رام جانے پھول والا

پنڈت رام گووند نے دوہرے سوت کی موٹی چادر کو اچھی طرح لپیٹا اور سر اٹھا کر دیکھا جہاں کدم کے پیڑوں کے اوپر گدلے آکاش کے کنارے پر ایک گلابی دھاری دکھائی دے رہی تھی، مطلب یہ کہ سوریہ دیو بادلوں کے موٹے لحاف میں سے منہ نکالنے والے ہیں ۔ماگھ کی ہوا چہرے کو اس طرح چھو رہی تھی جیسے کسی بچے کی ٹھنڈی انگلیاں ان کے بوڑھے ہوتے چہرے کی جھریاں گن رہی ہوں ۔انھو ں نے اپنی چال تیز کر دی اورچادرکو کانوں کے او پر تک کھینچ لیا۔مندر تک پہونچتے پہونچتے ان کی سردی کا فی کم ہو گئی اور ٹھٹری ہوئی انگلیاں سیدھی ہو گئیں ۔انھوںنے بنڈی کی جیب سے چابی نکال کر لکڑی کا موٹا سا دروازہ جس پر پیتل کے پھول جڑے ہوئے تھے کھولا اور لائٹ جلا دی ،مندر کے اندر دھوپ بتّی ،اگربتّی ،جلے ہوئے اصلی گھی اور باسی پھولوں کی سگندھ بسی ہوئی تھی ۔ انھوںنے دیوی کی پرتیما کی طرف دیکھا جس کی بڑی بڑی کالی آنکھیں دیکھ کرانھیں اپنی ماں یاد آجایا کر تی تھیں ۔ وہی ممتا اور وہی پیار جو بس ماو¿ں کی آنکھوں میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے میّا کے پاو¿ں چھوئے ،چادر اُتار کے کونے میںرکھی اور اپنے کام میں لگ گئے ۔ انھوں نے میّا کو اسنان کرایا ،اُن کے کپڑے بدلے اور پھر مندر کے کونے میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے کمرے میں جاکے لوہے کا بڑا صندوق کھولا جس میں دیوی ماںکے گہنے رکھے ہوئے تھے ، بہت قیمتی نہیں تھے مگر پریم اور شُردّھا کا مول کون لگا سکتا ہے ،انھوں نے میّا کو مُکٹ پہنایا ،بازو بند اور کڑے پہنائے ،گلے میں چاندی اور موتیوں کی بڑی سی مالا پہنائی اور ایک تھالی میں آرتی کی سامگڑی سجا نے لگے ،اچانک باہرسے آواز آئی ۔
”پنڈت جی !“
انھوں نے تھالی زمین پر رکھی اور دروازہ کھول کے باہر جھانکا ،چبوترے کے پاس پھولوں سے بھری ٹوکری لیے رام جانے پھول والا کھڑا تھا ۔ کئی دن کی بڑھی ہوئی داڑھی اوراُون کے ٹوپے میں سے نکلے ہوئے کھچڑی بال اس کی عمر کا پتہ دے رہے تھے، ہاتھوں کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں او رموٹی موٹی انگلیوں کے ٹوٹے ہوئے ناخن کا لے ہو گئے تھے ۔ وہ روئی کی موٹی سی مرزئی پہنے ہوئے تھا پھر بھی دُبلا دکھائی دیتا تھا ۔اس کی پوری شخصیت میں دو ہی چیزیں ایسی تھیں جو اُس کے وجود کا حصّہ نہیں لگتی تھی ۔ایک تو اس کی چھوٹی چھوٹی چمکتی ہوئی آنکھیں اور دوسری اس کی مسکراہٹ اس کے موٹے موٹے ہونٹ ہر وقت اس طرح کُھلے رہتے تھے جیسے دل ہی دل میں کسی لطیفے کا مزہ لے رہا ہو ۔ پنڈت جی کو دیکھ کر رام جانے پھول والے نے ٹوکری چبوترے پر رکھی اور دونوں ہاتھ جوڑ دیئے ۔
”رام رام پنڈت جی !“
”سوکھی رہو !“ پنڈت جی نے ہاتھ ہلا کر جواب دیا اور ٹوکری اٹھا کر اندر چلے گئے ۔
خیر آباد کا گَو ری مندر بڑا نہیں تھا مگر سندر بہت تھا ۔لوگ کہتے ہیں دیس کی آزادی سے بہت پہلے جب انگریزوں کا راج ہوا کرتا تھا اور سارا اتر پردیش چھوٹی چھوٹی ریاستوں ، جاگیروں اور زمین داریوں میں بٹا ہوا تھا تب ایک دفعہ بلرام پور کی مہارانی اِس علاقے میں آئی تھیں ،انھیں ندی کے کنارے اشوک ،قدم اور پیلے گل مہر کے پیڑوں سے گھیری ہوئی یہ چھوٹی سی خوبصورت بستی بہت پسند آئی ۔ انھوںنے یہاں کئی دن قیام کیا اور چلتے وقت گاو¿ں والوں سے پوچھا کہ انھیں کیا چاہےے ؟۔ گاو¿ں والوں نے کہا اُن کے گاو¿ں میں کوئی مندر نہیں ہے ،کوئی بھی تیج تہوار ہو تو بہت دور جانا پڑتا ہے اور مہارانی نے اپنی ریاست کے کاریگر بھیج کر ایک ایسا مندر بنوا یا جو اودھ کی کاریگری کا بہترین نمونہ تھا ۔ مندر کا چبوترہ اور دیواریں لال پتھر کی تھیں مگر دیواروں کے بیچ سفید پتھر کی جالیاں اِس طرح لگائی گئی تھیں کہ مندر میں چاروں طرف سے روشنی اور ہوا آتی تھی ۔ مندر کا کلش سفید پتھر کا تھا اس پر پیتل کا کام کیا ہو اتھا ۔جب دھوپ نکلتی اور مندر کے سفید اور لال پتھر چمکنے لگتے تو ایسا لگتا تھا جیسے مندر وہاں بنایا نہ گیا ہو بلکہ کسی اور دنیا سے لا کے رکھ دیا گیا ہو ۔ اس مندر کا چرچا آس پاس کے گاو¿ں قصبے میں ہی نہیں شہروں میں بھی ہوتا تھا اور اُس کی وجہ صرف مندر ہی نہیں پنڈت رام گووند بھی تھے ۔
ہر پورن ماشی کو جب چاند شام ہی سے روشن ہو جاتا تھا شردھالو دور دور سے آکرمندر کے آنگن میں جمع ہونا شروع ہو جاتے اور آرتی کے بعد پنڈت رام گووند شری مد بھاگوت گیتا کے راز سمجھا نے لگتے۔ اُن کے بولنے کا ڈھنگ بڑا پیارا تھا اور ہر بات اس طرح سمجھاتے تھے کہ لوگ آنکھیں بند کر کے جھومنے لگتے تھے ۔بہت سے لوگ سوچتے تھے ارجن کے سارتھی بھگوان شری کرشن نے بھی شری ارجن کو اِسی طرح گیتا کا رہسیہ سمجھایا ہو گا ۔کبھی کبھی جب تڑاکے کی سردی پڑتی تو لوگ گدّے ،رضائیاں اور جلتی ہوئی انگٹھیاں لا کر مندر میں جم جاتے مگر پنڈت جی کا گیتا پارٹ سنے بغیر نہ جاتے ۔ پنڈت رام گووند کاپریوار پچھلی چار پیڑھی سے مندر کی سوا کر رہا تھا ۔ان کے پیتا پنڈت رام موہن کہا کرتے تھے
”یہ مندر نہیں ہے ،ماں کا آشرواد ہے ، اس کی سوا میں کوئی کمی نہیں ہو نی چاہےے !“
سوا کرتے کرتے پنڈت جی کو چالیس برس ہو چکے تھے اور اب جب وہ ساٹھ پار کر چکے تھے توانھیں ڈر لگنے لگا تھا کہ ڈیڑھ سو سال سے چلی آنے والی پرمپرا ٹوٹ جائے گی ،کیونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا جوا ن کے بعد مندر کو سنبھال سکے ۔ایک بیٹی تھی جو اپنے پتی کے ساتھ احمد آباد میں رہتی تھی۔اُ ن دونوں میں سے کسی کو دھرم کرم سے کوئی لگاو¿ نہیں تھا اور نہ وہ لوگ اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار تھے کہ پنڈت جی کے جیون میں خیر آباد کے چھوٹے سے مندر کی کیا جگہ ہے ۔ وہ جانتے تھے کہ بہت سے لوگ ابھی سے مندر پر قبضہ کرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں، کیونکہ مندر کے ساتھ پانچ ایکڑ زمین بھی تھی جس کی فصلوں کا پورا پیسہ مندر کو ملا کرتا تھا ۔ویسے تو یہ زمین بلرام پور کی مہارانی نے مندر کے پہلے پوجاری کو دی تھی جو پنڈت رام گووند کے پر دادا تھے مگر انھوںنے ایک قانون بنادیا تھا کہ پوجاری کو اُتنا ہی پیسہ ملے گا جتنی اس کو ضرورت ہو گی، باقی ساری آمدنی مندر کے کھاتے میں جمع کر دی جائے گی، اور آج تک ایسا ہی ہو تا آرہاتھا۔ کبھی کبھی وہ نیند سے اچانک اُٹھ بیٹھتے اور سوچنے لگتے کہ اگر اُن کے بعد مندر کی باگ ڈور کسی لالچی کے ہاتھ میں چلی گئی تو وہ دوسرے مندروں کی طرح اس کو بھی پیسہ کمانے کا ذریعہ بنالے گا ۔مگر وہ کر ہی کیا سکتے تھے ۔ جب سوچتے سوچتے تھک جاتے تو ندی کنارے پیلے گل مہر کے پیڑوں تلے ایک پرانے پتھر پر جا کے بیٹھ جاتے، گل مہر کے پھول اُ ن کے چاروں طرف سونا بکھیر تے رہتے اور وہ اپنے آپ سے باتیں کرتے ،وہ خود کو سمجھاتے ۔
”میّا کا مندر ہے وہ جو چاہیں گی وہی ہوگا ،ہمیں چنتا کرنے کی کیا ضرورت ہے !“
ایک دن سویرے کی آرتی کرنے کے بعد پنڈت جی مندر سے باہر نکلے تو گاو¿ں میں بہت سے اجنبی چہرے دکھائی دئیے ۔ چھوٹا سا گاو¿ں تھا سب ایک دوسرے کو جانتے ،پہچانتے تھے کوئی نیا آدمی آتا تو دور سے ہی پہچان لیا جاتا ۔پنڈت جی نے بھولا سے پوچھا
”یہ کون لوگ ہیں بھولا ؟“
بھولا مندر کی صاف صفائی کرتا تھا ۔پنڈت جی کے گھر میں بھی کوئی کام ہوتا تو کر دیا کرتا تھا ،وہ ایک طریقے سے پنڈت جی کا اسسٹنٹ تھا ۔ وہ ہنسا اور اپنے ٹوٹے ہوئے دانتوں کو ہاتھ سے چھپاتے ہوئے بولا
”ارے پنڈت جی آپ تو اپنی دنیا میں مگن رہت ہیں ، آپ کا تو معلوم ہی نہیں کہ گاو¿ں ما بھونچال آئے والا ہے !“
”بھونچال ؟کیسا بھونچال؟“
”ارے گرام سابھا کا چناو¿ ہوے والا ہے نا !“
پنڈت جی نے سر ہلایا ،انھیں اِن باتوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی ۔ وہ تو کبھی ووٹ دینے بھی نہیں گئے تھے ۔
”پردھان کے لیے رام سرن سنگھ کھڑے ہوئے ہیں !“ بھولا نے کہا
پنڈت جی چلتے چلتے رُک گئے اور بولے
”مگر وہ تو شنکر گنج کا رہنے والا ہے ،اس کا ہمارے گاو¿ں سے کیا لینا دینا ہے !“
”چھوٹے چھوٹے گاو¿ں ہے نا اِی واسطے پانچ گاو¿ں کی ایک پنچایت بنے گی !“
پنڈت جی نے سر ہلایا اور آنکھیں سِکوڑ کر اُن چار پانچ لوگوں کی طرف دیکھا جو کرپا شنکر دودھ والے اور اس کے بیٹے کو زور زور سے ہاتھ ہلا کر کچھ سمجھا رہے تھے ۔ پنڈت جی نے ران سرن سنگھ کا نام بہت بار سنا تھا ،سفید پوش غنڈہ تھا اور لوگ اُس سے کافی ڈرتے تھے ، اس کے بہت سے کیس پولیس تک بھی جا چکے تھے مگر کبھی کسی نے اس کے اوپر ہاتھ نہیں ڈالا تھا شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک منتری کا منہ چڑھا تھا ۔
” اس کے سامنے کون کھڑا ہے ؟ “ پنڈت جی نے پوچھا
”لوگ علی گنج کے مکھن لال یادو کانام لیے رہے !“بھولا نے بتایا
”مکھن لال یادو کیسا آدمی ہے ؟ “ پنڈت جی نے پوچھا
”لوگ بتا وت ہیں کہ بہت بھلامانس ہے مگر اُو کے جیتے کا جونو بھروسا نہیں !“
”کیوں ؟“ پنڈت نے پوچھا
”ارے رام سرن سنگھ اور اُو کے غنڈہ پارٹی سے کونو جیت سکت ہے کا ؟ ہم کا معلوم ہے گرام سابھا کے چناو¿ میں کا ہوئی ہے !“
پنڈت جی نے بھولا کو غور سے دیکھا جو مسکرارہا تھا ۔ شاید اس بات پر خوش ہو رہا تھا کہ اس کی سیاسی سوجھ بوجھ پنڈت جی سے زیادہ ہے، پنڈت جی نے سر ہلایا اور اپنے دروازے میں گھس گئے ۔
دیکھتے ہی دیکھتے گاو¿ں میں گرام سابھا والوں کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، ہر روز کوئی نہ کوئی پارٹی آتی ،لوگوں کو سمجھا تی ، طرح طرح کے وعدے کرتی ، سنہرے سپنے دکھا تی اور ووٹ کا وعدہ لے کے چلی جاتی ۔ایک دن اچانک رام سرن سنگھ بھی آگیا ،اس نے بڑے ادب سے پنڈت جی کے پاو¿ں چھوئے اور پتّوں سے بنا ہوا ایک دَونا جو دھاگے سے بندھا ہو اتھا پنڈت جی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا
”آرہے تھے تو رستے میں گرم گرم جلیبی بنتے دیکھے تو سوچا آپ کے لیے لے چلیں! “
”شکریہ !“ پنڈت جی نے کہا اور اپنے سامنے پڑے مونڈھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ،رام سرن سنگھ بھاری بھرکم آدمی تھا ، عمر کوئی چالیس پینتالیس سال رہی ہوگی ۔ سر کے سارے بال اُڑ چکے تھے مگر موٹی موٹی مونچھیں جو ہونٹوں کے اوپر رکھی ہوئی معلوم ہوتی تھی ابھی تک کالی تھیں ۔وہ اپنے تھل تھل کرتے جسم کو لے کر مونڈھے پر بیٹھا تو مونڈھا جیسے غائب ہی ہو گیا ۔ اس کے ساتھ آنے والے دو آدمیوں نے جس میں سے ایک علاقے کا مشہور غنڈہ بلجیت پانڈاتھا ،اِدھر اُدھر دیکھا ،چھوٹی سی بیٹھک تھی اس میں لکڑی کی ایک چوکی جس پر پنڈت جی بیٹھے تھے ،ایک چھوٹی سی میز اور ایک مونڈھے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ وہ دونوں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہ دیکھ کر رام سرن سنگھ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔
”کہیئے کیسے کشٹ کیا؟“ پنڈت جی نے پوچھا
رام سرن سنگھ مسکرایا اور ذرا سا آگے جھک کر بولا
”آپ کو تو معلوم ہے نا ،گرام سابھا کا چناو¿ ہونے والا ہے ۔ہم پردھان کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ،بس آپ کا آشرواد مل جائے تو گنگا پا ر ہو جائے !“
پنڈت جی نے سر ہلایا مگر کچھ بولے نہیں ۔رام سرن سنگھ کچھ اور آگے آ گیا
”چاردن بعد پورن ماشی ہے ۔آپ کا گیتا پاٹ سننے کے لیے آ س پڑوس کے سارے گاو¿ں والے آئیں گے، بس ایک دو شبدھ ہمارے لیے بھی بول دینا، ہم جیسے ہی پردھان بنے آ پ کے مند رکا آنگن پکّا کرا دیں گے اورآ پ کے لیے بھی کچھ سوچ کے رکھا ہے ہم نے !“
اس نے اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور پلٹ کر بلجیت پانڈا کی طرف دیکھا جو اپنی پیتل کی موٹھ والی لاٹھی کا سہا را لیے کھڑا تھا اور پنڈت جی کو گھور رہا تھا اس کے تیور سے لگ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو ۔
”جو کہا جا رہا ہے وہ کان کھول کر سن لے بڈھے ،ورنہ جانتا ہے نا کیا ہوگا !“
پنڈت جی بار ی باری تینوں کو دیکھتے رہے پھر دھیرے سے بولے
”مندر میں راج نیتی کی باتیں اچھی نہیں لگیں گی رام سرن جی !“
مونچھوں کو سہلاتا ہوا رام سرن کا ہاتھ رُک گیا
”کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں پنڈت جی ،آ ج کل تو راج نیتی مندر کے بنا چار قدم نہیں چل سکتی !“
پنڈت جی بہت دیر تک سوچتے رہے پھر بولے
”بہت مشکل ہے رام سرن جی ۔جو کام پُرکھوں سے آج تک کبھی نہیں ہوا وہ اب کیسے ہو سکتا ہے !“
رام سرن سنگھ مسکرایا مگر یہ مسکراہٹ ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھی ،اس کی آ نکھوں میں غصّہ صاف جھلک رہا تھا ۔
”سوچ لیجئے پنڈت جی ،ہم جیت گئے تو پورے پانچ گاو¿ں کی کایہ پلٹ دیں گے !“
پنڈت جی چپ چاپ بیٹھے دیکھتے رہے ۔رام سرن کو اُمید تھی کہ وہ کچھ بولیں گے مگر جب خاموشی لمبی ہو گئی تو اٹھ کھڑا ہوا۔
”ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں ۔جئی را م جی کی !“
اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ بلجیت پانڈا جاتے جاتے ایک پل کو رُکا ،لاٹھی کو زمین پر مار کے پنڈت جی کو دیکھا اور باہر چلا گیا ۔ پنڈت رام گووند کے لیے ایسی باتیں نئی تو نہیں تھیں، پہلے بھی بہت سے لو گ آئے تھے اور انھوں نے سہائیتا کی پراٹھنا کی تھی مگر دھمکی کسی نے نہیں دی تھی ،وہ دیرتک سوچتے رہے پھر بھولا کو آواز دے کہا
”یہ جلیبیاں لے جا کے بچوں میں بانٹ دے !“
پورن ماشی آئی ، مندر کا آنگن اور دالان گیتا پاٹ سننے والوں سے بھر گیا ،اُ س دن سردی کچھ زیادہ ہی تھی مگر وہ لوگ جو دور دور سے آئے تھے اُ ن کو سردی کی کیا پرواہ تھی ۔اُ ن کے اندر تو آستھا کی گرمی تھی پھر بھی کچھ گاو¿ںوالوں نے جن میں کرپا شنکر دودھ والا اور کیرانے کی دوکان والا کنہیا لال آ گے آگے تھے کچھ انگیٹھیوں اور ایک اَلاو¿ کا بندوبست بھی کر دیا تھا ۔ پنڈت جی نے شری مد بھاگوت گیتا کھولی اور اَن پڑھ گاو¿ں والوں کو وہ باتیں بتانے لگے جو ہزاروں سال پہلے کروک شیتر کے دھرم یودھ میں بھگوان شری کرشن نے شری ارجن کو بتائی تھیں ۔ وہ جانتے تھے کہ اس دن کے سننے والوں میں رام سرن کے آدمی بھی ہیں ۔بلجیت پانڈا تو سامنے ہی بیٹھا تھا اس کی لاٹھی کی پیتل والی موٹھ الاو¿ کی روشنی میں چمک رہی تھی ۔ وہ کوئی دو گھنٹے تک بولتے رہے مگر ایک بار بھی راج نیتی ،گرام سابھا یا رام سرن سنگھ کا نام نہیں لیا گاو¿ں میں چناو¿ کا چرچا بڑھتا گیا مگر پنڈت جی نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا ،وہ ہمیشہ کی طرح سانجھ اور سویرے کی آرتی کرتے ،بھولا کے ساتھ کھیتوں میں کا م کرتے اور وقت مل جاتا تو ندی کنارے پیلے گل مہر کے پیڑوں تلے ایک پرانے پتھر پر جا کر بیٹھ جاتے اور سوچتے رہتے کہ یہ دنیا کتنی سندرہے ، کیا نہیں ہے اِ س کے پاس ۔رنگ ہیں ، روشنی ہے ، ہوا ہے ، سگندھ ہے اور شانتی ہے مگر پھر بھی لوگ اتنے بے چین کیوں ہےں،جو کچھ اُ ن کے پاس ہے اُ س کا مزہ کیوں نہیں لیتے ،جو دوسروں کے پاس ہے اُسے لینے کی لالسا کیوں کرتے ہیں۔ جب سوچتے سوچتے تھک جاتے تو پیلے پھولوں کی چادر پہ سو بھی جاتے۔
ایک شام جب وہ مندر سے نکل رہے تھے ،ایک جیپ بہت تیزی سے آئی اور پنڈت جی کا راستہ روک لیا ،رام سرن سنگھ کود کر باہر آیا اور چھوٹتے ہی بولا
”آپ کو پتا ہے رام جانے کون ہے ؟“
اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ مندر سے نکلنے والے بہت سے لوگ رُ ک گئے ۔
پنڈت جی نے کچھ دیر رام سرن کی آنکھوں میں دیکھا جیسے سوال کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہوںپھر سر ہلایا اور بولے
”پھول والا ہے!“
”وہ مسلمان ہے پنڈت جی مسلمان اس کا اصلی نام رمضانی ہے !“ رام سرن نے ہاتھ ہلا کر کہا
پنڈت جی دھیرے سے مسکرائے
”یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ، سارا گاو¿ں جانتا ہے کہ اس کا نام رمضانی ہے ،بچپن میں ٹھیک سے بول نہیںپا تا تھا،کوئی بھی نام پوچھتا تو رمضانی کو اس طرح بولتا کہ رام جانے سنائی دیتا ، بس وہی نام پڑ گیا ! “
”اور آپ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس کے لائے ہوئے پھول دیوی پہ چڑھاتے رہے !“
پنڈت جی دیر تک رام سرن سنگھ کو دیکھتے رہے پھر بولے
”یہ تو ایک سو دس برس پرانی پرمپرا ہے رام سرن جی ،جس دن سے میّا اس مندر میں براجمان ہوئی ہیں تب سے رام جانے کی بگیاسے پھول آرہے ہیں، پہلے اُس کا دادا لاتا تھا پھر باپ اور اب رام جانے !“
رام سرن سنگھ گرم ہو گیا ۔
”آپ دھرم سے جان بوجھ کر کھلواڑ کر رہے ہیں پنڈت جی اور یہ بات ٹھیک نہیں ہے !“
پنڈت رام گووند کو غصّہ بہت کم آتا تھا مگر رام سرن کی بات سن کر آنکھیں لال ہو گئیں ،وہ بڑی مشکل سے خود کو روکتے ہوئے بولے
”ہمیں سمجھانے سے پہلے ایودھیا اور ہریدوار جا کر دیکھ لیجئے جہاں مندروں کے باہر سیکڑوں مسلمان پھول والے بیٹھے ہوتے ہیں اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان ،کیوںکہ پھولوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا ! “
رام سرن سنگھ جھنجلا گیا ۔
”ایودھیا اور ہریدوار میں کیا ہوتا ہے اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں مگر یہاں ایسا نہیں ہو گا ،رمضانی کے لائے ہوئے پھول مندر کے اندر نہیں جائیں گے !“
اچانک پنڈت جی کی آواز اونچی ہوگئی ،انھوںنے کہا
”ہمیں آدیش دینے والے آپ ہیں کون ؟“
”ہم پردھان ہیں !“
”ہیں نہیں اور اگر ہو بھی گئے تو مندر میں وہی ہو گا جو آج تک ہو تا آیا ہے !“
رام سرن نے دانت پیس کر پنڈت جی کو دیکھا اور اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بولا
”دیکھتے ہیں کیسے ہوتا ہے ؟“
رات ہوتے ہوتے یہ خبر سارے گاو¿ں میں پھیل گئی ،بہت سے لوگ پنڈت جی کے گھر پر جمع بھی ہو گئے اور اپنی اپنی رائے دینے لگے ۔
”چھٹا ہوا غنڈہ ہے پنڈت جی !“ کرپا شنکر دودھ والے نے کہا ”اس سے ہوشیار رہنا چاہےے !“
”کرپا بھیّا ٹھیک کہہ رہے ہیں پنڈت جی ! “بشیرا مستری بولا
مراری لال وید ھ پڑھے لکھے آدمی تھے انھوں نے اشارے سے سب کو چُپ کرایا اور کہا
”ایک کام کرتے ہیں ،کچھ دن کے لیے رام جانے کو پھول لا نے سے روک دیتے ہیں، چناو¿ کے بعد جب پنچایت بن جائے گی تو اس کے سامنے ساری بات رکھ دیں گے، ہمیں وشواس ہے فیصلہ ہمارے ہی حق میں ہوگا ! “
لکھن سنگھ جو شہر میں نوکری کرتا تھا اور کچھ دنوں کے لیے آیا ہوا تھا بھڑک کر بولا
”ارے یہ سالہ رام سرن سنگھ ہیں کون ،ہم تو کہتے ہیں ابھی چل کے تھانے میں ایف آئی آر کرا دیتے ہیں ،ہمارا گاو¿ں شنکر گنج کے پولیس چھیتر میں آتا ہے ،کیا بولتے ہیں پنڈ ت جی ؟“
پنڈت جی کچھ دیر سوچتے رہے پھر بولے
”جلدی کیا ہے ۔راج نیتی میں نیا نیا آیا ہے کچھ دنگا فساد کر کے جنتا پہ رعب جمانا چاہتاہے ،بہت سے نئے نیتا اپنی دوکان چمکا نے کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں !“
بھولا جو بہت دیر سے کونے میں بیٹھا زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا سر اٹھا کر بولا
”ہمری چنتا تو یہ ہے کہ اگر وہ کم جات جیت گیا تو ہمرا جینا دو بھر کر دے گا!“
”ڈرتا کیوں ہے بھولا، سارا خیر آباد ایک طرف ہے اور وہ ایک طرف، ٹانگیں توڑ کے رکھ دیں گے سالے کی !“کیرانے کی دوکان والا کنہیا لال آ واز اونچی کر کے اس طرح بولا جیسے جنگ کا اعلان کر رہا ہو۔
پنڈت جی نے ہاتھ اٹھا کر سب کو روکا اور دھیرے سے کہا
”شانتی رکھیے سب ٹھیک ہو جائے گا ہم رام سرن سنگھ کو سمجھائیں گے !“
مگر پنڈت جی کے سمجھانے سے پہلے ہی وہ بات ہو گئی جو نہیں ہونی چاہےے تھی ۔
رام جانے کی عادت تھی کہ وہ شام کو ندی پر جاتا اپنے کپڑے دھوتا اور ٹھنڈے پانی میں دو چار ڈبکیا ں لگا کے کھیت اور بگیا میں کام کرنے کی تھکان اُتار دیتا ۔ اُس دن بھی ایسا ہی ہوا، اس نے اپنے کپڑے دھو کے کنارے پر اُگی ہوئی جھاڑیوں پر ڈالے اور کدم اور گل مُہر کے پیڑوں کے پیچھے چھپتے ہوئے سورج کو دیکھا ، تھوڑی سی روشنی باقی تھی ، ندی کے پانی پر نارنجی دھاریاں دکھائی دے رہی تھیں ۔ برسات گزر چکی تھی اس لیے بہاو¿ میں ٹھہراو¿ آگیا تھا۔ اندھیرا ہونے میں دیر تھی ،اتنی دیر میں وہ دوسرے کنارے پر بنے ہوئے دھوبن گھاٹ کا چکّر لگا کے واپس آ سکتا تھا۔ اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔رام جانے کو لگ رہا تھا جیسے ندی اس کے تھکے ہوئے بدن کو دھیرے دھیرے سہلا رہی ہو ،اُسے نیند سی آنے لگی وہ دیرتک اس پانی کا مزہ لیتا رہا جسے وہ بچپن سے جانتا تھا ۔ندی سے اس کی یاری بہت پرانی تھی ،اس کے سارے روپ دیکھے تھے اس نے ۔ برسات میں جب پہاڑوں کے ریت سے پانی کا رنگ لال ہو جایا کرتا تھا ، مچھیرے جال پھینکنا بند کر دیتے تھے اور پچاس پیسے لیکر ندی پار کرانے والے ملّاح، دو روپیہ دینے پر بھی ناو¿ کو چڑھی ندی میں ڈالنے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے اور پھر جب چیت میں پانی سو کھ جاتا ، اندر کی چٹا نیں دکھائی دینے لگتی اور بچے ہاتھوں سے مچھلیاں پکڑ نے لگتے اور پھر جب پوس کی راتوں میں پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا کہ پاو¿ں ڈالو تو خون جم جائے ، ندی کے یہ سارے روپ رام جانے بچپن سے دیکھتا آ رہا تھا، اس نے پانی کو اس طرح تھپتھپایا جیسے کسی پرانے ساتھی کی کمر پر ہاتھ مار رہا ہو اور مسکرا دیا ۔دھوبن گھاٹ دور تھا اور اندھیرا ہو چکا تھا ،اس لیے اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور کنارے کی طرف لوٹ پڑا ،جیسے ہی اس نے اپنے کپڑے اٹھا نے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو جھاڑیوں میں سے پانچ چھ آدمی جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں، باہر نکل آئے اور اس سے پہلے کہ رام جانے کچھ سمجھ سکے اس پر لاٹھیاں برسنے لگیں ۔ وہ زور سے چیخا” بچاو¿ ۔بچاو¿“ اور بھاگنے کی کوشش بھی کی مگر اُن لوگوں نے اتنا موقع ہی نہیں دیا ۔ ایک لاٹھی جس کی موٹھ پیتل کی تھی اس کے سر پر پڑی ،وہ چیخ مار کر ریت پر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔
بلرام پور کے اسپتال کے باہر بڑی بھیڑ تھی ۔ زیادہ تر لوگ خیر آباد کے تھے مگر آس پاس کے گاو¿ںوالے بھی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے کیونکہ ایسے واقعات اُس علاقے میں عام نہیں تھے ۔ بہت سے لوگوں کو اِ س بات پر حیرت تھی کہ رام جانے جیسے بھلے آدمی پر کون حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کی تو کسی سے دشمنی تھی ہی نہیں ۔ اسپتال کے احاطے میں پرانے پیپل کے پیڑ تلے ٹوٹے ہوئے چبوترے پر پنڈت رام گووند چپ چاپ بیٹھے تھے ، اُ ن کے پاس ہی تین حوالدار اور ایک سب انسپکٹر بھی رام جانے کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ سب انسپکٹر بہت سے لوگوں سے پوچھ گچھ کر چکا تھا مگر کوئی کا م کی بات نہیں معلوم ہو سکی تھی کیونکہ کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا ۔جب رام جانے پر حملہ ہوا تو وہ بالکل اکیلا تھا ۔ پیڑ کے پیچھے چبوترے کے دوسرے حصّے پر رام جانے کی بیوی اور گیارہ سال کا بیٹا شکورا بیٹھے ہوئے تھے ،ان کے ساتھ گاو¿ں کی کچھ عورتیں بھی تھیں جو دھیرے دھیرے باتیں کئے جا رہی تھیں ۔ کوئی بیس گھنٹے بعد رام جانے کے ہوش میں آنے کی خبر ملی تو ایک ہلچل مچ گئی، ہر آدمی اندر جا کر اس سے ملنا چاہتا تھا مگر سب انسپکٹر نے سب کو روک دیا ۔ صرف پنڈت جی اور کرپا شنکر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا کیونکہ رام جانے نے کوئی بیان دیا تو گواہوں کی ضرورت ہوگی ۔ وارڈ کے کونے میں رام جانے پٹّیوں سے بندھا پڑا تھا، اس کے بائیں ہاتھ پر پلاستر چڑھا ہوا تھا اور سر پر اتنی پٹّیاں بندھی ہوئی تھیں کی ایک آنکھ بھی بند ہو گئی تھی۔ سب انسپکٹر نے پوچھا تو رام جانے بڑی مشکل سے بس اتنا بتا سکا کہ وہ حملہ کرنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں پہچان سکا کیونکہ سب نے اپنے چہروں پر انگوچھے لپیٹ رکھے تھے ۔ سب انسپکٹر کرید کرید کر سوال کرتا رہا مگر رام جانے کچھ زیادہ نہیں بتا سکا ،پر ایک بات اس کے منہ سے ایسی نکلی کہ پنڈت جی چونک اٹھے ،رام جانے نے بتایا کہ جن غنڈوں نے اُسے مارا تھا اُن کے سر دار کی لاٹھی پیتل کی موٹھ والی تھی ۔ پنڈت جی کی آنکھوں کے سامنے بلجیت پانڈا آگیا وہ اس لاٹھی کو پہچانتے تھے جو گیتا پاٹ والی رات الاو¿ کی روشنی میں چمک رہی تھی ، انھیں رام سرن سنگھ کی آواز کی گونج بھی سنائی دی جو کہہ رہا تھا رمضانی کے لائے ہوئے پھول مندر کے اندر نہیں جائیں گے ۔ پنڈت جی ایک قدم آگے بڑھے ، وہ سب انسپکٹر کو رام سرن سنگھ اور بلجیت پانڈا کے بارے میں کچھ بتانا چاہتے تھے مگر اچانک خود کو روک لیا، کون وشواس کرے گا ان کی بات پر لیکن وہ چپ رہے تو رام جانے کو نیائے کبھی نہیں مل سکے گا، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیا کریں ، اس فریاد سے کیا فائدہ جسے کوئی سننے والا نہ ہو ۔ انھیں ہوش اس وقت آیا جب سب انسپکٹر نے ان کے ہاتھ میں قلم دیتے ہوئے کہا
”یہاں سائن کر دیجئے ،یہ زخمی کا بیان ہے !“
دوسرے دن دیوی کے چرنوں میں پھول چڑھاتے ہوئے پنڈت رام گووند کا ہاتھ رُک گیا ،انھیں ایسا لگا جیسے کوئی بھول ہو رہی ہو ۔ وہ پھول جو ان کے ہاتھوں میں تھے رام جانے کی بگیا سے نہیں آئے تھے ۔ بھولا نے کہیں سے بندوبست کیا تھا ، انھوں نے سر اٹھا کر دیکھا میّا کی بڑی بڑی کالی آنکھوں میں وہی پیار تھا جو وہ بچپن سے دیکھتے آ رہے تھے ، مسکراہٹ بھی وہی تھی ایک میٹھی مسکان جو اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر ماں کے ہونٹوں پر آجاتی ہے ،مگر پھر بھی کوئی کمی تھی جو کھٹک رہی تھی ۔ آرتی کے بعد انھوںنے بھولا سے کہا
”رام جانے کی کیا خبر ہے ؟ “
”ارے کا کھبر ہوگی غریب کی !“ بھولا نے دُکھ سے سر ہلایا ”ہڈی ہڈی توڑ کے رکھ دئیے ہیں حرام کے جَنے ،کون جانے بچی ہے کہ ناہی “
پنڈت جی نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اُن کی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ بہت بے چین ہیں ۔وہ چوپال کے پاس سے گزرے تو بہت سے لوگوں کو جمع دیکھا ۔
پنڈت جی کو دیکھ کر ویدھ جی نے ہاتھ لگائی
”آئیے آئیے بہت صحیح سمئی پر آئے ہیں، ابھی آپ ہی کی بات ہو رہی تھی ! “
پنڈت جی چوپال کے چھپّر کے اندر آگئے
”کیا ہوا ؟“ انھوںنے پوچھا
”ہم لوگ سوچ رہے تھے کہ رام جانے پر حملہ کرنے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں ؟“ کرپا شنکر دووھ والے نے کہا
”رام جانے سے آپ کا پرانا سمبندھ ہے ،اگر کسی سے اس کی دشمنی تھی تو آپ کو ضرور معلوم ہو گی !“ ویدھ جی بولے اور پھر چاروں طرف دیکھا ۔
بہت سے لوگوں نے سر ہلایا اور سب کی آنکھیں پنڈت جی پر جم گئیں ۔پنڈت جی چوپال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھتے رہے جن کی آنکھوں میں سوال تھا اور سوچتے رہے کہ اُن کے من میں جو کچھ ہے وہ اِن لوگوں کو بتا نا چاہےے یا نہیں ۔ انھوں نے ایک لمبی سانس لی اور بولے
”ہم جس دنیا میں رہتے ہیں ویدھ جی اُس میں دشمنی اور دوستی کا اَرتھ بدل گیا ہے ،ہمارے پُرکھے کہتے تھے دوستی کاکوئی کارن نہیں ہوتا بس ہو جاتی ہے ۔مگر دشمنی بنا کسی کارن کے کبھی نہیں ہوتی ۔مگر آج کل دشمنی کی بھی کوئی وجہ نہیں ہو تی !“
اور پھر انھوںنے رام سرن سنگھ کی دھمکی سے لیکر بلجیت پانڈا کی پیتل کی موٹھ والی لاٹھی تک ساری کہانی دوہرادی ۔ سب لوگ حیران ہو گئے اور پھر سب نے ایک ساتھ بولنا شروع کر دیا، جب شور ذرا کم ہوا تو کنہیا لا ل نے کہا
”ہمیں بلرامپور جا کے ضلع ادھی کاری سے ملنا چاہےے اور انھیں ساری بات بتانا چاہےے ،وہ سالہ رام سرن سنگھ خیر آ باد میں ہندو مسلم دنگا کرانا چاہتا ہے !“
باقی لوگ بھی کنہیا لال کی حمایت میں بولنے لگے ۔پنڈت جی ہاتھ اٹھا کر سب کو چپ کرایا اور بولے
”یہ مت بھولئے کہ ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں ہے !“
بشیرا مستری کھڑا ہو گیا ۔
”ارے آپ سے بڑا گواہ کون ہو گا ،چلئے چلئے ہم تو کہتے ہیں آج ہی چلئے !“
لکھن سنگھ نے پگڑی سیدھی کی اور زورسے بولا
”ہم اپنے گاو¿ں میں دنگا نہیں ہونے دیں گے!“ اور پھر ایک موٹی سی گالی دے کر زمین پر تھوک دیا۔
ضلع ادھی کاری پینتالیس ،پچاس برس کا موٹا سا آدمی تھا، سر پر بہت تھوڑے سے بال تھے ،چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں کسی جنگلی جانور جیسی چمک تھی ۔ دفتر کا فی بڑا تھا اس کی میز جس پر کانچ لگا ہوا تھا اور کرسی ایک چبوترے پر رکھی ہوئی تھی ۔ سامنے بارہ پندرہ کر سیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ کلکٹر نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پوچھا
”ہاں ،بتائیے کیا بات ہے ؟“
پنڈت جی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے وہی کہانی جو چوپال میں سنائی تھی پھر ایک بار سنا دی ۔ کلکٹر اپنی چھوٹی چھوٹی تیز آنکھوں سے پنڈت جی کو گھورتا رہا پھر اچانک بولا
”مجھے جو رپورٹ ملی ہے وہ تو کچھ اور ہی ہے !“
”آپ کو کیا رپورٹ ملی ہے صاحب ؟ “ کرپا شنکر نے بڑے ادب سے پوچھا
”مجھے بتایا گیا ہے کہ رمضانی ایک آتنک وادی ہے “ اس نے اپنے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ”رمضانی خیرآباد میں نام بدل کر چھپا ہوا تھا اور کوئی بڑی واردات کرنے کا پلان بنا رہا تھا !“
کمرے میں بیٹھے ہوئے سارے لوگ حیرت سے کلکٹر کو دیکھنے لگے
”آپ کو غلط خبر ملی ہے صاحب !“ پنڈت رام گووند اونچی آواز میں بولے ”رام جانے کا پریوار تین پیڑھی سے ہمارے گاو¿ں میں رہتا آیا ہے اس نے کوئی نام وام نہیں بدلا اور نہ ہی وہ آتنک وادی ہے !“
”وہ تو پھول والا ہے صاحب !“ ویدھ جی نے کہا ”اس کے گلاب کے پھول تو دور دور تک مشہور ہیں !“
لکھن سنگھ نے زور سے سر ہلایا اور اپنی گونجتی ہوئی آواز میں بولا
”اس جیسا بھلا مانس تو علاقے بھر میں نہیں ملے گا، پتا نہیں رام سرن سنگھ اس کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے !“
کلکٹر کچھ دیر تک سوچتا رہا پھر کھڑے ہو کر بولا
”ٹھیک ہے آپ لوگ جائیے ،ہم پتا لگا لیں گے کہ اصلی بات کیا ہے !“
باہر نکل کر کنہیا لال نے کہا
”ارے یہ کچھ نہیں کرے گا ہم نے خود اپنی آنکھوں سے اِسے رام سرن سنگھ کے ساتھ ہنس ہنس کربتیاتے دیکھا ہے ! “
بھولا بہت پریشان تھا اس نے دھیرے سے پنڈت جی سے کہا
”اگر اِی لوگن رام جانے کو کسی بڑے چکّر میں پھنسا دئیے تو بہت بُرا ہو گا !“
”ہمیں اپنے علاقے کے ایم ایل اے برج کشور جی سے ملنا چاہےے ،سنا ہے بہت اچھے آدمی ہیں !“ویدھ جی نے کہا
ایم ایل اے برج کشور سچ مچ بہت اچھے آدمی نکلے ،انھوںنے خیر آباد سے آ نے والوں کی بہت خاطر کی ،سب کو چائے اور نمکین دیا ،رام جانے کی پوری کہانی بہت دھیان سے سنی ،دیر تک سوچتے رہے پھر بڑے پیار سے پنڈت جی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے
”مجھے آپ کی بات پر پورا وشواس ہے مگر یہ کیسے ثابت کریں گے کہ اُس پھول والے کو مارنے والے رام سرن سنگھ کے آدمی تھے ۔آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ،رام جانے کسی کو پہچانتا نہیں ہے توپولیس والے اگر کیس بنائیں بھی تو کس کے خلاف؟۔ اور آپ تو جانتے ہیں عدالت سنی سنائی باتوں کو نہیں مانتی آپ سمجھ گئے نا ہم کیا کہہ رہے ہیں ؟“
پنڈت جی کے ہونٹو ں پر ایک پھیکی مسکراہٹ آگئی ،انھوںنے سر ہلایا
”جی ،ہم سب سمجھ گئے !“اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔
بات جہاں سے چلی تھی پھر وہیں پہونچ گئی۔
رام جانے کی حالت بہتر ہو گئی تھی، وہ لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑا ہونے لگا تھا ۔ گرام سابھا کے چناو¿ کی سر گرمیاں بھی بڑھتی جا رہی تھیں ،ہر روز جلسے ہو رہے تھے، الیکشن میں کھڑے ہونے والے گھر گھر جا کے لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے تیار کر رہے تھے۔ چھوٹے سے گاو¿ں میں بڑی ہلچل مچی ہوئی تھی۔پنڈت جی رام جانے کو دیکھنے کے لیے اسپتال گئے اور واپس لوٹے تو بہت اُداس تھے ، دیر تک اُن کی آنکھوں میں رام جانے کا پٹّیوں سے بندھا ہوا سر اور پلاستر سے جکڑا ہوا ہاتھ گھومتا رہا ۔وہ جب کبھی پریشان ہوتے تو ندی کنارے جا کر بیٹھ جاتے اور خود کو کسی اور دنیا میں پہونچادیتے ۔اُس دن بھی یہی ہوا ،دھوبن گھاٹ پر جلتے ہوئے چراغوں کو دیکھ کر وہ سوچنے لگے ،یہ چراغ تو سیکڑوں برس سے جلتے آئے ہیں مگر انھوں نے کبھی کسی کے گھر میں آگ نہیں لگائی،تو اب ایسا کیوں ہو رہا ہے ،یہ دنیا بدل کیوں رہی ہے ۔ خیر آباد ان کی چھوٹی سی دنیا ہی تو تھا ، پندرہ سو لہ سو لوگوں کی ایک ایسی دنیا جہاں موسموں کے سوا کبھی کچھ نہیں بدلتاتھا ۔اُ ن کی دنیامیں ہندو بھی تھے مسلمان بھی ،سنّی بھی ،شیعہ بھی ،دلت بھی اور براہمن بھی مگر کوئی دوری نہیں تھی ۔ دیوالی کے دئے بھیما کمہار بناتا تھا تو تیل کلّو میاں تیلی کے یہاں سے آ تا تھا ۔جب بشیرا مستری نیاز دلاتا تو کنہیا اور لکھن سنگھ کے بچے فیرنی کے پیالے سارے گاو¿ں میں بانٹتے پھرتے ،اور ہولی پر حاجی پیر کی درگاہ کے باہر ہولیاروں کے لیے شربت کا بندوبست کیا جاتا ۔ مگر اب پتہ نہیں کیا ہوگا۔ ،رام سرن سنگھ جیسے لوگ لکیریں کھینچ رہے ہیں ،لوگوں کو بانٹ دیا جائے گا ،دیوالی کی دیوں میں مسلمان کا تیل نہیں جلے گا ،نیاز کی فیرنی ہندو نہیں کھائیں گے اور دیوی کے چرنوں میں ایک مسلمان کے لائے ہوئے پھول نہیں چڑھیں گے ۔وہ چپ چاپ بیٹھے ہوئے ،بڑھتے ہوئے اندھیرے کو دیکھتے رہے ،انھیں ہوش بھولا کی آواز سن کر آیا جو کہہ رہا تھا
”ارے آپ یہاں بیٹھے ہیں اور ہم سارے گاو¿ں ماڈھونڈیا مچائے رہے ہیں ۔ کا سمئی ہوے رہا ہے کچھ خبر ہے کا ؟“
پنڈت جی نے اپنے پرانے ساتھی کو دیکھا جو لالٹین ہاتھ میں لیے کھڑا تھا ۔
”سمئی!“ پنڈت جی نے دھیرے سے دوہرایا اور سوچا ”سمئی کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ،بدلتا رہتاہے ۔شاید یہ سمئی بھی بدل جائے!“
آخر وہ دن آ ہی گیا جس دن گرام سابھا کا چناو¿ ہونا تھا ،سویرے سے شام تک وہ تمام لوگ جو سابھا کے ممبر بننے کے لیے الیکشن لڑ رہے تھے گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھا تے اور ووٹ ڈالنے کے لیے بھیجتے رہے، ان میں رام سرن سنگھ اور بلجیت پانڈا بھی تھے مگر وہ خیر آباد میں زیادہ دیر تک نہیں رُکے ،کیونکہ انھیں دوسرے گاو¿ں بھی جاناتھا ۔ مکھن لال یادو بھی آیا تھا اُ س نے پنڈت جی کو پوچھا مگر جب نہیں ملے تو مندر کے بند دروازے پر ماتھا ٹیک کر چلا گیا، اُسے بھی سارے علاقے کا دورا کرنا تھا ۔ ووٹوں کی گنتی ضلع ادھی کاری کے دفتر میں ہونی تھی جہاں سے تھوڑی تھوڑی دیرمیں خبریں مل رہی تھیں کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہا ر گیا ہے ۔ پنڈت جی کو ان سب باتوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی، انھوں نے ووٹ بھی نہیں دیا اور سویرے سے گھر کا دروازہ بند کیے کسی مہا پرش کی آتم کاتھا پڑھتے رہے ۔ شام کو جب وہ آرتی کر رہے تھے تو اچانک سارا گاو¿ں بڑے بڑے پٹا کھوں کی آوازوں سے گونجنے لگا ۔پنڈت جی جلدی جلدی آرتی ختم کر کے باہرنکلے تو بھولا دوڑتا ہوا آیا ،اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور وہ زور زور سے چلا رہا تھا ۔
”ارے ہمکا تو پہلے ہی معلوم تھا یہی ہو گا !“
”کیا ہوا ؟“ پنڈت جی نے پوچھا
بھولا بہت زور سے کھل کھلا کے ہنسا اور اپنے ٹوٹے ہوئے دانت چمکا کر بولا
”ہار گیا سَسُرا اور کا ہوا !“
”کون ہار گیا ؟ “ پنڈت جی نے پھر پوچھا
”ارے اُو بد ماس جو آپ کا دھمکی دیارہا، رام سرن سنگھ اور کون !“
تب تک اور بہت سے گاو¿ں والے مندر کے آنگن میں جمع ہو چکے تھے ،جن میں سب سے آگے کنہیا لال تھا جو اپنے گلے میں پڑے ہوئے ڈھول کو زور زور سے بجا رہا تھا ،اس کے پیچھے لکھن سنگھ اور کرپا شنکر کا بیٹا بنسی منجیرے بجا رہے تھے ۔ اِس شور ہنگامے کے بیچ پنڈت جی کو بتایا گیا کہ رام سرن سنگھ 840ووٹوں سے ہار چکا ہے ۔ پنڈت جی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا ۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ تو ایک چمتکار ہے ،انھوں نے پلٹ کر مندر کے اندر دیوی کو دیکھا جس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ کچھ زیادہ روشن اور زیادہ خوبصورت معلوم ہو رہی تھی ،انھوں نے ہاتھ جوڑ کر سر جھکا دیا ۔ وہ چمتکار نہیں تو اور کیا تھا ۔رام سرن سنگھ 840ووٹوںسے ہارا تھا اور خیر آباد میں 840ووٹ ہی تھے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ گاو¿ں کے ایک بھی ووٹر نے اس کو ووٹ نہیں دیا تھا ۔ یہ خبر خیرآ باد ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے ضلع کے لیے بہت بڑی خبر تھی اور ناقابل یقین بھی کہ گاو¿ں کے سارے ہندو مسلمان ،امیر غریب،چھوٹے بڑے بغیر کسی کے سکھائے بتائے ایک ہی فیصلے پر پہونچے ،اس سے پہلے الیکشن کی ہسٹری میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا مگر ہوا یہی تھا ۔ رام سرن سنگھ جیسا بہو بلی جس کی ایک جیب میں پولیس اور دوسری جیب میں لیڈر رکھے رہتے تھے ،ہار جائے تو یہ چمتکار کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ۔خیرآبا د نے ایک ایساریکارڈ بنایا تھا کہ جس کی مثال سارے ملک میں کہیں نہیں ملتی ۔ جیتنے والے گرام سابھاپردھا ن مکھن لال یادو نے خیر آ باد کے ایک ایک گھر میں جاکر اُ ن کا شکریہ ادا کیا اور پنڈت جی کے پاو¿ں چھو کر کہا
”ہم جانتے ہیں پنڈت جی ، ہماری جیت کے پیچھے آپ کا ہاتھ ہے ! “
پنڈت جی مسکرادیئے
”ہمیں آپ کی جیت سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ یہ اَن پڑھ گاو¿ں والے اب اپنے ادھی کار کو پہچاننے لگے ہیں !“
مکھن لال نے زور سے سر ہلایا او ربولا
”آپ کی بات گرومنتر ہے ،اگر سب لوگ اس منتر کو سمجھ لیں تو دیس کی کایہ پلٹ ہو جائے !“
کوئی دو دن بعد جب پنڈت جی بھولا کے ہاتھ کی بنائی ہوئی روٹی اور بھاجی کھاکر آرام کر رہے تھے تو دروازہ زور دار آواز سے کھُلا اور رام سرن سنگھ بلجیت کے ساتھ اندر گھس آیا ،اُس نے پنڈت جی کا گلا پکڑ لیا اور بولا
”یہ سب تیرا کیا دھرا ہے پنڈت ، تجھے ایسی موت ماریں گے کہ لاش بھی نہیں ملے گی !“
وہ گالیاں بکتا رہا اور دھمکیاں دیتا رہا ۔پنڈت جی چپ چاپ اُسے دیکھتے رہے مگر جب وہ جانے لگا تو پنڈت جی نے کہا
”رام سرن سنگھ جی آ پ کو ہم نے نہیں، آ پ کے اپنے اَہنکار نے ہرایا ہے !“
رام سرن سنگھ نے دروازے کو لات ماری اور باہر نکل گیا مگر اچانک رُک گیا ،اس کے سامنے سو ڈیڑھ سو لوگ راستہ روکے کھڑے تھے ۔کوئی کچھ بول نہیں رہا تھا مگر اُ ن کی آنکھیں جو کچھ کہہ رہی تھیں اُسے دیکھ کر وہ سہم گیا اور سامنے کھڑے ہوئے لکھن سنگھ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا
”ارے آپ سب لوگوں کو الّو بناتا ہے یہ پاکھنڈی پنڈت ،چور ہے پورا چور ،چڑھاوے کے سارے پیسے کھا جاتا ہے ،ہم جا رہے ہیں بلرام پور تھانے میں رپورٹ لکھانے !“
کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ،سب چپ چاپ اُس کو دیکھتے رہے ،رام سرن سنگھ نے غصّے سے بھیڑ کو دیکھا، مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور اپنی جیپ کی طرف بڑھا جو کچھ دور کھڑی تھی ،جیپ میں چار چھ غنڈے پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے ۔ بھیڑ نے رستہ دے دیا۔ بلجیت اپنی لاٹھی کو زمین پر مارتا ہوا پیچھے پیچھے چل رہا تھا جیسے ہی رام سرن جیپ کے پاس پہونچاتو کسی نے پہلا پتھر مارا جو بلجیت کے کندھے پر لگا ،وہ گالی دے کر پلٹا مگر تب تک پتھروں کی برسات شروع ہو چکی تھی ،رام سرن سنگھ بھاگ کر جیپ میں گھسا اور چیخا
”بھاگو “
جیپ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی ،بلجیت اس کے پیچھے بھاگا اور بڑی مشکل سے جیپ کا ڈنڈا پکڑ کر لٹک گیا ۔ گاو¿ں والے چیختے ،چلّاتے ،پتھر مارتے وہاں تک آ ئے جہاں سے شہر کو جانے والی پکّی سڑک شروع ہو تی ہے ۔ویدھ جی نے دُور جاتی ہوئی جیپ کو گھوسا دکھاتے ہوئے کہا
”اب دوبارہ نہ آئیے گا ورنہ اپنے پیروں پہ چل کے نہ جا سکیں گے!“
رام سرن سنگھ کے غنڈوں کو مار بھگا نے والے دیہاتیوں کے چہرے پر وہی چمک تھی جو جنگ میں جیت کر لوٹنے والے لشکر کے چہرے پر ہوتی ہے ۔ سب لوگ چلّارہے تھے ،نعرے لگارہے تھے کچھ نوجوانوں نے تو ناچنا بھی شروع کر دیا تھا ،یہ خیر آباد کی جیت کا جشن تھا ،اُن سب کی ایکتا کا جشن تھا!اچانک بھولا کی نظر بلجیت کی لاٹھی پر گئی جو سڑک کے کنارے پڑی تھی ۔ بھولا نے لاٹھی اٹھا کر پیتل کی گول موٹھ پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا کے بولا
” ارے اِی تو ہمرے بہت کام اَئی ہے !“
پنڈت جی آرتی کی تیاری کر رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی
”پنڈت جی ۔!“
انھوں نے باہر دیکھا ،مندر کے چبوترے پر رام جانے کھڑا تھا، اس کا ہاتھ ابھی تک پلاستر میں تھا مگر باقی پٹّیاں اُتر چکی تھیں اور پاس ہی اس کا گیارہ سال کا بیٹا شکورا ہاتھ میں پھولوں سے بھری ٹوکری لیے کھڑا تھا ۔
”کیسے ہو رام جانے ؟ “ پنڈت جی نے پوچھا
”کرپا ہے آپ کی ،اب تو ٹھیک ہیں !“
پنڈت جی نے بچے کو پیار سے دیکھا اور پوچھا
”اور تم کیسے ہو شکورا ؟“
”اَشرواد ہے آپ کا !“ شکورا نے کچھ شرما کر جواب دیا
”جب تک ہمارا ہاتھ ٹھیک نہیں ہوتا ،پھول لے کر شکورا آیا کرے گا !“رام جانے بولا
پنڈت جی نے سر ہلایا اور شکورا کو دیکھا جس کی آنکھیں اتنی بڑی ذمہ داری مل جانے پر چمک رہی تھیں۔ انھوں نے شکورا کے سر پر ہاتھ پھیرا اورپھولوں کی ٹوکری لے لی، جس میں رکھے ہوئے گلاب مہک رہے تھے ۔!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*