محمد بشیر کی آواز بھی خاموش ہوگئی

انسان نے اپنے ارد گرد کے ماحول اور آوازوں سے متاثر ہوکر خود اپنی آوازبھی ان آوازوں کے ساتھ شامل کرلیا جو آج سب سے زیادہ بلند اور خاص بن گیا ہے۔ رفتہ رفتہ انسان نے زبان اور چیزوں کے نام کا تعین کرنے کے بعد ان چیزوں یا جانوروں سے اپنے پیار کے اظہار کے لیے گنگناکر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ یہ گنگنانے کے عمل کے بعد ہی پتہ چلا کہ کچھ لوگ سریلی آواز کے مالک ہوتے ہیں۔ رات گئے وقت گزاری کے لیے جہاں طویل لوک کہانیاں سننے سنانے کا رواج ہواتو ساتھ میں کچھ محفلوں میں انسان، چرند پرند، جانوروں اور فطرت کے کی رنگینیوں سے پیار اور محبت کا اظہار ہوا جسے بعد میں محبوب کی ادائوں اورانسانوں کے دکھ درد اور خوشی کے احساسات کو سریلی آواز اور موسیقی کے آلات کے ساتھ گانا شروع کیاگیا۔
آج دنیا کے تمام خطوں اور زبانوں میں اس ملک اور قوم کے ثقافتی، تاریخی واقعات اور زندگی کے رنگوں کو موسیقی کے ذریعے پوری دنیا میں مختلف ذریعہ سے سناجاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بلوچستان میں ریڈیو کے پروگرام اور نشریات کا انتہائی اہم رول تھا اور ہر گھر میں ایک عدد ریڈیو یا ٹی وی کا ہونا لازمی جز بن گیا۔ 1982ء میں جب ہم کابو کوہک سے کوئٹہ شفٹ ہوئے تو ابتدائی قیام کلی سردہ سریاب میں ایک چار دیواری میں خیمے (گدان)لگا کر دن گزار رہے تھے جب ایک دو چادر والی چھت کے کمرے بن گئے تو ایک عدد ریڈیو سے 4 بجے براہوئی پروگرام ”خلقی کچار ی“ انتہائی دلچسپی سے سنتے تھے۔اس پروگرام کے پروڈیوسرغلام نبی راہی کا خود تحریر اور آواز جو ”شاہ بیگ“ اور مہ جبین مینگل کا کردار ”شینلو“ کے درمیان روز مرہ کے معاملات پر نوک جھونک کی گفتگو سننے والوں میں انتہائی مقبول رہا۔ پروگرام میں موسیقی بھی سنائی جاتی تھی جو کہ اس سے پہلے لائیو Live اور کچھ عرصہ بعد ریکارڈنگ سنایا جانے لگا۔اسی عرصے میں محمد بشیر کی لوک گائیکی پر مشتمل گانے ہمیں اپنے دیہی زندگی کی یادوں کو تازہ اور زندہ رکھنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی طرح دیگر فنکاروں کی آواز میں لوک موسیقی اور غزلیں موسیقی سے رغبت کا باعث بن گئے۔ میں نے اس دورمیں 70 روپے میں ایک چھوٹا سا پاکٹ سائز ریڈیو اپنے جیب خرچ سے خرید لیا تھا اور دن بھرسیل (بیٹری) ڈال کر فارغ وقت میں سنا کرتا تھا۔ ریڈیو سے یہ لگائو ہمیں سیدھا ریڈیو اسٹیشن پہنچا نے کا باعث بنا۔ مختلف ادوار میں بچوں کے پروگرام، دے ٹک، بلسم، زباد، خلقی کچاری اور دیوان پروگرام جو کہ براہوئی زبان میں لائیو نشر ہوتے تھے ان میں کمپیئرنگ اور اناو ¿نسمنٹ کا تجربہ حاصل ہوا۔ جس وقت ہم ریڈیو میں قدم رکھ چکے تو اس وقت تک غلام نبی راہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے تاہم غلام حیدر حسرت، یوسف ثانی ساسولی، میر محمد الفت براہوئی پروگراموں کے پروڈیوسر تھے ساتھ میں دیگرزبانوں کے پروڈیوسروں کے ہمراہ ریڈیو کے ساتھ خوشگوار دنوں کی یاد وں کا خزانہ دل اور دماغ میں محفوظ ہوگیا۔
اب جب کہ ہم ریڈیو میں پروگرام کرنے اور کاپی پیسٹ کے ذمہ داری کے لیے روز رریڈیو اسٹیشن آناجانا تھا تو اس دوران مختلف گلوکاروں سے براہ راست ملاقات بھی ہوتا تھا۔جب ہم محمد بشیر جو کہ بعد میں بشیر گدانی کے نام سے خود کو متعارف کروانے لگے ان سے انتہائی خوبصورت یادیں آج بھی محفوظ ہیں۔ ریڈیو کے ساتھ”مشرق میگزین“ کے لیے انٹرویوز اور مختلف موضوعات پر سروے کرنے کی ذمہ داری بھی تھی جہاں رائو محمد اقبال اور محمد فاروق رہنمائی کرتے تھے ایک دو مرتبہ محمد بشیر کا ریڈیو کے لئے اور مشرق کے لئے انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اب جبکہ وہ اخبارات میرے ساتھ محفوظ نہیں رہے اس لئے میں ان کی گفتگو تو آپ کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتا تاہم کچھ دوستوں پاس ان کے ریڈیو کا اور اخبارمیں شائع ہونے والے انٹرویو ضرورمحفوظ ہوں گے۔
جب ریڈیو سے دور ہوگئے تو 2015کے بعد اکادمی ادبیات میں وہ اکثر افضل مراد کے پاس تشریف لاتے تھے اور اپنے گائیکی سے جڑے واقعات اور تجربہ کا اکثر اوقات ذکر کیا کرتے تھے۔اس دوران میں گفتگو کے ساتھ ساتھ وہ اپنی بلند آواز میں گانے گاکر محفل میں سما ں باندھ دیتے تھے۔ وہ براہوئی کے علاوہ بلوچی، اردو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں الگ الگ جگہوں پر گانا گاچکے ہیں۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ریڈیو او رٹی وی سے میوزک کے پروگراموں کی ریکارڈنگ بند ہوئی تو محمد بشیر جیسے دیگر فنکار اور گلوکاروں کے مشکل کے دن شروع ہوئے۔ معاشی مجبوریوں سے تنگ آکرمحمد بشیر نے کچھ عرصہ پہلے ان کو ملے ہوئے صدارتی ایوارڈ سمیت دیگر ایوارڈوں کو سڑک پر بیٹھ کر بیچنے کا اعلان کیا۔ ان کی یہ حالت ٹی وی اور اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پہنچ گئی مگر معلوم نہیں ان کے لیے حکومت یا ذمہ دار اداروں کی جانب سے کتنی مدد کا اعلان ہوا۔ مگر زندگی کے آخری دنوں تک وہ انتہائی معاشی مسائل کا شکار رہے۔چونکہ افضل مراد اکادمی ادبیات سے ریٹائرڈ ہوگئے اور میرا بھی ریڈیو اسٹیشن جانا نہیں رہا تو ان سے لگ بھگ دو سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ایک روز میر محمد الفت کے ساتھ موٹر سائیکل پر جناح روڈ سے گزر رہے تھے تو دور سے محمد بشیر نظر آئے۔ میر محمد الفت نے افسوس کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہا ”وہ دیکھو بشیر جارہا ہے“ ان کی حالت سے لگ رہا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر زندگی کے مسائل میں گرے ہوئے۔ وہ الگ زمانہ تھا یا آج بھی اگر آپ یوٹیوب پر ان کے ویڈیو ز دیکھیں تو پگڑی باندھے، واسکٹ پہنے، انگلیوں میں انگوٹھی ڈالے بڑی بڑی خمار آلود آنکھوں کے ساتھ گانا گاکر سماں باندھنے والے آواز کے ساتھ گاتے ہوئے نظر آئیں گے۔براہوئی اور بلوچی زبان کانمائندہ اور بلوچستان کا موسیقی کا سفیر 12 فروری2023کو انتقال کر گئے۔اس طرح بلوچستان اور موسیقی سے لگائو رکھنے والی ایک اورسریلی اور توانا آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
اس تحریک نے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا، ملک کے میڈیا کو متحرک کردیا اور بین الاقوامی برادری کو متوجہ کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*