غزل

احساس کی حدوں سے نکل جانے دو مجھے
پتھرمیں ڈھل رہی ہوں توڈھل جانے دو مجھے

اب اور کتنا کرب سہوں حوصلہ نہیں
رخصت کوئی ہوا ہے سنبھل جانے دو مجھے

تنہائی میرے غم کا مداوا نہیں مگر
محفل سے دور رہ کے بہل جانے دو مجھے

یہ جانتی ہوں راہ ہماری ہے مختلف
لو میں ہی کر رہی ہوں پہل، جا نے دو مجھے

جب بازی آخری ہے تو پھر جیت کس لیے
اک چال اپنی مات کی چل جانے دو مجھے

دھڑکن پہ اختیار بھی کمزور پڑگیا
دل کہہ رہا ہے اب تو مچل جانے دو

یہ ساعتِ فراق ہے یکساں ہے ہر گھڑی
جانا ٹھہر گیا ہے ، تو کل جانے دو مجھے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*