دریا ورد

یہ سمندر،
یہ ساحل،
یہ موجیں،
اور
یہ ہوائیں،
سبھی آشنا ہیں ہم سے،
ایک فقط ت±م ہی نہیں جانتے،
یہ آبی پرندے،
یہ مچھلیاں،
یہ سیپ اور کورل ،
خواب ہیں ہمارے،
انہی خوابوں کے سنگ چلتی ہے،
اپنی زندگی کی ناو¿،
یہ موسم،
یہ برسات،
یہ طوفان،
سبھی آشنا ہیں ہم سے،
ایک فقط تم ہی نہیں جانتے،
سورج کے سنگ اٹھ کر،
ہم تہہ در تہہ چلے جاتے ہیں،
گہرائیوں میں ڈوب کر،
چاند سطح پر لاتے ہیں،
یہ آسماں،
یہ زمین،
یہ تارے،
سبھی آشنا ہیں ہم سے،
ایک فقط تم ہی نہیں جانتے،
میں نے سنا ہے اپنے بزرگوں سے،
سمندر کا وجود ہوا جس دن،
کنارے پر لایا گیا مجھے ا±سی دن،
میں نے سرکش لہروں کا سینہ چیر کر،
جینا سیکھ لیا،
ہواو¿ں کے سنگ اڑنا سیکھ لیا،
یہ سرکشی،
یہ تمردی،
یہ سرتابی،
سبھی آشنا ہیں ہم سے،
ایک فقط تم ہی نہیں جانتے،
تمہاری کج فہمی پر نالاں ہوں میں،
تمہاری کم علمی پر ہوں عجب حیران،
تمہیں معلوم ہے،
سردیوں میں ہمارے ہاں،
مہاجر پرندے آتے ہیں سائبیریا سے،
وہ بھی آشنا ہیں ہم سے،
آپ تو (بقول آپکے) یہیں کے ہو،
پھر بھی ہمیں،
ہماری گلیوں میں،
رستوں پر،
گھر گھر،
ہر ایک نکڑ پر،
سفر در سفر،
سکولوں میں،
ہسپتالوں میں،
روک کر بار بار پوچھتے ہو،
بتاو¿ تم کون ہو؟
کیا نام ہے تمھارا؟
کہاں رہتے ہو؟
کیا کرتے ہو؟

بہرحال!
لو سن لو،
اور درج کرلو،
اپنی یاداشت کے پنوں پر،
میں ایک دریا ورد ہوں،
میرا نام ہے’ مید’،
سمندر کنارے رہتا ہوں،
ماہیگیری پیشہ ہے میرا،
میں نفرت کرنا نہیں جانتا،
نہ ہی میں کوئی قابض ہوں،
میں اگر ہوں تو صرف محافظ ،
اپنی نیلگوں سمندر کا،
کچھ ہوں تو بس اک وارث،
اپنی زمین کا،

اب تو تم مجھے جان لو۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*