بنیاد پرستی ہی جیت گئی

پاکستان کے شہری مڈل کلاسز مجموعی طور پر ہوائی سوچ کے مالک اور بنیاد پرست ہیں۔ اس لیے اُن میں سے کسی بھی بڑے گروہ کے اندر روشن فکری اور جمہوریت وغیرہ ڈھونڈنا پاگل پن ہے۔
گذشتہ ایک دہائی سے بڑے شہروں کا مڈل کلاس دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے :
1۔ ایک وہ ہے جو نواز شریف کی طرح کی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں ، فوج اور فیوڈلز پر مشتمل ہے ۔
2۔ دوسرا گروپ پاپولسٹ ،میڈیوکر، سلیبرٹی اور ڈیماگاگ عمران خان کی قیادت میں ، شہری لمپن طبقہ ،جوڈیشنری ، انارکسٹ ، اور بے چین اپر مڈل کلاسی انقلابیوں پر مشتمل ہے ۔اندر سے مڈل کلاسی خباثتوں میں لتھڑے ہوئے ،مگر بیرونی طور پر اجلے پن کی دو غلا گیری والے اِن عناصر میں جج بھی شامل ہیںاور بزنس مین بھی ۔ ان کا ایک بڑا حصہ مغرب میں بھی رہتا ہے۔
اربن مڈل کلاسز کو عمران کی طرف ہانکنا چونکہ بنیادی طور پر فوج کا پراجیکٹ تھا اس لیے قدرتی طور پر اس پہ فوجی اثر ورسوخ بہت ہوگیا ۔ بالخصوص ریٹائرڈافسران ، اُن کی بیگمات اور بہوبیٹیاں جوق در جوق اس میں آئیں۔
عمران کے شہری مڈل کلاسیوں کا خیال ہے کہ صرف وہی پاک ہیں ، اور اِن کے علاوہ جتنی بھی بورژوا سیاسی پارٹیاں ہیں اور فوج ہے ، یہ سب کے سب چور اور کرپٹ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی بد حالی ،پسماندگی اور رسوائی فیوڈل نظام کی وجہ سے نہیں بلکہ اسی لیڈر شپ کی کرپشن کی وجہ سے ہے ۔ وہ غریبی کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یعنی کپٹلسٹ نظام کے بجائے بورژوا لیڈروں کے بیرونِ ملک پیسہ لے جانے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ لہذا اُن کے خیال میں اُن کوبربادکرناحق و باطل کا معاملہ ہے ۔
یہ شہری الیٹ لوگ عمران خان کو صادق ، صالح ، مومن ،امین ، ولی اور مسیحا سمجھتے ہیں۔ اور اسے ایک کلٹ، ایک فرقہ کے راہبر کی حیثیت دیتے ہیں۔یہ لوگ اپنی سیاست اور نعروں میں اقبال کا پین اسلام ازم ، اور الٹرا حب الوطنی کو بھی استعمال کرتے ہیں، اور بہ یک وقت مغربی طرز زندگی کی تعریفیں بھی جپتے رہتے ہیں۔ وہ تُرک بنیاد پرست فلموں اور نسیم حجازی کے ناولوں کے زیرِ اثر بڑے بڑے بول بولتے ہوئے گھوڑوں کی سموں ،اور تلواروں کی سائیں سائیں میں چیچنیا تک جھنڈا گاڑنا چاہتے ہیں۔ اس عمرانی مڈل کلاس کے جلسوں میں نوجوان عورتیں اور مرد پارٹی ترانوں اور موسیقی پہ رقص کرتے ہیں ۔ اِسی ہلا گلا اور اسی رقص و سرود میں ”مذہبی ٹچ“بھی لازمی ہوا کرتی ہے۔ یہ لوگ پروپیگنڈے میں سپیشلائزڈ ہیں۔ ان کے پاس کوئی ٹھوس سیاسی خیالات نہیں ہیں۔ ہمہ وقت موقف بدلتے رہنے کے سبب اِن کا کوئی سیاسی اعتبار نہیں ہے ۔
چنانچہ دوسری بورژوا پارٹیاں توڑدی گئیں اور اُن کے لیڈروں کو” وکٹیں“ بنا بنا کر عمران کی پارٹی میں بھرتی کیا گیا۔
ہوائی نیک لوگوں کا یہ لشکر 2018میں ایک بہت ہی متنازعہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت میں آیا تھا۔ بنیاد پرستی کی حد تک الٹرا رائیٹ اور ، ون یونٹ کی حد تک قومیتوں کی دشمن ایک ”یک پارٹی“ فاشسٹ حکومت قائم ہوگئی۔ سارے مخالف لیڈر ذلت اور ایذا بھری جیلوں میں بند تھے ۔ اُن پہ گرے ہوئے الزامات کا غوغا رہتا تھا ، اُن پہ حقیر نام رکھ دیے گئے ۔ اور ان کا ناطقہ بند کردیا گیا۔ایک بد ترین قسم کی نرگسیت چڑھ گئی تھی اس گروپ پہ ۔
کپٹلزم کے طریقوں سے ناواقفیت کے سبب یک دم پستی آئی ۔ بغیر کسی بنیادی تبدیلی کرنے کے اِن غیر سیاسی حکمرانوں کے ہاتھوں داخلہ ، خارجہ اور معاشی میدان برباد ہوگئے ۔
تب اِس مڈل کلاس کے خلاف دوسری مڈل کلاس کی طرف سے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد ہوگیا۔ اور فوج کے حاوی حصے نے عمرانی شہری الیٹ گروہ کو اقتدار سے نکال باہر کردیا ۔اور اسی کپٹلزم اور فیوڈلزم کے ذریعے ٹیکس، مہنگائی اور بے روزگاری مسلط کردی ۔
مگر، ایک ہی سال کے اندر اندر عمران والے اربن مڈل کلاسز نے دوبارہ طاقت پکڑی ۔ اور پی ڈی ایم اور فوج کے خلاف کودتا کردی ۔ اربن مڈل کلاس کے بلوائیوں کے ہجوم فوجی چھاﺅنیوں میں گھس کر ملیامیٹی کر تے رہے ، اُن کے اتحادی فوجی افسر اُن کی راہنمائی اور مدد کرتے رہے اور عدالتوں کے جج اُن کی خدمت میں کاروائیاں کرتے رہے ۔
9مئی کو بے شعور اور غیر منظم شہری مڈل اور لوئر مڈل کلاسز نے اپنا جائز غصہ بے کار باتوں پر نکال دیا ۔گاڑیاںجلائی گئیں، سرکاری اور نجی دونوں املاک برباد ہوئے اور شہروں کی گلیاں خانہ جنگی کا میدان بن گئیں۔
جواب میں ریاست پہ قابض اشرافیہ اور اُس کے ادارے تیزی اور سختی سے حرکت میں آئے ۔ میڈیا عمران کو شیطان بنا کر پیش کرنے لگا۔ اور اُس کی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے لے کر ضلع لیول تک کے عہدیدار گرفتار کیے گئے ۔ اب بساط ایسی بچھی کہ عمران بمع اپنے تجربہ کار جرنیلوں، ججوں اور دانش و سیاست کے صلاح کاروں کے پھنس گیا ۔اُسے بچانے کی سر توڑ کوششیں ہوئیں۔ بالخصوص سپریم کورٹ ، اور لاہور و اسلام آباد ہائی کورٹوں کی جانب سے ۔ فوج میں سے اُس کے طرفدار حصے نے بھی اسے بچانے کے لیے اپنا سب کچھ جھونک دیا۔مغرب سے بھی اس کا خوب دفاع کیا گیا۔مگر بالآخر بظاہراور وقتی طور پر یہ گروپ شکست کھا گیا ۔
توازن بدل چکا ۔ اسٹیبلشمنٹ نے الٹرا حب الوطن پوسچر لے کر دوبارہ اپنی صف بندی کر لی ۔ ساری بورژوا پارٹیاں اس کے ساتھ ہوگئیں ۔ سول بیوروکریسی، اور جاگیردار و سردار بھی ساتھ ہوئے اور یوں عمران پراجیکٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوگئی ۔
بلاشبہ یہ لڑائی پاکستان کے حکمران طبقات کی آپسی لڑائی ہے ۔رائٹ کی رائیٹ کے خلاف لڑائی ۔شہری الیٹ کلاس کی باہمی دست و گریبانی ہے ۔ لاہور، پنڈی ، اسلام آباد ، میانوالی ، پشاور ، اور کراچی اس شہری مڈل کلاس کے مراکز ہیں۔
طرفین میں سے ایک بھی جمہوری نہیں، روشن فکر نہیں ، اور انقلابی تو بالکل نہیں۔کپٹل ازم کو برقرار رکھنے ،رجعتی اور بنیادی پرست سسٹم جاری رکھ کر عوام الناس کا استحصال کرنے ،عورتوں اور قوموں کے حقوق غصب کرنے پہ دونوں گروہ متفق ہیں۔
اس وقت پاکستان میں کپٹلسٹ معاشی نظام بدترین بحران کا شکار ہے ۔عدم مساوات کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ۔مہنگائی اور بے روزگاری نے اشرف انسان کو حیوان کی حد تک گرادیاہے ۔ مڈل کلاس اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے ۔عوام معاشی دباو¿ کی وجہ سے عوام حکمران طبقات خاص طور پر عسکری اسٹبلشمنٹ کے خلاف سخت غصے میں ہیں۔
اِس بار پھر، عوام کے اس غصے اور محرومی کو حکمران طبقات نے بڑی استادی کے ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا ۔اس غصے کو بنیادی معاشی انقلابی تبدیلیوں کی تحریک بن جانے سے پہلے ہی اسے کسی اور سمت موڑ دیا گیا ۔ یعنی عوام کے اندر جو معاشی غصہ تھا اس کا رُخ بدل کر معاشی اور سیاسی اصلاحات کے بجائے اسے شخصیات کے خلاف لگا دیا گیا۔
اب پتہ نہیں دوبارہ عوامی غصہ کتنے عرصے بعد اکٹھا اور منظم ہوگا۔ چنانچہ 9مئی کو حکمران طبقات ہی کامیاب ہوگئے۔ ایسٹیبلشمنٹ مضبوط ہوگئی ۔ رائٹ اسٹ فکر مزید مضبوط ہوگیا۔ فوجی عدالتوں کے علاوہ بھی حکمرانی میں فوج کا رول مزید بڑھ گیا ہے ۔ترانوں گانوں میں یا تو فوجی اور حب الوطنی کے قدیم راگ گائے جارہے ہیں یا فرقہ وارانہ ماضی کی عظمت دوہرائی جارہی ہے۔ ہم پھر ماضی پرستی کے ماحول میں چلے گئے ہیں۔ بورژوا پارلیمنٹ ،بورژوا عدلیہ اور بورژوا میڈیا مزید کمزور ہوچکے ہیں۔ اقتدار اُسی حکمران طبقات کے پاس ہی ہے جو عوام دشمن ہے ، ون یونٹی ہے اور بنیاد پرست ہے ۔
مگر کوئی بھی باشعور شخص یا گروہ اس سب کچھ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔ جلد از جلد الیکشنز کا مطالبہ کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر ایک طرف جوڈیشری کی طرفداری اور جج ڈکٹیٹر شپ کے خلاف ہوا جائے ، تو دوسری طرف فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی جائے ۔سیاست میں الٹرا رائٹ ونگ کی اندھا دھند بالادستی کی مخالفت کی جائے ۔ وفاقیت اور بورژوا پارلیمانی نظام کی طرف لوٹنے کی آوازوں کا ساتھ دیا جائے۔
البتہ یہ سب کرتے رہنے میں عوامی قومی جمہوری پارٹی کے قیام کا کام نہیں بھولنا چاہیے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*