ایک نوجوان کی کہانی

وہ اپنی بوڑھی ماں اور بہن کا واحد سہارا تھا۔ اس کے والد ابھی دو سال قبل ہی کینسر سے تڑپ تڑپ کر خدا کو پیارے ہو چکے تھے۔ ہوشربا مہنگائی نے جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ اس کے گھر میں بس ایک وقت کی روٹی پکتی جس سے تینوں بمشکل پیٹ پال سکتے تھے۔ وہ ابھی سولہ سا ل کا ہی تھا ، جس پر ذمہ داریوں نے اتنا بوجھ ڈالا کہ اسی عمر میں اس کے ہاتھوں اور چہرے پر جھریاں پڑنے لگی تھیں۔ وہ باہمت نوجوان اپنی ماں اور بہن کا سہار ا بنا اور محنت مشقت سے گھر کا خرچہ پورا کرتا تھا۔ اس کے کمزور ہاتھ روز بروز سخت ہوتے جا رہے تھے۔ ا عصاب پر بوجھ کی وجہ سے اس میں شدید چڑچڑا پن پیدا ہونے لگا تھا ۔وہ اپنی زندگی سے ضرور تنگ تھا لیکن کیا کرتا آخر انسان تھا اور جینا اس کا مقصد تھا صرف اپنے لیے نہیں بلکہ وہ ایک ماں اور بہن کے لیے بھی تو جی رہا تھا۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا ۔ فیکٹری مالک نے اس کو ماہانہ آٹھ ہزار روپے پر رکھا ہوا تھا اور کام کی نوعیت کہیں زیادہ تھی ۔وہ ایک آٹومیٹک مشین پر پیکنگ کا کام کرتا تھا۔ اس کو سارا دن کھڑے ہوکر یہ کام سر انجام دینا پڑتا ۔ایک سیکنڈ کا وقفہ کیے بنا وہ پراڈکٹس کو پیک کرتا چلا جاتا۔ اس کے ہاتھوں میں سکت جواب دے دیتی۔ کھڑے ہونے کی وجہ سے اس کے پاو¿ں تھک جاتے ، مگر کیا کرتا مجبوری تھی ۔یہی آٹھ ہزار ہی تو اس کا کل اثاثہ تھا جس پر پورے ماہ گھر کا گزر بسر ہونا تھا۔ خود داری اتنی کہ فیکٹری مالک کو تنخواہ بڑھانے تک کا نہیں بولتا تھا۔ اگر بولتا بھی تو حریص فیکٹری مالک کہاں اس کی تنخواہ بڑھانے والا تھا۔ یہ نوکری بھی اسے بڑی مشکل سے ملی تھی۔ چنانچہ اسے مجبورا خاموشی سے یہی کام کرنا پڑتا تھا۔
فیصل آباد میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور پاکستان بھر سے آتے ہیں ۔غربت سے تنگ یہ لوگ بہت کم اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔مقامی لوگوں کو اس لیے بھی فیکٹریوں میں خوش نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ اپنی ٹریڈ یونینز اور تنظیموں کو مضبوط کرکے فیکٹری مالکان پر پریشر ڈال کر اپنے جائز مطالبات منواسکتے ہیں ۔جبکہ کسی اور شہر سے آئے ہوئے مزدور کا استحصال قدرے آسان ہوتا ہے اور وہ تنظٰیم کاری سمیت ٹریڈ یونینز سے بھی دور ہوتا ہے۔ انور چونکہ مقامی محنت کش تھا اس لیے فیکٹری مالک نے بڑی مشکل سے اسے اپنے ہاں کام کرنے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی میں حصہ نہ لے گا۔ اپنی معاشی و سماجی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے بھلا یہ کم سن کونسی تحریک کے بارے میں سوچ سکتا تھا؟۔ کام کی نوعیت اور ہیئت آج کے دور میں بہت بدل چکی ہے ، دیوہیکل مشینوں کے آمد کے بعد جہاں فیکٹری مالکان کی موجیں لگ گئیں کہ ان کی پراڈکشن سینکڑوں گنا بڑھ گئیں وہیں اس ٹیکنالوجی نے محنت کش طبقے کی کمر پر مزید بوجھ ڈال دیا۔ یہی نہیں سماجی ضروریات بھی بدل گئیںاب انسان ایسے گرداب میں پھنس چکا ہے کہ وہ اپنی انفرادی ذمہ داریوں سے ہی نہیں نکل سکتا ۔اس کے لیے زندگی اتنی تنگ کر دی گئی ہے کہ وہ آج کا سوچتا ہے۔ وہ ساتھی انسانوں اور مستقبل کی دانش نہیں رکھتا۔
انور کی خواہش تھی کہ وہ ایک وقت کی بجائے دو وقت کام کرے گا، کیونکہ آنے والے عید پر وہ اپنے ماں اور بہن کے لیے کپڑے اور باقی ضروریات کی چیزیں خریدنا چاہتا تھا۔
چنانچہ وہ منشی کے پاس چلا گیا ۔منشی چونکہ اس کے کام کو دیکھ چکا تھا کہ بہت ہی لگن سے سارا وقت کام کرتا اور کم اجرت پر کرتا ۔اس لیے منشی نے حامی بھر لی مگر شرط یہ کہ وہ رات بھر کام کرے گا۔ انور اپنی معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں مجبور اس کی بات ماننے کے لیے تیار ہو گیا کہ ایک ماہ ہی تو ہے کہ اتنے پیسے جوڑ سکے گا کہ عید کا یہ تہوار ہنسی خوشی گزر جائے گا۔
اب دو شفٹوں تک مسلسل اس کو کام کرنا پڑ رہا تھا شروع کے دن تو جیسے قیامت لگتے وہ تھک ہار کر گر جاتا پھر سنبھلتا۔ کئی بار اس کی آنکھوں میں اشک بھر آئے ، وہ اپنے آنسوو¿ں کو صاف کرکے پھر کام کرنے لگ جاتا۔ چڑچڑاپن میں اضافہ ہو گیا تھا۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عصابی بوجھ بڑھ رہا تھا مگر مجبور تھا لہذا اپنے کام سے جڑا رہا۔ رات پوری مشینوں پر ڈیوٹی دے کر صبح چھ بجے وہ گھر جاتا ، سکون کہاں جسم میں اور پٹھوں میں غضب کا درد ، وہ درد سے چلا اٹھتا مگر کبھی اپنی ماں اور بہن کو یہ محسوس ہونے تک نہ دیا کہ وہ اند ر سے کس حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ آج اس کے دو وقت کے کام کو ایک ماہ ہونے کو تھا۔ منشی نے اسے پیسے دیے تو وہ پیسے لے کر یوں خوش ہوا جیسے پوری دنیا اس کے ہاتھوں میں سمٹ آئی ہو۔ وہ نوٹوں کو بار بار دیکھتا جیب میں پیسے ڈالتا پھر نکال کر گنتا۔ رات بھر کام کی وجہ سے وہ شدید تھکا ہوا تھا مگر پھر بھی بہت خوش تھا ۔آج اس کے دل کی مراد پوری ہو چکی تھی وہ ان پیسوں سے اپنوں کے لیے خوشیاں خرید سکتا تھا۔ صبح کے چھ بجے وہ فیکٹری سے نکلا۔ آج جیسے وہ دنیا کا امیر ترین شخص بن چکا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔وہ واقعی دنیا کا امیر ترین شخص تھا۔ روشنی ہلکی سی ٹمک رہی تھی لیکن پھر بھی اندھیرا غالب تھا۔ ساری رات کام کی وجہ سے اس کے عصاب جواب دے چکے تھے۔ وہ فیکٹری سے نکل کر مین شاہرا کراس ہی کر رہا تھا کہ اینٹو ں سے بھری ایک ٹرالی بڑی سپیڈ سے اسے ٹکرائی اس کے نحیف جسم روڈ پر زخموں سے چور ہو چکا تھا۔ ٹرالی والے نے اندھیرے اور تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راہ فرار اختیار کی۔ نوجوان اپنی آخری سانسیں لیتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھتا اور پھر خاموش ہو جاتا ۔کوئی فریاد نہ کرتا جیسے آسمان والا بنا کہے اس کی بات سمجھ گیا تھا۔ دن کی روشنی میں خبر پھیل گئی ۔اس کی لاش گھر لے جائی گئی ۔ ماں اور بہن کی تو جیسے زندگی اجڑ چکی تھی۔ کسی نے اس کے جیب سے وہ پیسے نکالے وہ شاید اس کی کل کائنات تھی۔ ان پیسوں سے عجب قسم کی خوشبو آرہی تھی وہ خوشبو اس کے کمزدور ہاتھوں کے محنت کی خوشبو تھی۔ مگر اب یہ پیسے کسی کام کے نہ تھے۔
انور اپنی زندگی تو ہار بیٹھا مگر ایک سبق سب کے لیے چھوڑ گیا کہ اگر ہم ایسے ہی رہے تو ایسے ہی مرتے رہیں گے بھوک سے بیماریوں سے جنگوں سے۔ ہم نے اگر اپنے مفادات کی جنگ لڑنی ہے تو سب محنت کش مزدوروں اور کسانوں کو یک جا ہونا پڑے گا۔ حریص سرمایہ دار اور اسکے اتحادی اگر کم سے کم مفاد کے لیے یکجا ہو سکتے ہیں تو ہم محنت کش کیوں نہیں ہو سکتے۔ پھر کوئی انور لاوارث نہ ہو گا۔ کوئی محنت کش غربت کی زندگی نہیں گزارے گا۔ اس لیے اپنی انفرادی سوچ کو ختم کر کے اجتماعی مفادات کے لیے سوچنا پڑے گا۔ ہمیں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کے بجائے ایک دوسرے سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ ہمیں ایک دوسرے کے مفادات کا دفاع کرنا پڑے گا۔ا یک موومنٹ ایک تنظیم ایک چھتری بنانی پڑے گی جس کے اندر ہم سب جمع ہو کر انسانیت کی سر بلندی کا نعرہ بلند کریں گے ۔

نوٹ : (یہ حقیقت پر مبنی کہانی : بشکریہ سنگت عارف ایاز فیصل آباد کا )

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*