بچوں کا ادب اور فہمیدہ ریاض

بچوں کے ادب پر متعدد ان ادیبوں اور شعر نے خصوصی توجہ دی ہے جو صاحب ِ فکر و نظر تھے۔ علامہ اقبال سے فیض احمد فیض تک ایسے ادب اور شعر کی ایک طویل فہرست ہے۔ فہمیدہ ریاض بہت منفرد تخلیق کار اور دانش ور تھیں۔ ان کی تخلیقات اور طرز زندگی میں سماجی و سیاسی شعور نمایاں ہے۔ انہوں نے بچوں میں یہ شعور بیدار کرنے اور ان کی ادبی و تخلیقی صلاحیتوں کی نشو و نما کے لئے باقاعدہ کام کیا۔ اس کے قائم کردہ ادارے ”وعدہ کتاب گھر“ کی جانب سے بچوں کے لیے تیرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ یہ کتابیں طبع زاد کہانیوں، نظموں اور تراجم پر مشتمل ہیں، جن کی تصنیف اور ترجمے میں خود ان کے علاوہ آصف فرخی اور اسد محمد خان جیسے نام شامل ہیں۔ ان کتابوں میں بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا پیغام موجود ہے جو ان کی ذہنی نشو و نما کرنے کے ساتھ انہیں مثبت سماجی رویوں کی جانب مائل بھی کرتا ہے۔ اِس حوالے سے انہوں نے پاکستان کی تمام زبانوں کے ساتھ عالمی ادب سے بھی استعفادہ کیا۔ یہ کتابیں کتنی اہم ہیں، اس کا اندازہ ان چند موضوعات سے لگایا جا سکتا ہے جو”وعدہ کتاب گھر“ سے شائع ہوئیں۔
”چیزوں کی کہانیاں“ ، ”پریوں کی کہانیاں“ ، ”سفر کی کہانیاں“ ، ”ہنستی کہانیاں“ ، ”ٹرافی کیسے ملتی ہے؟“ ، ”بہادر سلطانہ“ ، ”جگ مگ تارے“ جو برصغیر کی نمایاں خواتین کے بارے میں ہے۔ اور ”بھوری ریچھنی“ جو ایک ایسی بچی کے بارے میں ہے جس نے ریچھنی کے بچے کی مدد کی۔ وغیرہ۔
اِن کے علاوہ انہوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے لئے بھی کہانیوں کی متعدد کتابیں لکھیں اور ترجمے بھی کئے، جن میں ”پیڑ کی پہیلی“ جو درخت کی پیدائش سے افزائش تک فطرت کی نشو و نما کے بارے میں ہے۔ ”چڑیا اور تتلی“، ”جنگل میں بھیڑیا“ ، ”پاکستان کی لوک کہانیاں“ اور ”الف لیلہ“ ،جس میں تین کہانیاں الف لیلہ سے لی گئی ہیں۔ پھر شخصیات مثلاً فیض احمد فیض، مرزا قلیچ بیگ کے بارے میں لکھا اورسعادت حسن منٹو کی ایک کہانی ”منتر“ کے نام سے تلخیص کی۔
فہمیدہ ریاض نے ”ادبی ورثہ سیریز“ کے لیے ”ہمارے شیخ سعدی“ ، ”ہمارے بھٹائی“ ، ”ابن خلدون اور ان کا مقدمہ“ ، ”ہمارے رومی“ اور شیخ فریدالدین عطار کی کہانی ”سیمرغ اور چڑیاں“ بھی تحریر کیں۔ اِن کے علاوہ ا±ن کی شعری تخلیقات بھی ہیں جن میں ”د±ور کا راہی“ (دریائے سندھ کے بارے میں) ، ”کلاچی کے شکاری“ (کراچی کے ماہی گیروں کے بارے میں) ، ”سب طرف ہے اللہ“ ، ”روٹھے پرندے“ اور ”قالین ب±ننے والے“ وغیرہ شامل ہیں۔
جس طرح فہمیدہ ریاض کی تمام تخلیقات میں اصناف، زبان اور موضوعات کا تنوع ہے، اسی طرح ا±نہوں نے بچوں کے لیے بھی متنوع موضوعات کا انتخاب کیا مگر ہر موضوع کو اس طرح لکھا جو اپنے اندر کوئی نہ کوئی سبق سموئے ہوئے ہے“۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*