اب طلباء یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے طلباء یونین ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے طلباء ایک فلیٹ فارم کے ذریعے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرسکتے ہیں۔ اسی پلیٹ فارم سے طلباء کیلئے یہ ممکن ہو جائیگا کہ وہ ایسی اقدامات کی مخالفت کرے جو کسی بھی حوالے سے طلباء کیلئے مشکلات کا باعث ہو۔

طلباء یونین کی بحالی جہاں ایک طرف طلباء کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بلاخوف اپنے ساتھ ہونے والی بے انصافی پر صدائے حق بلند کریں۔ تو دوسری طرف طلباء یونین سے طلباء بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس سے طلباء کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ وہ اپنی بات تنظیم کے ساتھیوں تک باآسانی پہنچا سکتا ہے۔ اس اسکینڈل کا یہ غیر معمولی تعداد بتاتی ہے کہ ممکنہ حد تک طلباء و طالبات نے ایسے واقعات پر خاموشی اس لئے اختیار کی تھی کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہوگا کہ وہ شکایت کرسکے اور کسی ایک فرد کیلئے صدائے حق بلند کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض کیسز میں یہ واقعات اس لئے منظر عام پر نہ آسکی ہو کہ اس سے طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہے لہذا انہوں نے خاموشی اختیار کی ہونگی۔ طلباء یونین کی بحالی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ایسی رونما ہونے والی واقعات کا سدباب اسی وقت ہی کیا جاسکتا ہے جب اس کے خلاف اسی وقت آواز اٹھائی جائے۔

طلباء یونین کی بحالی سے طالب علموں کے ہاتھوں میں اختیار آجائیں گی اور دوسری طرف اس اسٹام پیپر کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جو داخلہ لینے کے وقت طلباء سے جمع کرواتے ہیں۔ جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ نے کسی بھی سیاسی عمل میں حصہ نہیں لینا ہے بصورت دیگر آپ کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اس پیپر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ طلباء کو ہر حوالے سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ انتظامیہ کے غلط اقدامات کے خلاف خاموشی اختیار کریں۔ یہ ایک مکروہ اسٹام پیپر ہے جس کے ذریعے طالب علموں کے ہاتھوں کو باندھ کر ان کی آنکھوں پر پٹی ڈال دیتی ہے تاکہ یہ لوگ باآسانی اپنا کام کرسکے لیکن اس اسٹام پیپر کا خاتمہ ناگزیر ہوچکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی درسگاہوں میں طلباء کو سیکس کے حوالے سے باقاعدہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے اکثریت طلباء اس بارے میں جان جائیں گے کہ سیکس ایک نجی معاملہ ہے اور یہ ایک قدرتی عمل ہے جس کو کسی صورت کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں میں جنسی تعلیم دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں سیکس کے حوالے سے جو خوف ہے ممکن ہے کہ وہ کسی حد تک کم ہو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ طاقتور لوگ ہمیشہ لوگوں کو سیکس کے حوالے سے بلیک میل بھی کرتے ہیں۔ اس بلیک میلنگ کی آڑ میں اکثر فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جنسی تعلیم دینے سے ان کیسز میں بھی کسی حد تک کمی آجائیں گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*