آئی ایم ایف اور اس کا اتحادی طبقہ

پاکستان کے تاجر دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں سے تیار مال منگواتے ہیں اور اپنے ملک میں فروخت کر کے دولت کماتے ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں سے جو مال منگواتے ہیں ان کی قیمت پاکستان کا سٹیٹ بنک اُس زرمبادلہ میں ادا کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ۔ سٹیٹ بنک کے پاس زرمبادلہ پاکستان کے تیار مال یا فارم زرعی اور معدنی پیداوار کو باہر کے تاجروں اور صنعتکاروں کے پاس فروخت کرنے سے آتا ہے ۔
چونکہ پاکستان کے تاجر سٹیٹ بنک کے پاس جمع شدہ زرمبادلہ سے زیادہ قیمت کا مال منگواتے ہیں اس لیے جو زرمبادلہ سٹیٹ بنک ادا نہیں کرسکتا وہ رقم پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف سے قرض لے کر دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں کو ادا کرتی ہے اور آئی ایم ایف سے قرض لی ہوئی جو رقم مقررہ مدت میں ادا نہیں کرسکتی اس رقم پر سود دینا پڑتا ہے ۔
آئی ایم ایف ایک قرض دینے والا عالمی ادارہ ہے جو دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں سے منگوائے ہوئے مال کی قیمت کی ادائیگی کے لیے مال منگوانے والے ملکوں کو قرضہ دیتا ہے ۔ آئی ایم ایف سے وہی ملک قرضہ لے سکتا ہے جو آئی ایم ایف کا ممبر ( شیئر ہولڈر ) ہو۔
پاکستان1947میں آزاد مملکت بنا اورر وہ 1948میں اقوام متحدہ کا ممبر بنا اور اسی سال آئی ایم ایف کے شیئر خرید کر اس کا ممبر بھی بنا ۔ممبر بننے سے اُس کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ اگر اس کے تاجر دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں سے مال منگوائیں اور اُس کے سٹیٹ بنک کے پاس اس مال کی قیمت ادا کرنے کے لیے زرمبادلہ نہ ہو تو پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف سے قرض لے کر دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں سے منگوائے ہوئے مال کی قیمت اداکردے ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے تاجروں کو زرمبادلہ سے زیادہ درآمد کرنے کی اجازت کیوں دے رکھی ہے ۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کی حکومت پاکستان کے سرمایہ د اروں اور اشیاءکی درآمد اور بر آمد کرنے والے تاجروں کی نمائندہ حکومت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے ان تاجروں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جو مال چاہیں درآمد کریں ۔وہ کاریں منگواتے ہیں ،سامان تعیش منگواتے ہیں اور تمام وہ مال منگواتے ہیں جسے پاکستان کے دولت مند افراد اور اونچے طبقے کے افراد خریدتے ہیں اور اس طرح دولت سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ یہ وہ مال ہے جس کی پاکستان کے 90 فیصد افراد کو ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے تاجر کھیلوں کا سامان اور زرعی خام مال (کپاس اور چاول) بر آمد کرتے ہیں اور اس بر آمدی تجارت سے جو زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے وہ سٹیٹ بنک کے پاس آتا ہے۔
پاکستان کے حکمرانوں کو ملک میں صنعتی ترقی کے لئے اس زر مبادلہ سے مشین اور مشینوں کے پرزے منگوا کر ملک کے زرعی خام مال کی ضرورت کی اشیا تیار کر کے پاکستان کے عوام کو فراہم کرنی چاہئیں۔ اور جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں انہیں دوسرے ملکوں کو برآمد کر کے زرمبادلہ کمانا چاہیے ۔ پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا یہی راستہ ہے ۔پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ صنعتی ترقی کا پروگرام بنائے اور کمائے ہوئے زرمبادلہ سے اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی منگوائے ۔
آئی ایم ایف کے واجب الادا قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کو 50سال کے لیے موخر کردے۔
دوسرے ملکوں سے ٹیکنالوجی کے علاوہ دوسرا مال منگوانا بند کردے اور اتنا ہی مال منگوائے جس کی قیمت کی ادائیگی کے لیے سٹیٹ بنک کے پاس زرمبادلہ موجود ہو۔ اس لائن کو اختیار کرنے سے پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں سے بچ جائے گا ۔ملٹی نیشنل سرمائے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے دباﺅ کا سامنا کرسکے گا۔
(نومبر1999)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*