جارجی دیمتروف

اگر میر ی یہ درخواست بھی مسترد کردی جاتی ہے تو میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا کہ خود ہی اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اپنا دفاع کروں۔
اب چوں کہ عدالت نے وکیلِ صفائی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے میری آخری درخواست بھی مسترد کردی ہے۔ اس لیے میں نے اب اپنا دفاع خود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ مجھے سرکار کی طرف سے مقرر کردہ وکیلِ صفائی کی نہ تو چکنی چپڑی باتوں کی ضرورت ہے اور نہ میں اس کی زہرافشانی کا بوجھ اٹھانا چاہتا ہوں ۔ میں اس مقدمہ کے دوران اپنا دفاع خود ہی کرتا رہا ہوں۔ اس لیے یہ قدرتی امر ہے کہ میں سرکاری طور پر مقرر کردہ وکیل صفائی کی تقریر جو اس نے میری صفائی میں کی ہے کا پابند نہیں ہوں۔ میں صرف ان باتوں کا پابند ہوں جو میں نے خود اپنے دفاع اور صفائی میں اس عدالت کے رو برو کہی ہیں۔ میں ٹارگلر کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لیے کہ میرے نزدیک اس کا وکیلِ صفائی پہلے ہی اس کو سخت ناراض کرچکا ہے ۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے یقین ہے کہ بے گناہ ہونے کے باوجود مجھے موت کی سزا سنا دی جائے گی۔ اور پھر جس طرح کی صفائی ٹارگلر کے لیے اس کے سرکاری وکیل صفائی ڈاکٹر سیک نے پیش کی ہے اسی قسم کی صفائی میرے لیے پیش کی جائے گی اور اس کی بنا پر مجھے بری کردیا جائے گا۔
پریذیڈنٹ: ( مداخلت کرتے ہوئے )آپ کو عدالت پر نکتہ چینی اور اس کی نیت پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
دیمتروف : مجھے تسلیم ہے کہ میرا انداز بیان درشت اور کرخت ہے لیکن میری زندگی کی پوری جدوجہد کا یہ انداز رہا ہے اور یہ جدوجہد بھی کرخت اور درشت رہی ہے۔ لیکن حقیقتاً میرا اندازِ بیان سچائی پر مبنی ہے۔ میں سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ کہنے کا عادی ہوں۔ میں کوئی وکیل نہیں جو پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری کے لیے اس عدالت کے رو برو پیش ہورہا ہو۔
میں ایک کمیونسٹ کی حیثیت سے اپنی صفائی پیش کررہاہوں۔
میں اپنے سیاسی وقار کا دفاع کررہا ہوں، ایک انقلابی کے بطور اپنے وقار کا دفاع کررہاہوں۔
میں اپنے کمیونسٹ نظریات اور آدرشوں کا دفاع کررہا ہوں۔
میں اپنی پوری زندگی کے کام اور اس کی اہمیت کا دفاع کررہا ہوں۔
انہی وجوہات پہ ہر لفظ جو میں اس عدالت میں اپنے لبوں سے ادا کرتا ہوں وہ میری زندگی کا ، میرے جسم کا، میری رُوح کا حصہ ہے۔ ہر حکم اس شدید نفرت کا اظہار ہے جو ان جھوٹے الزامات کے خلاف میرے اندر جنم لے رہی ہے کیوں کہ یہ الزامات جھوٹے ہی نہیں بلکہ یہ کمیونزم کے نظریے کے منافی ہیں۔ پارلیمنٹ کو نذر آتش کرنے اور اس کو کمیونسٹوں کی ذمہ داری ٹھہرانے سے بڑا جھوٹ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔اس کے خلاف جتنے غم و غصے کا بھی اظہار کروں ،وہ کم ہے۔
بارہا میری اس امر کے لیے سرزنش کی گئی ہے کہ میں جرمنی کی سب سے بڑی اور اعلےٰ عدالت کا پورا پورا احترام نہیں کرتا اور سنجیدگی سے پیش نہیں آتا۔ لیکن یہ صریحاً غلط ہے۔
یہ صحیح ہے کہ میرے لیے بحیثیت کمیونسٹ اعلیٰ ترین قانون کمیونسٹ انٹرنیشنل کا پروگرام ہے اور میری سپریم کورٹ کمیونسٹ انٹرنیشنل کا کنٹرول کمیشن ہے۔
لیکن ایک ملزم کی حیثیت سے میرے لیے جرمنی کی یہ سپریم کورٹ بہت اہمیت رکھتی ہے اور میں پوری سنجیدگی سے اس کی کاروائی میں حصہ لیتا ہوں۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس عدالت عالیہ کے اراکین قانون کے بہت بڑے ماہر ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ یہ جرمنی کے ریاستی اقتدار کا اہم ترین ڈھانچہ ہے۔ میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس عدالت میں جو بھی کہا ہے وہ سچ اور صرف سچ کہا ہے ۔ جہاں تک میری پارٹی کا تعلق ہے جس کو انڈر گراﺅنڈ ہونے پر مجبور کردیا گیا ہے ، اس کے بارے میں میں نے کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیا ۔ میں نے ہمیشہ سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کی ہے اور میں نے ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز اور اپنے عقائد کا اظہار کیا ہے۔
پریذیڈنٹ : میں آپ کو عدالت میں کمیونسٹ پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ آپ مسلسل اس امر کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اگر آپ باز نہیں آ ئیں گے تو میں آپ کو بیان دینے سے روکنے پر مجبور ہوجائوں گا۔
دیمتروف : میں اس امر سے انکار کرتا ہوں کہ میں کسی قسم کا پروپیگنڈہ کررہا ہوں۔ ممکن ہے یہ بات کسی حد تک صحیح ہو کہ اس عدالت میں میرا دفاع اور میری صفائی میں کسی حد تک پروپیگنڈے کا شائبہ ہوتا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس عدالت میں میرا روّیہ دوسرے کمیونسٹ ملزموں کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہو لیکن میرا یہ مقصد نہیں ہے ۔ میرے مقاصد تو فقط یہ ہیں کہ
* فرد ِجرم کو جھوٹا ثابت کروں۔ اور
* اس الزام کو غلط ثابت کروں کہ دیمتروف ،ٹارگلر، پاپوف اور تانیف ، جرمن کمیونسٹ پارٹی ،یا کمیونسٹ انٹرنیشنل کا پارلیمنٹ کو نذر آتش کرنے میں کوئی ہاتھ ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ بلغاریہ میں کوئی شخص بھی ان الزامات کو سچ نہیں مانتا۔ بلغاریہ کے عوام کو اس امر کا پورا پورا یقین ہے کہ پارلیمنٹ کو آگ لگانے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ صرف بلغاریہ ہی نہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی ان الزامات کی صداقت میں یقین نہیں رکھتا ۔لیکن جرمنی کے اندر کی صورت حال بالکل مختلف ہے اور ممکن ہے یہاں کچھ لوگوں کو ان الزامات کی صحت کے بارے میں باور کروا دیا گیا ہو ۔ اس لیے میرے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ میں یہ ثابت کر دکھائوں کہ جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کا اس گھنائونے جُرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اگر پروپیگنڈے کی بات ہی کرنی ہے تو پھر میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس عدالت میں اوروں نے بھی بہت سی ایسی باتیں کہی ہیں جو صرف پروپیگنڈے کے لیے تھیں۔ گوئیبلز اور گوئرنگ کے عدالتی بیانات جو انہوں نے اپنی طرف سے کمیونسٹ پارٹی کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے دیے تھے ،پروپیگنڈہ نہ تھا تو کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اُن کے اس پروپیگنڈے نے جرمن کمیونسٹ پارٹی کے حق میں ہی فضا سازگار کی ہے لیکن اس کے لیے میں ان کی سرزنش نہیں کروں گا۔
( عدالت میں اس پر قہقہہ بلند ہوا)
جرمنی کے اخبارات اور پریس نے صرف میرے خلاف ہی الزامات کا طومار نہیں باندھا ۔ گو اس طومار کی مجھے کوئی خاص پرواہ نہیں بلکہ میرے حوالے سے بلغاریہ کے عوام کو بھی وحشی اور درندے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مجھے بلقان کی ایک مشتبہ شخصیت کے طور پرپیش کیا گیا ۔ مجھے ایک غیر مہذب اور وحشی بلغاریہ کا باشندہ پکارا گیا ہے۔ میں اس یاوہ گوئی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
یہ درست ہے کہ بلغاریہ میں اس وقت جو فاشسٹ حکومت قائم ہے وہ وحشی بھی ہے اور درندہ بھی ۔ لیکن بلغاریہ کا محنت کش طبقہ یعنی کسان، مزدور اور دانش ور نہ جاہل ہیں اور نہ اُجڈ ۔
یہ ٹھیک ہے کہ جزیرہ نمائے بلقان کی تہذیب یورپ کے مختلف ملکوں کے مقابلے میں زیادہ شان دار نہیں ہے لیکن روحانی اور سیاسی اعتبار سے بلغاریہ کے عوام یورپ کے کسی بھی ملک کے عوام سے پیچھے اور پسماندہ نہیں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بلغاریہ کے عوام کی سیاسی جدوجہد اور سماجی تبدیلی کے لیے ان کا جوش اور ولولہ کسی دوسرے ملک کے عوام کے سیاسی شعور اور جوش و خروش سے کم نہیں ہے۔بلغاریہ کے عوام نے پورے پانچ سو سال تک غیر اقوام کے محکوم رہنے کے باوجود نہ تو اپنی زبان کو خیر باد کہا اور نہ اپنی قومی روایات کو فراموش کیا ۔اور جو عوام ، جو محنت کش آج فاشزم کے خلاف نبرد آزما ہیں وہ جاہل، اجڈ اور وحشی نہیں ہوسکتے۔ صرف بلغاریہ کا فاشزم جاہل ہے، اجڈ ہے اور وحشی ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کس ملک کا فاشزم وحشی اور درندہ نہیں ہوتا۔ کہاں کا فاشزم اجڈ اور جاہل نہیں ہوتا؟۔
پریذیڈنٹ: ( مداخلت کرتے ہوئے) کیا آپ جرمنی کی صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟
دیمتروف: (طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ) یقینا میں ایسا نہیں کررہا ۔ لیکن مسٹر پریذیڈنٹ ! ۔یہ تاریخ کا ایک مسلمہ واقعہ ہے کہ بہت مدت پہلے جرمنی کے بادشاہ کارل پنجم نے حلفاً کہا تھا کہ وہ جرمن زبان صرف اپنے گھوڑوں سے بولتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب جرمنی کے امرا ، رئوسا اور دانش ور صرف لاطینی زبان بولتے اور لکھتے تھے اور اپنی مادری زبان بولنے اور لکھنے پر شرم محسوس کرتے تھے۔ تو اُسی دور میں ہمارے بزرگ سیرل اور میتھوڈیس بلغاریہ زبان کا پرانا رسم الخط ایجاد کررہے تھے اور اُس کی تشہیر میں مصروف تھے۔
بلغاریہ کے عوام نے کمالِ جرات ، بہادری ، جوش اور استقلال کے ساتھ بیرونی آقائوں کے خلاف جہاد کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں بلغاریہ کے عوام پر ہر قسم کے ناروا حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا ہوں۔ مجھے اپنے بلغاریہ کا باشندہ ہونے پر کسی قسم کی ندامت نہیں ہے ۔بلکہ مجھے بلغاریہ کے محنت کش طبقہ کے ایک سپوت ہونے پر فخر ہے۔
میں تیخرٹ کے اس دعوے سے شروع کرنا چاہتا ہوں جس میں اُس نے ہم پر الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ صورت حال کی تمام تر ذمہ داری ہمارے اپنے اوپر عائد ہوتی ہے۔ میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مارچ1933 کو جب ہم گرفتار کیے گئے اور جب ہمارا مقدمہ شروع ہوا تو اس دوران کافی وقت گزر چکا تھا۔ اس مدت میں ہر قسم کے شکوک کا ازالہ ہوسکتا تھا اور تحقیق وتفتیش کے لیے اچھی خاصی مدت میسر تھی۔ اس دوران تفتیشی عملہ سے میں نے پارلیمنٹ کو آگ لگائے جانے کے معاملے میں خاصی طویل نشستیں کی تھیں۔ ان افسران نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہم جو بلغاریہ کے باشندے اس میں ملوث ہیں اُن کا اس واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم پر صرف یہ الزام عائد ہوتا تھا کہ ہم جعلی ناموں والے پاسپورٹوں کی بنیاد پر جرمنی میں رہ رہے تھے اور ہم نے سرکاری کاغذات میں اپنے نام بھی درج نہیں کروائے تھے۔ یہ تھے ہم پر الزامات!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*