سائنس کی روشنی کی صدی

جب انیسویں صدی ختم ہوئی تو امریکہ برطانیہ اور مغربی یورپ کے ملکوں کا قومی سرمایہ ترقی کر کے قومی اجارہ دار سرمایہ یعنی امپریلزم بن گیا تھا۔ اور یہ سرمایہ دار ممالک جنوبی امریکہ ، افریقہ اور ایشیا کے ملکوں کو اپنے زیر تسلط اور زیر اثر لے آئے تھے اور انہیں اپنی منڈیاں بنا لیا تھا۔ بیسویں صدی میں یہ سرمایہ دار ممالک منڈیوں اور خام مال کے ذخائر کی تقسیم کے لیے آپس میں اُلجھ پڑے اور 1914میں ان کے درمیان پہلی عالمی جنگ ہوگئی جو 1918تک جاری رہی ۔ یہ جنگ ابھی جاری تھی کہ 1917میں روس میں انقلاب برپا ہو گیا۔ مزدوروں اور کسانوں نے زار شاہی کا خاتمہ کر کے روس میں سوشلزم کی تعمیر شروع کردی۔ منڈیوں کی تقسیم پر ان کے درمیان دوسری عالمی جنگ 1939میں شروع ہوئی اور 1945تک جاری رہی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد 1948میں امریکہ نے کینیڈا برطانیہ فرانس جرمنی اٹلی اور جاپان کو ملا کر سات بڑے سرمایہ دار ملکوں کا بلاک بنایا اور سوویت یونین نے مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ملکوں کو ملا کر سوشلسٹ بلاک بنایا اور ان دونوں بلاکوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ اِس سرد جنگ میں امریکہ اور سوویت یونین میں ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہوئی ۔ان دونوں ملکوں نے ایٹم بموں کے ڈھیر لگا لیے اور بین ال بر اعظمی میزائل بنا لیے ۔امن پسند دانشوروں سائنس دانوں اور ترقی پسند سیاسی ورکروں نے یہ کہا کہ اگر اب جنگ ہوئی تو یہ ایٹمی جنگ ہو گی اور اِس میں صرف آدمی نہیں مریں گے انسان مرجائیں گے اور یہ حسین دنیا بھسم ہوجائے گی۔ اِس شعور کو پاکر یورپ کے 34ملکوں بشمول امریکہ کینیڈا اور سوویت یونین کے سربراہوں کا ایک اجتماع پیرس میں 20نومبر 1990کو ہوا اور انہوں نے اعلان پیرس کے نام سے ایک دستاویز پر دستخط کر کے اعلان کیا کہ ہم نے آج سے سرد جنگ ختم کردی ہے اور اعلان کیا کہ وہ اِس صدی کے اختتام تک ایٹمی اسلحہ ختم کردیں گے اور 2010تک ہر قسم کے اسلحہ اور افواج ختم کر کے مکمل ترک اسلحہ کا معاہدہ کریں گے اور جن ملکوں میں کشیدگیاں موجود ہیں انہیں مذاکرات سے طے کرائیں گے اور ملکوں کے اندر جمہوریت قائم کریں گے ۔
اس اعلان سے دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوگئی جو امن ،برابری ،جمہوریت ،بنیادی انسانی حقوق، سماجی انصاف ،اور سوشلزم کا دور ہے اور دنیا میں علاقائی امن تعاون اور اشتراک کی راہیں نکل آئیں یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں تعاون و اشتراک قائم ہوگیا ہے ۔مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اس راہ پر چلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ 1948سے 1990تک سرد جنگ سے 42سالوں میں دنیا میں دو اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی ہوئی اور ان دونوں شعبوں میں انقلاب برپا ہوگیا ۔ سائنس نے کائنات کے تمام سر بستہ راز بے نقاب کر دیے ہیں ۔ سائنس کی دریافتوں نے ثابت کردیا ہے کہ انسان نسل وحدت ہے اور سب انسان بلالحاظ قومیت نسل رنگ زبان مذہب اور جنس برابر ہیں اور اِس دنیا کے وسائل پر برابر کا حق رکھتے ہیں ۔سائنس کی دریافتوں نے یہ بھی ثابت کردیاکہ مادی دنیا ( جمادات نباتات اور حیوانات ) کی ترقی کا عمل ارتقائی ہے ۔انسانی سماج اور انسانی فکر کی ترقی کا عمل بھی ارتقائی ہے ۔ اور ترقی کے عمل میں نہ تکرار ہے نہ اعادہ ہے اور نہ رجعت قہقری ہے بلکہ یہ نیچے سے اوپر کو اور خوب سے خوب تر کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ ترقی کے اِس جدلیاتی عمل سے پہلے مقداری تبدیلی ہوتی ہے پھر ماہیتی تبدیلی ہوتی ہے اور ترقی ایک جست کی صورت میں آگے بڑھتی ہے اور یہ نفی کی نفی ہے ۔
ٹیکنالوجی کی جدید ایجادات کمپیوٹر الیکٹرانک اور روبوٹ نے انسان کے ہاتھ میں تسخیر کائنات کی بے پناہ قوت دے دی ہے اور وہ ان ایجادات کو کام میں لا کر مادی دنیا کے وسائل سے سب انسانوں کے لیے متوازن غذا ،خوب صورت پوشاک فراہم کرسکتا ہے ۔تعلیم اور علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرسکتا ہے ۔ سرمایہ داری نظام پیداوار ترقی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جدید آلات پیداوار کی پیداواری صلاحیت دس گنا زیادہ ہے اور ان کے استعمال سے پیداوار دس گنا بڑھ گئی ہے ۔ ان کے پیداواری عمل میں استعمال سے بے کاری بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف دولت کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور دوسری طرف غریبی بڑھ گئی ہے اور امارت اور غربت میں تفادت بڑھ گیا ہے۔ منافع خور سرمایہ دار مادی وسائل کا بے تحاشا اور بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ان کے اس عمل سے مادی دنیا کے وسائل گھٹ رہے ہیں ۔پانی ہوا اور فضا میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔ جنگلات ختم ہورہے ہیں اور مادی دنیا کا حسن زرخیزی اور پیداواری صلاحیت گھٹ رہی ہے ۔
بیسویں صدی 31دسمبر1999کو ختم ہوگی اور اکیسویں صدی شروع ہوگی اور تیسرے ہزار سالہ عہد کا آغاز ہوگا۔ اٹھارویں صدی ،انیسویں صدی ،اور بیسویں صدی میں انسان نے سائنسی علوم اور ٹکنالوجی میں زبردست ترقی کی ۔پاکستان اِس ترقی میںبہت پیچھے ہے ۔پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے لازمی اقدامات زرعی اصلاحات ،سائنسی علوم کی تعلیم ،جمہوریت کا فروغ ہیں۔
زرعی اصلاحات کے لیے زرعی زمین کی حد ملکیت 25ایکٹر فی خاندان مقرر کر کے اِس حد ملکیت سے اوپر کی ساری زرعی اراضی بلامعاوضہ حاصل کر کے مزارعوں اور کھیت مزدوروں میں مفت تقسیم ہے ۔
اجناس ،پھلوں اور سبزیوں کی کاشت ہے اور بھینسوں کی پرورش ہے ۔پہاڑوں چولستان تھر اور بلوچستان میں جنگلات کی کاشت ہے ۔ ناخواندگی اور جہالت دور کرنے کے لیے درس گاہوں کا قیام اور نصاب تعلیم میں سائنسی علوم فزکس اور اکنامکس کی تعلیم کو شامل کرنا ہے ۔
ماس میڈیا (ریڈیو۔ ٹی وی اور اخبارات ) کے ذریعے سائنسی علوم کی تشہیر ہے ۔ روایت پرستی ماضی پرستی اور قدامت پسندی کی جگہ بلند نظری ۔ بلند فکری اور انسان دوستی کی تشہیر ہے ۔
جمہوری نظام کے فروغ کے لیے مناسب نمائندگی کے طریق انتخاب کو اختیار کرنا ہے اور مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے اضلاع اور دیہات تک اختیارات کی تقسیم ہے ۔
پاکستان کا کلچر ٹرائیبل اور فیوڈل ہے ۔اس کی جگہ سائنس کے کلچر سے عوام کو روشناس کرنا ہے ۔ صنعتی منصوبہ بندی کر کے ان صنعتوں کا قیام جن کا خام مال پاکستان میںموجود ہے ، لازمی ہے ۔
فیوڈل اور ٹرائیبل کلچر کی جگہ سائنس کے کلچر کو پھیلانے کی ذمہ داری پاکستان کے ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی ہے ۔
ان کا ادب اور ثقافت روایت پرستی۔ ماضی پرستی اور قدامت پسندی کا ادب ہے ۔ان کی فلمیں بھی انہی خیالات رجحانات اور نظریات کا پر چار کرتی ہیں۔
ترقی پسند ادیبوں کو عوام کو اگلی صدی اور اگلے ہزار سالہ عہد کے لیے نظریاتی طور پر تیار کرنا ہے اور عوام میں اب روایت پرستی اور ماضی پرستی کا ادب پھیلانے سے دور رہ کر انسان دوست کلچر، بلند نظر کلچر اور بلند نظر افکار کو پھیلانا ہے ۔
پاکستان کے عوام کو اکیسویں صدی جو انسان دوست سماج کی صدی ہے ،سائنس کی روشنی کی صدی ہے، کا استقبال کرنے کے لیے تیار کرنا ہے ۔اگر انہوں نے اپنے اِس فرض سے کوتاہی کی تو پاکستان کی اگلی نسل بچے اور خواتین انہیں بھی معاف نہیں کریں گے ۔
13 دسمبر1999

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*