نظم کا مسیحا

نظم کہتی ھے
میں اس کے لئے بنی ھوں
میرا وجود اس کے بغیرمکمل نہیں ہوتا
مجھے گنگنانے پہ
اسے پابندی کا سامنا رہتا ہے
"سماج میں
عورت کی آزادی کا گیت ”
اس کے سوا کسی کو یاد نہیں
۔
شک کی چرخی گھماتے
بستر پہ تکیے سیدھے کرتی
عورت اسکو نظم سے چھین لیتی ھے

کانچ کے گلاسوں میں رات بھر
سسکیاں پھٹی پھٹی آوازوں میں بین کرتی ہیں
نظم دکھوں کا سوت کاتتے
گھنجلیں سلجھاتی
زیست کی
حبس زدہ گلیوں سے گزرتی
ننھی جانوں کی چونچوں کو ہرا رکھنے کےلئے
رزق کی پگڈنڈیوں پہ گرتی پڑتی
دکھ سہتی
حتمی فیصلے کا کونہ تھامے
زہر پھانکنے کو تھی۔
کہ نظم کا مسیحا بولا
"میں چکی میں پستا آٹا بنوں گا”
۔سنا ھے نظم اب
اسکی آنکھوں سے دیکھتی ھے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*