ممبر موچی

ممبر موچی صحن کے وسط میں پڑی کھاٹ کے آلے دوالے دوڑ لگا رہا تھا ،موچن جھاڑو اٹھائے پیچھے پیچھے تھی۔ موچی کہیں اٹکتا تو وہ بھی تھوڑے فاصلے پر رک جاتی ،دھمکی آمیز انداز میں جھاڑو گھماتی رہتی۔ پورا دھیان رکھتی کہ جھاڑو موچی کو نہ لگے۔ ڈر کا رہنا اچھا ہوتا ہے ۔سر پڑے تو پھر سہہ بھی لی جاتی ہے۔گھر کے اندر بکھرے کچھ بچے اور کچھ جوانی کے حدوں کو چھوتے ہوئے ذرا کچے پکے، کھی کھی ہنستے اور پھر کندھے اچکا کر لاتعلقی سے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔۔۔” اوہ ربا! اس اللہ دتے کے مگج میں ذرا سی عقل بھی فٹ کردیتا ” ۔اللہ دتا المعروف ممبر موچی کی بیوی نے آسمان کی طرف دیکھ کر ایسے دہائی دی جیسے اپر فلور میں رہتے کسی کرائے دار کو حقداری سے صدا دیتے ہیں۔جوان ہوتا ہوا ٹانڈا سا بیٹا سبزی کے ٹوکرے کے پاس دھرنا مارے بیٹھا گلی سڑی سبزی الگ کر رہا تھا۔
ٹانڈا بیٹا ٹھوڑی پر ٹاوے ٹاوے سے نوخیز داڑھی کے بال اگائے ، مونڈے سر کے اطراف صافہ لپیٹے ، مونچھوں کا رواں ہمہ وقت مڑوڑنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ کسی مدرسے میں زیرتعلیم علم کے نام پر جہالت، ہٹ دھرمی، بے رحمی بقدر ظرف سیکھ رہا تھا۔مدرسے کی دیواریں اتنی اونچی اور مضبوط تھیں کہ مدرسہ نہیں جیل خانہ محسوس ہوتا۔ دیواروں پر پلستر شاید بہیمیت سے کیا گیا تھا کہ اڑتے پرندے بھی عمارت کو بائی پاس کر جاتے اوپر سے نہ گزرتے۔ کھانا اور رہائش مفت تھی گھر آنے کی اجازت نہ تھی۔غربت کے ہاتھوں پریشان والدین اپنے خرگوش جیسے نازک ملائم بچے مدرسے جمع کرا دیتے اور پھر ملنے کی تڑپ لیے جیتے۔ سر پر دستار ہاتھ میں قران لیے جب جوان مدرسے سے نکلتے تو ان کی آنکھوں سے ٹپکتی درشتی اور اجنبیت میں مائوں کو اپنے جگر گوشے نہیں لہولہان خرگوش نظر آتے۔ ٹانڈے کو بھی موچن نے مدرسے داخل کرا کر اپنے تئیں ایک جوان ہوتے مسلے کا حل نکالا تھا۔ ٹانڈا بیمار ہونے کی وجہ سے ہفتے بھر کی چھٹی کو حیلوں بہانوں سے کئی ہفتوں پر گھسیٹ کر لے گیا۔اب گھر بھر کا قبلہ کعبہ سیدھا کرتا رہتا ۔گلے کے کنٹھ سے کان کھرچتی آواز نکال کر بولا: نہ اماں نہ! ابے کے پاس پہلے ہی بہت فالتو عقل ہے، ماشاللہ”..
ممبر موچی اس مکالمے سے حاصل شدہ وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جھاڑو تھامے ہاتھوں سے چائے کی پیالے کی آس لیے پیڑھی پر جم کر بیٹھ گیا ،سہمی ہوئی آواز میں بولا:
الحمدللہ ماشاللہ زیادہ ہونے لگے تو جانو بندہ صحیح نہیں یا پھر معاملہ کھراب ہے۔”
ٹانڈا کی بدن کی رگیں اٹھتی جوانی اور دماغ مدرسے کے استاد محترم کے جوش خطابت کی تبخیر سے کھولتا رہتا تھا، بولا: ” ایسی باتوں کی بے برکتی سے تو، تو ممبر نہیں بنتا نہ تیرے کھسے بکتے ہیں نہ زمیندار فصل کی فصل دانے گھر ڈلواتے ہیں۔۔ موچن نے بیٹے کی تان سے تان ملائی:”کئی بار کہا کہ بکسا اٹھا ، جا کر شہر کے بازار بیٹھ جا ،لنڈے بازار کے پاس ، ہاتھ میں ہنر ہے، پرانے جوتے کو نیا بنا دیتا ہے لیکن کہاں جی ! بلے بلے ان مردوں کی عقل پر ، زنانی کی کبھی نہیں سنیں گے کہ کہیں کوئی رن مرید نہ کہہ دے ۔خوار ہوتے رہیں گئے، ملک صاحب سے چوتڑوں پر چھتڑ کھاتے رہیں گے، لیکن رن مریدی نہیں کریں گئے ،اوہ اللہ! یہ اللہ دتا نہ ہی دیتا تو کونسا تیری خدائی میں کمی ہو جانا تھی“۔ موچن نے پھر سر اٹھا کر اپر فلور رہنے والے کو دہائی دی۔” رن مریدی کر لیں تو گھر کی کوئی صورت بن جائے بچے گلیوں کی کھے کھانے سے بچ جائیں "۔ اللہ دتا کو گھر کے دکھوں سے کیا غرض! شاید غرض تو تھی دکھوں کا مرہم کھیسے میں نہیں تھا۔ممبر موچی نے ہاتھ میں پکڑی روٹی کو چائے کے کپ میں ڈبو کر گیلا کیا اور آدھی روٹی دروازے ساتھ لگی بیٹھی کتیا کے سامنے ڈال دی ۔ہمدردی سے بولا: "چچ چچ! بیچاری کے دودھ پیتے بچے ہیں ، در در در در سہتی ہے ، مولوی کہتا کہ جس گھر میں کتا ہو فرشتے نہیں آتے۔ یہ سالے ملک صاحب کے گھر تو اندر باہر کتے ہی کتے اور بڑی بڑی گاڑیوں سے روج شوں شوں زوں زوں کرتے فرشتے بھی اترتے ہیں ،غریبوں ماڑوں کے گھر نہ کتے نہ فرشتے”۔ممبر موچی سوچتا رہا یا پھر بولتا رہا :”لوگ بہت دکھی ہیں نہ ملک جینے دیتا ہے نہ سالا ڈی ایس پی”۔ موچن تلملا کر بولی:” لوگوں کی تجھے بہت پھکر! اس نت رانڈ کتیا کی تجھے بہت پھکر !جو نت گھبن رہوئے، تجھ سے تو یہ اچھی جو ہر وقت اپنے کتوروں کی رکھ رکھیل کرے "۔موچی سمجھداری سے سر ہلاتے ہوئے بولا:” سالی کتی جو ہوئی صرف اپنے بچوں ہی کا کھیال کرے گی نا۔۔پھر ذرا وقفہ دے کر بولا : "سچی گل اے بندہ کتا ہو جائے لیکن سور نہ ہووے۔” موچن نے پھر اپر فلور رہنے والے کی طرف منہ اٹھا کر کہا: ” شکر اے مولا تو نے اسے دو حرف پڑھنے کی توفیق نہ دی ورنہ جانے کیسے کیسے چاند چڑھاتا،”. موچن تڑڑ تڑڑ ایسے بولتی جیسے پاپ کارن جلتی سطح پر پھڑک پھڑک اچھلتے:”اس ملک میں وہ ہی عزت سے رہتے ہیں جو منہ سے بھونکتے کاٹتے ہیں ،پچھاڑ سے دولتیاں مارنا جانتے ہیں ، عزت ان کی رکھیل ہے جو حق حلال کی اڑی چھوڑ کر شہر جاتی سڑک کے نکڑے ناکے لگاتے ہیں۔ رات دس بجے کے بعد کوئی گڈی موٹر سائیکل گزر کر تو دکھائے۔ملک صاحب ہو یا تیرا سالاڈی ایس پی یا فلاں فلاں صاب ہر ایک کا حصہ ان کے کچھار میں پہنچتا ۔ تیرے سور سالے آنکھیں موندے لپالپ کھائے جاتے ہیں، جیسے سالا باپ کا مال ہے۔”
اوئے اماں! تھوڑا بولیا کر ,ٹانڈا بولا : "عورت کی آواز دہلیز سے باہر نہیں جانی چاہیے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں”۔۔موچن نے جھاڑو پھینک جوتا اٹھا لیا۔گنجے کے سر پر اولے پڑتے ہی ہیں اب جوتے بھی دھن دھنا دھن دھن۔ٹانڈا بوکھلایاٹاٹ کا پردہ اٹھا کر باہر بھاگا۔ گلی میں جا کر خراماں خراماں چلنا شروع ہوگیا۔سامنے ہی دوسرا بھائی آرہا تھا ایک ذرا سا کھنکھورا مار کر بولا:” اوئے! گھر نہ جائی اماں پاگل ہوئی پڑی ہے۔” دونوں بھائیوں کا ایک جیسا حلیہ ایک جیسی شکل شبہاہت لوگ تو فرق کر ہی لیتے تھے۔ے موچی موچن اکثر ہی دھوکہ کھا جاتے۔سارے بچوں میں فرق بھی تو بمشکل سال بھر کا تھا۔ ” غریبوں کے پاس اور تفریح ہی کیا ہے! تفریح تو خیر سے اب گھر گھر سمارٹ فون کی صورت بھی موجود ہے۔ گھر روٹی ہو یا نہ ہو موبائل موجود ہے۔ٹک ٹاک، کلپ، کلک، ہی ہی، ہاہاہاہا ، وآئو ، نت نئے فیشن، اور وکھری انداز کے اکھ مٹکے ، دنداسہ،سرمہ ، مہندی کے لیپ, کانچ کی چوڑیوں کی چھن چھن، سب ہوا ہوئے۔ ٹاہلی تھلے پیار کی باتاں کرنے کی فرصت بھی کسی کے پاس نہیں رہی۔ ممبر موچی سوچتا رہا یا بولتا رہا: ” سالی سکرینوں پر ہی سب کچھ ہووئے، پینو مراثن کی رنگ رنگیلی تصویریں دیکھ کر کوئی بھولا پنچھی اسے بیاہ کر لے گیا ، رخصتی پر ماں باپ کم روئے یاروں نے زیادہ آنسو بہائے ، وہ بھی لک چھپ کر نہیں کھلم کھلا! لال سوہا لہنگا پہنے ، میک اپ ایسا جیسے سفید چونے پر لال مرچ پاوڈر چھڑکا ہو، مڑ کر دیکھا بھی نہیں ، سالی اڑنچھو ہوگئی ! تھی بھی لال مرچی، چگی داڑھی والے ہو یا بگی داڑھی والے سبھی سی سی کرتے پھرتے ، جب سے وداع ہوئی ہے گائوں میں برف سی پڑ گئی ہے۔” ممبر موچی شلوار کا کونا انگلی اور انگوٹھے کی چٹکی میں پکڑ کر کچی گلیوں میں سڑاند مارتے پانی سے بچ بچا کر گزر رہاتھا۔ یہ کثافت جیسے گائوں کی زندگی کا ایک حصہ تھی۔ پیدل ،موٹر سائیکل سوار، سائیکل سوار اس پر سے باریک تار پر چلتے نٹ کی طرح سالہاسال سے گزرتے آرہے تھے البتہ صاحبان کی گاڑیاں پانی میں سے لاپرواہی سے شڑاب شڑاب کرتی گزر جاتیں۔ ماسٹر کلیم کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا تھا۔ قریبی قصبے میں اس نے ہسپتال بنا لیا تھا۔ فیس زیادہ نہیں لیتا تھا کہ اس کے حصے میں غریب غربا ہی بچتے تھے، زیادہ فیس دینے والے تو ذرا سی چھینک آنے پر بھی لاہور بھاگے جاتے۔ اگر خدا نے سالے ڈاکٹروں کی دعا سے بیماری ذرا بڑی لگا دی تو فضل ربی سے پھٹاپھٹ ولایت پہنچ جاتے ، سالا انگریج سبزہ ساتھ لے گیا ، تھوہر دھرتی پر بو گیا۔ نہروں میں آکر دریا کے پانی کا کیریکڑ بھی کھراب ہوگیا ہے ، ٹھنڈیاں کھوئیاں کا پانی حیادار ہوتا تھا” ممبر موچی سوچتا رہا یا بولتا رہا۔”ماسٹر کا بیٹا گاو¿ں والوں سے فیس تو نہیں لیتا لیکن گائوں عیدی شبراتی ہی آتا ہے۔ وہ بھی اپنی لشکتی گاڑی پر گندے پانی سے گزر جاتا ہے۔ہر دس قدم کے بعد کوڑے کی ڈھیریاں تھیں جس پر پلاسٹک کے لفافے ہوا میں مست اڑتے پھڑپھڑاتے پھرتے ہیں۔ سبھی گندگی میں لتھڑے مینڈکوں کی طرح حال مست موج مست تھے۔ ممبر موچی حال زار پر کڑھتا ،سڑتا، جلتا بھنتا ، سوچتا یا بولتا گائوں کے باہر ذرا بلندی پر بنائی دو ایکڑ پر پھیلی کوٹھی کی طرف بڑھتا گیا۔کوٹھی میں سارا سال کتے اور نوکر رہتے تھے ۔ہاں جب مرنا پرنا ہو یا الیکش سلیکش ہو تو ملک صاحب اور ان کے گھر والے بھی کوٹھی میں پائے جاتے تھے۔ ملک صاحب کی تین برخوردارنیاں تھیں۔ دو اونچے سیاسی خاندانوں میں بیاہی ہوئی تھی۔ تیسری کا بھی نکاح کسی سیاسی خاندان بھی ہوا تھا ۔ہر داماد مختلف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا تھا اور تعلق کون سے دائمی تھے! الیکشنوں کے نزدیک ٹوٹتے جڑتے ادل بدل ہوتے رہتے۔ ملک صاحب نے تو بیٹیوں کے بل بوتے کل جماعتی اتحاد بنا رکھا تھا۔تاش کے پتے پھینٹتے رہتے تھے گیم اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔گیم کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے زوجہ محترمہ سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔کئی بار ادھ ادھورے نکاح کر چکے تھے۔ خیر حلالہ تو مسز ملک نے بھی کئی بار کیا لیکن منہ دکھائی میں ہمیشہ ملک صاحب کے لیے وزارت کی سیٹ ہی لی۔ممبر موچی چٹکی میں شلوار پکڑے اور سوچتا یا بولتا ہوا ملک صاحب کی کوٹھی کے آسمانوں کو چھوتے گیٹ کے سامنے تھا۔اس گیٹ کے جاہ جلال کے سامنے تو اچھے اچھوں کا پتا پانی ہو جاتا تھا۔ممبر موچی کے پیٹ میں بھی مروڑ سے اٹھے "رب! خیر کرے "۔
ممبر موچی اچھا کاریگر تھا. کھسے اور زری کی چپلیں بنانے کا ماہر تھا۔آرڈر پر کام کرتا تھا۔ کھسے تو اب شادی بیاہ پر بھی کم ہی لیے جاتے ۔ لڑکیاں کپڑوں سے میچنگ کھسے لیتی بھی ہیں تو گتے کے بنے ہوئے گھٹیا کوالٹی کے جوتے ، جن کو نہ دیکھنے میں چس آئے نہ پہننے میں ، لیکن اب معیار کون دیکھتا ہے ! غیر معیاری ہی مارکیٹ میں چھائے ہوئے، چاہے انسان ہوں کہ چیزیں۔ اللہ دتا موچی کے پاس راشن نہ سہی وقت وافر تھا ،پریم، پریت، لگن ،لگائو سے ایک جوڑا جوتے پر کئی مہینے لگا دیتا۔خریدار کا انتظار کرتے چمڑے کا جوتا اور موچن دونوں اینٹھ جاتے۔ ایسے پریم کو چولہے میں ڈالنا جس سے شکم کی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ اللہ دتا کی بیوی صرف زبان کی نہیں ہاتھوں کی بھی طرار تھی۔اللہ دتا کو بھی ٹھوک بجا رکھتی۔ روزی رزق کا بھی کوئی نہ کوئی وسیلہ بنائے رکھتی تھی۔ سیاہ رنگت تیکھی ناک میں نتھلی ، ذرا سیاہ پڑی سنہری جھمکیاں کانوں میں ہلوڑے لیتی رہتیں۔ لاتعداد بچوں کے باوجود کمر پتلی اور بھاری لچکیلے سرین وہ کسی ماہر فن کے ہاتھوں ڈھلی صراحی کی مانند تھی۔ روٹی روزی کا سلسلہ چل ہی رہا تھا، ایسے برے حالات بھی نہ تھے کہ گائوں کے لڑکوں نے مل ملا کر کچھ انوکھی کی۔
گائوں کے لونڈے سدا کے لپاڑی ، اصیل مرغوں کی طرح گلی گلی بانگیں دیتے ،چونچیں لڑاتے پھرتے۔ خاندانی پیشے اپنانے میں ہیٹی محسوس کرتے ، بس زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے۔انھوں نے اللہ دتا کو سکھا پڑھا دیا کہ تم جیسے درد دل رکھنے والے ہی کو ممبر بننا چاہیے۔یہ سارے چودھری، ملک، ٹوانے رائے، راجے ، کھگھے کاٹھیے لنگڑیال مخدوم شخدوم بس اپنے بندے ہی منتخب کرواتے ہیں۔ مہنیوال سارا سال گائے بھینسں چراتے اور دودھ دوہنے کے لیے سالا کیدو! الیکشنوں میں ایک ووٹ کا پانچ دس ہزار دے کر ٹرخا دیتے ہیں ، اب ہم اپنا بندہ لائیں گئے ، ہم جتوائیں گے تمہیں !اگر ہار بھی گئے تو بھی بازی مات نہیں، ووٹ کا ریٹ تو بڑھے گا نآآآ ! پھر لڑکے بالوں کے ہاتھ شغل لگ گیا۔ متوقع الیکشن کی آس میں روز جلوسیاں سی نکلنے لگیں۔”ممبر موچی آوئے ہی اوئے , ممبر ساڈا شیر اے باقی ہیر پھیر اے ,ممبر ساڈا یار اے باقی سارا بیوپار اے۔”
ممبر موچی نعروں پر سر دھنتا ہوا رات گئے جب گھر میں قدم رکھتا تو گھروالی جھاڑو ہاتھ میں لیے استقبال پر موجود ہوتی۔جوتوں سے اولاد کی کھینچائی تو کرتی لیکن ممبر موچی کے لیے جھاڑو ہی مختص تھا۔ الیکشن کا اکھاڑہ لگنے والا تھا ،کچھ نوری نت اور کچھ مولاجٹ تھے کچھ پہلوان ہائر کیے گئے تھے جنھوں نے نوری کشتیاں لڑنا تھیں ،کچھ نے ایڈوانس رقم وصول کی، کچھ کا معاوضہ جیت کے بعد طے ہوا۔ سارے کینڈی ڈیٹ اچانک سے ملنسارہوگئے تھے۔غمی شادی پر پہنچ جاتے۔ملک صاحب نے تو کمال ہی کردیا اچھو قصائی کے گھر نومولود کی مبارک دینے پہنچ گئے۔اچھو کا تو تراہ ہی نکل گیا کہنے لگا ملک صاحب خیر تے ہئے ! کوئی غلطی شلطی ہوگئی تو مجھے اشارہ کرتے میں آپ کے گلٹیر سے زیادہ پھرتی سے آپ تک پہنچ جاتا ۔ اچھو پہلوان نے ترچھی نظروں سے ملک صاحب کے پاس شہزادے کی سی شان سے کھڑے لشکتے شکاری کتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"اوہ ،نہیں یار ! سوچا تیرے کاکے کی مبارک دے آئیں ”
ایک "یار” کہنا پھر پانچ ہزار کا ووٹ مٹھی دبانا اچھو قصائی کا دھیان بے شک ویلیں سمیٹتے ٹھمکے لگاتے نصیبو زنخے کی طرف گیا ۔لیکن نوٹ اس نے مٹھی میں دبا کر چپکے سے جیب میں ڈال لیا۔ملک جی ! میری نسلیں آپ کی نمک خوار ہیں ،کاکا بھی آپ کا خادم ،ہمارے تو جماندرو ہی ہاتھ بندھے ہوتے ہیں سرکار ! ، میں قربان! آپ نے اتنی زحمت کی۔”ملک صاحب واری واری جاتے اچھو قصائی کو نظرانداز کرتے اگلے گھر بڑھ گئے۔
ملک صاحب الیکشنوں میں مصروف تھے۔ بیٹی کے سسرال والوں نے نکاحی بیٹی کی رخصتی پر اصرار شروع کر دیا۔ جدی پشتی گدی نشیں خاندان تھا، پھر چپڑی اور دو دو، خیر سے داماد امریکن نیشلٹی ہولڈر بھی تھا۔ملک کی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے شادی کی تیاریوں کا شورشرابا مسز ملک کے کندھے پر آ پڑا۔ وہ داماد سے ہمیشہ انگریزی میں بات کرتی تھی۔ انگریزی میں بول چال میں مہارت ہی عام طور پر اعلیٰ تعلیم تصور کی جاتی ہے ، ڈگری کا کیا ہے! کلک کرنے کی دیر ہوتی ہے ،ادائیگی ہوجاتی اور ڈگری سیو آئٹم میں محفوظ ہوجاتی۔ داماد سے ہاتھوں ، آنکھوں اور بھنوئوں کی کتھا کلی کے ساتھ گفتگو رہتی ۔”مائی ڈارلنگ پرنسس نے کبھی خود اٹھ کر پانی کا گلاس تک نہیں اٹھایا "۔ داماد نے کہا:”امریکہ میں تو سبھی اپنے ہاتھ سے اپنے کام کرتے ہیں۔”
مسز ملک چمک کر بولی : ” امریکہ رہنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم پاکستانی قدریں بھول جائیں ،ہم خاندانی لوگ ہیں کمی کارے نہیں۔” ابھی مسز ملک کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ کمی کارا آن پہنچا تو اسے پاو¿ں کا ناپ لینے کا حکم دیا۔ ممبر موچی نے پنسل سے کاغذ پر پیروں کا خاکہ اتارا پھر داماد تو اٹھ کر اپنی منکوحہ کے کمرے میں تشریف لے گیا ،مسز ملک غائب دماغی سے کھسے کے ڈیزائن اور میٹریل کے بارے بتانے لگی لیکن ذہن داماد کے جملے پر ہی اٹکا ہوا تھا، ممبر موچی کو سٹینڈ بائی رکھ کر کسی دوست کا نمبر سیل فون پر لگا کر دل کے دکھڑے سنانے لگی :”جیسے میں جانتی نہیں ہوں امریکہ کو۔ اونہہ سور کھانے والے! ہم امت محمدی ہیں، خاص دین والے ، ہماری بخشش کرانے والے ہمارے شفاعت کرنے والے ۔۔ مسز ملک پر رقت سی طاری ہوگئی اس نے اپنی انگلیوں کو چوم کر انگلیاں بھیگی آنکھوں سے لگائی۔”اوہو!۔۔۔اتنے سارے کام ہیں ملک صاحب کو تو ملک و قوم کے درد لگے ہوئے ہیں،میلاد بھی تو کروانا ہے تاکہ مقدس کتاب کا میری بیٹی کے سر پر سایہ رہے،میلاد کے بھی لمبے چوڑے انتظام ہوتے ہیں ،نعت خوانی کے لیے کسی کو اچھے سریلے گلے والی کو جانتی ہو؟ ذاکرہ مومنہ اور اس کی بیٹی کو فون کرتی ہوں ، ان کی تو مہینوں پہلے بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ ریٹ تو زیادہ ہے لیکن محفل جما دیتی ہیں۔” ممبر موچی ہونق سا بیٹھا ملکانی کو دیکھتا رہا کہ ملکانی کی نظر بھی قالین پر دوزانو بیٹھے موچی پر پڑ گئی۔ فون بند کر کے ممبر موچی سے کہنے لگ:۔ اوہ مائی گاڈ! ایکچوئیلی ملک صاحب مصروف ہیں سارے کام ہی میرے ذمے ہیں ورنہ یہ بیٹیوں والا گھر ہے اس گھر میں ملک صاحب اپنے علاوہ دوسرا مرد برداشت نہیں کرتے چاہے کتا ہی کیوں نہ ہوں۔ سارے کتے باہر مردانے میں رکھے ہوئے ہیں۔ گائوں کی اس حویلی میں کبھی کبھار ہی آنا ہوتا ہے۔ایک بار یونہی بےبی نے پیٹ رکھنے کی فرمائش کی ،ملک صاحب نے اپنے بریگیڈیر دوست کے فارم سے جرمن شیفرڈ منگوا دیا لیکن بچ ،اب ہر سال اس کی زچگیاں بھگتتے ہیں۔پپیز آئی مین کتوروں کی تو پیشگی بکنگ ہو جاتی ہے۔ یو نو ! ملک صاحب اتنے قیمتی کتورے لڈوئوں کی طرح بانٹتے رہتے ہیں، بیٹے کے لڈو بانٹنے کی تو حسرت ہی رہی ورنہ ملک صاحب نے سو سو جتن کیے،” ممبر موچی نے سمجھداری سے سر ہلا کر جواب دیا! جی میڈیم ! سو تو نہیں تین چار سے تو میں بھی واقف ہوں۔۔”
اوہ شٹ اپ ! تم کمی لوگوں کو منہ نہیں لگانا چاہیے ،
کھسے بنانے کا آرڈر دیا ہے،تجھے نئے پاکستان کا نہیں کہ ادھر ہی سمادھی لگا کر بیٹھ گیا ہے !
ممبر موچی دونوں ہاتھ جوڑ کر بولا: "جیویں اکھو! بندہ تے نوکر اے،لیکن مدت گجر گئی سالے اورزاروں کو ہاتھ نہیں لگایا پر جیویں اکھو! بندہ تو نوکر اے۔”
اچھا بہت نخرے نہ کر گندم کی بوری شام گھر پہنچ جائے گی اپنی مہارانی کو بولنا کبھی چکر لگا جائے شادی والا گھر ہے سو کام ہوتے ہیں۔”
ممبر موچی ممنایا :”مہارانی کدھر ہے جی ! سالی بائولی کتی ہے ۔سارا دن بھونکتی ہے لوگوں نے تو دروازے کے سامنے سے گزرنا چھوڑ دیا , سالا درواجا کہاں رہا جی ، ٹاٹ کا پردہ ہوا میں جھولتا ہے۔لیکن سارا گراں سبزی مہارانی سے ہی لیتا ہے۔سودا کھرا دیتی ہے ،سویرے جب سبزی اڈے سے اٹھانے کے لیے نکے کاکے کو کمر پر باندھ کر ریہڑے پر بیٹھ کر کھوتے کی لگامیں کھینچتی تو گدھا نہیں رہتا سالا عربی گھوڑا بن جاتا ہے،مہارانی تو ایسے دکھے ہے جیسے ملکانی کالی عینک لگائے کالی گڈی پر بیٹھی اڈی اڈی جاوے۔”مسز ملک کی غصے سے لال ہوتی آنکھیں دیکھ کر سٹپٹا کر چپ تو ہو گیا پر ممبر موچی کے لیے زیادہ دیر چپ رہنا ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کی زبان کو تو اسہال لگے تھے۔ ڈیزائن والا میگزین کو صافے میں لپیٹ بغل دبا کر اجازت کے لیے دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑا رہا۔ مسز ملک نے سیل فون پر پھر کسی کا نمبر ملا لیا تھا، اچٹتی نظر ممبر موچی پر ڈالتے ہوئے اسے اجازت عطا کردی۔ ممبر موچی نے شلوار کا کونا پھر دائیں ہاتھ کی چٹکی میں پکڑا پھر اپنی نٹ چال چل پڑا۔اس کا آنا اور جانا ہوا کا جھونکا تھا کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا۔
گھر پہنچنے سے پہلے ہی گلی ہی میں لڑکوں نے گھیرلیا ؛ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، موچی ہونے یہ مطلب تو نہیں کہ بندے کے پاس گیرت ہی نہ ہووئے’ خیرو نائی کا بیٹا تلملا کر بولا۔ مستری ممدو کے بیٹے نے لمبا جانگیا اور ٹی شرٹ جس پر کسی سندر چہرے کی شبیہ تھی ، پہن رکھی تھی۔ ٹی شرٹ کمر کی طرف آتے آتے ذرا جلد ختم ہوجاتی تھی۔ پولیسٹر کے لچکدار کپڑے میں اس کے اثاثے جھولتے نظر آتے تھے۔کسے پرواہ تھا! سالے باپ کا تہمد کون سا زیادہ پردہ دار تھا کہ نئے زمانے کو دوش دیں۔ممبر موچی لڑکوں کے گھیرے میں کھڑا سب کو بغور دیکھ رہا تھا۔اسہال زدہ زبان ذرا تھمی ہوئی تھی۔ وہ اب محض اللہ دتا موچی نہیں ممبر موچی بھی تو تھا۔مستری ممدو کے بیٹے نے غصے سے لال اور اپنے لمبے جہانگیے میں ذرا اکڑتے ہوئے پوچھا : ” سچ سچ بتا کہیں تو ملک صاحب سے ڈیل تو نہیں کر آیا؟” ڈیل کا لفظ سنتے ہی ممبر موچی کی جاتی ہوئی عزت پھر پلٹ آئی۔ بغل میں ڈیزائنوں والے میگزین کو ذرا اور دبا لیا، اپنی چٹکی کھول کر شلوار کو آزاد کیا ، شہادت کی انگلی لبوں پر رکھ کر چپ کا اشارہ کرتے ہوئے بولا:۔منڈیو ! اب اپنے گھروں کو جائو رات کو بوہڑ والے کھالے کی منڈیر پر بیٹھ کر اجلاس کریں گے۔ساری باتیں دن دہاڑے تو نہیں کی جاسکتیں نا! چلو چلو شاواش گھراں نوں جائو, ماواں جان کو روتی ہوں گی۔“۔ یہ کہہ کر موچی پڑے طمطراق سے گھر کی طرف چل پڑا ۔شلوار کو پھر سے چٹکی میں پکڑنے کا خیال ہی نہیں رہا تھا۔گندے پانی کے چھنٹوں نے پہلے سے داغدار شلوار کو مزید داغ دار کر دیا۔ چاروں اور لہراتے جھاڑو کی سائیں سائیں تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*