ایک اداریہ

میانمار۔۔۔ انسانیت پہ سیاہ دھبہ

لگتا ہے ایشیاکے ستارے دائمی طور پر گردش میں ہیں۔ نحوست ہی نحوست ہے ۔ کوئی بات سیدھی بیٹھتی ہی نہیں۔ یہاں کے جمہوری لوگ پاکستان میں مارشل لاﺅں کے خلاف جدوجہد کرتے دونسلیں بِتاچکے ۔ افغانستان اور ایران کے لوگ نصف صدی سے جمہوریت کے قیام کی آرزو ئیں کرتے رہے ۔پھر ماضی قریب سے ہم ہندوستان میں فرقہ پرستی اور عمران کی ”طغرلیات “پہ سینہ کوبی کر رہے ہیں۔ اور اب ایک نیاعفریت میانمار میں نازل ہوگیا۔ وہاں تو حد ہوگئی۔ اس اکیسویں صدی میں ایک بار پھر وہاں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت قائم کردی گئی ۔ ایسی پسپائی تو عقل ِ سلیم کے وہم وگمان میںنہیں آتی ۔
تیسری دنیا کے سویلین لیڈر بھی تو عجوبے ہیں۔ میانمار کی سوچی صاحبہ تو ایسی بدترین اوربدقسمت لیڈر نکلی کہ تصور تک نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ وہ اپنے ملک میں مقبول ترین لیڈر تھی ۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کی خاطر اُس نے جیلیں، نظر بندیاں اور دیگر ناقابلِ بیاں مظالم سہے ۔ مگر آخری عمر میں فوج سے کمپرومائز کر کے اپنی ساری عبادت، سیاست اور عظمت کو مٹی میں ملا دیا ۔ اُس نے فوج سے شراکت ِ اقتدار کرلیااور یوں ،وہ فوجی حکومت کے جرائم کی ڈھال بن گئی ۔اس نے اپنا سارا شاندار سیاسی کیریئر سیاہ کر ڈالا۔ کراہ کراہ کر حاصل کردہ اپنی خوش قسمتی کو خود ہی گند بھرے جوتے کے نیچے مسل کے رکھ دیا ۔
مگر وہی اتحادی فوج ہی سفاک نکلی ۔ اس نے سُوچی کو اپنے ساتھ اقتدار میں ڈال کر اُس کی مقبولیت کو خوب استعمال کیا۔ اپنے فاشزم اور نسل کشی کے ہر اقدام کو سوچی کی تائیدد دلوائی ۔ اور پھر اُس کو اقتدار سے نکال باہر کرکے ایک بار پھر فوجی راج قائم کرلیا۔بہانہ ؟ ۔ وہی جانا پہچانا بہانہ ۔” سیاستدان کرپٹ ہیں، سیاستدان الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں، پارلیمانی نظام چلنے کے قابل نہیں ہے ۔ عوام جمہوریت کے لائق نہیں ہیں ۔ ایک قومیت یا ایک نسل ہی ارفع ہے باقی قومیں قومیتیں ون یونٹ ہی میں رہیں ۔ نصاب میں سے جمہوریت ،اور سائنس کی ساری چیزیں ہٹا دی جائیں “۔ اور سب سے بڑا بہانہ یہ ،کہ ”ملک خطرے میں ہے “۔
کوئی بولے تو کیا بولے ، کوئی لکھے تو کیا لکھے۔
2021میں آپ شہری آزادیاں سلب کرلیں، اخبار بند کردیں،ریڈیو ٹی وی اورسوشل میڈیا بند کردیں۔ پارلیمنٹ ، تقریر تحریر اجتماع ، تنظیم اور سیاست ممنوع ، قرار دیں۔ بھلااُس قوم پر اِس سے بھی کوئی بڑی بدقسمتی ہوگی ؟ ۔سولائزیشن کی بلند ترین سطح کی دنیا کے اندر ایک پورا ملک یک دم سیاہ رات میں بدل گیا ۔ گلی بازار ٹینک کے حوالے ہوگئے ، ہتھکڑیاں، چھاپے ، تھانے جیلیں کھمبی کی طرح اُگ آئیں۔ سگ آزاد ہوگئے۔
پتہ نہیں انسان کس دیوتا کو ناراض کر بیٹھا؟ ۔ غاروں کے سماج سے نکلنا ہمارے نصیب میں ہی نہیں۔ میانمار کے لوگ برسوں تک ایڑی چوٹی کا زور لگا لگا کر اِس اندھیر ے کنوئیں سے نکلنے کے قریب ہوتے ہیں تو منڈیر پر بیٹھا فوجی اوپر سے پھر لات مارتا ہے اور عوام پھر دھکتی آگ کے پیندے میں گرجاتے ہیں۔ میانمار کے گلشن کو ایک بار پھر آگ لگادی گئی ہے ۔ وہاں انسان ایک بار پھر لگڑ بھگڑی کا شکار ہے ۔ ایک بار پھر وہاں جمہور کا بخت گردش میں ہے ۔ایک بار پھرانہیں ایک بے انت صحرا کا سامنا ہے ۔ ایک اور حسرت ماری تنہائی اُگ آئی ہے وہاں۔
میانمار ایک سیاہ بختی ، ایک نصیبی ہے ۔ ایک ہیبت ناک عذاب ہے ۔ یہ خون وکیچڑ اور آہ وکراہ سماج سے بھی بدتر سماج ہے ۔ ایک مکر وہ گوحوں کا ابدی گروہ ہے جس نے چھ کروڑ انسانوں کو اپنے پسماندہ اور بدتہذیب چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔اُس گروہ نے اُن نجیب وشریف آدم زادوں کو سولائزیشن سے کاٹ کر اُن کا ارتقا روک دینے کا جرم کیا ہے ۔
بدقسمت کی بدقسمتی کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ اُس کے دوست بے حس یا اُس کے پڑوسی بے ترس ہوتے ہیں۔ اور میانمار کے پڑوسی تو دیکھو! ۔بنگلہ دیش خاموش جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ بادشاہت کو سجدے کرنے میں غلطاں تھائی لینڈ ہے جسے جمہوریت سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔اور پھر بدنصیب چین ہے جسے اِس فاشسٹ آمریت کو کچھ کہنے کی توفیق تو نہ ہوئی ، اُلٹا وہ اُس کی پیٹھ تھپتھپاتا جاتا ہے ۔
اورجمہوریت کا ٹھیکیدار مغرب؟ ۔راکھ ، مٹی ، دُھوڑ۔ کہاں کی جمہوریت اور کہاں کا مغرب؟ ۔ تیسری دنیا کے یہ سارے ضیاءالحق ، یہ مشرف، یہ مشرقِ وسطیٰ کے شاہ و شیخ سب اِسی مغرب کی پشت پناہی سے عوام پہ مسلط ہیں۔ دنیا میں ساری غیر جمہوری حکومتوںکا ملجا وماوی یہی سامراجی ممالک ہیں۔ اور یہی دنیا میں جمہوریتوں کا گلا گھونٹنے میں آگے آگے ہیں ۔وہی امریکہ بلیویا کا تختہ الٹنے میں شیر ہے ۔ وینز ویلا اور کیوبا کا گلا گھونٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ۔مگر میانمار کی باری آنکھیں نیچی کر کے ایک آدھ بیان داغ کر ،سپر پاوری اپنے سرپر مار کر چپ ہوگیا۔ یہ تو شکر ہے جاہل الجہلا ٹرمپ موجود نہیں۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ وہ برما کے فوجی سربراہ کو اکیس توپوں کی سلامی دے دیتا۔
وہ بڑا بی بی سی کہاں گیا ، وہ سی این این کیا ہوا۔ وہ سارے تھنک ٹینک کدھر گئے ، اُس ہیومن رائٹس واچ کا کیا بنا۔ نیٹو، یورپی یونین، جنیوا کنونشن ۔۔اور وہ اقوام متحدہ اپنے چار ٹروں سمیت کہاں گیا ۔
مگر بات محض طعنہ بازی کی نہیں ہے ۔ لوگوں کو جھنجوڑنے کی بات ہے ۔ انسان کے اجتماعی شعور کو کھٹکٹانے کی بات ہے ۔ میانمار پہ برائی کی بدترین صورت نازل ہوئی ہے ۔ ظاہر ہے وہاں کے حبس زدہ ، اور لُو کے مارے عوام کو بین الاقوامی یک جہتی کی ضرورت ہے ۔ وہ اکیلا اِس دجال ٹولے کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ پوری دنیا سے آواز اٹھنی چاہیے ۔ اندھیر کے ہاتھوں ستم خوردہ اُن لوگوں کو ہماری طرف سے حمایت کا تابِ کرم چاہیے ۔ مارشل لا سُنسانیت نازل کرتا ہے ، ایک ٹھٹھرانے والی ویرانی مسلط کرتا ہے ، بین الاقوامی برادری سے کاٹ ڈالتا ہے ۔ حسرت ِ سایہ سے محروم کر دینے والا صحرا نافذ کر دیتا ہے ۔ مارشل لا انسانی سماج کو ریورس گیئر پہ چلائے رکھتا ہے ۔ ایک سکتہ، ایک اتاہ صدمہ طاری کرتا ہے ۔
آج آمریت کے بگولے برساتے دشتِ بے کراں میں کھڑے اس بے آب تنہا درخت میانمار کو ہماری حمایت کی ایک بوند چاہیے۔
اتنی جانکاہ تاریخ کے باوجود میانمار یوں کو جمہوریت کی جانب ایک اور پُر خطر سفر کا سامنا ہے ۔ اُن پر تاریکی کی قہر نازل ہوگئی ہے ، انہیں انسانی مدد کی ضرورت ہے ۔وہاں گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے روزانہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جلسہ جلوس کرنے نکلتے ہیں ۔ اُن جمہوریت پسندوں کو ہماری سافٹ ، شبنمی ،اور ملائمت بھری یک جہتی چاہیے۔انہیں بین الاقوامی شریف اور جمہوری لوگوں کی سالیڈیرٹی کی ضرورت ہے ۔ انہیں تنہا کرنے کی فاشسٹوں کے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دینا چاہیے۔ انسان کو میانمار کے ضرورت مند انسان سے وفا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں صرف آپ کے دل کے اندر ایک حمایتی بیان چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*