غزل

بھور کی سجیلی دھوپ
رس بھری رسیلی دھوپ

اوڑھ لی ہے دھانی شام
پہن لی ہے پیلی دھوپ

ملگجی ہتھیلی پر
ٹانکا ٹانکا سی لی دھوپ

آنکھ کے دریچے سے
جھانکتی ہے نیلی دھوپ

سانس سانس جھیلی ہے
رت جگے کی گیلی دھوپ

پربتوں سے اگتا چاند
ساحلوں کی سِیلی دھوپ

ہم نے اس زمستاں میں
ناخنوں سے چھیلی دھوپ

چھائوں ہو نہ چھتری ہو
جب پڑے کسیلی دھوپ

اس کا لیکھ ہے سورج
جس نے ساری پی لی دھوپ

ذرہ ذرہ چھانی ریت
خواب خواب جی لی دھوپ

تیری سوندھی سوندھی رات
میری ڈھیلی ڈھیلی دھوپ

شعر کے پرندے کو
سونپ دی ہے جِھیلی دھوپ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*