کراچی اور گل حسن کلمتی

گل حسن کلمتی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ جب یہ اطلاع فیس بک سے ملی تو دل پر چوٹ سی لگی۔ ابھی تو فروری کے مہینے میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ ہسپتال سے آرٹس کونسل اپنی کتاب ”کراچی سندھ جی مارﺅی“ کے انگریزی ترجمے ”Karachi Glory of the East” کی تقریب پذیرائی کے لیے آئے تھے۔ تقریر بھی کی تھی۔ جب واپس جانے لگے تو کامریڈ واحد بلوچ نے مجھے ان کے قریب بلا یا۔ وہ بڑی شفقت سے پیش آئے۔ اگرچہ صحت اجازت نہیں دے رہی تھی مگر ہر ایک سے تپاک سے ملے۔ یہ ہے ایک بڑے انسان کی پہچان۔ ایسے لوگ چلے جاتے ہیں تو دُکھ کے ساتھ شدید احساسِ زیاں بھی ہوتا ہے۔ گُل حسن کلمتی با عمل دانشور، زمین سے جُڑے ہوئے سادہ فطرت، سچائی اور انسانیت کی فضا بنانے میں مصروف، ساری زندگی کی پونجی، ایسی کتابیں ہمیں سونپ کر چلے گئے جو صرف قیمتی اثاثہ ہی نہیں ان اثاثوں کی مستند دستاویز بھی ہیں جن میں سے بہت کچھ ہم نے کھو دیا ہے اور جو کچھ باقی رہ گیا ہے ان کی حفاظت کی امید آنےوالی نسلوں سے باندھی ہوئی ہے۔ کراچی کے اس سپوت نے اپنے شہر سے عشق میں کیسے کیسے پہاڑ کاٹے، ان کی کتابوں اور حیات کے مطالعہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ الفاظ کا ایک دریا موجزن ہے ان کتب میں جنھیں پڑھا ہی نہیں محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔
میرے سامنے ان کی کتاب Immortal Characters of Karachi بھی ہے۔ کیا انھیں خبر تھی کہ آنے والے وقتوں میں وہ خود Immortal ہو جائیں گے۔ یہ کتاب تو کراچی سے ان کے عشق نے لکھوائی تھی جس میں نفع نقصان کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس کتاب کا پیش لفظ جو انور ابڑو نے جو لکھا ہے اس میں سے چند جملے پیش گوئی بن گئے، ان کا ترجمہ یوں ہے :
”اگر گُل حسن ہر کام چھوڑ دیں اور صرف کراچی کی ایک جامع تاریخ لکھ دیں تو نہ صرف وہ خود سندھ کی تاریخ کے ایک غیر فانی کردار(Immortal Character) ہو جائیں گے بلکہ سندھ پر بھی بہت بڑا احسان کریں گے۔ ویسے وہ یہ کام بطور احسان نہیں کریں گے بلکہ سندھ کے عشق میں کریں گے اور جب آپ کسی سے عشق کرتے ہیں تو وہ احسان نہیں ہوتا۔“
شاید انور ابڑو کے علاوہ اوروں نے بھی گل حسن کلمتی سے ایسی ہی توقعات کا اظہار کیا ہو گا یا کراچی سے ان کی محبت اتنی شدید ہو گی کہ مزید اظہار چاہتی ہو گی جبھی انھوں نے وہ تفصیلی کتاب” سندھ جی ماروئی کراچی“ لکھی ،جس کا میں یہاں ذکر کررہی ہوں ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر امجد سراج میمن نے کیا ہے جسے Endowment Fund Trust نے حمید اخوند جیسے قدر شناس کی نگرانی میں شائع کیا ہے۔ سندھ کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنا اس ادارے کا بنیادی مقصد ہے۔ اس کتاب کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں سرسید احمد خان کی کتاب ”آثار الصنادید“ کی یاد جاگی جو انھوں نے دہلی کی تباہ ہوتی عمارتوں کے آثار کو محفوظ کرنے کے لیے بہت محنت سے باتصویر مرتب کی تھی۔ ”دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب“۔۔۔کراچی جو ایک شہر ہے عالم میں انتخاب۔۔۔ دونوں شہروں کی وہ تعمیرات جوان کا امتیاز تھیں،ان کا اجڑنا قدرِ مشترک ہے ۔ ماضی کے کراچی کے آثار تیزی سے مٹے، ایسے مٹے کہ گل حسن کلمتی کو میدانِ عمل میں بھی آنا پڑا۔ ہاﺅسنگ سوسائٹی بنانے کے لیے اس شہر کے ساتھ وہ ظلم ہوا جس نے دہلی اجاڑنے والوں کی یادیں تازہ کیں۔ کیرتھر پہاڑیوںکا دامن جہاں کیرتھر نیشنل پارک میں، میں نے بھی آئی بیکس دیکھے تھے، محفوظ رہ سکے گا یا اپنے باسیوں کے ساتھ کتابوں میں تصویر کی صورت رہ جائے گا ؟گل حسن کلمتی جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس شہر کے قدرتی وسائل اور فطری حسن کو محفوظ کرنے پر خرچ کر رہے تھے، آخری عمر میں بھی خرابی صحت کے باﺅجود ایک مرتبہ پھر باوفا عاشق کی طرح صیاد کے مقابل آگئے۔ ایسا کرنا بہت فطری تھا کہ وہ اس زمین سے کبھی دور نہیں رہے جسے اجاڑا گیا ۔ نتیجہ کیا ہوا،ان کی کاوشیںضرور محفوظ ہیںجن میں واضح نشاندہی ہے کہ کیا لُٹ چکا ہے، کیا لُٹنے سے بچانا ہے۔ حالات کے ماتم اور نوحہ گری سے بالاتر ہو کر وقت کے جامے کی بخیہ گری اب ہمارا فرض ہے۔
Karachi Glory of the East وہ کتاب ہے جس میں شہر کے ماضی وحال کو گُل حسن کلمتی کے قلم نے لافانی کر دیا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ امر جلیل جیسے صاحب اسلوب، قلم کار و دانشور نے لکھا ہے۔ امر جلیل کے ذہن میں کتاب کے مندرجات نے وہ ہلچل مچائی اور دل میں وہ دھڑکنیں جگائیں جنھوں نے شہر سے خود ان کی محبت کی داستان لکھوا دی۔ وہ اپنے بچپن کے کراچی کے چوراہوں، عمارتوں، بازاروںغرض تمام مقامات پر اس طرح سرگرداںنظرا ٓتے ہیں کہ رسمی پیش لفظ کو بھول جاتے ہیں۔ ان تبدیلیوں پر نالاں ہوتے ہیں جو عمارتوں، راستوں اور چوراہوں کے نام بدل کر کی گئی ہیں۔ اس حسن کو تلاش کرتے ہیں جو شہر کی پہچان تھا۔ اس رنگا رنگی کو ڈھونڈتے ہیں جو یہاںکی متنوع کمیونٹی نے بڑی اعلیٰ جمالیات کے ساتھ سجائی تھی۔
امر جلیل اور گُل حسن کلمتی سے میری عقیدت کی وجہ اس شہر سے میرا اپنا عشق بھی ہے۔ گل حسن کلمتی جنھوں نے ملیر کو مادرِ وطن لکھا ہے، میں بھی ملیرمیں ہی پیدا ہوئی تھی اور جب سات برس کی عمر میں اس سے جدا ہوئی تھی تو اس زمین کی خوشبو اور رنگ اپنی ذات میں بسا کر ڈھاکہ لے گئی تھی۔ میرے بچپن کی یادوں میں ملیر کی جھاڑیاں، ان پر لگی سُرخ بیریاں، بارش کے بعد زمین پر بچھی ہوئی مخملیں بیربہوٹیاں، مکانوں کی سرخ کھپریل اور سبز جافریاںہمیشہ ساتھ رہیں۔ پھر جب ایک عرصہ کے بعد میں کراچی واپس آئی تو ابا نے ملیر میں ہی گھر بنایا۔ کراچی یونیورسٹی کا سبزہ اور گلشن اقبال کا میرا محلہ ایسا ہی سر سبز ہے جیسا میں ملیر کو چھوڑ گئی تھی ۔سو میں نے اپنے محبوب شہر کو دوبارہ پا لیا۔ جب جب باہر جانے کا موقع پیدا ہوا، میں نے کہا میں آخری انسان ہوں گی جو پاکستان چھوڑے گی اور پاکستان میں بھی کراچی شہر۔ آئیے اس ملیر کو دیکھتے ہیں جو گل حسن کلمتی کی کتاب میں ایک باب کی صورت میں موجود ہے، ماضی کا ملیر۔۔۔ وہ لکھتے ہیں:
”ملیر لہلاتے کھیتوں، سرسبز جنگلات اورقدرتی مناظر کی وجہ سے صحت بخش پر فضا مقام ہوتا تھا جہاں پانی وافر مقدار میں میسر تھا۔ اس کے خوبصورت ماضی کی جھلک تصاویر، سفرناموں اور ان تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہے جو اس دورمیں لکھی گئیں۔“
وہ گلہ کرتے ہیں کہ اس کے وسیع و وقیع حصے کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کر دیا گیا ہے پھر بھی یہ علاقہ اب تک کراچی شہر کو سبزیاں اور پھل مہیا کر رہا ہے۔ نجانے کب یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے۔ ان کے اس اندیشے کو ہم سب حقیقت بنتے دیکھ رہے ہیں۔ آج جبکہ اپنے بچوں کو یہ بتانے کے لیے کہ بیر بہوٹیاں کیسی ہوتی ہیں مجھے ان کی تصویر دکھانی پڑ تی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ جانے کیا کچھ ہماری زندگی سے خارج ہو رہا ہے۔ فطرت سے کٹ کر ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
کتاب کا ایک اور باب، جس نے میری توجہ میں ترجیح حاصل کی وہ ”Working Women” ہے۔ کراچی کی ورکنگ وومن کا جو تصور ہمارا میڈیا پیش کررہا ہے اس کے برعکس گل حسن کلمتی نے ان اصل محنت کش عورتوں کی نشاندہی کی ہے جو شہری اور مضافاتی دونوں علاقوں میں بہت کم اجرت پر نامساعد حالات میں کام کر رہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کی خواتین کی کل آبادی کا نصف حصہ بہت خراب ماحول میں طویل دورانیہ محنت، کم اجرت پر کرنے پر مجبور ہے۔ انھوں نے ان محنت کش خواتین کی پیشہ ورانہ بنیاد پر چار کیٹیگریز بتائی ہیں۔ ان میں پہلی کیٹگری میں مضافات میں رہنے والی وہ عورتیں ہیں جو شہر آکر گھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ انھیں صحت کی کوئی سہولت حاصل نہیں۔ دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو ساحلی بستیوں میں مچھیروں کی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بہت قلیل تنخواہ پر جھینگے اور مچھلی کی صفائی کا کام کرتی ہیں۔ ان کے
کام کے طویل اوقات اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ ناخنوں کے انفیکشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔ تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں، ان کی محنت اور کام کے اوقات وہی ہیں جو مردوں کے ہیں مگر اجرت آدھی ہوتی ہے۔ چوتھی قسم کوہستانی علاقوں میں کام کرنے والی خواتین ہیں جو گلہ بانی کرتی ہیں۔ صبح 5بجے سے ان کے سخت محنت طلب دن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ گائے کا دودھ دوہنے اور گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کے بعد یہ عورتیں ایک سے تین کلومیٹر کے فاصلوں سے پانی بھر کر لانے کے بعد اپنے مردوں کے ساتھ کھیتوں میں سارا دن کام کرتی ہیں اور پھر رات کا کھانا اور جانوروں کو چارہ کھلانے کے بعد رات 9بجے تک جا کر کہیں فرصت نصیب ہوتی ہے۔ ان چار اقسام کی محنت کش عورتوں کے علاوہ دستکار عورتوں کا بھی ذکر ہے جو کشیدہ کاری، قالین بننے، چمڑے کی مصنوعات پر کچھ کام اور دیگر دستکاری سے بہت کم آمدنی حاصل کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی رسائی شہر کی مارکیٹوں تک نہیں ہے۔
پہلے باب ”تاریخ کے فراموش شدہ صفحات“ سے شروع ہونے والی اس کتاب کے 34ابواب کے عنوانات پر سرسری نظر ڈالیں تواندازہ ہوجاتاہے کہ اس کتاب پرکتنی محنت کی گئی ہے اور تحقیق کے میدان میں کتنی جہتوں کومدنظر رکھاگیا ہے ۔چند عنوانات مثلاً ”ایک انتظامی تاریخ“، ”بلدیہ کی تاریخ“، ”سیاسی تاریخ“، ”پینے کا پانی مہیا کرنے کی تاریخ“، ”صحت کے ادارے “، ”تعلیمی ادارے “، ”ادب ،ثقافت اور صحافت“ ، ”ترقیات برطانوی دور میں“، ”مردم شماری کی تاریخ“، ”اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی اور بغاوت“، ”شہر کی پرانی تعمیرات “کے ساتھ ساتھ مختلف عنوانات کے تحت ،محلے ،علاقوں ،مذاہب ،فرقے، قبرستانوں ،متصل دیہاتوں، ماحولیات اور آلودگی ، جزائر، ”ناقابل فراموش کرداروں“وغیرہ کو 386صفحات میں بڑے سائز کے آرٹ پیپر پر سمیٹاگیاہے ۔ معلومات کی سند اور حوالوں اور رنگین تصاویر سے پیش کی گئی ہیں ۔
بلاشبہ گل حسن کلمتی کا نام ان کی کتابیں اور کراچی شہر ہمیشہ ایک دوسرے کا ناگزیر جزو رہیں گے۔ناقابلِ فراموش وقت کی گرد سے ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے، اعلیٰ قدروں اور جمالیات کو اجاگر کرتے ہوئے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*