غزل

تبسم اس کا فطری ہے تو زخمِ نا گہاں کیوں ہے
اگر ہے ہجر سچائی بہاروں میں خزاں کیوں ہے

مرا پہلو شکستہ ہے شکن کہتی ہے بستر سے
ازل کے ذکر میں شامل مرا ہی داستاں کیوں ہے

ہری ہیں پیڑ کی شاخیں مگر اک شاخ ہے سوکھی
مگر اس شاخ پر اب تک مرا ہی آشیاں کیوں ہے

اگر کشتی شکستہ ہے اگر جنت بدر ہیں ہم
زمیں کے چند خطوں پر نگاہ آسماں کیوں ہے

طواف دل کا عقدہ تھا کھلا یہ راز شہہ رگ سے
مکین خطہِ خاکی رفیق لا مکاں کیوں ہے

جو نکلا پیچ شہہ رگ سے تو ہجکی ساتھ تھی میری
اگر وہ دل میں رہتا ہے تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہے

فرشتے ساتھ ہیں میرے مگر پھر بھی بھٹکتا ہوں
اگر فانی ہے یہ دنیا مجھے فکرَ مکاں کیوں ہے

بنا لیتا ہے جب قطرہ شگاف اک سنگ خاراں میں
مرا دامن یہ کہتا ہے یہ آنسو رائیگاں کیوں ہے

صدف میں ہے اگر موتی تو پھر رونا ہوئی فطرت
مگر دامن کی قسمت میں یہ اشک رائیگاں کیوں ہے

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*