غزل

اس سے پیاس بجھانا کم تھا
اس پیالے کا دہرا غم تھا

مجھ میں تھے آثارِ قدیمہ
ایک کھنڈر میرا ہمدم تھا

دہک رہی تھیں اس میں صدیاں
ویسے وہ شعلہ مدہم تھا

آنکھوں میں سوکھی ندی تھی
باتوں میں لہجہ پرنم تھا

بانٹ دیا لوگوں نے رستہ
پگڈنڈی سے جو باہم تھا

بارش برسی اور شجر کے
ہاتھوں میں گیلا پرچم تھا

پتھر کی رگ رگ میں پھیلا
سبزہ رت سے یوں محکم تھا

کسی کہانی میں گونجے گا
رشتہ جو تجھ سے پیہم تھا

جب تک طائر آ جاتے تھے
شاخوں پر اچھا موسم تھا

ہجر سہا تھا اس نے لیکن
دل پر ملنے کا عالم تھا

مجھ پر ارزاں حرف ہوئے تھے
زخم ہی تیرا اک مرہم تھا

جڑے ہوئے بھی جان نہ پائے
کیسا میں تجھ میں مدغم تھا

ماہنامہ سنگت کوئٹہ۔ جولائی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*