سماج کا سفر نامہ

شونگال سنگت جولائی2023

ابھی حال تک بلوچستان میں قبیلے کی زمین مشترک ہوتی تھی۔ اور وہ ہر دس بیس برس بعد محض کاشتکاری کے مقصد کے لیے تقسیم ہوتی رہتی تھی۔
پھر یہ نظام ٹوٹ گیا ۔تو قبیلے کی زمین مستقل بنیادوں پہ تقسیم ہوئی۔ یعنی زمین نجی ملکیت ہوگئی۔ اور رفتہ رفتہ جاگیرداری نظام وجود میں آگیا ۔
یہ جاگیرداری نظام یورپ میں گیارھویں صدی تک مکمل طور پر رائج ہوچکا تھا۔ پورے سماج پہ جاگیردار حاوی ہوگئے ۔اس نے اپنی حاکمیت کو جاری ساری رکھنے کے لیے فوج اور پولیس بنائی بٹائی ،ٹیکس جمع کرنے کے لیے الگ لوگ رکھے، اور اپنے حق میں فیصلے دینے کے لیے عدالت بنائی۔ اس فوج ، ٹیکس جمع کنندگان اور عدالتوں پر مشتمل ادارے کو ریاست کہتے ہیں۔ کسان طبقہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا تو ان کو کچلنے کے لیے یہ ریاست موجود تھی ۔ ریاستی ڈنڈے کے علاوہ جاگیردار کے پاس ایک اور زبردست ہتھیار تھا: چرچ۔ چرچ کو چونکہ لوگوں کے عقیدے اور ایمان پہ مکمل اجارہ داری حاصل تھی ۔اس لیے جاگیردار نے اسے دولت دے کر ، رتبہ دے کر اور زمین دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ۔
یہ وحشیانہ جاگیرداری نظام چار سو سالوں (گیارھویں سے پندرھویں صدی ) تک جاری رہا۔ پندرھویں صدی میں کہیں جا کر اس نظام کے اندر دستکاری سے ہوتے ہوتے کارخانہ داری تک پہنچنے والوں کی وجہ سے سرمایہ داری نظام کا ظہورہونا شروع کیا۔ اسی پندرھویں صدی کے اواخر میں ایک طرف کو لمبس نے امریکہ دریافت کرلیا، اور دوسری طرف واسکوڈی گامانے افریکہ کے گرد گھوم کر ہندوستان تک کا سمندری راستہ تلاش کرلیا۔ چنانچہ تاجروں اور بورژوازی کے وارے نیارے ہوگئے ۔ انہیں دور دور تک منڈیاں ملتی گئیں۔ خام مال لانے میں آسانیاں پیدا ہوئیں ۔ سرمایہ داری بڑھتی گئی۔
اٹھارویں صدی میں ایک برطانوی مزدور نے انجن ایجاد کیا اور بھاپ دریافت کی۔ ایک اور نے بھاپ کی طاقت سے انجنوںکو ریل کی پٹڑی پر دوڑا دیا ۔بادبانی کشتی والوں نے اسی انجن اور بھاپ کو اپنی کشتیوں میں فٹ کیا۔ صنعتی پیداوار میں تو انقلاب برپا ہوا۔
انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں انگلینڈ کی قیادت میں مغربی یورپ اور امریکہ میں اٹھارویں صدی سے آغاز کردہ صنعتی انقلاب مکمل ہوا۔ اب پوری دنیا صنعت کی پیداوار کی منڈی بنی۔تجارت ، جہاز رانی اور خشکی پر مال کی آمد و رفت کو زبردست ترقی ملی۔ اِن صنعتی ممالک میں بورژوا جمہوری سیاسی نظام قائم ہوا۔
صنعت کی اِس بے پایاں ترقی نے مزدور طبقے کی تعداد بہت بڑھا دی۔ اُن کی ٹریڈ یونینیں بننے لگیں ۔ مطالبے اور جلسے ہونے لگے ۔ یوں انیسویں صدی کے وسط ( 1845) میں مزدور طبقے کی انڈر گراﺅنڈ سیاسی پارٹی ، کمیونسٹ لیگ بنی۔ اس پارٹی کا منشور ”کمیونسٹ مینی فیسٹو“ کے نام سے مقبول ترین کتابچہ جاری ہوا۔
انسانی تاریخ کے ارتقائی سفر میں سپارٹیکس کی قیادت میں غلاموں کی بغاوت کے بعد ۔ دوسرا بڑا دھماکہ یہ ہوا کہ 1871میں پاپولر عوامی زور پہ ، آزادی ، مساوات ، اور بھائی چارہ کے نعرے پہ مزدوروں نے پیرس پر قبضہ کر لیا۔ مزدوروں کی اس حکومت نے ”پیرس کمیون“ کا بھاری نام پایا۔ یہ دنیا میں اولین کمیونسٹ حکومت تھی ۔ اس نے چرچ کو ریاست سے مکمل طور پر الگ کردیا، عوامی خود حکومتی قائم کی اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ کردیا۔ مگر 72دن کے بعد سرمایہ دار وں نے دوبارہ پیرس پہ قبضہ کیا۔ انقلابی مزدوروں کو اس کی قیمت قتل عام ، وسیع پیمانے کی گرفتاریوں اور ساری اصلاحات کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
مغربی یورپ اور امریکہ کے سرمایہ دار ممالک نے دنیا کو اپنی منڈیوں میں بدل کر رکھ دیا۔ کپٹلزم قومی سرمایہ داری سے امپیریلزم میں ڈھل گیا۔ ان ترقی یافتہ سرمایہ دار ملکوں میں منڈیوں میں اضافہ کرنے کے لیے آپسی مقابلہ شروع ہوا۔ ہوتے ہوتے منڈیوں کی از سرِ نو تقسیم کے معاملے پر ان کے درمیان بہت بڑی عالمی جنگ شروع ہوئی۔
1914کی اِس پہلی عالمی جنگ میں جرمنی اور ترکی ایک طرف تھے اور انگلینڈ ، فرانس اور روس دوسری طرف۔ دو بڑے نتیجے نکلے ۔ ایک تو انسان نے روس کے اندر 1917میں سوشلسٹ انقلاب کر کے ترقی و ارتقا کے دروازے کھولے ۔ اور دوسرا بڑا نتیجہ جرمنی اور ترکی کی شکست کی صورت میں یہ نکلا کہ ترکی کی آخری فیوڈل سلطنت گرنے سے نہ صرف پوری عرب دنیا آزاد ہوگئی بلکہ ترکی بھی رپبلک بن گیا۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کے حصے میںہندوستان ، برما، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیاآئے تھے ۔دوسرے نمبر پر فرانسیسی نو آبادیاں تھیں: الجیریا ، ویت نام ، شام ۔ براعظم افریقہ کا بڑا علاقہ پرتگال لے گیا۔بلجیم کا نگو پر قبضہ کر بیٹھا ۔ ڈنمارک نے گرین لینڈ کو دبوچا۔ اورسپین پورے لاطینی امریکہ پر قابض تھا۔
اِس پہلی عالمی جنگ کے ٹھیک 25برس بعد کپٹلسٹ ممالک دنیا کو آپس میں بانٹنے کے لیے ایک بار پھر لڑ پڑے ۔ یہ دوسری عالمی جنگ تھی ۔ جرمنی نے اٹلی اور جاپان کو ساتھ ملا کر دو سال سے بھی کم عرصے میں یورپ کو فتح کرلیا۔ اِس جنگ کا دوسرا فریق انگلینڈ ، امریکہ اور چین تھے ۔ روس چونکہ کمیونسٹ ہوچکا تھا، اس لیے اُسے دنیا پہ قبضہ کرنے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ لہذا وہ جنگ میں نہ گیا۔ مگر بد بختی نے ہٹلر کو پکڑ رکھا تھا، اس نے جنگ کی شروعات کے دو سال بعد مزدوروں کے دیس ،روس پرحملہ کردیا۔ کمیونسٹ سوویت یونین بھینسے کی طرح لڑا۔ 1945میں ہٹلر کا جرمنی شکست کھا گیا۔
تب تو دنیا بدل کر رہ گئی ۔پورے مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتیں قائم ہوئیں ، چین میں بھی سوشلسٹ انقلاب آگیا، دنیا میں بے شمار آزادی کی تحریکیں کامیاب ہوئیں ۔ اور بے شمار ممالک آزاد ہوگئے ۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی تقسیم پہلی بار نظریاتی وجوہات سے ہوئی۔ سوشلسٹ ممالک ایک طرف تھے اور سرمایہ دار ممالک دوسری طرف ۔ دونوں بلاکوں کے درمیان جنگ تو نہ ہوئی مگر نظر یاتی اختلافات نے معاشی اور سیاسی مقابلے کی صورت ضرورت اختیار کی ۔ ایک دوسرے پر حملے کے خدشے نے سائنس اور ٹکنالوجی کو زبردست ترقی دے کر اُس کا رخ جنگی شعبے کی طرف کردیا۔ اس سرد جنگ میں دونوں بلاکوں نے ایٹمی اسلحہ کے بشمول اسلحہ کے انبار کھڑے کردیے۔ یہ سرد جنگ 42سال تک جاری رہی۔ اس کے دوران سائنس اور ٹکنالوجی نے زبردست ترقی کی۔ کمپیوٹر ، روبوٹ ، الیکٹرانکس ، جنیٹکس اور سپیس ٹکنالوجی تارے چھونے لگیں۔
ساتھ ساتھ دنیا بھر کے سوشلسٹوں نے ایٹمی جنگ کے ہولناک نتائج سے خبردار کرنے کی زبردست جدوجہد شروع کی ۔ انہوں نے اپنی ملٹری قوت برقرار رکھتے ہوئے امنِ عالم اور ترکِ اسلحہ کی بھرپور تحریک چلائی ۔ اس سے دنیا کے عوام کو شعور آتا گیا کہ ایٹمی جنگ محض انسانوں کو صفحہِ ہستی سے نہیں مٹائے گی بلکہ اس سے پوری حیات ختم ہوجائے گی ۔ درخت اور جاندار سب کچھ بھسم ہوجائے گا ۔
نصف صدی تک امن تحریک چلتے رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1990میں اعلانِ پیرس ہوا ۔سرد جنگ کے خاتمے کا اعلان ہوا، عدم جارحیت کا معاہدہ ہوا، اور انسان کے بیچ اختلافات کے حل کا واحد راستہ مذاکرات قرار دیا گیا۔ یہ معاہدہ امریکہ ، کینیڈا ، سوویت یونین اور پورے یورپ کے ممالک کے سربراہوں کے بیچ ہوا۔
انسانیت ابھی اسی جشن کی حالت میں تھی کہ دھڑام سے اُسے دکھ کی گہری کھائی میں گرجانے کا حادثہ درپیش ہوا ۔ ایک صدی تک ہانپتا کانپتا لرزتا لرزاتا ہوا ،سائنس ٹکنالوجی ، ماحولیات ، خیر اور امن کی کمانڈری کرتا ہوا سوویت یونین ،دم گھٹنے سے دم توڑ گیا۔ مشرقی یورپ کا بھی دل ڈوبا ، جنوبی یمن اور افغانستان کے انقلاب بھی دفن ہوگئے ۔ یعنی دنیا بھر میں کپٹلزم نے کامیاب ردِ انقلاب کردیا۔ کرہِ ارض اشرف انسانوں کی دنیا کے بجائے ایک بار پھر منڈی کے حوالے ہوگئی ۔منڈی تو حیا، خیر، حسن، اور حیات کے لیے ڈائن ہوتی ہے ۔
چنانچہ سوشلزم کی موت کے تیس سال کے اندر اندر سیلاب ، قحط ، شدید گرما ،جنونی سرما، زلزلے ، وبائیں اور جنگیں انسان کے بے دریع ذبیحہ کے لیے آزاد ہوچکیں۔ دلیل استدلال ، رواداری اور جمہوریت تیزی سے پسپا ہوتی جارہی ہیں، تعلیم، صحت، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سرمایہ نے قدیم اشیا والے اپنے سٹوروں میں پھینک دیے۔
جدید آلاتِ پیداوار نے پیداوار کی شرح بہت بڑھادی ہے ۔ اتنا زائد مال کہ منڈی میں اس کی کھپت ناممکن ہوچکی ہے ۔ سوشل سیکیورٹی ، اجرت اور تنخواہیں سکڑتی جارہی ہیں۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور ناخواندگی کے پیروں میں بندھی رسی ٹوٹ چکی ہے ۔ نچلے طبقے اور قومی آزادی کی تحریکیں کچلی جارہی ہیں۔ بنیادی پرستی اور فاشزم بے نقاب و بے حجاب و بے پردہ دندنا رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی حکومتوں اور سرمایہ داروں کو عام انسانوں کے بیڈروم تک کی اطلاعات فراہم کرتی جارہی ہے ۔ملکوں معاشروں کی اخلاقیات ، رسوم و رواج ،زبانیں اور عقائد یعنی کلچرز زن کندن کی حالت میں ہیں۔ حتمی طور پر انسان اور انسانیت ،چوک پر ننگا کھڑا ہے ۔ ترقی پذیر فیوڈل سوسائٹی میں موبائل فون کیا گھس گیا کہ اُس کا تو پورا سوشل فیبرک اُدھڑاُ کھڑ کررہ گیا۔ روایت اور روایتی سماج کو مغربی ٹکنالوجی کی دولتیوں نے پچھاڑ کر کنوئیں میں پھینک دیا۔ اچانک ”بے حیا “ مغرب کی ساری بے غیر تیاں مشرق پہ مسلط ہوگئیں۔ ایسی ایسی نئی صورتیں پیدا ہوتی گئیں جو نہ ہمارے آئین میں موجود ہیں اور نہ قبائلی رسم و رواج میں ۔
کمال یہ ہے کہ زمین کی ملکیت کا فیوڈلزم ٹوٹے بغیر ہمارا سماج پوسٹ انڈسٹریل کپٹلزم میں داخل ہو چکا ہے ۔ یہاں کا فیوڈل یہاں تو فیوڈل ہے مگر وہ دبئی میں ، انگلینڈ میںاربوں کی بزنس کا سرمایہ دار ہے ۔ جب عالمی کپٹلزم بحران میں جاتا ہے تو یہاں کا بورژوابھی بے ہوش ہوجاتا ہے ۔مگر عالمی کپٹلزم جب ری سیشن سے نکلتا ہے تو ہماری بورژوازی کی بھی مونچھ مرغن ہوجاتی ہے ۔
البتہ کپٹلزم کی جنم بھومی اور ہیڈ کواٹر صنعتی مغرب میں یہ احساس شدت پاتا جارہا ہے کہ اب بھوک دینے والے منحوس کپٹلزم سے نکل جانے کی حتمی ضرورت ہے۔ اس چکا چوندی نظام کی زلفیں اب زنجیریں ہیں۔ اس کا عطر بارود سے بنتا ہے ۔ اس کا گیت کروڑوں بھوکوں بے روزگاروں کی آہ ہے ، زاری ہے ۔ کپٹلزم بے شمار لوگوں کی آزادی آبادی کے نرخروں کو دباتا گُھٹنا ہے ۔
انسان جانتا جا رہا ہے کہ اس دنیا میں بہت جگہ ہے ، ہر ایک کے لیے۔ آج کے ہر ایک کے لیے بھی اور ایک صدی بعد کے ہر ایک کے لیے بھی۔ یہ دنیا ہر ایک کو کھلا پلا سکتی ہے ، آج کے ہر ایک کو بھی اور ایک صدی بعد کے ہر ایک کو بھی ۔”ایک نیا سماج ممکن ہے “ کی تحریک کُل جہاں میں موجود ہے جو سڑے گلے کپٹلزم کی تدفین کا وقت قریب لانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔
نجات کا یہی راستہ ہے ۔ لازم ہوگیا کہ انسان عقل کی دنیا کے لیے زیادہ قوت اور انہاک سے لڑیں: سائنس اور ترقی کی دنیا کے لیے ، جمہوری دنیا کے لیے، مزید جمہوری دنیا کے لیے اور بہت مزید جمہوری دنیا کے لیے ۔۔۔۔ یعنی سوشلزم کے لیے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*