خدا مارے کہ بندہ ؟

قحط سالی کی وجہ سے بہتا نالہ خشک ہو چکا تھا۔ سردار کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ لیکن گاﺅں کے لوگوں کو اجازت نہ تھی کہ کنویں سے پانی لے لیں ۔ گاﺅں والے پانی بھرنے جاتے اور دن ڈھلنے پر واپس آجاتے ۔ گاﺅں میں قبرستان کی سی خاموشی تھی ۔ گز کے درخت کا سایہ جو محفل جمنے کی جگہ تھی اب ویران تھا۔ چاندنی راتوں کو نہ تولڑکیوں کے گیتوں کی خوبصورت آواز آتی اور نہ ہی لڑکوں کے سرود ، ڈھول اور رقص کی محفلیں تھیں۔ مرد بیکار تھے ، وہ دیواروں کے سائے میں بیٹھتے تھے، زور زور سے کھانستے تھے اور زمین پر تھوکتے تھے ۔ وہ اپنے خشک ہونٹوں کو پگڑیوں کے پلوسے صاف کرتے اور آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے ۔ آسمان گرم لوہے کی طرح سرخ تھا اور زمین پیاس سے دھواں دے رہی تھی۔
ان کی باتیں بھی ایسی تھیں۔ ”آج جان محمد کا گدھا گر گیا اور مشکیزے پھاڑ دیئے “ ۔ جان محمد قریب بیٹھا ہنسنے لگا اور کہا ”گدھے بیچارے ، تمہارا کوئی قصور نہیں ہے “۔ ملاو ہیں کھڑا تھا۔ وہ بولا: ”پھر کس کا قصور ہے ؟ “۔ اس نے کہا” اوپر والے کا“ ۔ ملا سخت ناراض ہوا اور کہا کہ ”جان محمد کافرہوگیا ۔ اس کا روٹی پانی بند کردو “۔ ہم سب نے کہا ”جناب پانی روٹی ہمارے اپنے پاس کہاں ہے ۔ آخر انسان اپنے آقا سے ضرور گلہ کرتا ہے “ ۔ بہت منت زاری کے بعد ملا صاحب نے اسے معافی دے دی اور کہا آئندہ ایسی کفر والی باتیں نہ کرنا ۔ اب جان محمد مسجد میں بیٹھا ہے اور توبہ کر رہا ہے ۔ اور اس نے قول دیا کہ بارش ہوئی تو مسجد کی دیواروں کی لپائی کرائے گا۔
ایک نے کہا”خدا داد بسترِ مرگ پر پڑا ہوا ہے ۔ اس کی بیوی سردار کے پاس گئی اور کہا واجہ (آقا)مجھے کچھ پیسے قرض دو ۔ واجہ نے جواب دیا:” میں تم لوگوں کے دادا کا مقروض ہوں کیا؟ ۔جاﺅ اور محنت مزدوری کرو“۔ ایک نوجوان نے اپنی پشت دیوار سے لگائی اور کہا :”سچ کہا واجہ نے۔ چلو شیر خان مزدوری کرنے شہر چلتے ہیں “۔ شیر خان نے جو زمین پر لکیر یں کھینچ رہا تھا۔ سر اٹھا یا اور کہا ”کیسی بات کرتے ہو حیات خان ، وہاں تو پہلے ہی سے مزدوروں کی فوجیں پڑی ہوئی ہیں۔ ہمیں کون پوچھے گا ؟۔ سردار نے کوئی نئی بات نہیں کی ۔ ہر امیر آدمی غریب آدمی کو مزدوری کرنے کی نصیحت کرتا ہے “۔
حیات خان اور شیر خان محفل سے باہر نکل آئے ۔ حیات خان نے کہا :”میر اخیال ہے کہ ہم کسی پہاڑ میں چھپ جائیں اور جو امیر گزرے ، اس سے اپنا حق لے لیں “۔ شیرخان نے کہا ”تمہارے خیالات کتنے برے ہیں؟۔دوسرے کا پیٹ پھاڑیں اور اپنے پیٹ میں ڈالیں؟ “۔ ”لیکن سردار ہمارا پیٹ پھاڑتے ہیں اور اپنے پیٹ میں ۔۔۔۔“
”بس کرو ، کسی نے سن لیا تو سمجھو زندہ نہ بچوگے “۔
دونوں پھر محفل میں واپس آگئے ۔ محفل میں موجود سفید ریشوں میں سے ایک بولا کہ سارے گاﺅں کے لوگ صاحب کے پاس جائیں اور اس سے غربت اوربھوک کی فریاد کریں ۔ ”میں نے سنا ہے کہ صاحب ملکی ( لوکل ) آدمی ہے ۔ شاید اپنے بھائیوں کی آواز پہ کان دھر لے اور کوئی اچھائی کرے“۔حیات خان آگے بڑھا اور کہنے لگا ۔ ”ہاں ، کہتے ہیں کہ اس کے پاس ایک لاکھ روپے کی موٹر کار ہے ۔ شاید موٹر بیچ دے اور پیسے ہم میں بانٹ دے “ ۔شیر خان نے اس کا بازو پکڑا اور کہا ”کیسی بچوں جیسی باتیں کرتے ہو؟ ۔ صاحب تمہاری خاطرا پنی موٹر بیچ دے گا ؟ ۔کیسے خواب دیکھتے ہو؟ ۔ہم جیسا شخص اس کے پاس جائے تو چیر اسی اسے وہیں بے عزت کر دے گا ۔ یا کہے گا پاگل ہے ۔ لے جاﺅ جیل میں ڈال دو “۔ حیات خان نے کہا ۔ ”وہاں روٹی تو بہر حال ملے گی ، گھر سے جیل لاکھ درجہ بہتر ہے “۔ شیر خان نے پگڑی کے پلو سے ہونٹ صاف کیے اور کہا ”ہمارے بعد ہماری مائیں بہنیں بھوک سے مریں گی اور امیر لوگ انہیںاپنے عیش کے لئے ۔۔۔ “ ۔ ”بس ، بس“ ، سب نے یکبار گی شیر خان کو گھورا ۔ ایک سفید ریش نے کہا ۔ ” بھوک نے تم لوگوں کو پاگل کر دیا ہے ۔ بات کہاں سے شروع ہوئی ۔ اور کہاں پہنچ گئی۔ تم نے اپنی غیرت کھودی ہے کہ محفل میں اپنی ماﺅں ، بہنوں کا نام لیتے ہوئے نہیں شرماتے !۔ تمہاری باتوں نے مجھے شر مسار کر دیا“۔
محفل برخاست ہوئی اور سب اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے ۔ جس وقت بھوک سے انسان مرنے لگے تب پڑھے لکھوں نے اخباروں کے لئے دو سطریں بھیج دیں۔ تبھی حکومت کو پتہ چلا اور اس نے حکم دیا کہ ”شہر سے گاﺅں تک موٹروں کے لئے ایک سڑک بنائی جائے۔ اور اس پر گاﺅں کے بھو کے کام کریں اور انہیں روزانہ کے دس روپے ملیں گے “۔ سارا علاقہ یگبار گی امڈپڑا۔ حیات خان اور شیر خان بھی مزدوروں میں شامل ہوگئے ۔ آنکھیں ابھی چمکی بھی نہ تھیں کہ دو دن کے اندر سڑک تیار ہوگئی۔اجرت لیتے وقت سب کو پندرہ روپے ملے ۔ حیات خان نے جرات کی اور کہا۔ ۔۔۔”بابو صاحب ہماری مزدوری بیس روپے بنتی ہے “۔
سارے مزدور پکار اٹھے ”ہاں ، ہاں ۔ ہمارا حق بیس روپے ہے “۔ شیر خان نے حیات خان کوکہنی ماری کہ ”خاموش رہو، کیا فساد برپا کر رہے ہو ؟ “۔
”مگر ہمارے پانچ روپے کہاں گئے ؟ “۔
” آخر بابو صاحب بھی تو اپنا حصہ لے گا“۔
”کیوں ؟۔ وہ خود تنخواہ نہیں لیتا کیا؟ “ ۔حیات خان نے پوچھا ۔
”لیتا ہے مگر وہ یہاں وہاں ہاتھ مارلیتا ہے ۔ تب جا کر اس کا گزارہ ہو جاتا ہے “۔
”خود کتنی تنخواہ لیتا ہے ؟ “۔ حیات خان نے پوچھا
”آٹھ سو روپے ؟ ۔ مجھے اگر ماہوار آٹھ سو روپے ملیں تو سال کے بعد موٹرنہ خریدوں تو میرا نام بدل دو “۔
مزدور اپنے اپنے گھر روانہ ہوئے تو شیر خان اور حیات خان نے بھی اپنی چادریں جھٹک دیں اور گاﺅں روانہ ہوگئے۔
شہر کے باہر انہیں بڑا سا مجمع نظر آیا ۔ ایک اونچی جگہ کر سیوں پر بڑی پگڑیوں والے واجہ بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے۔ اور زمین پر بھوکے بزگر محنت کش بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک آدمی اٹھا، اور زور زور سے باتیں کرنے لگا۔ حیات خان نے کہا ”اس نے ہماری حالت دیکھ لی ہے اور شاید یہ ہمارے لئے سرکار سے کچھ کہے “۔ شیر خان نے جواب دیا کہ ”ہماری بھوک کا حال سب کو معلوم ہے ۔ ہر ایک کو اپنا غم ہے“۔
کھڑے ہوئے شخص کی آوازسنائی دی ۔ ”آزادی ہماری آخری منزل ہے ۔ آزادی ، آزادی ہمارا پیدائشی حق ہے ۔ ہم ضرور آزاد ہوں گے۔ ہم اپنے گھر میں دوسروں کے دست نگر نہ ہوں گے ۔ ہم غلامی کا گوشت نوچیں گے ۔ ہم محکومی کے دیو کی ہڈیاں پیس دیں گے ۔ ہم آزاد ہوں گے ، ہم آزاد ہوں گے ۔۔۔۔بولو انقلاب زندہ باد“۔
لاغر اور سوکھے ہوئے گلوں سے مری ہوئی آواز آئی :”انقلاب زندہ باد “ ۔ بڑے بڑے طرہ والے آہستہ آہستہ کرسیوں سے اٹھے اور چل دیے ۔ وہ جب شیر خان اور حیات خان کے قریب سے گزرے تو آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
”سرکار کے دشمن ہیں“۔
”باغی ہے باغی ۔ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے “۔
”میرے خیال میں تو عبر تناک انجام ہوگا“۔
” سی آئی ڈی کہیں ہماری رپورٹ نہ کر دے ۔ میں نے کل ہی ایک ٹھیکے کی درخواست دی تھی “۔
”صاحب کو اگر خبر ہوگئی کہ میں بھی جلسے میں شامل تھا تو وہ مجھ سے ضرور ناراض ہوں گے“۔
حیات خان حیران ہوا کہ اُس شخص نے ایسی کیا بات کہہ دی کہ بڑے بڑے لوگ جل گئے۔ حیات خان نے کہا” شیر خان بھائی ، اس کی باتوں میں کیسی مٹھاس تھی۔ جیسے اس شخص کی باتوں نے مجھے قیمت پر خرید لیا ہو۔ میں بھی اب گلی گلی میں انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگاﺅں گا“۔
”لیکن میں اس کی باتیں سمجھ نہ سکا۔ مگر یہ بات مجھے اچھی لگی کہ واجہ لوگ بھاگ گئے اور ڈر کے مارے گم ہوگئے “۔
”سمجھ تو میں بھی نہیں پایا“۔
پندرہ روپے جیب میں لیے پاﺅں گھسیٹتے ہوئے جب وہ گاﺅں پہنچے تو سردار کی بیٹھک کے سامنے بڑا مجمع نظر آیا ۔ انہوں نے اپنے قدم تیز کر دیے کہ کہیں کوئی جھگڑا فسادنہ ہوا ہو۔ نزدیک پہنچے تو سردار اور اس کے دونوکر آگے آئے ۔ایک نوکرنے پوچھا ۔

”حیات خان ، شیر خان !! کیا تمہیں معلوم ہے کہ کل صاحب ہمارا گاﺅں دیکھنے آئے گا۔ اس کے استقبال کے لئے ہم راستے پر ایک دروازہ بنائیں گے اوردروازہ سے لے کر سردار کی بیٹھک تک جھنڈیاں لگائیں گے ۔ ہر ایک سے چندہ کیا۔ دس دس روپے تم بھی لاﺅ“۔
حیات خان حیران ہوا۔ کہا” دو دن تک پتھر چنتے چنتے ہمارے ہاتھ سوکھ گئے ہیں ۔ خون اور پسینہ ایک کرنے کے بعد ہمیں یہ دس روپے ملے ہیں ۔ وہ بھی تم لوگ چھیننا چاہتے ہو۔ یہ کیا ظلم ہے ؟“۔
سردار صاحب غضبناک ہوا”نکا لو پیسہ یا شروع کروں بید سے پٹوانا “۔
شیرخان نے کہا۔ ”نکالو بھائی یہ بچھو پھینک دو، ہمیں پیسہ راس نہیں آتا “۔
تھکے ہوئے ہاتھ جیب میں گئے اور دس دس کے نوٹ سردار کے پالش کئے ہوئے بوٹوں کے سامنے گر گئے۔ ۔۔
”ان سے رنگین کاغذ خریدوں گا۔۔۔۔ “سردار صاحب نے کہا”ہاں حیات تم دونوں ، اپنی چیزیں رکھ دو ۔ اور یہ دونوں شہتیریں اٹھاﺅ تاکہ دروازہ بن جائے ۔ بعد میںدوسرے کام شروع ہوںگے “۔
(ماخوذ)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*