راج کرے سردار

گل خان نصیر

بچے رو رو نین گنوائیں
بوڑھے در در ٹھوکر کھائیں
چھپ چھپ مائیں نیر بہائیں
بھیک ملے نہ ادھار، رے بھیا
راج کرے سردار

بلک بلک کر بچے روئیں
بھوکے پیٹ سجنوا سوئیں
سجنی گھر کی لاج ڈبوئیں
توند بھرے زردار، رے بھیا
راج کرے سردار

بھوکی، ننگی قوم بچاری
گھر گھر ماتم گریہ زاری
لینے کو سردار بیگاری
مالی اور بجار، رے بھیا
راج کرے سردار

گلّا کاٹے، جیب مروڑے
جونک بنے اور خون نچوڑے
ہڈی، پسلی، بھیجا پھوڑے

جرگے کا ہتھیار، رے بھیا
راج کرے سردار

جھگڑا ڈالے پریت مٹائے
بھائی کو بھائی سے کٹائے
دولت دونوں ہاتھ لٹائے
رشوت کے انبار، رے بھیا
راج کرے سردار

پاک وطن کی ریت نیاری
بھوکی، ننگی جنتا ساری
سن کر جھو میں دھن کے پجاری
رپوں کی جھنکار، رے بھیا
راج کرے سردار

داتا اپنے راج دلارے
بے غم لیٹے پائوں پسارے
کس کی سنیں اور کون پکارے
دھرتی کے اوتار، رے بھیا
راج کرے سردار

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*