فیض احمد فیض

سیالکوٹ نے ہزاروں سپاہی، ہوا باز، بیوروکریٹ اور مارشل لاایڈمنسٹریٹر اور اِن سب سے وابستہ و پیوستہ سیاستدان ” عطا“ کردیے۔ جن کے لئے ظاہر ہے مستقبل بعید تک، جمہوری لغت میں محبت کے اُلٹ والے الفاظ ہی استعمال ہوتے رہیں گے۔ اسی علاقے نے علامہ اقبال بھی پیدا کیا جس کی سوچ اور شاعری نے اِن سپاہیوں، ہوابازوں، بیوروکریٹوں اور مارشل لا والوں کے عوام دشمن جینز کو زبردست تقویت بخشی۔۔۔ تو مقتدی بھی وہاں سے ،پیش امام بھی وہیں سے۔
فیض احمد فیض اِسی تیرہ وتاریک لیبر روم ، سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ اس نے تادم مرگ علم و دانش ، روشن خیالی اور سوشلزم کا مستقل مزاج سپاہی بنے رہنا تھا ۔
فیض نے اپنے علاقے کا کفارہ ادا کردیا ۔ اس نے اپنے قاری کو خود شناسی ، اڑوس پڑوس کے مطالعے ، اور مجموعی طور پر دنیا کے سیا سی معاشی نظام کوسمجھنے کی طرف متوجہ کیا۔خبرداری کی بات یہ ہے اگر فیض کی انقلابی آدرش اور اس آدرش کے لیے جبروقہر کے دریاعبور کرنے کے بارے میں معلومات نہ ہوں تو فیض کو حکمران طبقات کا پسندیدہ شاعر بن جانے سے روکنامشکل ٹھہرے۔
فیض احمد کے ساتھ” خان “لگاﺅ یا نہیں فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ اس خان لفظ کا گلا تو خود نام کے مالک نے اپنی زندگی میں گھونٹ دیا تھا اور اُس کی جگہ پر فیض ٹانک دیا تھا۔
سیالوں کے علاقہ ” سیال کوٹ “ میں قادر نام کا ایک شخص ہوا ہوگا۔ وہ شاید اس قدر سیاہ فام تھا کہ اس کی وجہ سے پورے گاﺅں کا نام ” کالا قادر“ پڑ گیا ۔ فیض احمد اُسی گاﺅں میں 13 فروری1911کوپیدا ہوا تھا۔ ایک بیرسٹر اور ادب دوست شخص سلطان محمود خان اور ماں فاطمہ کے ہاں ۔
یہ سلطان بہت دلچسپ شخص تھا ۔زمین و زمینداری چھوڑ کرفارسی ، عر بی اور انگلش میں عبور حاصل کیا۔ پھر افغانستان کے امیر عبدالرحمن کا چیف سیکریڑی بنا اور پھر اُسی کا سفیر بن کر لندن رہا۔ وہاں سے بیرسٹری کرلی ۔ تین سال رہ کر افغانستان آیا تو ایک وزیر کی بیٹی شادی میں لے لی ۔(سلطان خان نے دو،دانے شادیاں کیں)۔۔۔۔۔۔پھر پتہ نہیں کیا ہوا ،کہ وہ وہاں سے فرار ہوگیا اور واپس آگیا۔
فیض بچپن میں بڑا کرکٹر بننا چاہتا تھا۔ نہ بن سکا۔ اسے زندگی بھر اس کا پچھتاوا رہا۔ اس نے قران پاک کا حفظ شروع کیا۔ ایک حافظ مقرر تھا اس کام کے لیے ۔ بعد کی اس کی زندگی بھر کا پچھتاوا دیکھیے کہ تین سپارے حفظ کر لیے مگر پھر اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا نہیں ۔عربی فارسی ،ملاّ سے خوب پڑھی۔ فارسی تو اُس کے گھر میں بولی جاتی تھی، اس لیے کہ کابل سے واپسی پر سلطان خان اپنی بیگم کے ساتھ چار عورتیں ساتھ لایا ، ملازماﺅں کے بطور ۔ وہ سب فارسی بولتی تھیں۔(اسی وجہ سے تو فیض کی فارسی اتنی اچھی تھی !)۔
گھر اتالیق مقرر تھا اس لیے وہ ابتدائی تعلیم کے لیے سکول نہیں گیا۔ دسویں جماعت میں پہنچا تو عجب قصہ ہوا ۔ اُس زمانے میں میٹرک تک پہنچتے پہنچتے شعر موزوں کرنے کا کام نصابی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ہیڈماسٹر نے میٹرک والوں کو کہاکہ شعر لکھ کر لاﺅ۔ جج بنایا گیا شمس العلما سید میر حسن کو۔ سب لکھ لائے ۔ فیض کی غزل انعام کی حقدار ٹھہری۔ اس زمانے کا ایک روپیہ انعام ملا۔ زندگی کا پہلا انعام ۔(1)
ہم نے بتایا ناں کہ اُس کے والد کی زندگی کا کافی حصہ افغانستان کے بادشاہ کے دربار میں گزرا تھا۔ ںسلطان خان جب دربار کی کسی سازش کے معاملے پر افغانستان سے لاہور فرار ہوا تو اِدھر بھی انگریزوں نے اُسے شک کی نظر سے دیکھا اور فوراً ہی لاہور قلعہ میں بند کرادیا…….. (یہی حشر بعد میں اُس کے بیٹے کے ساتھ پاکستان نے کرنا تھا)۔
سکول میں ”ہرکلاس میں ہم کو مانیٹر بناتے تھے۔ یعنی فلاں کو چانٹا لگاﺅ ، فلاں کو تھپڑ مارو۔اس کام سے ہمیں بہت کوفت ہوتی تھی اور ہم کوشش کرتے تھے کہ جس قدر بھی ممکن ہو یوں سزا دیں کہ ہمارے شکار کو وہ سزا محسوس نہ ہو“ (2)۔
فیض احمد خان نے 1927 میں مشن سکول سیالکوٹ سے میٹرک کرلیااور 1929میں مرے کالج سیالکوٹ سے انٹر ، امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
1930 میں سلطان فوت ہوگیا۔ باپ کی موت کے وقت فیض انیس برس کا تھا۔جائیداد کے جھگڑوں سے جان چھڑا کر فیض ماں کے ساتھ اُسی زمانے میں گاﺅں سے نکل گیا اور پھر کہیں جاکر،1955 میں اپنے بھائی کی موت کے بعد ہی گاﺅں لوٹا۔ ٹالسٹائی بن کر زمین غریبوں کو دے دی، صرف آدھا ایکڑ اپنے پاس رکھا۔
فیض نے1931 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور بی اے آنرز عربی میں کیا۔ اُس زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور پنجاب کے اشرافیہ طبقہ کے بچوں کی تعلیم کا مرکز تھا ۔1933 میں اسی گورنمنٹ کالج سے ایم اے انگلش کرلیا اور 1934 میں اوری ئنٹل کالج عربی میں ایم اے کر لیا۔
شاعری کے فن پہ تو اُس نے تعلیم کے دوران ہی عبور حاصل کر لیا۔ اس کے ابتدائی زمانے کی شاعری اردو کی کلاسیکی روایت اور جدید خیالات کے امتزاج سے عبارت تھی ۔ ظاہر ہے 1930 تک اس کی شاعری ناکام رومانی متوسط طبقے کے خیالات ہی کا انعکاس تھی ۔

ریفرنسز

افتخار عارف اور فراز کو وڈیو انٹرویو ۔Trowel.Culture.com
شبستان۔ نئی دہلی فیض نمبر آصف علی روڈ نئی دہلی سن نہ دارد۔صفحہ نمبر11

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*