بلوچ مائتھالوجی

مائتھالوجی یونانی لفظ myth سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے، داستان، فوک کہانی۔

آزمانک میں متھ (Myth )کو کہتا ہوں۔ دراصل آسمان کو ہم بلوچی میں” آزمان“ کہتے ہیں۔ اور چونکہ پری اور دیو ﺅں کا مسکن ، ان کی لڑائیاں دوستیاں، لوافیئرز اور دشمنیاں،شادیاں، محبت، اغوا، کثیر بیویاں، مستیاں، شرارتیں،اور جنگیں سب کچھ آسمانوں (آزمانوں )میں ہوتا تھا، اس لیے اُن سے متعلق قصے کہانیوں کو ہم ”آزمانک“ کہتے ہیں۔ اور چونکہ اُن کے متعلق ساری کہانیاں، شاعری اور داستانیں انسان بناتا تھا، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آزمان میں رہنے والی پریاں اور دیو وہی کچھ کرتے ہیں جو دراصل زمین پہ ہم انسان کرتے ہیں۔

اور کہانی یا قصہ اور بالخصوص آسمانی قصہ (آسمانک ، یا ،آزمانک ) تو انسانوں کے ابتدائی ترین ادب میں سے ہے ۔ اس میں ماں کی طرف سے بچوں کے لیے تفریح ، اُن کی تربیت ، نادیدہ قوتوں کی خوشنودی اور لمبی زمستانی راتوں میں بچوں کو سلانے کے سارے مقاصد شامل تھے ۔ جمالیات اور حسنِ بیان تو ہوتا ہی تھا۔

کسی بھی سماج میں مائتھالوجی انسانوں کو شناخت دیتی ہے اور انہیں تعلقات میں مربوط کرتی ہے۔ مائتھالوجی ( آزمانک) میری اور آپ کی موضوعی سچائی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر کلچر سچ کو اپنے اپنے انداز میں دیکھتااورسمجھتا ہے ۔ آپ اُن کہانیوں کے ذریعے آزمانکوں کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں جو عوام الناس کی ملکیت ہیں۔ اور اُن کہانیوں کے ذریعے آپ ایک سچ تلاش کرتے ہیں۔ یہ ہے مائتھالوجی۔

بلوچوں کے کچھ آزمانک لانگ ورتھ ڈیمز نے جمع کیے تھے: ” سریہالیں مرد‘ ہواں بادشاہ کہ دیما دانغے اَثی، مرددراہیں شفا آف لافا بیثہ، چیار مرد کہ زالے بُت ٹاہنتیش، سریہالیں چھورو، سہ بے عقل‘ شوانغے کہ بادشاہ بیثہ ، نادر شاہ ئے پیرا ، پیریں زال ، بادشاہ او وزیرئے پچ ، بادشاہ اودُز، بے ایمانیں ملا، قسمت پری ، جوفہ خوریں وزیر۔۔۔“

مائتھالوجی میں کمال بات یہ ہے کہ یہ ماضی ہوتے ہوئے بھی ماضی نہیں ہوتی ۔ مائتھالوجی میںبے شمار دیواور پریاں موجود ہوتی ہیں۔ انہیں موت نہیں۔ ان کا کوئی شمشان گھاٹ نہیں ، کوئی قبرستان نہیں۔اِن میں ولن بھی ہیں،فرشتے بھی ،شیطان بھی اور خیر والے بھی ۔شرارتی، مزاحیہ ،بدی اور اچھائی کی طاقتوں سے بھرے ہوئے آسمانی قصے ۔

بلوچستان کی ہر وادی ایک مائتھالوجی کی نرم و آرام دِہ گود ہے۔ اس کا ہر پہاڑ ایک داستان اپنے سینے میں دفن کےے بیٹھا ہے۔ اس کا ہر دریا ایک سولائزیشن کا خالق ہے اور اس کا ہر درہ ایک ناول ہے۔ بلوچستان قصہ خوانی کی کا بازار ہے۔

اور اس کہانی کتاب ، اِس آزمانکستان بلوچستان میں فطرت کا ہر مظہر (یعنی درخت، پتھر، ہوا، پانی ، آگ ، چیونٹی ، پرند، درند، پہاڑ ،دریا )بولتا بھی تھا ، سنتا دیکھتا بھی تھا اور ردعمل و ریسپانس بھی دیتا تھا۔

مائتھالوجی سائنس نہیں ہوتی۔آپ جب بھی ہزاروں برس پرانی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے اُسے آج کے اخلاقی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہیں گے، تو آپ پھنس جائیں گے ۔ اگر آپ مائتھالوجی کو سائنسی پیمانہ دینے کی کوشش کریں گے تو آپ اپنی دانش کی بڑھوتری روک دیں گے۔

تفصیل اور سوال مائتھالوجی کو قتل کردیتے ہیں۔ ہم پھر آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ مائتھالوجی کے مزے لو، سوال نہ پوچھو۔اس لیے کہ یہ سائنس اور تاریخ اور عقیدہ نہیں ہے ۔ یہ ہمارے اجداد کی قائم کردہ داستانیں ہیں۔ انہیں فخر سے سنو، اپنے بچوں کو سناﺅ۔ اور اپنے ادب پہ نازاں ہو جاﺅ، اپنی قدامت اور اپنی دھرتی کی تقدیس پہ اتراﺅ۔

یہ تو ہم بھی نہیں ہے۔ وہم قیاس پر قائم کی گئی رائے ہوتی ہے۔ جبکہ علم مشاہدے سے حاصل کیے گئے قابل تصدیق حقائق ہوتے ہیں۔ ہم نے توہمات کو صرف مذہب اور سماجی زندگی سے جوڑا ہوا ہے۔یہ توہمات زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہیں یہاں تک کہ سیاسی سوچ میں بھی ہوتی ہیں۔ جیسے نجات دھندہ کا تصور۔ کہ کوئی ایک شخص سارے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نجات دھندہ کا تصور ہی شخصیت پرستی کی بنیاد ہے۔

بلوچ مائتھالوجی ہماری قوم کی تہذیب و ثقافت کی بنیاد ہے۔ یہاں ایسے قصے اور داستانیں ہیں۔ جہاں فطرت کو، فطرت کے مظاہر کو، دیووں پر یوں کو، اورمافوق الفطرت انسانوں کو جسم کی صورت دی جاتی ہے۔اُن سے کہانیاں اور قصے بُنے جاتے ہیں ۔ہمارے آباءنے اپنی رسموںکو تاریخی واقعات اور خواہشاتی مناظر میں ملبوس کر کے بہت رنگین انداز عطا کر کے پیش کیا تھا۔

دوسرے لفظوں میں ہماری قوم فطرت کی اپنی تفہیم، تاریخ کے اپنے نکتہ نظر ،رواجوں کی وضاحت و توصیف اور اپنے ارمانوں کی تکمیل کی خواہش کے لےے ہزاروں برسوں سے جو کہانیاں بناتی رہی ہے، اُن کے مجموعے کو بلوچ مائتھالوجی کہتے ہیں۔ماڈرن سائنس کہتی ہے کہ ” بدقسمت ہے وہ قوم اور وہ زبان جس کی اپنی مائتھالوجی نہ ہو“۔

یہ الگ بات ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا گڑ بڑ کیا جارہا ہے۔ یہاں مائتھالوجیکل سائٹس پہ سرکار کا چہلم یوں منایا جاتا ہے کہ دو چار فاطر العقل ملنگ ، ایک دو بھکاری ،اور چند نشئی لوگوں کو پالنے کے لیے ایک مجادر موجود ہوتا ہے ۔ اور وہ ہزاروں برس قدیم کے ہمارے اساطیر کو آج اکیسویں صدی کے بلوچستان کا مُلاّاور پنڈٹ بنانے لگاہے ۔ظاہر ہے اُسے مِتھ اور مائتھالوجی کے الف بے کا بھی پتہ نہیں ہوتا ۔ وہ تو محض نیاز نذرانے بٹورنے یہاں موجود ہوتاہے ۔

واضح رہے کہ منظم عقیدہ اور ” آزمانک“کی آپس میں کوئی سمبندھ نہیں ہوتی ۔پنڈت اور بی جے پی جتنی بھی کوشش کرے کہ بلوچ مائتھالوجی ،ہندو مذہب کے بطور سامنے آئے مگر ایسا ممکن نہیں ۔یہ تو حقیقت ہے کہ مذاہب میں کچھ عناصر مائتھالوجی کے موجود ہوتے ہیں۔مگر یہ دونوں الگ الگ مظاہر ہیں۔بلکہ یہ ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔ پنڈت تو الٹا اس سائٹ کے پیچھے موجود متھ کے جوہر کو تباہ کرتا دیتا ہے تاکہ صرف وہ چیزیں باقی اور نمایاں رہیں جس پہ ٹورسٹ یا زائر زیادہ نیاز چڑھائے۔ اس نذر و نیاز کی مقناطیس چیز سے باہر کے سارے مظاہر و اشیا کو وہ تباہ کردیتا ہے یا غیر اہم کردیتا ہے ۔ ۔۔۔ اُس کے لیے غیر ضروری ،مگر کلچر کے لیے انتہائی اہم۔

تمام تر مِتھ اور آزمانک (اور بعد میں مذاہب بھی )دراصل ابتدائی زمانے میں (Hunting and gathering society)سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس غار میں شکار کا گوشت رکھا جاتا ، اور ضرورت کے مطابق سب میں تقسیم ہوتا تھا، اس غار نے ایک زمانہ گزرنے کے بعد عبادت گاہ اور تقسیم کرنے والے نے پہلے تو (دینے والے ) اور پھر پالنے والے کاروپ دھار لیا ۔ اس پروہت سے خوراک حاصل کرنے کے لیے سلیقے اورعاجزی کے کیا کیا طریقے اختیار کےے گئے اس نے عبادت کی شکل اختیار کرلی۔

ارتقا کے دوران ایک دور ایسا بھی آیا کہ انسان نے ”خوف“ کو پوجنا شروع کیا ،جسے ماہرینِ علم المذاہب fear worshiping periodکا نام دیتے ہیں ۔ ناگ دیوتا ،اگنی دیوی ،کالی ماتا ، وغیرہ اسی دور کے Mythہیں ۔( یہ بعد میں جزوی طور پر عقیدہ بھی بنے)۔

ہماری مائتھالوجی کوئی خاص مذہب نہ تھی اور نہ ہی منظم انداز میں ایک مذہبی خانے میں فٹ آتی تھی ۔دنیا کی دیگر قوموں کی طرح بلوچستان میں مائتھالوجیکل سائٹس بھی مذہب کی عبادت گاہیں نہیں ہیں۔ یہ تو بہادروں، درویشوںکے عشق و محبت، جنگ و جدل، اورشوق و شغل کے آسمانی بنائے قصوں کا اصل زمینی صورت ہےں۔نیکی اور خیر کے لیے انسانی خواہشات و عزائم کا آسمانی تصورزمین پر ۔ ہنگلاج سے لے کر نورانی تک اور مست تﺅ کلی سے لے کر سسی پنوں تک ……..

بلوچستان مائتھالوجیوں کی ”ماں “ہے۔ دنیا بھر کی مائتھالوجی کی طرح بلوچستان کی مائتھالوجی بھی منظم مذہبوں یعنی یہودیت، مسیحیت، ہندومت، اور بدھ مت وغیرہ سے ہزاروں سال پرانی ہے۔

مائتھالوجیز ہمارے ادب، اور ہماری ثقافت کا لازمی اور اہم حصہ ہیں۔انہیں” آﺅٹ ڈیٹ“ کہہ کر اپنے آباواجداد کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے آباءنے عالمگیر صداقتوں کو پہلی بار بطور علم کے پہنچانے کے واسطے مائتھالوجی بنائی اور پانچ چھ ہزار سال قبل ہمیں بتایا کہ ” خیر“ کے واسطے جدوجہد کرنے والوں کو عوام کی طرف سے پانچ چھ ہزار سال بعد بھی یاد رکھا جاتا رہے گا۔ آباﺅ اجداد نے اپنے زمانے کے اہداف ، خوفوں ، اور آرزوﺅں کو مجسم شکل دینے کے لےے جو کہانیاں بنائیں ، ہمارے عوام اب تک انہیں مزے لے لے کر سنتے سناتے ہیں۔

ہم ہزاروں برس قبل والے بلوچستان اور اس کے اساطیر کی بات کررہے ہےں۔اسی طرح ہم اپنی اُس تاریخ کے ضمن میں بات کر رہے ہیں جس سے ہم بلوچ، ہزاروں سال پہلے گزرے۔ یہ قصے توسخت حالات میں رہتے ہوئے انسان کے ایسے سہارے تھے ، جو دنیا کی ہر جگہ اور ہر علاقے میں معمولی فرق کے ساتھ موجود ر ہے ہیں ۔ ہماری یہ قدیم مائتھا لوجی خواہ جس قدر بھی اپنا گاڑھا پن ختم کر چکی ہو مگر ہمارے رویوں میں کہیں نہ کہیں یہ موجود بہرحال رہتی ہے ۔

بلوچ کی دلکش وحیران کن مائتھالوجی دنیا کے دیگر علاقوں کی مائتھا لوجی سے زبردست انداز میں ملتی جلتی بھی ہے اور زمین آسمان کا فرق بھی رکھتی ہے ۔مثلاً کہکشاں کے بارے میں ہم جو کچھ کہتے ہیں ،گریک مائتھالوجی میں بالکل دوسری مائتھالوجی موجود ہے ۔ اُن کے بقول کہکشاں اُس دودھ کی چھینٹیں ہیں جو دیوی ، ہیرا کے پستان سے چھلکنے سے وجود میں آئیں (جب وہ ہنی مون منا رہی تھی )۔

مائتھالوجی میں ایک بہت طاقت وکلا وکرامت والا پہلوان ہوتا ہے جو حق اور سچ کی طرفداری میں ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ مافوق الفطرت قوتیں رکھنے والا ایسا پہلوان نسل در نسل کئی پُشتوں سے ہمارے دل و دماغ میں موجود رہا ہے ۔

بلوچوں میں شروع زمانے سے یہ پہلوان ہمارے فوک لٹریچر میں موجود رہا ہے ۔ چاکر جب ”دیم درنگ پذ لشکر “ میں پھنس کر رہ گیا تو اس کا ماموں اپنی گھوڑی کے ساتھ اڑتا ہوا آتا ہے اور چاکر کو بطور ڈبل سواری بٹھا کر اڑتا ہوا دشمن سے نکالتا ہے ۔ یہی چاکر جب ترک حملہ آوروں سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرتا ہے اور ترک اُس کا پیچھا کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی بھینسوں کا ریوڑ اُن کے حوالے کردے ، وہ اُن سب کو پتھر بن جانے کا حکم دیتا ہے ۔ وہ بڑے بڑے پتھروں کا ریوڑ سبی سے ماوند جاتے ہوئے ”چاکر ہ میہاگ “ نامی علاقے میں آپ کو ملے گا۔

اسی طرح چاکر کا زرہ بکتر ایک ناقابلِ رسائی چٹان پہ پہنچا دیا گیا تھا۔ ہم نے بار بار اُس چٹان کے نیچے سے سفر کیا ہے ۔

شہ مریذکے بدلتے روپ کی شاعری تو بلوچ بچے بچے کو یاد ہونی چاہیے:

جاہے کہ گندئی ڈھگوے

جاہے کہ گندئی لیٹروے

جُمبھیث ونیشانئَ درشی

 

ابھی دیکھ تو بیل بن گیا ہے

ابھی دیکھو تو مست اونٹ بن گیاہے

بے آرام ، اپنے نیش (دانت) پیستا ہوا

ہماری مائتھالوجی میں شہ مریذ کو موت نہیں آسکتی اس لیے کہ اس نے آبِ حیات پی رکھا تھا۔ وہ اب بھی راہ بھٹکے مسافروں کو ایک معمر شخص بن کر اپنے اونٹ پہ سوار راستہ دکھانے پہنچ جاتا ہے ۔

بالاچ گورگیژ کو سخی سرور کی آشیرباد حاصل تھی اس لیے وہ دشمنوں کے خلاف لڑتا رہا۔ سخی سرور نے اس کے چلنے کی رفتاراس قدر تیز کردی تھی کہ اُسے اسپ تاری بھی نہیں پہنچ سکتے تھے ۔

سسی پنوں اسی قوت کے زور سے زمین پھاڑ کر زندہ مدفون ہوئے ۔

تﺅکلی مست کو اپنے بھائی موت کی اطلاع کرامت بھرے سردار گزین خان کے ہوا میں پھینکے گئے خط کے ذریعے ملی۔ اور وہ تین دن کے سفر کی مسافت تین گھنٹے میں اڑ کر طے کرتاہوا کوہِ بے ہُوسے کاہان پہنچا تھا ۔ اس نے اپنے بھائی کے سریندا کو کوہِ جانداران کی دشوار ترین چٹان پہ کرامت کے ذریعے رکھ دیا جہاں ہر جمعرات کی شام اُسے فرشتے بجاتے ہیں۔

اُسی کے کہنے پہ بادل اس کی محبوبہ سمو کے علاقے میں برستے تھے۔ اور اُسی کی ہدایت پہ تتڑا پہاڑ پہ بارشیں نہیں برستی تھیں۔

مست ہی کے آشیرباد سے گذشتہ 200برس سے للوانی میں شڑطی زئی گھرانا جوئے میں ہمیشہ جیت جاتا ہے ، دریائے بیجی میں شدید ترین طغیانی بھی پوادی مری کی کنگھی تک کو بھی نہیں بہالے سکتی ۔ اُسی کے کہنے پہ کھیتران کے سردار قادر کی گھوڑی دوڑ کے مقابلوں میں ہمیشہ اول نمبررہتی ۔سومرانڑیں کے وڈیرہ زئی کے اتھلیٹ سے دوڑ کا مقابلہ کوئی نہیں جیت سکتا۔ آج بھی اگر محبوبہ کے ورثا عاشق کو پیٹنے یا قتل کرنے کی نیت سے اُسے گھیر لیں تو اگر وہ مست کو پکارے تودشمن کی آنکھیں اُس کے بچ نکلنے تک اندھی ہوجائیں گی۔

بلوچ ماتھالوجی کے مطابق اگر کوئی ممتاز شخص مرجائے تو ایک رات پہلے تین پریاں آسمان میں اڑتی ہوئی اُس کے نام کا ماتم کرتی جاتی ہیں:” ہیرانی پٹغ“ ۔

بلوچ مائتھالوجی کی تعمیر بہت مزیدار کی گئی ہے۔ذرا پیر سُوھری کو دیکھیں ۔ وہ ایک ”پیر وزانی نوثانی“ تھا۔ ایک چرواہا۔ جب ”چہاریار“ آگئے۔ اور اُس سے ایک بکری مانگ لی تو پیر سوہری نے جواب دیا کہ سارے ریوڑ میں اس کی اپنی صرف ایک بکری ہے۔ اور اُس نے خوشی خوشی وہ بکری انہیں دے دی۔ جس کو انہوں نے سجی کرکے کھالیا ۔ عوض میں انہوں نے پیر سوہری سے کہا کہ جس وقت مالک اُسے چرواہا گیری سے نکال دے تو وہ اپنا حصہ تقسیم کرکے جدا کرلے۔ اُس کا ایسا ریوڑ بنے گا جو پہلے اس علاقے میں نہ ہوا۔ انہوں نے اُسے ایک ڈنڈا بھی دے دیا کہ جب ضرورت محسوس کرے زمین پہ ماردے ،وہیں سے پانی نکلے گا۔ اس طرح اسے اپنے ریوڑ کو پانی پلانے کے لیے میلوں کی مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی۔

ایک اور سٹوری یوں ہے : پیر سُوہری ایک صبح جب جاگا تو دیکھا کہ ریوڑ ایسی بکریوں سے بھرا ہوا تھا جن کی رنگت نسواری تھی ۔ ایسی بکریاں پورے علاقے میں نہ تھیں ۔ بلیدی قبیلہ والے آئے اور آکر پیر سُوہری کا سرتن سے جدا کردیا اور اس کی بکریاں لے گئے ۔ مگر پیر سوھری اپنا سر اپنے ہاتھوں میں لیے دشمنوں کے پیچھے گیا اور اپنی بکریاں چھڑالاےا۔

اسی طرح کا واقعہ مری قبیلے سے متعلق بھی ہے جہاں چار درویشوں نے اپنی کلا سے ایک بن بیاہی بچی کی الٹی کے ذریعے لڑکا پیدا کرادی جو بڑا ہو کر ممتاز بن گیا اور کئی پشتوں سے اُسی کا گھرانہ قبیلے کا بادشاہ بنا رہا۔

بلوچوں کے مائتھالوجیکل شخصیات کے مزار دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ عورتیں اپنے بال کاٹ کر ،یا، اپنی کشیدہ کاری اور کڑھائی کی چیزیں لاکر مزار پر لٹکا دیتی ہیں۔ یہ منت مانگنے سے پہلے کا عطیہ بھی ہوتی ہے اور منت پوری ہونے کے بعد کا شکرانہ بھی۔ اسی طرح نرینہ اولاد کے سر کے بال جب پہلی بار اتاردیے جاتے ہیں تو وہ بھی پیر کے مزار پر لٹکا دیے جاتے ہیں۔ آپ کو جو بھی بڑا، سرسبز اور پرانا درخت نظر آئے تو وہاں خواتین کے گُندھے ہوئے بال لٹکتے نظر آئیں گے۔ ہر سایہ دار گھنا درخت چونکہ مست کی اوطاق ہوا کرتا تھا۔اس لیے آج تک منت گاہ بنا ہوا ہے۔

بچے کے بالوں کے ساتھ ساتھ پیر کے مزار پر ٹافیوں کی تھیلیاں ،بلیڈ،خوبصورت چھوٹے موٹے پتھر،رنگین رومال،الغرض بے شمار چیزیں رکھی اور لٹکائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی قبر پر حسبِ توفیق قیمتی یا عام سے کپڑے کی چادریں بچھادی جاتی ہیں۔ یہ کام بالخصوص مست توکلی کی شان والی محبوبہ سمو کے مزار پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔مطلب احترام و توصیف و تسلیم بھی ہوتا تھا اور آئندہ کے لیے بھی اُس بڑی قوتوں والے کی رضا اور خوشنودی کے حصول کی آرزو بھی۔ وہ ا س کام سے تسکین بھی پاتے ہیں اور اُن کی مرادیں بھی پوری ہوتی ہیں ۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*