سائبیریائی پرندہ

بقاء کے اس طویل اور پیچ در پیچ تھکا دینے والے سفر میں
مجھے وہ اذیتیں سہنی پڑیں
کہ وقت کا دل کسی بگ بینگ کی طرح پھٹ پڑے
اور زمان و مکان کی طلسماتی وجود
عدم کی تخلیقی ستونوں (۱)کی گہری دھند میں
ہمیشہ کیلئے کہیں گم ہوکر رہے جائے
میں نے زندہ رہنے کیلئے صحراوں کی تپتی پیاس کو
ریت کا سائباں بناکر اس میں اگنا سیکھا
کسی کھجور کے تنہا درخت کی طرح
اور اگر موسم کی طبعیت کچھ مہربان ہوئی
تو بھوک کی سنگلاخ چٹانوں کا سینہ چیر کر
اپنی نازک اور ملائم جڑوں کو
کسی نوک دار خنجر کی طرح اس میں
گاڑ دینے کے ہنر سے بھی میں آشنا رہا
جمے ہوئے سمندروں کی
موت بانٹتی یخ بستہ ہواوں کے خلاف
میں نے سائبیریائی پرندہ بن کر اڑان کے
ہجرت آشنا پر کب کے ایجاد کر رکھے ہیں
میں نے طاقت کے نشے میں چور
گھمنڈ کے پیالے میں انڈیلے گئے
زہر ہنستے ہنستے پی کر
امر ہونے کا فلسفیانہ فن بھی سیکھ رکھا ہے
قتل گاہوں میں زندگی کی سبز شاخوں پر
لہو رنگ پھول اگانے کے ہنر سے بھی میں واقف ہوں
میں نے زندانوں کے خفیہ تہہ خانوں کی
پتھریلی دیواروں میں گڑے
گھپ اندھیروں کو بھی
روشنی کے پابہ جولا ں رقص کے تھاپ سکھا رکھے ہیں
میں کال کوٹھریوں کی مردہ سلاخوں کے
ساکت دل میں
زندگی کے دھڑکتے گیت کی
زندہ سروں کو سمونابھی جان چکا ہوں
مرے محبوب۔۔۔۔۔۔!
میں سچ کا وہ م±تبرّک بیج ہو ں
جس کی زیتونی شاخوں پر خداوند پرندہ بن کر بسیرا کرلیتا ہے
مگر آج۔۔۔۔۔
زمین سکڑکر میرے لئے بہت تنگ ہوچکی ہے
اور تمہاری چوڑی پیشانی بہت زرخیز ہے
اگر ہوسکے تو مجھے اس میں
بو کر پھر سے چلے جانا

۱۔ تخلیقی ستون:Pillar of creation کائنات میں گیسوں کے وہ عظیم الجثہ بادل جن سے نئے ستارے،سیارے اور کہکشائیں بنتی ہیں۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*